تہذیبوں کاعروج وزوال

:Share

لگژری(یعنی عیش وعشرت،طاؤس ورباب اوراسراف)وہ دیمک ہے جودنیاکی بڑی بڑی تہذیبوں اورحکومتوں کوکھاچکی ہے۔روم کی سلطنت،یونان کی بادشاہت،ہسپانیہ کی ریاست،مغل اورترک شہنشاہیت اوردنیاکی بڑی بڑی مملکتیں اسی لکژری،آرام طلبی اور سستی کی بناءپرپیوند خاک ہوکرعبرت کا نشان بن گئیں۔رومن ایمپائرچھ براعظموں پرمحیط تھی لیکن لگژری،اسراف،ظلم اور ناانصافی نے اس عظیم سلطنت کو تاریخ کاکوڑہ دان بنادیا۔ سکند ر اعظم کی سلطنت دنیاکے اکیاون(51)ملکوں پرقائم تھی اوراس نے صرف دس برسوں میں آدھی دنیاکوروند ڈالاتھالیکن جب ظلم اورناانصافی حدسے بڑھی تواس کی حکومت بھی محض تاریخ کے سیاہ اوراق کاایک حصہ بن کے رہ گئی۔ایران کے بادشاہ کسریٰ کاحکم بھی کم و بیش آدھی دنیاپرچلتاتھالیکن لگژری ،اسراف اورظلم نے اسے بھی تاریخ کاجُوہڑبناکررکھ دیا۔مغلوں نے بھی بھارت پر1526ء سے لیکر1857ء تک 331سال حکومت کی لیکن بالآخر طاؤس ورباب،لگژری اور اسراف انہیں بھی لے ڈوبا۔ہندستان کے آخری حکمراں نے جس کی حکومت پہلے ہی دلی سے پالم تک سمٹتے ہی محض قلعہ معلیٰ تک محدودرہ گئی تھی،اپنی عمرکی آخری گھڑیاں رنگون(موجودہ یانگون۔میانمار،سابق برما)کے قید خانے گزاردیں اورمرنے کے بعدبھی اسے دلی میں دوگززمین تک نصیب نہ ہوسکی۔

مسلمان اندلس(ہسپانیہ۔اسپین)پرفخرکرتے ہیں اوربے شک انہیں فخرکرنابھی چاہیے کہ جب لندن،پیرس اورایمسٹرڈم کی گلیوں میں کیچڑبہتا تھا اُس وقت قرطبہ(موجودہ کارڈوبا)شہرمیں ڈھائی لاکھ پکےمکان،80ہزارچارسَودوکانیں،صاف ستھری پکی سڑکیں وگلیاں اورایک ہزارچھ سوشاندار مسجدیں تھیں۔جب یورپ جہالت کے اندھیرے میں ڈوباہواتھااُس وقت قرطبہ کی گلیوں میں چراغ جلا کرتے تھے لیکن ہسپانیہ کے سائنسی طور پرترقی یافتہ،تعلیم یافتہ اورمہذب مسلمانوں کابھی ان کی لگژری سے بھرپورپُرتَعیُّش زندگی اوراسراف نے بیڑہ بھی غرق کردیا۔28فروری 1492کو اُندلس کاآخری بادشاہ اَبوعبداللہ محمد،عیسائی بادشاہ فرنیننڈکو”قصر ِ اَلحمَرا”کی چابیاں سونپ کرمراکش کے شہر”فیض”چلاگیااوروہاں اُس نے اپنی آخری عمربھیک مانگ مانگ کر بسرکی!اور سقوط ہسپانیہ کے ٹھیک پانچ برس بعد1497میں وہاں ایک بھی مسلمان باقی نہیں بچاتھا۔جورہ گئے تھے انہوں نے عیسائیت قبول کر لی تھی لیکن پھربھی وہ”مور”کہلاتے تھے اورایک سوسال بعدان کابھی نام نشان مٹادیاگیاتھا۔

رسول اللہﷺکی حیاتِ طیبہ کودیکھیں تواس میں اعداءاسلام کے ساتھ جومعرکہٴ آرائیاں ہوئیں،اکثرجنگوں میں ایک طرف آپﷺکے رفقاءپر فقروفاقہ کی آزمائش ہوتی،دوسری طرف یہ جذبہٴ سرفروشی اورجانبازی وجان نثاری بھی دوش بدوش،اسی ماحول میں اسلام کاسورج جزیرة العرب کے افق پر طلوع ہوا،وہ بلندی کاسفرطے کرتاگیا یہاں تک کہ اس کی کرنیں مشرق سے مغرب تک پھیل گئیں ۔دنیاکی سپرپاورزاپنے مال ودولت کے انبار، اپنی شان وشوکت کے مصنوعی محلوں سمیت ان کے قدموں میں گرگئیں،ان کارعب وجلال ان کی فقرودُرویشی میں پنہاں تھا،بڑے بڑے بادشاہوں کوان سے گفتگوکایارانہ ہوتاتھا۔اسی لیے رسول اللہﷺکویہ خوف دامن گیرنہیں تھاکہ میری امت معاشی اعتبارسے پسماندہ ہوجائے گی اوراس فقرو پسماندگی کی وجہ سے اسے ذلت ورسوائی سے دوچار ہوناپڑے گابلکہ آپ کوڈراس بات کاتھاکہ یہ امت جدوجہدکے جذبہ سے محروم ہوکرعیش و عشرت میں مبتلانہ ہوجائے،آپﷺنے ارشادفرمایا:

خداکی قسم!مجھے تم پرفقرومحتاجی کاخوف نہیں ہے لیکن میں تم پرجس بات کے بارے میں ڈرتاہوں وہ یہ ہے کہ تم پردنیاکی نعمتیں بچھادی جائیں گی جیسےتم سے پہلوں کیلئےبچھادی گئی تھیں پھرپچھلی قوموں کی طرح تم دنیاکے سلسلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگوگے اورجیسے دنیاکی حرص نے انھیں غفلت اورلہوولعب میں مبتلاکردیاتھا،کہیں تم کوبھی غفلت اورلہوولعب میں مبتلا نہ کردے (بخاری،باب مایحذرمن زہرة الدنیاوالتنافس بہا،حدیث نمبر:6425)

رسول اللہﷺکے اس ارشادکی روشنی میں آج عمومی طورپرمسلمانوں کااورخاص طورپرمسلمان حکمرانوں کاحال دیکھاجائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺاپنی امت کے بارے میں جس چیزسے ڈرتے تھے،آج امتِ مسلمہ عملی طورپراسی مرض میں مبتلا ہے۔حقیقت شناس علامہ اقبال نے خوب کہاتھا:
میں تجھ کوبتاتاہوں تقدیرامم کیاہے
شمشیروسناں اوّل طاؤس ورباب آخر
یعنی جب کوئی قوم ترقی وعروج کاسفرطے کرتی ہے تووہ تلواروں اورنیزوں سے مزین ہوتی ہے،وہ مشکل حالات کوبرداشت کرنے کاحوصلہ رکھتی ہے،وہ عیش وعشرت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی بجائے جدوجہدکے میدان میں آگے بڑھتی ہے اور جب قوموں کے زوال وانحطاط کازمانہ آتاہے تووہ عیش وعشرت کے نقشے بنانے لگتی ہے اوررقص وسرودسے اپنے دل کو بہلانے کی عادی ہوجاتی ہے،ساز،باجے ان کی گٹھی میں پڑچکے ہوتے ہیں۔تان سین جیسے مراثی ان کےآئیڈیل اوربہادرشاہ اور شاہ رنگلیلاجیسے عیاش ان کے لیڈربن چکے ہوتے ہیں۔

