Season Of Flowers And The Fear Of Decline

فصل گل اوراندیشہ زوال

:Share

انسان کی تخلیق بے شک خداوند قدوس کاایک بہت عظیم کارنامہ ہے پھراس تخلیق کوخالق نے ملائکہ سے سجدہ کرواکیاشرف المخلوقات بناکراس کی عظمت کامعیاربھی مقررکردیا۔ساتھ ہی زمین آسمان،سورج،پانی ہوابلکہ ساری کائنات کی تخلیق کرکے انسانی زندگی کے تسلسل کاسامان پیداکردیابلکہ یہ حکم بھی صادرفرمادیاکہ کسی ایک انسان کاقتل ساری انسانیت کاقتل سمجھا جائے گا۔ان واضح احکامات کے باوجودبہت سے فرعونوں،ظالم بادشاہوں،فوجی اورسیاسی آمروں نیانسانیت کابے دریغ قتل کرکے اپنے ہاتھ انسانی خون سے رنگے۔پہلی جنگ عظیم میں انسانوں کاقتل،دوسری جنگ عظیم میں ہٹلرکے ہاتھوں انسانی جانوں کاضیاع،جاپان کے شہروں ہیروشیمااورناگاساکی پرامریکاکاایٹمی حملہ جس میں نہتے لوگوں کی ہڈیاں بھی راکھ بن گئیں۔ویت نام، کوریا،بوسنیا،ایران عراق،فلسطین،عرب اسرائیل اورگلف کی لڑائیوں میں بے پناہ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔حالیہ دورمیں عراق اورافغانستان میں جوہوا، وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔

قیام پاکستان کے وقت بھی انگریزوں اورہندوؤں کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے بہت سے بے گناہ انسانو کی جانیں موت کی بھینٹ چڑھیں،بہرحال اللہ کے نام پروجودمیں آنے والی مملکت پاکستان عالمی نقشے پرظہورپذیرہونے کے بعدیہ سوچاجارہاتھاکہ اللہ کی وحدانیت پریقین رکھنے والے کلمہ گوکم ازکم اس سلطنت میں حقوق العبادکاخاص خیال رکھیں گے لیکن اوفوبالعہدکی بھرپور دھجیاں اڑادی گئیں۔جنرل ایوب کے دورمیں جب چینی کے ریٹ میں معمولی اضافے پرراولپنڈی کے ایک کالج کے دوطلباکی ہلاکت ہوئی توپوراپاکستان ہل گیا جس سے ایک مضبوط ڈکٹیٹرکی حکومت ڈانواں ڈول ہوکرٹوٹ گئی۔اس کے بعدمشرقی پاکستان اورپھربلوچستان میں کچھ انسانی جانوں کے تلف ہونے کوقوم نے نہایت حقارت سے دیکھالیکن انسانوں کے سفاکانہ معاشی قتل کاجوسلسلہ حالیہ دورمیں پاکستان میں شروع ہواہے،اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اس لحاظ سے یہ دورپاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دور ہے جس نے قومی سلامتی کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔غریب لوگ جوآٹھ دس افراد کے کنبوں کے واحد کفیل ہیں،اپنے بیوی بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبورہوگئے ہیں۔ان کے چولہے بجھ گئے ہیں لیکن اس ناکامی پرکسی وزیر،وزیر ِاعلیٰ،گورنریاقومی لیڈرنے استعفی نہیں دیابلکہ اربوں روپے کی اشتہاربازی سے اگلے پانچ سال کیلئے اپنے آپ کوقوم کاناگزیرمسیحاکے طورپیش کررہے ہیں۔کیایہ اس غریب اور مفلوک الحال قوم کے زخموں پر نمک پاشی نہیں؟

