یہ رشتہ عشق کا ہے، عقیدت کا نشان

:Share

ماں کا رشتہ دنیا کا سب سے عظیم رشتہ ہے۔ لفظ ماں میں ایسی کشش ہے کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں جب اس لفظ کوماں،اماں ،مدر یا کسی اور زبان میں کہا جائے دونوں ہونٹ آپس میں ملتے ہیں۔ شاید یہ بھی ماں کے تقدس کی ایک نشانی ہو۔ دنیا میں جتنے بھی انسانی رشتے ہیں۔ ان میں سب مقدس اور عظمت والا رشتہ “ماں ” کا ہوتا ہے۔ ماں اولاد کو جنم دیتی ہے۔ پال پوس کر بڑا کرتی ہے۔ اور ایک کمزور اور نا تواں پودے کو تناور درخت میں تبدیل کرتی ہے۔ اولاد کو ماں سے محبت ہو یا نہ ہولیکن ماں ہر حال میں اپنی اولاد پر ممتا نچھاور کرتی رہتی ہے۔ خود بھوکی رہے گی لیکن اولاد کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرے گی۔ بچہ بیمار ہو جائے تو رات بھر جاگ کر اس کی تیمار داری کرے گی۔ اپنی اولاد کو ترقی کرتا دیکھ کر ماں خوش ہوتی ہے۔ اور امید کرتی ہے کہ بڑھاپے میں اس کی اولاد اس کا سہارا بنے گی۔ لیکن اکثر حالات میں ماں کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی۔ آج کل تو یہ کہاوت مشہور ہو گئی ہے کہ ایک ماں دس بچوں کو تو پال لے گی۔ لیکن دس بچے مل کر ایک ضعیف اور بوڑھی ماں کو نہیں پال سکتے۔ اپنے والدین کے ساتھ ایسے غلط برتاؤ کے باوجود ماں اپنے بچے کے بہتر مستقبل لئے ہمیشہ دعا گو رہتی ہے ۔ دنیا کے ہر مذہب اور سنجیدہ معاشرے میں ماں کو اعلیٰ مقام اور مرتبے پر رکھا گیا ہے۔ مذہب اسلام کی تعلیمات میں کہا گیا ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ بوڑھے ماں باپ کی خدمت جہاد سے بہتر ہے۔ والدین سے صلہ رحمی ،عمر کی درازی اور روزی میں کشادگی کا سبب ہے۔ اور میدان حشر میں لوگوں کو ان کی ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ اے اللہ کے محبوب رسولﷺ: میرے نیک سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون تو آپﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون تو آپﷺ نے فرمایا تیرا باپ۔

گزشتہ ماہ8مئی کو اقوام متحدہ کی طرف سے ماں کا دن منایاگیاچنانچہ دنیا بھر میں اسی دن کا استقبال ماں کی اہمیت اور اس کے کردار کی عظمت و رفعت پر ذرائع ابلاغ بھی خصوصی پروگرام ترتیب دئے گئے۔تعلیمی اور تہذیبی و ثقافتی اداروں نے بھی شایان شان تقاریب کا اہتمام کیاگیا۔دنیا کے سب سے عظمت والے رشتے”ماں”پراردو ادب میں سب سے زیادہ لکھاگیا۔نثرکے علاوہ ماں کے مقدس رشتے پرخوبصورت شاعری نے بھی دلوں کوخوب گرمایا ہے۔ علامہ اقبال کی نظم “ماں کا خواب”اورمسدس حالی کی شاعری نے اردوشاعری کوواقعی وہ حسن وجمال عطا کیا ہے کہ آج بھی اس کلام کی تازگی محسوس کی جاسکتی ہے۔علامہ اقبال کے بعد بیسویں صدی اورپھرموجودہ صدی کی اردو شاعری پر اگر تحقیقی نظر ڈالی جائے تو حفیظ جالندھری کے شاہنامہ اسلام، جناب احسان دانش کی منظومات اور دیگرنظم گو شعرا کے کلام میں ماں کا ذکر خیر بڑے پر تاثیر اسالیب کی صورت میں ملتا ہے۔ادھر کچھ عرصے سے ماں کے ممتا بھرے رشتے کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے میں اردو کے نامور جذباتی شاعر منور رانا کا نام سر فہرست ہے۔ جنہوں نے غزل کی ہیئت میں ماں کی عظمت، محبت، کردار کوخوب صورت اشعار کا روپ دیا ہے۔
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہو دعابھی ساتھ چلتی ہے

گھیر لینے کو جب بھی بلائیں آ گئیں
ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آ گئیں

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتا بیں پھاڑ دیں
صرف ایک کا غذ پہ لکھا لفظ “ماں ” رہنے دیا

