Quran and music

قرآن اورموسیقی

:Share

ڈاکٹرمحموداحمدغازی کی کتاب”محاضرات قرآنی”کے صفحہ148پردرج اس اقتباس نے مجھ پرحیرت کے کئی درواکردئیے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کانام سناہوگا، انہوں نے غالبا1958ًء میں خودبراہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیاتھا کہ غالباً1958-1957ءمیں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ان کی زندگی کایہ ایک عام معمول تھاکہ ہرروزدوچارلوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔وہ بھی ایساہی ایک دن تھاکہ ایک صاحب آئے اورکہاکہ میں اسلام قبول کرناچاہتاہوں۔ڈاکٹرصاحب نے حسب عادت ان کوکلمہ پڑھوایا اور اسلام کامختصرتعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں ۔

ڈاکٹرصاحب نے بتایاکہ ان کامعمول تھاکہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پراسلام قبول کرتاتھاتووہ اس سے یہ ضرورپوچھا کرتے تھےکہ اسے اسلام کی کس چیزنے متاثرکیاہے؟1948ء سے1996ءتک یہ معمول رہاکہ ڈاکٹرصاحب کےدست مبارک پراوسطاًدوافراد روزانہ اسلام قبول کیاکرتے تھے ۔ عموماًلوگ اسلام کے بارے میں اپنے جوتاثرات بیان کیاکرتے تھے،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے ۔ان میں نسبتاًزیادہ اہم اورنئی باتوں کوڈاکٹرصاحب اپنے پاس قلم بندکرلیاکرتے تھے۔ اس شخص نے جوبات بتائی،وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اورمنفردنوعیت کی چیزتھی اورمیرے لیے بھی بےحد حیرت انگیزتھی۔

اس نےجوکچھ کہا،اس کے بارے میں ڈاکٹرصاحب کاارشادتھاکہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اورمیں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔اس شخص نے بتایا:میرانام ژاک ژیلبیرہے۔میں فرانسیسی بولنے والی دنیاکاسب سے بڑاموسیقارہوں۔میرے بنائے اورگائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیامیں بہت مقبول ہیں۔آج سے چندروزقبل مجھے ایک عرب سفیرکے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کاموقع ملا۔جب میں وہاں پہنچاتووہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اورنہایت خاموشی سے ایک خاص اندازکی موسیقی سن رہے تھے ۔جب میں نے وہ موسیقی سنی تومجھےایسالگاکہ جیسے یہ موسیقی کی دنیاکی کوئی بہت ہی اونچی چیزہے، جویہ لوگ سن رہے ہیں۔میں نے خودآوازوں کی جودھنیں اوران کاجونشیب وفرازایجاد کیاہے،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کیلئےابھی دنیاکوبہت وقت درکارہے۔

میں حیران تھاکہ آخریہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہےاوراس کی دھنیں آخرکس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرناچاہاکہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تولوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیالیکن تھوڑی دیربعدپھرمجھ سے رہانہ گیا اورمیں نے پھریہی بات پوچھی لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ڈاکٹرصاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہاتھا،جن سے میں واقف نہیں،کیوںکہ فن موسیقی میرا میدان نہیں۔

قصہ مختصرجب وہ موسیقی ختم ہوگئی اوروہ آوازبندہوگئی توپھراس نے بڑی بے تابی اورمضطرب اندازمیں لوگوں سے پوچھاکہ یہ سب کیاتھا۔لوگوں نے بتایاکہ یہ موسیقی نہیں تھی بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اورفلاں قاری کی تلاوت ہے۔موسیقارنے کہاکہ یقیناًیہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اوریہ قرآن ہوگا،مگراس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اوریہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟وہاں موجودمسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اورنہ ہی یہ قاری موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقارنے جواب میں کہاکہ یہ ہوہی نہیں سکتاکہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیاکہ قرآن مجیدکاکسی دھن سے یافن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔یہ فن تجویدہے اور ایک بالکل الگ چیزہے۔