پچھلے کئی ماہ آئی ایم ایف کے سامنے ناک سے لکیریں نکال کرملکی کشکول میں صرف 9ماہ کے سٹینڈبائی قرض میں ایک ارب20کروڑکاقرضہ بھاری شرائط کے ساتھ ملاہے،جس کیلئے قومی خوداری کوسرنڈرکرتے ہوئے اپنے ہی اسٹیٹ بینک کوبطور مانیٹربناکرہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجودپنجاب کے 200سے زائدکمشنرز، ڈپٹی کمشنرزاوراے سی کی نئی گاڑیوں کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کردیئے گئے اورمعاملہ یہاں رکانہیں کہ نگران وزیراعلی محسن نقوی نے لاہورلبرٹی چوک میں5سوفٹ اونچاجھنڈ ا بلندکرنے کیلئے 40کروڑروپے مانگ لئے ہیں جس کیلئے عدالت عالیہ میں رٹ تودائرکردی گئی ہے لیکن کیا اس کامطالبہ کرنے والوں کوملک کی موجودہ معاشی صورتحال کاعلم نہیں ؟ کیا اقتدار اورجھنڈے والی گاڑی میں بیٹھتے ہی قومی خزانے کو”حلوائی باپ کی دوکان اورناناجی کی فاتحہ”سمجھ لیاگیاہے۔راولپنڈی کے نالہ لئی کی بپھری ہوئی طغیانی کامعائنہ کرنے کیلئے موصوف سفیدبراق سفیدکپڑوں میں جب ملکی خزانے کی عطاکردہ قیمتی مرسڈیزگاڑی سے اترے اوردرجنوں مسلح محافظوں نے انہیں گھیرے میں لے رکھاتھاکہ کوئی عام آدمی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔یقینایہ تمام مناظرجہاں عوام کے دلوں میں چھیدکرجاتے ہیں وہاں بے اختیارایک ہوک کی شکل میں بددعائیں بھی نکلتی ہیں۔کیاموصوف اپنے کسی چینل میں ایسی بیہودہ فضول خرچی کے قائل ہیں؟ عوام کی خدمت کرنے سے ملک کاجھنڈابلندکرنے کی بجائے اللوں تللوں میں مقروض ملک کادیوالیہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اسی لئے ہمارے ملک کے بارے میں اقوام متحدہ نے یہ رپورٹ جاری کی ہے کہ ملک میں ملکی بیریوکریٹس اورحکومتی عیاشیوں میں ساڑے سترہ ارب ڈالر غرق کر دیئے جاتے ہیں۔

ادھرایک مرتبہ پھرکرم ایجنسی اوربلوچستان میں آئے دن کی دہشتگردی نے سیکورٹی اداروں کی ذمہ داریوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیاہے۔ہرآئے دن اپنے نوجوانوں کی شہادتوں کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ہمارے ان شہداء جوانوں کی میتیں جب ان کے گھروں میں پہنچتی ہیں تومعصوم بچے اوربچیاں پاکستانی جھنڈے کے ساتھ اپنے باپ کی یونیفارم موصول کرتے ہوئے شہیدکی اولاد ہونے کافخرکااظہارتوکرتے ہیں لیکن وہ یقینایہ توسوچتے ہوں گے کہ ابھی ہمارے شہدا کاخون ارض وطن کے پہاڑوں،میدانوں اورسڑکوں پر بکھراپڑاہوتاہے،اس پرقومی سوگ مناناتودرکنارٹی وی چینلوں پرناچ گانابند نہیں ہوتااورقومی قیادت کسی کے جنازے میں نہیں پہنچ پاتی۔انہیں دبئی کے حکمران کے بھائی کی تعزیت کیلئے قومی خزانے سے چلنے والاطیارہ تودستیاب ہے لیکن ملک پرجان نچھاورکرنے والے یادنہیں۔ممکن ہے کہ ان شہدا کے تقدس کی بنا پرمیرے رب نے ان سے یہ توفیق ہی چھین لی ہے۔

قارئین ہم ارباب اختیارکی حب الوطنی یااپنی بساط کے مطابق ملکی معاملات کوچلانے کی پرخلوص سعی پرمعترض نہیں لیکن یہ پوچھناتوقوم کاحق ہے کہ وزیرستان میں ایک ہزارسے زیادہ ہمارے بہادراورمحب وطن مجاہدوں کاخون اورباجوڑ،درگئی،کرم ایجنسی اوربلوچستان کے پہاڑوں میں بدترین خونی ہولی کی ذمہ داری کس کے کندھوں پرڈالی جائے۔جس داخلی اورخارجہ پالیسی کے بدولت قتل وغارت کابازار گرم ہے اوایک مرتبہ پھرہم سب غیر محفوظ ہو گئے ہیں،اربوں روپے کے اخراجات سے لگائی گئی باڑکاکیاہوا؟کیااس کوکامیاب داخلی اورخارجہ پالیسی کہاجائے؟اوراگرآج جوکچھ ملک میں ہورہاہے وہ ناکام پالیسیوں کی ذمہ داری آئس لینڈ،مالدیپ اورنیوزی لینڈکی حکومتوں پر ڈال دی جائے۔پہلی مرتبہ فوج کے سپہ سالارکوبرادرملک افغانستان سے سخت شکائت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ہنگاامی بنیادوں پرہمسایہ ملک ایران کادوروزہ دورہ کرناپڑاکہ اس عفریت سے کیسے نجات حاصل کی جائے کہ ایران کوبھی افغان ہمسائے سے ایسی ہی شکائت ہے کہ ان کی سرزمین دونوں برادرمسلمان ملکوں میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے جس کے مضبوط شواہدبھی ان کے حوالے کئے گئے۔مجھے یہاں بابِ علم اورصاحب نہج البلاغہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ کاوہ مشہورقول یادآرہاہے کہ”جس پراحسان کرو،اس کے شرسے بچو”۔