ماں کے بارے میں اب تک درجنوں کتابیں موجودہیں جہاں ہمیں نہ صرف ماں کی محبتوں کاانمول ذکرملتاہے بلکہ ماں کی گودپہلی تربیت گاہ ہونے کابھی پتہ چلتاہے۔میں یہاں اپنی زندگی کاایک واقعہ ضروربیان کرتاچاہتاہوں کہ کس طرح میری والدہ نے ہم سب بہن بھائیوں کی اخلاقی تربیت پرخصوصی توجہ دی۔مثلاً ہم سب کی پرورش میں ایک بوڑھے خاندانی ملازم کا کرداربڑا نمایاں تھاایک دفعہ والدہ نے یہ دیکھا کہ بوڑھے ملازم کے ساتھ چھوٹے بھائی نے بدتمیزی کااظہار کیا جس پروالدہ کو جلال آ گیااوراپنے بیٹے کو فوری گھر سے نکل جانے کا حکم صادر فرما دیا، ہم سب نے والدہ کی بہت منت سماجت کی لیکن والدہ نے ہرسفارشی کیلئے بھی سخت احکام جاری کردیئے۔ادھر ملازم نے بھائی کی خطا معاف کرنے کی پیہم استدعا (التجا) کی اوروالدہ محترمہ اسی شرط پر کچھ نرم ہوئیں کہ وہ آ کر میرے سامنے تم سے اپنی خطا پر معافی مانگے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرے تو اس کا جرم قابل معافی ہو سکتا ہے۔ بہر کیف ایساہی ہوا،اس طرح جہاں بھائی کو معافی ملی وہاں ہم سب بہن بھائیوں کی ذہنی تربیت پریہ اثرہوا کہ آج یہی اصول ہماری اولاد اورپوتے پوتیوں کی تربیت میں کام آرہا ہے۔

مجھے یادہے کہ ایک مرتبہ والدہ محترمہ کومیں نے بسترعلالت پردیکھاتوفوری طورپرخاندانی حکیم اشرف صاحب سے رابطہ کیا توفوری طورپرصحت یابی کے لیے ایک قیمتی معجون لاکرپیش خدمت کی۔ کچھ دنوں کے بعد جب حسب معمول یونیورسٹی سے واپس آیا تو دیکھا کہ والدہ محترمہ چاق و چوبند ہیں، دیکھ کر اللہ کا شکراداکیا اوروالدہ سےدریافت کیا کہ جو معجون دی تھی،وہ کتنے دن نوش جاں کی، توخداترس والدہ سے عجیب جواب ملا کہ بے چاری خادمہ بھی اسی مرض کا شکارتھی،وہ ساری معجون خود کھانے کے بجائے خادمہ کو کھلا دی۔ وہ صحت یاب ہوئی اورکارساز حقیقی نے مجھےبغیر کسی دوا کے ٹھیک کر دیا۔ یہ ایک دوسرااہم سبق ملاکہ کہ کس طرح اپنے ملازمین کے ساتھ خداترسی آپ کی زندگی میں آسانیاں لاتی ہے۔

ماں کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ماں شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے ۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاو¿ں کی مانند ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے ۔ اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی ۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔

وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے ۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا ۔ خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے ۔ ماں ایک دُعا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اُن کی حفاظت کرتی ہے ۔ خُدا نے اس کے عظیم تر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دی ۔ اب جس کا جی چاہے وہ اِس جنت کو حاصل کر سکتا ہے ۔ اِس کی خدمت کرکے ، اُس سے محبت کرکے اوراُسے عزت و احترام دے کر ۔ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی خود غرضی شامل نہیں ہوتی ۔ ماں ایک ایسا رشتہ ے جو دُنیا میں سب سے زیادہ پُر خلوص ہے اُس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اُس کی اولاد ہوتی ہے ۔ دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اُس کی دُعائیں سائے کی طرح پیچھا کرتی ہیں اور اُس کی دُعاوں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے ، وہ بے قرار ہوتو عرش کو ہلا دیتی ہے ۔

دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا ، اُن کی پرورش میں اپنی ہر راحت قربان کی ، اپنا ہر آرام ترک اور اپنی ہر خواہش نثار کردی ۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے ماں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ یوں کہا کہ :
میری ماں کاچہرہ بھی اتنا حسین ہے تسبیح کے دانوں کی طرح
میں پیار سے دیکھتا گیا اور عبادت ہوتی گئی

ماں “وہ عظیم نام ہے، جس کے لئے دُنیا کی مختلف زبانوں اور عالمی تہذیبی ورثے اور زبان و ادب میں جو الفاظ تخلیق کئے گئے، وہ اس کے بلند مقام کا استعارہ اور ماں سے عقیدت و محبت کا حسین اظہار ہیں جبکہ دینِ فطرت اور دین ِ رحمت نے ”ماں“ کی عظمت ، خدمت اور اس کی اطاعت و فرمانبرادی کا جو درس دیا ہے وہ سب سے منفرد اور بے مثال ہے ۔ یہ ماں کی شفقت اور ما ں کی عظمت اور محبت کا اظہار ہی تھا کہ مُحسن ِ انسانیت ، نبی ِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”اگر ننھے اور معصوم بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلایا جا رہا ہوتا ، بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد اپنے ربّ کے حضور عبادت میں جُھکے نہ ہوتے اور معصوم جانور میدان میں چرنہ رہے ہوتے تو یقیناً تُم پر سخت عذاب ہوتا “ ۔ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے ۔ اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔

شاعر ِمشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ ”اسرارِ خودی “ میں اسلام میں ماں کی عظمت کے حوالے سے اپنی مشہور فارسی نظم ”درمعنی ایں کہ بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است “ میں لکھتے ہیں کہ ماں کے منصب اور اُس کے حفظ و احترام کا ضامن اسلام ہے ۔ اقبال ؒ کی اس نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ”اگر ٹھیک طور پر دیکھو تو ماں کا وجود رحمت ہے ، اس کی بناءپر کہ اسے نبوت سے نسبت ہے “اس کی شفقت، پیغمبرانہ شفقت جیسی ہے ،جس سے قوموں کی سیرت سازی ہوتی ہے ۔ماں کے جذبہ ءمحبت کی بدولت ہماری تعمیر پختہ تر اور پیشانی کی سلوٹوں میں ہماری تقدیر پنہاں ہوتی ہے ۔ اگر تُم الفاظ کے معنی تک رسائی رکھتے ہو تو لفظ اُمت پر غور کرو ۔ اِس میں بڑے بڑے نکات ہیں۔

مقصود ِ کائنات ﷺ نے فرمایا ”ماں کے قدموں تلے جنت ہے “ ملتِ رحمی رستے کی تکریم پر قائم ہے ۔ اگر یہ نہیں تو زندگی کا ہر کام خام رہ جاتا ہے ۔ ”مامتا“ سے زندگی سرگرم ہے ۔”مامتا“ سے ہی زندگی کے اسراربے نقاب ہوتے ہیں، ہماری ملت کی ندی میں ہر پیچ و تاب ”ماں “ سے ہے ۔اس ندی میں موج ، گرداب اور بُلبلے اسی وجود کے باعث ہیں۔ ملت کو ماں کی آغوش سے اگر ایک مُسلمان حاصل ہوجائے ، جو غیرت مند اور حق پرست ہو تو ہمارا وجود
اِ ن پریشانیوں سے محفوظ ہو جائے ،اس شام کی بدولت ہماری صبحِ دُنیا کو روشن کر دے ۔”ماں “ کی عظمت اور اُس کے خلوص و وفا کے متعلق کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ
ماں ، خلوص و مہر کا پیکر ، محبت کا ضمیر
ماں خُدا کارحم ، وہ دُنیا میں جنت کی سفیر
ماں نشانِ منزل ِ آدم ، تقدس کا پیام
ماں کے قدموں میں ہے جنت ، ماں کے قدموں کو سلام

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل
اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر
میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی
زمین تیری خدا موتیوں سے نم کر دے
ماں اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظیم ،عقل وشعور کی پہلی درسگاہ ، خلوص کا سرچشمہ، خُدا تعالیٰ کا عکس اور ایساباغ ہے جہاں ہر وقت اولاد کےلئے پھولوں کی پتیوں کی طرح نرمی ہی نرمی ہے ۔ مختصر یہ کہ ماں جنت کا وہ پھول ہے کہ جس کے بغیر زندگی بے معنی ہے ۔ ماں کی قدرو قیمت اُن لوگوں سے پوچھیں جن کی مائیں بچپن میں اس جہاں فانی سے کوچ کرجاتی ہیں۔ماں کے بغیر انسان اُس شاخ کی مانند ہے جو زمانے کی تیز ہواؤں اور دھوپ کی تپش کے بغیر کسی سائبان کے سامنا کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ تما م ماؤں کو سلامت رکھے اور اُن کا سایہ اُن کی اولادپر قائم و دائم رکھے۔اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دُعا ہے کہ اولاد کو بھی ربّ کائنات اپنی اپنی ماؤں کی عزت و تکریم اور خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے کہ اِس خدمت کے وسیلے سے وہ حج ِ اکبر کی سعادت حاصل کرنے کے اہل ٹھہریں ۔بیشک ! میری تمام تر کامیابیاں میری والدہ محترمہ کی تربیت اور اُن کی دُعاؤں اور میرے والد بزرگوار کی شفقت پدری کی مرہون منت ہے۔آخر میں میری دُعا ہے کہ وہ اس دنیا سے کوچ کر جانے والی تمام ماؤں اور میری والدہ محترمہ کو بھی اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔آمین
ایک نظم کے چند اشعار اپنی پیاری ماں سے محبت کے اظہار کےلئے پیش خدمت ہیں ۔
ہم جگنو تھے ہم تتلی تھے
ہم رنگ برنگ پنچھی تھے
کچھ ماہ و سال کی جنت میں
ماں ہم دونوں بھی سانجھی تھے
اِک خوابوں کا روشن بستہ
تو روز مجھے پہناتی تھی
جب ڈرتا تھا میں راتوں میں
تو اپنے ساتھ سلاتی تھی
میں تیرے ہاتھ کے تکیے پر
اب بھی رات کو سوتا ہوں
ماں میں چھوٹا سا اِک بچہ
تیری یاد میں اب بھی روتا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں