Quran And Ramadan

قرآن اوررمضان

:Share

کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،کچھ غلامی کرتے ہیں۔کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں اورکچھ ہمیں خطرات میں مبتلا کردیتے ہیں،کچھ الفاظ دل پروارکرتے ہیں جوجگر کوتار تار کردیتے ہیں اور کچھ الفاظ شدیدترین مخالف کوبھی آپ کا گرویدہ کردیتے ہیں۔الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیاہوتی ہے۔ہرلفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ ہرلفظ کااپنا ایک مکمّل وجودہوتاہے۔جب سے میں نےلفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھناشروع کیا،توسمجھ آیاکہ لفظ صرف معنی ہی نہیں رکھتے بلکہ یہ توبڑے تیزدانت رکھتے ہیں،جوکاٹ لیتے ہیں۔یہ ہاتھ رکھتے ہیں جوگریبان کوتارتارکردیتے ہیں۔یہ پاؤں رکھتے ہیں،جوٹھوکر لگاکرپاش پاش کردیتے ہیں اوراگران لفظوں کے ہاتھوں میں”لہجہ”کا اسلحہ تھمادیاجائے ،تویہ وجودکوچھلنی کرنے پربھی قدرت رکھتے ہیں۔اس لئےاپنے لفظوں کے بارے میں حددرجہ محتاط رہناچاہئے۔انہیں اداکرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ کسی کے وجودکو سمیٹیں گے یاکرچی کرچی بکھیردیں گےکیونکہ یہ آپ کی ادائیگی کےغلام ہیں اورآپ ان کے بادشاہ، اور بادشاہ اپنی رعایاکاذمہ دارہوتا ہے اوراپنے سے بڑے حاکم اوربادشاہ کو جواب دہ بھی،جواحکم الحاکمین اورشہنشاہوں کاشہنشاہ ہے۔

روزہ”صبروضبط’ایثارو ہمدردی اورایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کی دعوت دیتاہے۔اسےتزکیہ نفس اورقربِ الٰہی کامثالی ذریعہ قراردیا گیا ہے۔اسلام دین فطرت ہے،اس نے ایسی جامع عبادات پیش کیں کہ انسان ہرجذبے میں اللہ کی پرستش کرسکے اوراپنےمقصدِ حیات کے حصول کی خاطرحیاتِ مستعار کا ہرلمحہ اپنے خالق و مالک کی رضاجوئی میں صرف کر سکے۔نماز،زکوٰة،جہاد،حج اور ماہِ رمضان کے روزے ان ہی کیفیات کے مظہرہیں۔

مسلمانوں کورمضان المبارک کےعظیم الشان مہینہ کاشدت سے انتظاررہتاہے،اوراس کی تیاری شعبان المعظم کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے۔یہ مہینہ رحمت،برکت اورمغفرت والا مہینہ ہے، نیکی اورثواب کمانے والامہینہ ہے،بخشش اورجہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے،اسی مہینہ میں بندے کواپنے رب سے قربت کاعظیم موقعہ ہاتھ آتاہے۔اس مہینے میں رضائے الٰہی اورجنت کی بشارت حاصل کرنے کےمواقع بڑھ جاتے ہیں،ذراتصورکیجئے جب آپ کے گھرکسی اہم مہمان کی آمد ہوتی ہے توہم اورآپ کیاکرتے ہیں؟ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔ گھرکی صفائی ستھرائی کرتے ہیں،گھرآنگن کوخوب سجاتے ہیں،خود بھی زینت اختیارکرتے ہیں اوراہل وعیال کوبھی اچھے کپڑے پہنواتے ہیں،پورے گھرمیں خوشی کاماحول ہوتاہے،بچے خوشی سے اچھل کودکرتے ہیں۔ مہمان کی خاطر تواضع کیلئے ان گنت پرتکلف سامان تیارکئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کیلئےاس قدرتیاری تواللہ کی طرف سے بھیجاہوامہمان رمضان کامہینہ ہوتواس کی تیاری کس قدرہونی چاہیے۔

