Sell Mirrors In The City Of The Blind

آئینے بیچتاہوں اندھوں کے شہرمیں

:Share

ایوان اقتدارمیں سستانے والوں کویہ خبرہوکہ سیاست ٹھہرے ہوئے پانی کانہیں بلکہ اس کی روانی کانام ہے۔اپنی عقل وفراست کے ساتھ اس کے بند مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ورنہ اس روانی کوبندکرنے میں کسی قسم کی مروت کامظاہرہ نہیں کیاجاتا۔اوپر کی سطح پرتبدیلیاں ہی تبدیلیاں اورنیچے؟ کیااب بھی وہی ہم اوروہی غم ہوں گے۔چہرے بدلنے سے کبھی مقدرنہیں بدلتے۔تبدیلی کا عمل جب تک نچلی سطح تک نہیں جائے گا،عوام کے احساسات وجذبات اسی طرح سلگتے رہیں گے۔مہنگائی،لوڈشیڈنگ اورآئے دن ایک دوسرے پرکرپشن، بدانتظامی اوردیگرالزامات کے ذکرپرانہیں ڈرائیں اوردوڑائیں نہ،وہ توپہلے ہی بہت ڈرے ہوئے اور تھکے ہوئے ہیں۔حالات وواقعات نے انہیں اس قدرٹچی بنادیاہے کہ سوئی کی آوازبھی انہیں کسی دھماکے سے کم نہیں لگتی۔رہی سہی کسر بارشوں اوسیلاب کی تباہی نے عوام کوادھ مواکردیاہے۔رات کوسوئے توامیر،لیکن صبح اٹھےتوفقیر، روزگار دنیا کے غم پہلے کیاکم تھے کہ اس نئی آزمائش نےجکڑلیا۔ الخدمت والوں نے رونگٹے کھڑے کردینے والے ایسے واقعات سنائے ہیں کہ روح تک کانپ کررہ گئی ہے۔بتارہے تھے کہ سینکڑوں باپردہ خواتین اوربچیوں کے جسم پرڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں رہے اورنہ ہی کہیں کوئی ایسی آڑتھی جہاں اپنی بے بسی کوچھپالیاجاتا۔کیاقیامت خیزمناظرہیں،اب بھی توبہ نہیں کریں گے تومجھے خوف ہے کہ یہ آزمائش کہیں عذاب کی شکل نہ اختیارکرلے-اے اللہ توہمیں معاف فرمادے کہ ہم عصیان میں ڈوبے تجھ سے غافل ہوگئے۔

اس کیلئے موجودہ سرکارکوعوام کیلئے اللہ سے”کاروبار”کرناہوگاپھرکہیں جاکران کابازارچلے گا۔ان سیلاب زدگان کی مسکراہٹ سے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔مسکراتے ہوئے چہروں کے دل بہت اداس ہوتے ہیں،ان کے توخواب بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔ہررات کوشب برات سمجھنے والوں کو یادوں کی بارات کاکیاپتہ،انہیں اس کاپہلے سے اندازہ ہوجائے تووہ آنکھ بندکرنے سے ہی توبہ کرلیں۔بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوتی ہیں مگران کے ضمیرسورہے ہوتے ہیں۔ایسابھی ہوتاہے کہ آنکھیں ہمیشہ کیلئے بندہوجاتی ہیں مگران کی تعبیر جاگتی رہتی ہے۔بہت سے خواتین وحضرات کوآنکھوں کی”چہل قدمی”’کا بڑاشوق ہوتاہے،انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتاکہ آنکھیں بھٹک جائیں یاکہیں اٹک جائیں۔اسی شوق چشم میں وہ بہت سے روگ بھی لگا جاتے ہیں۔دوسروں کے گھروں میں”نظراندازی”کرنے والوں کواپنی چادروچاردیواری کے اندربھی دیکھناچاہئے کہ اس تاک جھانک سے دل پرکیاگزرتی ہے۔ من کاویسے بھی دھن سے کیارشتہ ہے،اسی لئے کہتے ہیں کہ دل نہ بھریں،یہ بھرگیاتو بہت سے سیلاب جسم کوڈبودیں گے بلکہ غرق کردیں گے۔پھرسیاست میں یہی سیلاب ہی توسونامی بن جاتے ہیں۔