آج پاکستانی قوم ملکی بقاکودرپیش خطرات پرانتہائی فکرمندہے۔قومی سلامتی کے افق پرچھائی ہوئی کالی گھٹائیں،چمکتی ہوئی بجلیاں اورگرجتے ہوئے بادل بقول احمدندیم قاسمی ہماری فصل گل کیلئے اندیشہ زوال ہیں۔اس خطرے کی گھنٹیوں کونظراندازکرکے قومی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہ لانابہت بڑی غلطی ہوگی۔سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوکرجب ہم ایک انسان،ایک مسلمان اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے ملکی حالات کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں توہمیں خودپسندی،ذاتی عناد،منافقت،ناانصافی،نااہلی،عاقبت نا اندیشی،ہوس اقتداراوربیرونی آقاں کی بلیک میلنگ کے بے شماربھنورنظرآتے ہیں۔اہل وطن اس طوفانی ماحول میں پاکستانی سفینے کوہچکولے کھاتے دیکھ کرایک عجیب بے بسی کاشکارہیں۔بے بسی اس لئے کہ ملک میں موجود لاتعداد بااصول،سچے اور پیشہ ور ہنرمندوں،انجینئروں،بہادرسپاہیوں،محب وطن سیاسی کارکنوں،قاتل ڈاکٹروں،لائق وکیلوں، دیانتدارججوں، ممتازماہرین تعلیم،کامیاب تاجروں اورصنعت کاروں، چوٹی کے مذہبی علماؤں،غیورصحافیوں اورقابل سفارت کاروں کی موجودگی میں پاکستان سفینہ سمندری تغیانی سے نکل کر پرسکون ساحل کی طرف اس لئے نہیں آرہاکیونکہ ہمارے پاس بے لوث اوراہل قیادت کا فقدان رہاہے۔

قائداعظم کی وفات کے بعدبہت کم ایسے قائدین ہمیں نصیب ہوئے ہیں جن کی عظمت اوراحوال پرستی کوپاکستانی قوم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام کرے۔ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں لیکن ان خطرات کا مقابلہ قومیں تب ہی کرسکتی ہیں جب قیادت کاقد کاٹھ ہو۔خوش قسمتی سے ہم ایک قومی انتخاب کے بہت قریب ہیں۔قارئین سے میری استدعا ہے کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کرے اورسیاسی وڈیروں،سرداروں، چودھریوں،جاگیر داروں،سرکاری ایجنسیوں اورکرپٹ اوربددیانت آفیسروں کی پرواہ کئے بغیرایک قومی امانت سمجھتے ہوئے صرف اورصرف اہل، ایمانداراورناقابل فروخت امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا جائے۔ شفاف انتخابات ہی ملک کوموجودہ مشکل حالات سے نکال سکتے ہیں۔

موجودہ قیادت اورالیکشن کمیشن نے باربارقوم سے منصفانہ اورغیرجانبدارانہ انتخابات کا وعدہ کیاہے۔اگروہ اپنے اس وعدہ میں مخلص ہیں تومندرجہ ذیل اقدامات سے قوم کوایک نازک صورتحال سے نکالاجاسکتا ہے۔اس کے نتیجے میں جنرل عاصم ندیم جوقومی معیشت کوصحیح راستے پرلگانے کیلئے پاکستان میں زرعی انقلاب لانے کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں، اس سلسلے میں خلیجی ریاستوں کے تعاون سے نئی سرمایہ کاری پرپربھی بڑی تیزی سے کام ہورہاہے اور بالخصوص پاکستان میں مقیم سعودی سفیرکے آرٹیکل سے پہلی مرتبہ پاکستان کے اس زرعی انقلاب کی کامیابی کی امید ہورہی ہے۔اگراس کام پرپوری محنت سے کام جاری وساری رکھاگیاتویقیناجنرل عاصم منیراپنا نام پاکستانی تاریخ میں سنہری الفاظ میں درج کرا سکتے ہیں۔