ماہِ رمضان کی آمدنہ صرف ایک مسلمان کیلئےبلکہ امت مسلمہ کے علاوہ دنیاکے ہرفردکیلئےعالمی پیمانے پرخیروبرکت والی خبر ہواکرتی ہے۔ماہ رمضان نزولِ قرآن کامہینہ ہے،تقویٰ، پرہیزگاری ، ہمدردی ،غمگساری،محبت والفت،خیرخواہی،خدمتِ خلق،راہِ خدامیں استقامت، جذبۂحمیت اور جذبۂ اتحاد،اللہ اوررسولؐ ﷺسے بےانتہالَولگانے کامہینہ ہے،لہذااس کے استقبال کیلئےہمیں اپنے اندران ہی صفات کوپیداکرنے کی تیاری کرناہوںگی،جن صفات کی طرف ماہِ رمضان ہماری توجہ مبذول کراناچاہتاہے۔

ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا،روزے فرض ہوئے،جنگ بدرپیش آئی،شبِ قدررکھی گئی،فتح مکہ کاواقعہ پیش آیا،اس کے عشروں کومخصوص اہمیت دی گئی،پھراس ماہ میں زکوٰۃ،انفاق اورفطرے کااہتمام کیاگیانتیجتاًماہِ رمضان المبارک کی عبادات کے درجات بہت زیادہ بلند کردیے گئے۔ لہذااس ماہ کی حیثیت کے شایانِ شان ہی اس کااستقبال بھی کیاجائےگا۔ قبل اس سے کہ رمضان کی آمدآمدہوہم اپنے باطن وظاہرکواس کیلئےتیارکرلیں۔ ظاہر وباطن کوپاک کرنے اورتیارکرنے میں نیزتقویٰ کی روش اختیارکرنے میں سب سے زیادہ جو مددگارعمل ہے وہ“روزہ”ہے۔اسی لیے اللہ کے رسولﷺ نے ماہِ رمضان کے بعدسب سے زیادہ روزے ماہِ شعبان میں رکھے۔ یہی اس کے استقبال کا بہترین ذریعہ ہے۔

رمضان المبارک کے یہ تین واقعات وہ ہیں جس نے دنیاکی صورتحال بالکل تبدیل کردی۔ یہ صحیح ہے کہ امت کی کامیابی مختلف ادوارمیں پیش آنے والے واقعات کے پس منظرمیں بنائی جانے والی حکمت عملی،پالیسی،لائحہ عمل اورتدابیروضع کرنے کے نتیجہ میں ہی ہوسکتی ہے لیکن یہ ابتدائی تین واقعات وہ مینارۂ نورہیں جن کی روشنی میں یہ کام اس طرح ہوسکتاہے کہ امت بحیثیت پوری امتِ مسلمہ اورمسلمان بحیثیت فرد،کامیابی سے ہمکنارہوں اوریہ کامیابی بھی اسی طرزعمل کواختیارکرتے ہوئے ہوگی جو پہلے کے لوگوں نے اختیارکی ہے اوراس میں یہ واقعات ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔

پہلاواقعہ نزولِ قرآن ہے:واقعہ یہ ہے کہ قرآن نے حیاتِ انسانی کوجلابخشی اوردنیاکوتاریکی،گمراہی اورشرک کی جڑوں سے نجات دلائی۔لہذاہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کوحتی الامکان سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کو اپنی عملی زندگی کے شب وروزمیں پیش آنے والے معاملات میں نافذ کریں۔اس کے مطابق اپنی اوراپنے گھروالوں کی زندگیوں کوڈھالیں۔اس کے پیغام سے پیاسی روحوں کوتازہ دم کریں۔اس کے قیام کی سعی وجہدکریں اوراس کووہ اہمیت دیں جواس کاحق اداکردے۔