اس نے پھریہ پوچھاکہ اچھامجھے یہ بتاؤکہ تجویداورقرأت کایہ فن کب ایجادہوا؟اس پرلوگوں نے بتایاکہ یہ فن تو14صدیوں سے زائد سے چلاآرہا ہے ۔ رسول اللہ ﷺنےجب لوگوں کوقرآن مجیدعطافرمایاتوفن تجویدکےاصولوں کے ساتھ ہی عطافرمایاتھا۔اس پراس موسیقار نےکہاکہ اگرمحمد ﷺنے اپنے لوگوں کوقرآن مجید اسی طرح سکھایاہےجیساکہ میں نے ابھی سناہےتوپھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔اس لیے کہ فن موسیقی کےجو قواعد اور ضوابط اس طرز قرأت میں نظرآتے ہیں،وہ اتنےاعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیاابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔ ڈاکٹرحمیداللہ صاحب اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصرتھےکہ وہ کیاکہہ رہاہے۔اس شخص نےکہاکہ بعدمیں،میں نے اوربھی قرأ کی تلاوت قرآن کوسنا،مسجدمیں جاکرسنااورمختلف لوگوں سے پڑھواکرسنااورمجھے یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہےاوراگریہ اللہ کی کتاب ہے تواس کےلانے والے یقیناًاللہ کے رسول تھے،اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔ڈاکٹرصاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے کلمہ شہادت پڑھواکرمسلمان کرلیالیکن میں نہیں جانتا کہ جوکچھ وہ کہہ رہاتھاوہ کس حدتک درست تھا،اس لیے کہ میں اس فن کاآدمی نہیں.

ڈاکٹرصاحب نے بتایاکہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کوجوپیرس میں زیرتعلیم تھا،اس نئے موسیقارمسلمان کے بے حداصرارپر اس کی دینی تعلیم کیلئے مقرر کردیا۔تقریباً ڈیڑھ ماہ بعدوہ دونوں میرے پاس آئے اورکچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایاکہ وہ نومسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کااظہارکررہاہےجن کامیرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ جس بنیادپریہ شخص ایمان لایاتھا،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کامیں کیاجواب دوں گااورکیسے دوں گا؟لیکن اللہ کانام لے کرپوچھاکہ بتاؤتمہیں کیاشک ہے؟

اس نومسلم نےکہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایاتھااورکتابوں میں بھی،میں نے پڑھاہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجودہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبرﷺنے اسے صحابہ کرام کے سپردکیاتھا۔ڈاکٹرصاحب نے جواب دیاکہ واقعی ایساہی ہے۔اب اس نےکہاکہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتناقرآن پڑھایاہے،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتاہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیزضرورحذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایاکہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصرپڑھائی ہے اوراس میں”اَفۡوَاجًا”اور” فَسَبِّحۡ”کے درمیان خلاہے۔جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایاہے،وہاں اَفۡوَاجًا پروقف کیاہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتاہےجونہیں ٹوٹناچاہیے جبکہ میرافن کہتاہے کہ یہاں خلانہیں ہوناچاہیے۔

ڈاکٹرصاحب فرماتےتھےکہ یہ سن کرمیرے پیروں تلے زمیں نکل گئی،اورکچھ سمجھ میں نہیں آیاکہ اس شبہ کاجواب کیادیں اورکس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراًدنیائے اسلام پرنگاہ دوڑائی توکوئی ایک فردبھی ایسانظر نہیں آیاجوفن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتاہواورتجویدبھی جانتاہو۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چندسیکنڈکی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اوریکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھاکرتا تھاتومیرے معلم نے مجھے بتایاتھاکہ ” اَفۡوَاجًا” پروقف نہیں کرناچاہیے بلکہ اَفۡوَاجًا کوبعدکے لفظ سے ملاکرپڑھاجائے۔ایک مرتبہ میں نے” اَفۡوَاجًا”پروقف کیاتھاتواس پرانہوں نے مجھے سزادی تھی اورسختی سے تاکیدکی تھی کہ اَفۡوَاجًا کوآگے فَسَبِّحۡ”سےملاکرپڑھاکریں۔

میں نے سوچاکہ شایداس بات سے اس کاشبہ دورہوجائے اوراس کواطمینان ہوجائے۔میں نے اسے بتایاکہ آپ کےجوپڑھانے والے ہیں ،وہ تجویدکے اتنے ماہرنہیں ہیں۔دراصل یہاں اس لفظ کوغنہ کے ساتھ آگے سے ملاکرپڑھاجائےگا۔”افواجاً فسبح”۔ ڈاکٹرصاحب کااتنا کہناتھاکہ وہ خوشی سے اچھل کرکھڑاہو گیا اورمجھے گودمیں لے کرکمرے میں ناچنے لگااورکہنے لگاکہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔ یہ سن کراس کومیں نے ایک دوسرے قاری کے سپردکردیاجس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔وہ وقتاًفوقتا ًمجھ سے ملتاتھااوربہت سردھنتا تھاکہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اورایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد1970ء کے لگ بھگ اس کاانتقال ہوگیا۔اس واقعے سے مجھے خیال ہوتاہے کہ قرآن مجیدکی جوصوتیات ہے،یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیاہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اتراہے اورنہ ہی قرآن مجید کے اس پہلوپراب تک کسی نے اس اندازسے غوروخوض کیاہے۔

قارئین!مجھے یہ واقعہ11برس پیچھے لے گیاجب میری اہلیہ کاپوراجسم فالج کی وجہ سے شدیدمتاثراورمعذورہوگیا۔اس اچانک افتاد نے دنیااندھیرکردی اور بالآخران کے علاج اورتشخیص کیلئے اہلیہ کے تمام ٹیسٹ پرڈاکٹروں کاایک پورابورڈمیسرآگیا،خوش قسمتی سے دنیاکے سب سے بڑے معالج “پروفیسر بیکر ” کی خدمات حاصل ہوگئیں۔کانفرنس روم میں موت جیساسناٹا چھایاہواتھا کہ نجانے کیا اعلان ہو۔تمام متعلقہ ٹیسٹ کے بعدڈاکٹربیکرنے اپنی نیلی آنکھوں پر سے چشمہ ہٹاتے ہوئے میرے چہرے پرنظرِیں گاڑدیں اورمجھے یوں محسوس ہورہاتھاکہ میرادل حلق کے اندرآگیاہے۔پروفیسرنے پہلے تمام ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں آگاہ کیااورآخر میں انتہائی افسوس کے ساتھ بتایاکہ مریضہ کے پاس صرف دوہفتے ہیں لیکن مجھے اس بات پربڑی حیرت ہورہی ہے کہ مریضہ کے دماغ سے یہ حملہ ہواجس نے ان کے سارے جسم کومفلوج کردیالیکن ان کاچہرہ،گلا،ناک،آنکھیں اورکان اس حملے سے کیسے بچ گئے اوریہ تمام اعضاء مکمل طورپر صحت مندہیں جبکہ یہ میڈیکل سائنس اورہمارے تجربے کی نفی ہے؟

پروفیسربیکرکے اس اعلان پرمیری آنکھوں کے آگے اندھیراچھاگیاتھااوردل کی دھڑکن اس قدرتیزہوگئی تھی کہ میں ہکابکااس کے چہرے کودیکھ رہاتھاکہ ممکن ہے کہ یہ کوئی اچھی خبرسنا دے۔میں نے پروفیسرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں ڈاکٹروں کے پورے بورڈکے تجربات کوجھٹلانے کی ہمت تونہیں کر سکتالیکن اہلیہ کے چہرے کے بارے میں جورائے دی گئی ہے، اس کی بابت یہ بتاناچاہتاہوں کہ جس رب کی طرف سے یہ آزمائش آئی ہے،میں نے اپنی ساری ازدواجی زندگی میں اہلیہ کوقرآن کاعاشق پایا ہے اور عین ممکن ہے کہ میرے کریم رب نے اس قرآن پڑھنے اوراس پرعمل کرنے کے طفیل ان کے چہرے کومکمل محفوظ رکھاہو۔ یہ کہہ کرمیں کھڑاہوگیا۔فوری طورپرپروفیسرنے میرے دونوں کندھوں پراپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے مجھے بڑے خوبصورت انداز میں یہ نصیحت کی کہ”ہم ڈاکٹرصرف اپنے تجربات کی بناءپراپنی آراء قائم کرتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ بالکل ویساہی ہو،تاہم میں آپ کی اس بات سے مکمل طورپراتفاق کرتاہوں کہ ہمیں ان معجزات پربھی یقین کرناہو گا جوہمیں کبھی کبھاردیکھنےکوملتے ہیں۔

اہلیہ اس واقعے کے بعدچھ سال تک زندہ رہیں لیکن اپنی معذوری کی اورشدیدعلالت کی بناءپرانہیں نرسنگ ہوم میں منتقل کرناپڑگیا ۔وہ اس حال میں بھی ہر وقت قرآن وتسبیحات میں مشغول رہتی تھیں۔معجزاتی طورپران کے جسم کادایاں حصہ حرکت کرنے لگااور امیدبندھ گئی اورپروفیسربیکربھی اس تبدیلی پر بڑاحیران تھا۔ایک دن پروفیسراہلیہ کی تیمارداری کیلئے جب آیاتوہم سب حسب معمول قاری عبدالباسط مرحوم کی آوازمیں“سورہ الرحمٰن”کی تلاوت سن رہے تھے۔میں لیپ ٹاپ پرآوازکوجب کم کرنے لگاتواس نے مجھے منع کردیااورخودبھی بڑے انہماک کے ساتھ سنناشروع کردیا۔میں اس کے چہرے کے تغیرات کوبغوردیکھ رہاتھا۔سورہ مکمل ہونے پراس نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیاتواس نے بے ساختہ کہاکہ میراجی چاہتاتھاکہ یہ آوازجاری وساری رہے اورکبھی ختم نہ ہوجبکہ میں اس کے مفہوم ومعنی سے بالکل نابلدہوں لیکن یہ آوازبراہِ راست میرے دل پراثرکررہی تھی۔

ہمارایہ معمول تھاکہ دن کازیادہ وقت سورہ رحمٰن سنتے رہتے تھے لیکن اس دن مجھے بہت تعجب ہواجب نرسنگ ہوم کے انگریز ڈائریکٹر”سائمن”نے مجھ سے اس سورہ کے بارے میں درخواست کی کہ میں اپنے کمرے کادروازہ کھول کراسے اونچی آوازمیں لگادیاکروں کہ باقی مریض بھی اس سے استفادہ کریں کہ مریضوں کی اکثریت دروازے کے باہرکھڑی بڑی خاموشی کے ساتھ سن کربڑاسکون محسوس کرتے ہیں۔انہی مریضوں میں ایک91سالہ”ارنسٹ ٹو ملیسن ”بھی تھاجوکینسرکامریض تھااورانتہائی کرب کے ساتھ سارادن چیختااورتڑپتارہتاتھا۔اس کواس کرب سے نجات دلانےکیلئےروزانہ انجیکشن دیکر سلا دیاجاتاتھا۔ایک دن اس نے جب سورہ رحمٰن کوسناتو اس نے بے اختیارنرس کواس آوازکے تعاقب کیلئے بھیجا۔معلوم ہونے پراس نے ہمارے کمرے میں آنے کی درخواست کی۔

حیرت انگیزطورپروہ انتہائی خاموشی کے ساتھ اس کوسنتارہااوراس نے بڑی عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ مجھے ہرروزاس کوسننے کیلئے کمرے میں آنے کی اجازت دی جائے جبکہ میں نے اسی کے کمرے میں اس کابندوبست کردیا۔مجھے میڈیکل سٹاف کے اس انکشاف نے مزیدحیران کردیاکہ جب سے اس نے سورہ رحمٰن کوسننا شروع کیاہے،اس کے انجیکشن کوہم نے بتدریج ختم کردیاہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔یہ معاملہ ایسابڑھاکہ نرسنگ ہوم میں باقاعدہ طورپرہرروزدوگھنٹے کیلئے سورہ رحمٰن کی تلاوت کااہتمام کردیاگیا۔اہلیہ تورمضان کی 27ویں مبارک شب کواللہ کے پاس چلی گئیں مگربعد ازاں مجھے بتایاگیا کہ”ارنسٹ” برطانیہ کاایک مشہورمیوزیشن رہاہے اوراس کی تیارکردہ سینکڑوں دھنیں پوری دنیامیں بہت مشہورہیں۔

میں نہیں جانتاکہ اس سارے واقعہ کی منطقی وجوہات کیاہیں لیکن اس واقعہ کوپڑھنے کے بعدمجھ پرحیرت کے پہاڑٹوٹ گئے ہیں کہ ہم نے آخرتحقیق سے کیوں منہ موڑرکھاہے کہ اغیارکی گواہیاں علی اعلان سامنے آرہی ہیں۔امریکاکی ریسرچ یونیورسٹیوں کے حالیہ جائزہ رپورٹ میں یہ واضح کیاگیاہے کہ دیندار حضرات میں شرح بیماری کم ہے اوران کے اندرقوت ِدفاع دوسروں کے بالمقابل زیادہ ہے،ہائی بلڈپریشرکاشکارعمومی طورپر65سال کی عمروالے حضرات ہوتے ہیں لیکن دیندار حضرات میں یہ تناسب40فیصدکم ہے۔واضح رہے کہ بلڈپریشرعمومی طورپردل ودماغ پراثراندازہوتاہے اوران حالات میں دماغی رگوں کے پھٹنے کاامکان زیادہ بڑھ جاتاہے۔عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹرہارولڈکہتاہے:’’ہمیں پورایقین ہے کہ اسلام میں نمازاوردیگر شعائرکی ادائیگی کاحکم ایک مثبت اوردرست حکم ہے جس کےبہتراورصحت افزااثرات انسانی جسم پرنمودارہوتے ہیں اورعام لوگوں کے مقابلہ میں دیندارحضرا ت بیماریوں کاکم شکارہوتے ہیں”۔

اس تحقیقی رپورٹ کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں کی خالص علمی وتحقیقی ریسرچ کمپنیوں نے اس کا انکشاف کیاہے اورایسے معاشرہ میں یہ بات سامنے آئی ہے جو خالص مادی ہے،جومحسوسات سے ماوراءچیزوں کونہیں دیکھتا،پھر ایسے ماہرین ومحققین نے اعتراف کیاہے جوخالص عالمی بنیادوں کواپنامعیاربناتے ہیں،اورپھرایسے زمانے میں جبکہ مادیت کاہر طرف غلبہ ہے اورلوگ روحانی افلاس کاشکارہیں۔

زمانہ قدیم سے طب اورعلاج مذہب اوردین سے جڑے ہیں لیکن امراض سے شفاحاصل کرتے پنڈتوں اورکاہنوں کے پاس جاتے اور وہ روحانی پیشواکچھ خاص طریقوں سے ان کاعلاج کرتے اوریہ طریقہ بابل،کلادن،اورآشوریوں کے یہاں رائج تھا۔مصراورہندوستان میں زمانہ قدیم ہی سے تعویذاورگنڈوں کااستعمال عام تھا۔یونانیوں کے یہاں علم طلب دیندارطبقہ کے ساتھ خاص تھا،مریض عبادت گاہوں کاچکرلگاتے،کاہنوں کے بارے میں یہ مشہورتھاکہ بحالت خواب مرض وعلاج کی تشخیص کرتے ہیں۔

ماضی کا انسان امراض اوراسباب علاج کودین ومذہب سے جوڑے ہوتاتھالیکن آج مغربی ومادی تہذیب میں گھل مل کرانسان اس سے بالکل غافل ہوچکاہے اوربے شمارلاعلاج امراض کاشکارہوکربھی دین واخلاق اوراعلیٰ اقدارسے کوسوں دورہے،یہی وجہ ہے کہ انسان بے شمارجسمانی اورنفسیاتی امراض لاشکارہو گیاہے۔یہ بیماریاں ان معاشروں میں بکثرت ہیں جومادیت میں غرق اورفضائل و اخلاق سے بہت دورہیں۔آج خطرناک ترین بیماریوں کے گراف بڑھتے جا رہے ہیں،ایڈز،منشیات کی بری عادت،دل کی بیماریوں، دورے اورشوگرجیسی مہلک بیماریاں عام ہورہی ہیں۔ایک جائزہ کے مطابق 13فیصدامریکی عوام نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں85 فیصدلوگ ذہنی ودماغی الجھنوں کا شکارہیں،شفاخانوں میں50فیصد سیٹیں ایسے مریضوں کیلئے خاص ہیں جوذہنی ودماغی امراض میں مبتلاہیں۔

گزشتہ ادیان کے ماننے والے علاج ومعالجہ کارشتہ مذہب ودین سے جوڑے ہوئے تھے جبکہ مذاہب انسانوں کے خودساختہ تھے۔ آسمانی مذاہب اس کے زیادہ اہل ہیں کہ دواعلاج کو مذہب سے جوڑیں،دین اسلام جوہرطرح کی تحریف وتاویل سے پاک ومبراہے،اس پریہ ذمہ داری مزیدعائدہوتی ہے جبکہ سورۂ حجرکی آیت9میں ارشادہے:’’بے شک یہ کتاب نصیحت ہم ہی نے اتاری اورہم ہی اس کے نگہبان ہیں ” ۔مذہب اسلام پوری انسانیت کیلئےہدایت ورحمت کادین ہے،ایک کامل ومکمل نمونہ حیات ہے،انسان کی زندگی کوراحت بخشنے والا مصائب وآلام سے چھٹکارا دلانے والادین ہے،دنیاوآخرت کی فلاح وبہبودکاضامن ہے۔قرآن وحدیث میں امراض اوران کے اسباب وعلاج مذکورہیں لیکن وائے افسوس کہ ہم نے قرآن کےمطالعہ اورتحقیق سے منہ موڑرکھاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × one =