یہ بات جب کی جاتی ہے توایک اشکال اٹھایاجاتاہے کہ اگرترقی اسلام پرہی چلنے میں ہے توغیر مسلم کیسے اتنے ترقی یافتہ ہوگئے ہیں ؟

یہ سوال ہی بے محل ہے کیونکہ اس کی بنیاداس مفروضے پرقائم کی گئی ہے کہ ہرتہذیب کی عام فعالیت علم الکائنات اور ریاضیات کے شعبوں میں ہوتی ہے ۔یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔جب ہم سائنس کی تاریخ کامطالعہ کرتے ہیں مثلاًعراق میں بابلی تہذیب کے ہزاروں سال پرمشتمل تاریخ،مصری تہذیب کی ہزاروں سال پرمشتمل تاریخ،یارومن،چینی اورانڈین تاریخ وغیرہ ان طویل تاریخوں کامطالعہ کرتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔اکثروبیشترصورتوں میں زیادہ فعال سائنسی سرگرمی فی الحقیقت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب وہ تہذیب مررہی تھی۔جارج سارٹن بھی یہی کہتاہے۔مثال کے طورپربابلی تہذیب میں جو اپنے عظیم سائنسی شاہکاروں کی وجہ سے مشہورہے۔سائنس نے اُس وقت عروج پایاجب وہ تہذیب ختم ہورہی تھی۔بعض سائنسی علوم کے حوالے سے مصری تہذیب کی بھی یہی کیفیت ہے۔یونانی تہذیب کابھی یہی حال ہے۔یونانی سائنس کے عظیم شاہکارمثلاً بطلیموس اوراقلیدس اوراُن کے معاصرین کے کارنامے اُس وقت ظہورمیں آئے جب یونان کے حصے بخرے ہوگئے تھے۔اُس کا مذہب مررہا تھا۔اُس کی ثقافت دم توڑرہی تھی اوراُس کی سیاسی زندگی پررومیوں کاتسلط قائم ہورہاتھا۔یہ ناقابل تردیدتاریخ حقائق ہیں۔انڈین،چینی اوردوسری تہذیبوں میں بھی جن کی تاریخ بہت طویل ہے۔ایک وقت ایساآیاتھا،جب سائنسی علوم اپنے جوبن پرتھے مثلاًریاضی،طبیعیات،فلکیات اورکیمیاوغیرہ ایساوقت بھی آیاجب سائنس سے توزیادہ لگاؤنہ تھابلکہ فنون سے زیادہ لگاؤہوگیااورفن تعمیر،ادبیات،سیاستِ مدن اورایسے دوسرے فنون نے بہت ترقی کی۔

سائنس بابلی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کے دورِاوّل ہی میں شروع ہوگئی تھی یعنی اسلامی سائنس اسلامی تہذیب کے آغازہی میں اپنے عروج پرتھی۔مثال کے طورپرجابربن حیان دوسری صدی ہجری کاآدمی ہے۔آج تک الکیمیاجابرسے آگے نہیں بڑھ سکی۔نویں صدی میں توایک سے بڑھ کرایک عظیم علمائے فلکیات اورریاضی داں کام کررہے تھے۔دسویں صدی میں البیرونی اور ابن سیناجیسے عظیم لوگ برسرعمل تھے۔ پھرایک طویل عرصے تک کئی صدیوں تک نشیب وفرازآتے رہے،پھراسلامی تہذیب کی صلاحیتوں اورتوانائیوں کے دھارے نے رفتہ رفتہ اپنارُخ بدل لیا۔15 ویں صدی کے آغازمیں مغرب طاقت پکڑچکاتھا۔انکشافات اور دریافتوں کادورشروع ہوچکاتھا۔یورپین نے امریکادریافت کرلیاپھروہ افریقہ کے گردچکرکاٹ کر بحرِ ہندکوعبورکرکے ایشیاکے ساحلوں تک پہنچ گئے لیکن وہ دارالسلام میں داخل نہ ہوسکے۔اُس زمانے میں دنیائے اسلام اب تک بہت بڑی طاقت تھی۔اُس وقت دنیاکی طاقتورترین سلطنتیں عثمانیوں اورصفویوں کی تھی اورامیرترین ہندوستان کی سلطنتِ مغلیہ تھی۔یہ تینوں مسلم سلطنتیں معاشی،سیاسی اور عسکری لحاظ سے اُس وقت بھی بہت مضبوط،مستحکم اورطاقتورتھیں۔تاریخ انسانیت کے عظیم ترین فن پارے اس دورمیں تخلیق ہوئے ۔ آگرہ کاتاج محل، اصفہان کی شاہی مسجد،استنبول کی مسجد سلطان احمد،یہ فن تعمیرکے انمٹ نقوش ہیں۔ پھرخطاطی،ادبیات اوردوسرے فنون کے شاہکار ہیں جن کے نام گنوائے جاسکتے ہیں۔