دوسراواقعہ جنگ بدرہے:یہ واقعہ اس حق وباطل کے فرق کوکھول کررکھ دینے کاہے جہاں حق کے علمبرداراس سعی وجہدمیں اپنی تمام نعمتوں کواللہ کے حوالے کردیتے ہیں،جواس نے عطا کی ہیں۔اللہ نے عقل دی ہے اوریہ سب سے بڑی نعمت ہے۔جس کے ذریعہ انسان اورحیوان میں فرق نمایاں ہوتاہے۔ اللہ نے صلاحیتیں دی ہیں جن کے ذریعہ خیروفلاح کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔اللہ نے علم عطاکیاہے جس کے ذریعہ جہالت،گمراہی اور نظریۂ ہائےافکار و نظریاتِ باطل سے چھٹکاراپایااوردلایاجاسکتاہے۔اللہ نے مال دیاہے جوخدمتِ خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے کاموں میں استعمال کیاجاسکتاہے۔اللہ نے جان دی ہے جس کے ذریعہ نظامِ باطل کوزیرکیاجاسکتاہے اوریہ آخری انتہاہے لیکن یہ آخری انتہاسے قبل بہت سے وہ کام ہیں جن کاآغازہرشخص فرداًفرداً کرسکتاہے لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے کاکام اجتماعی ہوگااوریہ اُسی وقت ہوگاجب اس کاتقاضاہو،فی الوقت اس کی ضرورت نہیں ہے۔حاملِ قرآن جب قرآن پرعمل کرنے والے ہوجائیں گے توان کووہی کامیابی میسرہوگی جوہمیشہ اورہردورمیں مخالفین ومعاندین کے مقابلے ہوتی رہی ہے۔

تیسرا واقعہ فتحِ مبین ہے:یہ واقعہ اس بات کی شہادت پیش کرتاہے کہ حق کے علمبرداردنیامیں بھی سرخروئی حاصل کریں گے اور آخرت کی کامیابی توابدی ہے۔یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ اللہ کاگھراوروہ مقام جواللہ کی عبادت کیلئےمختص کرلیا گیاہووہ شرک اوربت پرستی سے پاک رہناچاہیے۔یہ زمین اللہ کی عبادت کیلئےمخصوص ہے لہذااس میں باطل سے سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔یہ زمین وہ ہے جہاں اللہ کے نام لینے والے اللہ کے آگے سربجود ہوتے ہیں،اس کی بڑائی اورکبریائی بیان کرتے ہیں،اس سے اپنی تمام توقعات وابستہ کرتے ہیں،اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں،اوراسلامی نظام میں اجتماعیت کی روح پھونکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ مسلمان اگردنیامیں کسی بھی مرحلے میں کامیابی حاصل کریں تووہ مزیداللہ کی بڑائی بیان کرنے والے بن جاتے ہیں،اس کی کمرغروروتکبرکے محرکات سے اکڑتی نہیں ہے بلکہ مزیدوہ اللہ کے آگے جھک جانے والا بن جاتا ہے،اوراس میں انسانوں سے مزید خیرخواہی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ یہ تین واقعات بھی ہمیں اسی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ قرآن کے استقبال میں اپنے باطن وظاہرمیں وہ محرکات پیداکرلیے جائیں اوران چیزوں پرہم عمل پیراہوجائیں جن کے اختیارکے نتیجہ میں ہمیں کامیابی لازمی حاصل ہوگی، انشااللہ

آج اگرہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بقاوتحفظ کیلئےان اقدامات کی ضرورت ہے جودنیامیں رواج پاچکے ہیں تویہ نہ صرف ہماری کم عقلی ہوگی بلکہ دین کی تعلیمات سے دوری بھی نمایاں کرے گی ۔علمی میدان میں ترقی،معاشی میدان میں ترقی،عورتوں کی آزادی اوربالا دستی،صنعت وحرفت میں پیش قدمی،سائنس و ٹیکنالوجی میں ایجادات اوردریافتیں،چانداورمریخ پرقلابیں،یہ اور ان جیسے تمام نعروں میں اس وقت تک کوئی دم نہیں ہے جب تک کہ وہ اسلام کے سانچے میں نہ ڈھلے ہوئے ہوں۔ہم دینی مدارس کھولتے ہیں، کلمہ اورنمازکی تبلیغ کرتے ہیں،فسق وفجورکے خلاف وعظ وتلقین کرتے ہیں،اورگمراہ فرقوں کے خلاف مورچے لگاتے ہیں، حاصل؟حاصل یہ کہ بس جس رفتارسے دین مٹ رہاہے اورمسلمانوں کی عملی زندگی سے دورہوتا جارہا ہے اس کے مٹنے میں ذرا سستی آ جائے اورزندگی کوسانس لینے کیلئےذراکچھ دن اورمل جائیں لیکن یہ امیدکبھی نہیں کی جاسکتی کہ اللہ کادین غالب آجائے یا اللہ کاکلمہ عوام الناس کے دلوں کی دھڑکن بن جائے۔پھریہ خیال کہ موجودہ نظام توان ہی بنیادوں پرقائم رہے،مگر اخلاق،معاشرت، معیشیت،نظم ونسق یاسیاست کی موجودہ خرابیوں میں سے کسی کی اصلاح ہوجائے گی ،تویہ بھی کسی تدبیرسے ممکن نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام زندگی کی بنیادی خرابیوں کی آفریدہ اورپروردہ ہیں اورہرخرابی کودوسری بہت سی خرابیوں کاسہارا مل رہاہے۔

ایسے حالات میں ایک جامع فسادکورفع کرنے کیلئےجامع پروگرام ناگزیرہے،جوجڑسے لےکرشاخوں تک پورے توازن کے ساتھ اصلاح کاعمل جاری کرے ۔وہ کامل پروگرام کیاہے؟اس سے قبل یہ سوال اہم بن جاتاہے کہ آپ فی الواقع چاہتے کیاہیں؟اس موقع پرمیں یہ بتا دیناچاہتاہوں کہ یہ اسلام اورجاہلیت کا ملا جلامرکب،جواب تک ہمارانظام حیات بناہواہے،زیادہ دیرتک نہیں چل سکتا۔یہ اگرچلتارہا تودنیامیں بھی ہماری کامل تباہی کاموجب ہوگااورآخرت میں بھی! اب رہایہ سوال کہ یکسوکیسے ہواجائے؟اس کیلئےاس بات کاجائزہ لیناضروری ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جواسلام کوحقیقی معنوں میں اختیارکرنے کے قائل ہیں اورکون ہیں جوفکرِاسلامی کو”مغربی اجتہاد”کی روشنی میں پسندکرتے ہیں۔یعنی یہ کہ ایک گروہ،وہ ہوگاجواسلام کوعالم انسانیت کی کامیابی،خیروفلاح اورامن وسکون کا ذریعہ سمجھتے ہوئے فکرِاسلامی کوزندگی کے ہرمرحلے میں قائم کرنے کاقائل ہے اوردوسراگروہ،وہ جواسلام کوموجودہ زمانے میں قابلِ عمل نہیں سمجھتا اورچاہتاہے کہ کچھ ترمیمات کے ساتھ اس کواختیارکیاجائے تاکہ انسانوں کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔جس کے نتیجے میں دنیاکی وہ ساری ترقیات حاصل ہوجائیں جو ایک مادہ پرست ذہن اورایک مادہ پرست معاشرے کی چاہت ہیں۔وہ لوگ جواسلام کواسلامی نظامِ حیات کی شکل میں نہ صرف اختیار کرتے ہیں بلکہ قائم بھی کرناچاہتے ہیں،ان کیلئےلازم ہوگاکہ اسلام اورغیراسلام کی اس آمیزش کو،جسے صدیوں کی روایات نے پختہ کررکھا ہے ،تحلیل کریں اورقدامت کے اجزاءکوالگ کرکے خالص اسلام کے اس جوہرکولے لیں،جوقرآن وسنت کے معیارپرجوہراسلام ثابت ہو۔ظاہرہے کہ یہ کام ہمارے ان گروہوں کی مزاحمت اورسخت مزاحمت کے بغیرنہیں ہوسکتاجوقدامت کے کسی نہ کسی جزکے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔اس کیلئےیہ بھی ضروری ہے کہ ہم مغرب کی حقیقی تمدنی وعلمی ترقیات کواس کے فلسفۂ حیات اوراندازفکراوراخلاق ومعاشرت کی گمراہیوں سے الگ کر دیں اورپہلی چیزکولے کر دوسری چیزکے بالکلیّہ اپنے ہاں سے خارج کردیں۔

ظاہرہے کہ اسے ہمارے وہ گروہ برداشت نہیں کرسکتے،جنہوں نے خالص مغربیت کو،اسلام کے کسی نہ کسی مغربی ایڈیشن کواپنا دین بنارکھاہے۔پھراسی کے ساتھ یہ کام ایک انتہائی منظم قوت کی شکل میں ابھرے۔اپنے گروہی ومسلکی اختلافات کوختم کرتے ہوئے لوگ اس میں جوق درجوق شامل ہوں،اورایک ہمہ گیرسیلاب کی مانندزندگی کے ہرشعبہ پرچھاجائیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح مغربی تہذیب اٹھی اورچہارجانب چھاتی چلی گئی۔اس سب کیلئےنہ صرف بلندحوصلوں کی ضرورت ہوگی بلکہ مضبوط سیرت اور صالح اخلاق اورمستحکم ارادے کے انسان درکارہیں۔سوال یہ ہے کہ کیامیں اورآپ خودکواس کیلئے تیارپاتے ہیں یاپھریہ کہ تیارکرنے کاحوصلہ رکھتے ہیں۔یہ وہ کام ہے جوبنایکسوئی کے ہوہی نہیں سکتااوریہی رمضان المبارک کا پیغام ہے جس کاہم استقبال کرناچاہتے ہیں۔

انسان جب کسی کا غلام ہوجائے تواس کیلئےلازم آتاہے کہ اس کی غلامی کودورکردیاجائے۔انسان جسمانی اورعقلی بنیادوں پرآزادپیدا کیاگیاہے اورساتھ ہی وہ اللہ کابندہ بھی ہے۔لہذااس کے جسم اوراس کی فکرکوہراس غلامی سے نجات دلانااوّلین فرض ہے جس کی غلامی میں وہ رہ کرغوروفکراورعمل کرتاہے۔ڈی کنڈیشنگ جسے عرفِ عام میں تطہیرِقلب وفکرکہہ سکتے ہیں،یہ عمل انسان کیلئےہرطرح کی نفسیاتی غلامی کے خاتمے کاعمل ہے۔یہ عمل انہی افرادکونفسیاتی غلامی سے آزادکرسکتاہے جس میں آزادی کی خواہش پائی جاتی ہو۔جس شخص میں یہ پوٹینشل نہ ہوا سے آزادکروانابہت مشکل ہے۔آزادہونے کے پوٹینشل کے معنی یہ ہیں کہ کسی ایسے شخص میں،جوعارضی طور پرنفسیاتی غلامی کاشکارہوچکاہو،کچھ خصوصیات پائی جاتی ہوں۔

1۔اس شخص میں حق پرستی کیلئےایک خاص حمیت اورغیرت پائی جاتی ہو۔وہ حق سے وابستہ رہناچاہتاہو۔وہ کسی فکرسے وابستہ صرف اس لیے ہواہوکہ یہ فکراس کے خیال میں”حق”ہو۔
2۔وہ شخص اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب تلاش کرناچاہتاہو۔اس کے برعکس وہ شخص جومکمل طورپر ذہنی غلام ہے،اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب تلاش کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔وہ بیک وقت متضادباتوں کومانتارہتاہے اوراپنے ذہن کومختلف خانوں میں بانٹ کررکھتاہے۔ اگراس کے ذہن میں کوئی سوال پیداہوتواسے شیطان کاوسوسہ سمجھ کرنظراندازکردیتاہے۔
3۔اس شخص کیلئےاپنے افکارمیں تضادقابل برداشت نہ ہو۔مثال کے طورپروہ یہ نہ مان سکتاہوکہ کوئی چیزایک ہی وقت میں بالکل سیاہ اوربالکل سفید بھی ہو سکتی ہے۔عملی زندگی میں اس کی مثال یہ ہے کہ اس کیلئےیہ ماننا بہت مشکل ہوکہ اس کے راہنمامیں کوئی اخلاقی خرابی بھی پائی جاتی ہے۔اوراس کے باوجوداسے اپنے راہنما کی پیروی کرناچاہیے۔جس شخص میں آزاد ہونے کایہ پوٹینشل پایاجائے،اس کانفسیاتی غلامی سے آزادہوناممکن ہے۔اس کی عملی صورت عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کوئی ایساواقعہ یاحادثہ پیش آجاتاہے جس کی وجہ سے اس کے ذہن میں کئی ایک تضادپیداہوئے۔تضادکی یہ کیفیت اس کیلئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔وہ اس تضاد کوحل کرنے کی کوشش کرتاہے اورجب اس میں ناکام رہتاہے تووہ فکری غلامی سے آزادہوجاتاہے۔ اس بات کی مثال اس طرح سمجھیں کہ ایک عقیدت میں مبتلا انسان اپنے ہی جیسے انسان کوجس کاوہ مریدہے،ہربرائی سے پاک سمجھنے لگتاہے لیکن جب کوئی ایساواقعہ مریداورپیر کے درمیان رونماہوجائے جس کی زدمیں مریدکی ذات خودنقصان کاذریعہ بنے۔ اُس مرحلے میں راہنمایاپیرجس پراب تک اعتماد قائم تھاوہ باقی نہیں رہتا۔پھر جب وہ اپنے پیرکی ایک غلطی کوپہچان لیتاہے اورتقابلی عمل سے گزرتاہے تومحسوس کرتاہے کہ جس شخص،فکراورنظریہ کااس پراب تک غلبہ تھا،وہ بےشمار غلطیوں میں ملوث ہے۔