پیارے پاکستان میں بہت سے سیاستدان اقتدارکے بغیرنہیں رہ سکتے اوراسلام آبادان کے بغیرنہیں رہ سکتا۔ہماری بربادی میں ان لوگوں کی آبادی کاسب سے بڑاہاتھ ہے۔ارض وطن کی معاشی بدحالی اورسیاسی انتشارکافائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی دباؤکی وجہ سے استعمارسے جلددوستی کی بیماری اب وباکی شکل اختیارکرگئی ہے۔جب تک فلسطین اورکشمیرکامسئلہ حل نہیں ہوگا،اس کیلئے چاہے جتنے مرضی الفاظ جمع کرلیں،”کاغذکورا”ہی رہے گا۔لوگ تویہ بھی کہتے ہیں کہ محبت صرف ایک بارہوتی ہے اوراس کے بعد سمجھوتے ہی چلتے ہیں،جب تک جان ہے،جہان داری تونبھانی ہی پڑے گی،جس میں ہارجیت چلتی رہتی ہے۔ جیتنے والوں کویہ بات یادرکھنی چاہئے کہ قوم دکھوں سے ہاررہی ہے اورآپ مخالفین کوقابوکرنے کی تعریفیں سن کرنہال ہو رہے ہیں۔

نوجوان نسل کی تباہی کیلئے پچھلے دس سال سے جوتربیت کی گئی ہے،اب اس کی فصل جوان ہوکرمیدان میں اتری ہوئی ہے۔ ہرکسی کے ہاتھ میں موبائل فون ایک خطرناک ہتھیارکی شکل اختیارکرچکاہے اورسوشل میڈیاپراپنے اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کادھندہ زوروں پرہے۔گھروں کی خواتین کوبیچ چوراہے میں لاکر اپنی وفاداریوں کے ویڈیوکے ہوشربامناظردکھاکر دہمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگرہمارے محبوب رہنماءکورتی بھربھی تکلیف پہنچی توملک کوجلاکرخاکسترکردیں گے۔یہ جانے بغیر کی جنہوں نے اپنے عزیزوں کواپنی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کے ازلی دشمن مکاربنئے کے ہاتھوں ذبح ہوتے دیکھ کراس ملک کی حرمت کی قیمت اداکی،ملک کوجلادینے والے مکروہ نعرےان کے دلوں پربرچھی بن کربرستے ہیں۔ہمیں تواس طرف توجہ دینی ہے کہ آخرکیوں آئے دن بھوک کے ہاتھوں دلبرداشتہ ماں اپنے معصوم بچوں سمیت خودکوٹرین سے کٹواکرہمارے سسٹم کوکاٹ کررکھ دیتی ہے،ہمارے ہاں زندہ لوگوں کاحساب نہیں لیاجاتاتومرے ہوئے کس کھاتے میں آئیں گے۔امیرشہرکاتواپنایہ حال ہے:
امیرشہرغریبوں کاخیال کیاکرتا
امیرشہرکی اپنی ضرورتیں تھیں بہت

اس ابتری اورفراتفری کے عالم میں باباجی کے پاس حاضرہوا۔دل کے دردکامداواچاہتاہوں،کیاکروں؟بولے جب اللہ کوناراض کرو گے توایساہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا”اللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتاہے۔” وہ میری بات سن کرمسکرائے اورنرم آوازمیں بولے ”دنیا میں اللہ کو راضی رکھناسب سے آسان کام ہے”میں خاموشی سے ان کی بات سننے لگا،وہ بولے”یہ کام اتناآسان ہے جتنا ریموٹ کنٹرول سے اے سی آن کرنا یا ٹیلی ویژن کاچینل بدلنایاپھراٹھ کرلائٹ جلانا۔”میں خاموشی سے ان کاچہرہ دیکھ رہاتھا،وہ بولے”لیکن اللہ کو راضی رکھنے کی تکنیک سمجھنابہت مشکل ہے۔”میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگااورچند لمحے رک کرعرض کیا ”جناب آپ نے بھی عجیب بات کہی یہ کام توآسان ہے لیکن اس کی تکنیک بہت مشکل ہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی۔” وہ مسکرائے اورچندلمحوں کے توقف کے بعدبولے”میرے بچے یہ بات سمجھنے کیلئےتمہیں تخلیق کارکی نفسیات سمجھناہوگی۔””وہ بھی بتادیں؟”وہ بولے تم نے ایڈی سن کانام سن رکھا ہے؟میں نے فوراًعرض کیا”جس نے بلب ایجاد کیاتھا،جس نے ریلوے کیلئے سگنل کاسسٹم بنایاتھا”وہ فوراًبولے”بالکل ٹھیک میرے بچے،میں اسی ایڈی سن کی ایک بات تمہیں سناناچاہتاہوں۔وہ ایک دن بازار سے گزررہاتھا،اس نے دیکھا لالٹین بنانے والاایک کاریگراس کی تخلیق کوگالیاں دے رہاہے،لالٹین بنانے والے کاکہناتھاایڈی سن کی ایک احمقانہ تخلیق نےاسے اوراس کے بہن بھائیوں کوبے روزگارکردیاہے۔ ایڈی سن اپنی تخلیق کی بے توقیری برداشت نہ کر سکااوروہ اس کاریگرسے الجھ پڑا،یہ توتکارہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔پولیس آئی اورایڈی سن کوپکڑکرلے گئی ،اس کے بعدجس بھی شخص نے یہ واقعہ سنااسے یقین نہ آیاکیونکہ کسی نے کبھی ایڈی سن کولڑتے یاجھگڑتے نہیں دیکھاتھا لیکن اس کے باوجودیہ واقعہ حقیقت تھا‘‘۔

وہ چند لمحے سکوت کےبعددوبارہ بولے”یہ بظاہرایک چھوٹاساواقعہ ہے لیکن اس میں تخلیق کارکی ساری نفسیات چھپی ہیں۔ دنیاکاہرتخلیق کاراپنی تخلیق کے بارے میں حساس ہوتاہے،وہ اپنی بے توقیری توسہہ لیتاہے لیکن اس سے اپنی تخلیق کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی،تم نے مصوروں،افسانہ نویسوں ،شاعروں اور موسیقاروں کودیکھاہوگا،یہ لوگ گھنٹوں اپنی دھنوں، شعروں،افسانوں اورتصویروں کی تعریف کرتے رہتے ہیں اورانہیں ہروہ شخص اچھا لگتاہے جوان کی تخلیقات کی مداح سرائی کرتاہے۔تم کسی شاعر کے سامنے بیٹھ کراس کے شعروں کی تعریف شروع کردو،وہ تمہیں وہاں سے اٹھنے نہیں دے گا،یہ بھی تخلیق کارکی نفیسات ہوتی ہے۔میں خاموشی سے سنتارہا۔وہ بولے”دنیاکے ہرتخلیق کارمیں دوچیزیں ہوتی ہیں،وہ اپنی تخلیق کی تعریف سن کرخوش ہوتاہے اوراسے اپنی تخلیق کی بے عزتی پرشدیدغصہ آتاہے۔”میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور عرض کیا”جناب میراسوال یہ تھاکہ اللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتاہے لیکن آپ نے موضوع ہی بدل ڈالا۔ ”وہ مسکرائے اورمیری طرف اس طرح دیکھاجیسے فلسفی جاہلوں اوربے وقوفوں کی طرف دیکھتے ہیں۔و ہ ذرادیرتک مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے رہے اورپھربولے”تم مجھے پہلے یہ بتاؤجب اللہ کسی شخص پرراضی ہوتاہے تووہ اسے کیادیتا ہے ۔”میں نے عرض کیا”جناب میراعلم بہت محدود ہے،میں آپ ہی سے اس سوال کی وضاحت کی درخواست کرتاہوں۔”وہ مسکراکربولے”اللہ کی ذات جب کسی شخص پرراضی ہوتی ہے تواس کیلئے نیکی پرچلنا آسان کردیتی ہے،وہ اس پررزق کشادہ کردیتی ہے،وہ اسے امن،خوشی،سکون دیتی ہے اوروہ اس کے اقتدارکووسیع کردیتی ہے اورجب وہ ناراض ہوتاہے تویہ ساری چیزیں ریورس ہوجاتی ہیں،اقتدارمختصر ہوجاتاہے، زندگی سے سکون خارج اورخوشی ختم ہوجاتی ہے،امن غارت اور رزق دورہوجاتاہے اوروہ گھر،کمپنی، فیکٹری ،دکان یاپھرملک ،تمام بربادہوجاتے ہیں۔اللہ خالق کائنات ہے وہ اس کائنات کاسب سے بڑاتخلیق کارہے اورانسان اس کی محبوب ترین تخلیق،چنانچہ جب تک کوئی شخص اس کی محبوب ترین تخلیق سے محبت نہیں کرتا اللہ اس وقت تک اس سے راضی نہیں ہوتا اورجس سے اللہ راضی نہ ہواس دنیامیں اس شخص کارزق،خوشی،سکون،امن اور اقتدار وسیع نہیں ہوتا۔”وہ رکے اور دوبارہ بولے”اللہ نے انسان، جانور،پودے،جھیلیں اورپہاڑاورکائنات کی ہرشے تخلیق کی لیکن انسان اللہ کی تخلیقی فہرست میں پہلے نمبرپرآتاہے اور دنیا کاجو ملک،معاشرہ،نظام اورشخص اللہ کی وضع کردہ ترجیحات کے مطابق اس کی تخلیقات سے محبت کرتاہے،وہ اس کی تخلیقات کی عزت کرتاہے،انہیں ان کاجائزمقام دیتاہے اللہ بھی اس سے اتناہی راضی ہوجاتاہے اور دنیامیں اسے اتناہی امن،سکون، خوشی،رزق اوراقتدارمل جاتاہے۔میں خاموشی سے سنتا رہا۔

وہ چندلمحے رک کربولے”تم اب اس حقیقت کوسامنے رکھ کردنیاکے مختلف ممالک کاجائزہ لوتوتمہیں معلوم ہوگا دنیاکے جس جس ملک میں لوگوں کا احترام کیاجاتا ہے،غریب لوگوں کے حقوق کاخیال رکھاجاتاہے،عام شہریوں کی عزت نفس محفوظ ہے، بیماروں کودوا،بے روزگاروں کوروزگار،جاہلوں کوعلم اورمظلوموں کوانصاف ملتاہے،وہ ملک خوشحال بھی ہیں،ان میں امن بھی ہے،رزق بھی،خوشی بھی اوراس ملک کے اقتدارکی سرحدیں بھی وسیع ہیں لیکن جن ممالک میں انسانوں کی قدرنہیں،جن میں غریب غریب تراورامیرامیرترہوتاجارہاہے اورجوملک طبقاتی نظاموں میں جکڑے ہوئے ہیں،وہ ملک تیسری دنیاکہلارہے ہیں،وہ ملک بھکاری بن کرخوشحال ملکوں کے دروازوں پربیٹھے ہیں اوران ملکوں کےحکمران اپنے اقتدارکے دوام کیلئےان کی خوشامدمیں مصروف رہتے ہیں۔

تم اللہ کی تخلیق سے محبت کے اس سلسلے کوذراسامزیدوسیع کرکے دیکھو اورسوچودنیامیں اس وقت کون کون سے ملک ترقی کررہے ہیں،وہ کون سے ملک ہیں جوسپرپاور بنتے جارہے ہیں؟؟تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاؤگے، دنیامیں وہ ملک بڑی تیزی سے آگے بڑھتے جارہے ہیں جہاں انسانوں کے بعدجانوروں، درختوں، ندیوں ،نالوں،جھیلوں،دریاؤں اور پہاڑوں تک کاخیال رکھاجاتاہے،جہاں بے بس انسان پرظلم اوردرخت کاٹنادونوں جرم ہیں۔چنانچہ اللہ ان ممالک سے پوری طرح راضی ہے اوریوں یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں”وہ رکے اوردوبارہ بولے”انسان کی سلطنت اوراللہ کی کائنات کاآئین بہت مختلف ہے،دنیامیں انسان ان لوگوں کوزیادہ اہمیت دیتاہے جوصحت،رزق اوراختیارمیں برترہوتے ہیں اوران لوگوں سے دور رہنے کی کوشش کرتاہے جومرتبے میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اللہ کانظام اس سے بالکل الٹ ہے،وہ محروم لوگوں کے قریب اور خوشحال لوگوں سے دور ہوتاہے،وہ بے زبانوں کی زبان اوربے کسوں کی بے بسی میں رہتاہے چنانچہ جولوگ اس کے محروم لوگوں کا خیال رکھتے ہیں،جومحروم لوگوں کوراضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،اللہ ان سے راضی ہوتاجاتاہے۔وہ خاموش ہوگئے۔

میں نے عرض کیا”جناب یہ فلسفہ توشایدملکوں اورمعاشروں کیلئےہے،یہ نسخہ شاید حکمرانوں کیلئےوضع کیاگیاہے،اگرعام شخص اللہ کو راضی کرناچاہے تو ا سے کیاکرنا چاہئے؟”وہ مسکرائے اورزوردے کربولے”اللہ کے قوانین اٹل ہوتے ہیں،وہ عام شخص سے لیکرحکمران تک سب سے ایک جیسی توقعات رکھتاہے۔تم اگراللہ کوراضی کرناچاہتے ہوتواس کے غریب،بے بس، بیکس اورمحروم لوگوں کے قریب ہوجاؤ۔اللہ تمہارے قریب ہوجائے گا،تم اس کے محروم لوگوں کواپنی خوشی، سکون، امن،رزق اوراقتدارمیں شریک کرلواللہ تعالیٰ تمہیں اپنے اقتدار،رزق،امن،سکون اورخوشی میں شریک کرلے گااورتم اللہ کی خوشی اور اقتدارکی وسعت کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہو۔حکمرانوں کیلئےبھی یہی فارمولاہے،جس ملک کاحکمران اللہ کے بے بس لوگوں کیلئےکام کرتاہے،اللہ اس حکمران کیلئےکام شروع کردیتاہے اورجس ملک کی حکومت بیمارکودردکی ایک گولی،عوام کورزق، روزگار،دوا،تعلیم، امن اورخوشی دیتی ہے اللہ اس حکومت کے اقتدارکووسعت دے دیتاہے اوریہ ایک بہت چھوٹااورآسان فارمولا ہے۔تم آج گھرسے باہرنکلواورکسی بھوکے کوکھلاناکھلادو،تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاؤگے،شام تک تمہارے گھر رزق وسیع ہو چکا ہو گااورتم اورتمہارے اہلخانہ بے شماردردوں سے رہائی پاچکے ہوں گے۔تم یہ کرکے دیکھ لو۔تم ایک باراللہ کوراضی کرکے دیکھ لو،تمہیں اغیارکوراضی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔’’تم اصلی مخدوم بن جاؤگے‘‘۔کتناآسان نسخہ ہے لیکن کیاکریں :
کیاحال پوچھتے ہومیرے کاروبارکا؟؟
آئینے بیچتاہوں اندھوں کے شہرمیں

اپنا تبصرہ بھیجیں