تاہم مسلم امہ کاسب سے بڑاخسارہ یہ ہواکہ جس دین کی وجہ سے انہیں غلبہ حاصل ہواتھا،ان کی اپنی لگژری،سستی اورنااہلی کی بناء پریہ اپنی ہی ریاستوں میں ایسے زوال پذیرہوگئے کہ مسلمان مشاہیرجن کی سائنسی اورعلمی شاہکارکانہ صرف برملااعتراف کیاجاتاہے بلکہ موجودہ سائنسی ترقی کی عظیم الشان عمارت کی بنیادیں بھی انہی کی ایجادات کی مرہون منت گنی جاتی ہیں،آج امت مسلمہ مغلوب ہوکررہ گئی ہے۔ جب تک مسلمان اسلام کے اصل ماخذومنبع سے اکتساب علم کرتے رہے اورصحیح غوروفکر سے کام لے کراپنے اجتہادسے علمی وعملی مسائل حل کرتے رہے اس وقت تک اسلام نہ صرف زمانہ کے ساتھ حرکت کرتارہا بلکہ مسلمان بھی عروج پررہے لیکن اہل اسلام کوآج وہ مقام حاصل نہیں ہے کہ جب وہ دنیاکی قیادت وسیادت کررہے تھے۔

مغلوب قوم کے بارے میں عصرحاضرکے جیدمفکرسیدمولانا مودودی کایہ تجزیہ بالکل درست ہے کہ”تحقیقات دوسرے کرتے ہیں ان کوجمع دوسرے لوگ کرتے ہیں،ان کوترتیب دے کرایک فلسفہ حیات دوسرے لوگ بناتے ہیں،ایک نظام فکروعمل دوسرے لوگ کرتے ہیں اوریہ مغلوب قوم ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہے اوران کی ہرچیزکوقبول کرتی چلی جاتی ہے۔یہ عمل جتناجتنا بڑھتاجائے گا،اس مغلوب قوم کی انفرادیت ختم ہوتی چلی جائے گی یہاں تک کہ وہ فنابھی ہوسکتی ہے اورہورہی ہے”۔مولانا مودودی کے نزدیک تحقیقات کرنا،علوم وفنون کوجمع کرنا،معلومات فراہم کرنااوران کومرتب کرکے ایک تہذیب بناناغالب قوم کی پہچان ہوتی ہے۔وہ صرف سیاست یااسلحہ اورفوج کی بدولت کسی قوم پرغالب نہیں آتی بلکہ اپنی پوری تہذیب کومغلوب قوم پر غالب کردیتی ہے۔