بس یہ واقفیت ہی وہ نقطۂ آغازہوتاہے ایسے شخص کی گرہیں کھولنے کیلئےجس کے نتیجہ میں پرانے تصورات کی شکست وریخت کاعمل شروع ہوجاتاہے۔ نتیجتاً پرانے تصورات کی جگہ نئے تصورات پیداہوناشروع ہوجاتے ہیں۔اس عمل کے ذریعہ ایساشخص کچھ ہی عرصے میں نفسیاتی غلامی سے آزادی حاصل کرلیتاہے ۔ڈی کنڈیشنگ کے عمل کے اختتام پرانسان اپنے بہت سے سابقہ تصورات سے دست بردارہوجاتاہے۔اس کی جگہ نئے تصورات قائم ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ پرانے دوستوں سے رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں اور نئے دوستوں کے ساتھ رشتے استوارہوناشروع ہوجاتے ہیں۔پرانی اقدارایک ایک کرکے بکھر تی چلی جاتی ہیں اورنئی اقدارجنم لینے لگتی ہیں۔مختلف واقعات کی توجیہ کرنے کاپراناطریقہ ختم ہوتاچلاجاتاہے اوراب واقعات کونئےتناظرمیں دیکھاجانےلگتاہے۔

آج امت مسلمہ کے نام نہادمفکرین کوبھی نفسیاتی آزادی کے اِس ڈی کنڈیشنگ کے عمل سے گزارنے کی ضرورت ہے کہ جس کے نتیجہ میں خصوصاًمغربی اورعموماًتمام باطل عقائداور افکارونظریات سے نجات کی ضرورت ہے کہ جس کے بعداسلام کے حقیقی نظریۂ حیات کوسمجھ سکیں۔وہ خودبھی یہ جان سکیں اوراللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اورنعمتوں کواستعمال کرتے ہوئے بتاسکیں کہ اسلام امن ومحبت،ہمدردی وخیرخواہی اوردنیاوآخرت میں نجات دلانے والاہے، ساتھ ہی مذہبِ اسلام عالمِ انسانیت کی کامیابی و سرخروئی کاپیش خیمہ ہے۔اس مہینہ میں اسی ڈی کنڈیشنگ کےعمل سے امت کے ہرفردکوگزاراجاتا ہے۔ لہذا ماہِ رمضان کااستقبال کرتے ہوئے اپنی ذات کواس عمل سے گزارنے کیلئےبھی تیارکرلیناچاہیے،اوریہی وہ بہترین استقبال ہوگاجورمضان کے گذارنے کے بعدہماری سابقہ زندگیوں کے شب وروزکومکمل طورپرتبدیل کردے گا۔پھریہی تبدیلی ہماری نجات کاذریعہ ثابت ہوگی،انشااللہ۔

نفسیاتی آزادی کاعمل اورتطہیرِفکروقلب کاعمل ان لوگوں کے بس میں ہے جوداعئ الخیر کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔لہذا وقت کا تقاضابھی ہے اورہم پرلازم بھی ہے کہ ہم اورآپ داعی حق بن جائیں،لیکن داعی حق کیلئےضروری ہے کہ وہ غیرضروری بحث و مناظرے سے بچے۔دین کے بہت سے پرجوش داعی، خواہش رکھتے ہیں کہ مخاطب چندگھنٹوں میں تبدیل ہوکران کانقطۂ نظر قبول کر لے۔ لیکن میرے خیال میں یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔داعی حق کیلئےاپنی نیت میں اخلاص پیداکرنالازمی امرہے۔اس کی دعوت کا مقصدکسی شخص کوگھیر گھارکراپنے نقطۂ نظرپرقائل یالاجواب کرناہرگزنہیں ہوناچاہیے۔اس کاکام ہے کہ جس کووہ درست سمجھتا ہے،اسے احسن اندازسے اپنے دوسرے بھائی تک پہنچادے۔داعی کوکبھی بھی جلدبازی کامظاہرہ نہیں کرناچاہیے،اورنہ ہی اپنے مخاطب یااس کے راہنماکوڈائریکٹ تنقیدکانشانہ بناناچاہیے جس کے نتیجہ میں ضدپیداہونے کاامکان ہوکیونکہ ضد،انانیت اورہٹ دھرمی ، کبھی سیدھے راستے کی راہنمائی نہیں کرسکتے۔لہذارمضان المبارک کااستقبال ہمیں اس طرح کرناچاہیے کہ ہم پریہ واضح ہو جائےکہ ۔۔۔۔ حق آگیااورباطل مٹ گیااورباطل تومٹنے ہی کیلئےہے۔اورساتھ ہی یہ بھی کہ۔۔۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ۔

ماہِ رمضان کااستقبال کریں اپنے قول سے،اپنے عمل سے،اسلامی نظریۂ حیات کوعام کرکے اوران طریقوں کواختیارکرکےجوہم پرلازم آتے ہیں۔ استقبال کریں ماہِ رمضان کااس عہد وپیمان کے ساتھ جس کے نتیجہ میں ہماری زندگیاں نہ صرف ہمارے متعلقین کیلئےبلکہ عوام الناس کیلئےبھی سودمند ثابت ہوں۔ استقبال کریں رمضان المبارک کااس طرح کہ یہ استقبال امت مسلمہ کے عروج کا ذریعہ بن جائے کیونکہ اللہ کے رسول نےخودیہ مژدہ سنایاتھاکہ اگرتم نے میری دعوت مان لی توتم عرب وعجم دونوں کے مالک بن جاؤگے اوراستقبال کریں ہراس عبادت پرعمل کرکے جس کے ذریعہ ہمیں اللہ کی محبت اورقرب حاصل ہوجائے۔حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ شعبان کی آخری تاریخ کونبی کریم ؐنے خطبہ دیا جس میں فرمایا:اے لوگو!ایک بڑی عظمت والا،بڑی برکت والامہینہ قریب آگیاہے۔وہ ایسامہینہ ہے جس کی ایک رات ہزارمہینوں سے بہترہے۔ ۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں روزہ رکھنافرض قراردیاہے اوراس مہینہ کی راتوں میں تراویح پڑھنانفل قراردیاہے(یعنی فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے،جس کواللہ تعالیٰ پسندفرماتاہے)جوشخص اس مہینہ میں کوئی ایک نیک کام اپنے دل کی خوشی سے بطورخودکرے گاتووہ ایسا ہوگاجیسے کہ رمضان کے سوااورمہینوں میں فرض اداکیاہو،اورجواس مہینہ میں فرض اداکرے گاتووہ ایساہوگاجیسے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینہ میں کسی نے ستّر(70)فرض اداکیے،اوریہ صبرکامہینہ ہے اورصبر کابدلہ جنت ہے،اوریہ مہینہ معاشرے کے غریب اورحاجتمندوں کے ساتھ مالی ہمدردی کامہینہ ہے۔یہ وہ عبادات ہیں جن کواختیارکرناہرمسلم کیلئے لازم ہے۔لہذایہ عبادات ہمارے ظاہروباطن کوتبدیل کردیں،اسی کیلئےاپنے فکروقلب کوتیارکرلیناہے۔پس یہی ہے استقبال،یہی ہے استفادہ اوریہی ہے منزلِ مقصود۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

fourteen − one =