آندہ انتخابات سے قبل نگراں حکومت کیلئے رضا کارانہ طورپرکسی غیرمتنازع معاشی امورکے ماہرٹیکنوکریٹ شخصیت کومقرر کیاجائے۔وزیراعظم،اس کی کابینہ،گورنرز،وزیراعلی اوران کی محدود کابینہ سب ٹیکنوکریٹ مقررکئے جائیں جواپنے اپنے شعبے میں مہارت رکھتے ہوں۔وزیرقانون جہاں بڑی تیزی سے انتخابات کے متعلق قانون سازی کررہے ہیں،وہاں نگراں اورئندہ منتخب ہونے والی حکومتوں کی کابینہ کی مختصرتعداد درجن سے ززیادہ رکھنے پرآئینی پابندی عائدکی جائے اورایسی ہی پابندی صوبائی حکومتوں پرپربھی لازم ہو۔ تمام اشرافیہ سے غیرضروری پروٹوکول ختم کیاجائے آخریہی افرادریٹائرڈ ہونے کے بعدبغیرپروٹوکول کے زندگی گزارتے ہیں۔ تمام سرکاری افسران کوپٹرول کی مدمیں دیاجانے والاالانس یکسرختم کیاجائے اوربڑی گاڑیوں پر سفرختم کیاجائے۔یہ بات قابل تحسین ہے کہ فوج نے خاموشی کے ساتھ بڑی گاڑیوں کے استعمال پرپابندی لگارکھی ہے۔

برطانیہ جیسے ملک میں کل تین درجن کے قرب گاڑیاں ہیں اوریہاں وزراکی تعدادرجن سے کم ہے۔وہ ملکی ٹرانسپورٹ پرعام شہریوں کے ساتھ سفر کرتےہیں اوریہاں تووزیراعظم کے ساتھ بھی کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا اوروہ تین کمروں پرمشتمل 10ڈاؤننگ سٹریت کے فلیٹ میں رہتاہے۔سرکاری ایجنسیوں کو انتخابات میں مداخلت کی قطعی اجازت نہ دی جائے۔ افواج پاکستان کے سربراہان ملک کے اندرونی اوربیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت وقت کی مکمل مددکریں۔ بیرونی طاقتوں سے بہترین مراسم قائم رکھتے ہوئے ان کے ایماء پر کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریزکیا جائے۔

قومی اورصوبائی انتخابات کے بعدملک کے صدارتی انتخاب کاانعقادہوجس میں سیاسی جماعتیں اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر وزیر اعظم بڑے صوبے سے ہے تو صدر،سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ مختلف چھوٹے صوبوں سے ہوں۔سیاسی جماعتوں پریہ لازم ہوکہ وہ ایک معینہ مدت کے اندراپنے انتخابات کرائیں اورجماعتیں ایساجمہوری نظام رائج کریں کہ ہرقابل اور دیانت دارسیاسی کارکن اپنی لیاقت اورقائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پراپنی جماعت کی صدارت کاامیدواربن سکے۔حکومت پائے کے قومی دانشوروں پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنائے جواپنی ذہانت،قابلیت،تجربے اوربین الاقوامی پہچان کافائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی حکومتوں کوایک غیررسمی رہنمائی مہیاکرے لیکن تمام قومی پالیسیوں کی معمارصرف اورصرف پارلیمنٹ ہو۔

میرایہ ایمان ہے کہ ان اقدامات کے بغیرقومی انتخابات قیمتی وقت اورقومی خزانے کاضیاع ہوں گے۔موجودہ حالات میں ان کے شفاف اور غیرجانبدار ہونے کونہ ملکی نہ بین الاقوامی ادارے قبول کریں گے اوراگرہم نے چندسیاسی جماعتوں کے ساتھ پینگیں بڑھا کردوسری جماعتوں کونظراندازکیاتواندرونی خلفشار انتخابات کے بعدبھی جوں کاتوں رہے گاجوقومی مفادمیں نہیں ہوگا۔۔فیض احمد فیض کے ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا:
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بے کس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سوجاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازتوایسے ہی منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
جب کبھی بکتاہے بازارمیں مزدورکاگوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کالہوبہتاہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پرمجھے قابوہی نہیں رہتاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

fourteen − six =