ذہنی غلبہ واستیلاءکی بنادراصل فکری اجتہاداورعلمی تحقیق پرہوتی ہے،جوقوم اس راہ میں پیش قدمی کرتی ہے وہی دنیاکے رہنمااورقوموں کی امام بن جاتی ہیں اوراسی کے افکاردنیامیں چھاجاتے ہیں اورجوقوم اس راہ میں پیچھے رہ جاتی ہے اسے مقلد اورمتبع بن کے رہناپڑھتاہے۔ مولانااس فطری قانون کابھی تذکرہ کرتے ہیں جوقوموں کے عروج وزوال میں اہم رول اداکرتاہے۔وہ لکھتے ہیں کہ”یہ ایک فطری قانون ہے کہ جوقوم عقل و فکرسے کام لیتی اور تحقیق وتفتیش کی راہ میں پیش قدمی کرتی ہیں اس کوذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی ترقی بھی نصیب ہوتی ہے اورجوکوئی قوم تفکروتدبرکے میدان میں مسابقت کرناچھوڑدیتی ہے وہ ذہنی انحطاط کے ساتھ مادی تنزل میں بھی مبتلاہوجاتی ہے‘‘۔(تنقیحات ازسیدمودودی)۔

مولانامودودی لکھتے ہیں کہ جب قرآن پرغوروفکرکرناچھوڑدیاگیا،جب احادیث کی تحقیق اورچھان بین بندہوگئی،جب آنکھ بندکر کے پچھلے مفسرین اور محدثین کی تقلید کی جانے لگی،جب پچھلے فقہاءاورمتکلمین کے اجتہادات کواٹل اوردائمی قانون بنالیاگیا ،جب کتاب و سنت سے براہ راست اکتساب علم ترک کر دیا گیا اور جب کتاب و سنت کے اصول کو چھوڑ کر بزرگوں کے نکالے ہوئے فروع ہی اصل بنالئے گئے تواسلام کی ترقی دفعتاًرک گئی۔مسلمانوں نے علم وفن سے متعلق ہرچیزکوچھوڑا،اورہراس چیز سے ناطہ توڑاجوان کوعروج پرلے جاسکتاتھااورعلوم وفنون سے مغرب نے رشتہ جوڑاتومسلمان خودبخودزوال کاشکارہوگئے۔ جب جہادواجتہادکاجھنڈامسلمانوں نے پھینک دیاتواس کومغربی قوموں نے اٹھالیا، مسلمان سوتے رہے اوراہل مغرب اس جھنڈے کو لیکرعلم وعمل کے میدان میں آگے بڑھے یہاں تک کہ امامت کامنصب جس سے یہ معزول ہوچکے تھے،ان کومل گیا،ان کے افکارونظریات، علوم وفنون اوراصول تہذیب وتمدن دنیاپرچھاگئے،ان کی فرمانروائی نے صرف اجسام کاہی نہیں دلوں اور دماغوں کوبھی فتح کرلیا۔آخرصدیوں کی نیندسے جب مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں توانہوں نے دیکھاکہ میدان ہاتھ سے نکل گیاہے۔( ملاحظہ تنقیحات، ص:23اور134)

سوکسی تہذیب کوجانچنے کیلئےیہ سوال عائدکرناکہ”اُس میں سائنس کوزوال کیوں آیا؟”اورپھرسائنس کے زوال کاموازنہ اُس تہذیب کے زوال سے کرنا بالکل غلط ہے۔اس لیے کسی بھی تہذیب میں معلومہ تہذیبوں میں سے بھی تمام تخلیقی توانائیوں کوبہ تمام وکمال صرف علم الکائنات اور ریاضی پرنہیں جھونک دیاجاتا۔ایک وقت ایسابھی آتاہے،جب تہذیب صرف اپنے تصورِکائنات ہی میں مطمئن ہوجاتی ہے اوربعدازاں کسی بھی وقت اُس کی تخلیقی فعالت کارُخ فلسفے،آرٹ،تصوف،ادب،قانون اوردوسرے میدانوں کی طرف مڑ جاتاہے۔میں کہنایہ چاہتاہوں کہ سوال کی نوعیت ہی غلط ہے۔آج جس چیزکی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں سائنس کی ترویج واشاعت کے مسئلے کوہمیں اسلامی تہذیب ہی کے دائرے میں رکھ کراسلامی تہذیب کے تناظرمیں دیکھناچاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں