Prosperity Locked In Promises

وعدوں میں قید خوشحالی

:Share

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ سے تحائف کی کم داموں پرخریداری اوراس سارے معاملہ کوقوم سے چھپانے کے الزام کا الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس دائرکیاگیاہے۔اس ریفرنس کی وجہ سے عمران خان کے سرپربھی اُسی آئینی آرٹیکل کی تلوار لٹک رہی ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف عمربھر کیلئے پارلیمانی سیاست سے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہل قراردیے گئے تھے۔عمران خان کے خلاف سپیکرقومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل63 (ٹو)کے تحت ریفرنس دائرکیاگیاتھاکہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگرالیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ظاہرنہیں کیا،اس طرح وہ”بددیانت”ہیں،لہٰذاانہیں آئین کے آرٹیکل 62ون(ایف)کے تحت نااہل قراردیاجائے۔

توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اوران کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انہیں بیچ دیاتھااورجہاں یہ تحائف فروخت کئے گئے انہوں نے سعودی ولی عہدسے رابطہ کرکے ان کواطلاع کردی کہ جوتحائف آپ نے ہم سے خریدے ہیں،وہ دوبارہ ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں جس پر سعودی ولی عہدنے اپنے تحائف کی اس ناقدری کے عمل پرپاکستان سے اپنی شدیدنارضگی کااظہار کرتے ہوئے پاکستان سے فاصلہ قائم کرنے کافیصلہ کرلیاکیونکہ عربوں میں تحائف کی اس طرح ناقدری کوانتہائی تحقیرسمجھاجاتاہے اوردوسری طرف اس عمل سے پاکستان کی عالمی رسوائی بھی ہوئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانج رکنی بینچ نے ریفرنس کی ابتدائی سماعت کے بعدعمران خان کے وکیل کودرخواست کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی ہے جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹرگوہر نے کہاکہ ان کے موکل قومی اسمبلی کے رکن نہیں،اس لئے انہیں نوٹس نہیں دیاجاسکتاجس پر چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کاکہناتھا کہ الیکشن کمیشن کوابھی تک اسپیکرکی طرف سےان کااستعفیٰ موصول نہیں ہوا،اس لئے وہ ابھی تک رکن قومی اسمبلی ہیں۔ہمیں نوارکان کے استعفے موصول ہوئے اورہم نے سب کوڈی نوٹیفائی کردیاہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اورانہیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پرتحفہ بیچناغلط اورمعیوب ہے البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ”میراتحفہ،میری مرضی”۔جبکہ اس ریفرنس کی کاپی کے مطابق عمران خان پرقانونی طورپر لازم تھاکہ وہ ہرمالی سال کے آخرمیں اپنے،اپنی اہلیہ اورڈیپینڈینٹس کے تمام تراثاثے،چھپائے بغیرالیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔عمران خان پریہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے نہ صرف توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کوچھپایابلکہ ان تحائف کوانتہائی کم قیمت اداکرکے ان کو فروخت کرکے حاصل کرنے والی رقوم کوبھی چھپایا۔

دستاویزکے مطابق عمران خان کواپنی حکومت کے دوران کل58باکسزتحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیاتھیں۔یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے20اوربعدازاں50فیصدرقم اداکرکے حاصل کیے۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت30 ہزارسے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کرسکتے تھے جبکہ30ہزارسے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20فیصداداکرکے وہ تحائف لیے گئے۔حکومت کے ابتدائی دوماہ کے دوران لیے گئے ان تحائف میں گراف کی گھڑی ہے جس کی مالیت آٹھ کروڑ50لاکھ لگائی گئی جبکہ اسی پیک میں شامل دیگرتحائف میں کف لنکس (56لاکھ 70ہزار)،ایک قلم (15لاکھ)اورایک انگوٹھی(87لاکھ 50ہزار)بھی شامل تھے۔ان چاراشیاکیلئےعمران خان نے دوکروڑروپے سے زائدرقم جمع کرائی اوریہ تحائف رکھے۔ اسی طرح 38لاکھ کی رولیکس کی ایک گھڑی ساڑھے سات لاکھ اوردوسری رولیکس جس کی مالیت15لاکھ لگائی گئی تھی تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدیں۔ اسی طرح ایک اورموقع پرگھڑی اورکف لنکس وغیرہ پرمشتمل ایک باکس کی کل مالیت49لاکھ تھی، جس کی نصف رقم اداکی گئی جبکہ جیولری کاایک سیٹ90لاکھ میں خریداگیاجس کی مالیت ایک کروڑ80لاکھ سے زائدمختص کی گئی تھی۔دستاویزکے مطابق سعودی عرب کے دورے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو85ملین کی گھڑی تحفہ میں ملی اور انہوں نے20فیصدادائیگی کے بعداسے اپنی ملکیت میں رکھ لیا۔

توشہ خانہ یاسٹیٹ ریپازیٹری کاآج کل باربارلیاجارہاہے۔یہ دراصل ایک ایساڈیپارٹمنٹ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کوملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکاران تحائف کااندراج کرتے ہیں اورملک واپسی پران کوتوشہ خانہ میں جمع کروایاجاتاہے۔یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگارکے طورپررکھے جاتے ہیں یاکابینہ کی منظوری سے انہیں بیچ دیا جاتاہے۔پاکستان کے قوانین کے مطابق اگرکوئی تحفہ30ہزارروپے سے کم مالیت کاہے توتحفہ حاصل کرنے والاادارہ میں اندارج کے بعد اسے مفت رکھ سکتا ہے۔جن تحائف کی قیمت30ہزارسے زائدہوتی ہے،انہیں مقررہ قیمت کا50فیصدجمع کرواکے حاصل کیاجاسکتاہے۔2020سے قبل یہ قیمت 20فیصد تھی ۔ان تحائف میں عام طورپرمہنگی گھڑیاں،سونے اورہیرے سے بنے زیوارت،مخلتف ڈیکوریشن پیسز،سوینیرز،ہیرے جڑے قلم، کراکری اورقالین وغیرہ شامل ہیں ۔ حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے تحائف حکومت کے بنائے ہوئے قواعدکے تحت ہی فروخت کیے جاسکتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے اہلکارکے مطابق سربراہان مملکت اور وزرا کو ملنے والے تحائف کاباقاعدہ توشہ خانہ میں جمع کرانے اور اندراج کاایک مخصوص طریقہ کارہے جس کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ قیمت کا تعین کروایا جاتا ہے۔اگرسربراہان مملکت یاوزرا یہ تحائف نہیں رکھتے توپھران تحائف کی فہرست تیارکرکے انہیں توشہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اورفوج کے افسران کونیلامی کیلئےپیش کیاجاتاہے۔نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آراورسٹیٹ بینک سے کروایا جاتاہے اوران میں سے چنداشیاکی قیمت کومارکیٹ ویلیوسے کچھ کم رکھاجاتاہے جبکہ چندایسے تحائف جوکسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہوں،ان کی اہمیت اوراعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے کہیں زیادہ رکھی جاتی ہے۔

توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کیلئے نیلامی کی جاتی ہے۔ اگر اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں تو انھیں عام عوام کیلئےنیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔جوبھی فوجی یاسرکاری ملازم ان قیمتی اشیاکو خریدتے ہیں انہیں اپنی ذرائع آمدن ڈیکلیرکرنے کے ساتھ ساتھ اس پرلاگوٹیکس ادا کرناہوتاہے۔

پاکستان کے تین سابق حکمرانوں کواس وقت توشہ خانے سے غیرقانونی طورپرتحائف حاصل کرنے پرمقدمات کاسامناہے۔ ان میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف،یوسف رضا گیلانی اورسابق صدرمملکت آصف علی زرداری شامل ہیں۔توشہ خانہ سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری کانیب میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نوازاورپاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت پرملی بھگت،گٹھ جوڑاورپارٹنرشپ کے الزامات میں ایک ہی ریفرنس میں ملزم بھی نامزدکیاگیاہے۔ریفرنس کےمطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے توانہوں نے قوانین میں نرمی پیداکرکے آصف زرداری اورنواز شریف کوتوشہ خانہ سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی تھی اورآج بھی اسلام آباداحتساب عدالت نے اس سلسلے میں نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطورصدرمتحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈکاربی ایم ڈبلیو750 ‘Li’ 2005، لیکس جیپ2007اورلیبیاسے تحفے میں ملنے والی بی ایم ڈبلیو760 Li 2008 توشہ خانہ سے خریدی تھیں اورریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طورپرآصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔آصف زرداری یہ گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کی بجائے خوداستعمال کررہے ہیں،انہوں نے عوامی مفاد پرذاتی مفادکو ترجیح دی ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پرجنرل باجوہ کی تصاویروائرل ہوئی ہیں جن میں انھیں سونے کے رنگ کابڑامیڈل پیش کیاجارہاہے۔ ایک ایسے وقت میں جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نےعمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے تحائف اثاثوں میں ظاہرنہ کرنے سے متعلق ریفرنس پرسماعت کررہاہے،بعض صارفین یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ تصویرمیں نظرآنے والامیڈل بھی کیاجنرل باجوہ توشہ خانہ میں جمع کرائیں گے؟اب یہ ذمہ داری آئی ایس پی آرکی ہے کہ وہ جلداس کے بارے میں قوم کواچھی خبرسے مطلع کرے۔

قارئین کیلئے یہ جاننابھی اہم ہےکہ متحدہ عرب امارات نے جنرل باجوہ کوکس اعزازسے اورکیوں نوازاہے۔صدرشیخ محمدبن زاید نے جنرل قمرباجوہ کومتحدہ عرب امارات کی طرف سے برادراوردوست ممالک کے اعلیٰ حکام کودیاجانے والادوسراسب سے بڑا اعزاز”آرڈر آف دی یونین”عطا کیاہے۔اس کا مقصددونوں ممالک کے تعلقات کومضبوط بنانے میں ان کی نمایاں کوششوں اوردونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے میں ان کے کردارکااعتراف ہے۔جنرل باجوہ نے متحدہ عرب امارات کے صدرکاشکریہ اداکرتے ہوئے اعزازسے نوازنے پراپنے فخرکااظہارکیا،جودونوں ممالک کومتحدکرنے والے دوستانہ تعلقات کے استحکام کی عکاسی کرتاہے اورپاکستان دونوں ممالک کے عوام کے بہترین مفادمیں متحدہ عرب امارات کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کوترقی دینے اورآگے بڑھانے کاخواہاں ہے۔

اس سے قبل دنیاکے مختلف حکومتی سربراہوں کے علاوہ پاکستان کا صرف ایک شہری اورسابق فوجی صدرجنرل پرویزمشرف اورانڈیاکے وزیراعظم نریندرمودی کوبھی یہ میڈل دئیے جاچکے ہیں۔تاہم جیسے مریم نے پوچھاکہ”کیایہ قیمتی تحفہ توشہ خانہ میں جائے گایا(جنرل)باجوہ کی جیب میں؟”تومیری اطلاع کے مطابق فوجی وفودکوبیرون ملک(اندرون ملک بھی) ملنے والی ایسی شیلڈزیامیڈلزجی ایچ کیوکی پراپرٹی ہوتی ہیں تاہم وہ افسران شیلڈزکودفتریا گھر میں رکھ سکتے ہیں۔

تاہم مجھ جیسے تمام پاکستانیوں کے ذہن میں یہ سوال بری طرح کلبلاتارہے گاکہ عمران خان جومسلسل اپنی قوم کے ساتھ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کادعویٰ کرتے رہے،اپنے دورِاقتدارمیں ہرروزسابق حکمرانوں کوکرپٹ اوربددیانت ثابت کرنے کیلئے درجنوں کرپشن کے مقدمات میں ان کوسزا دلوانے کیلئے ملکی خزانے کاکروڑوں روپے کاسرمایہ بھی خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا۔اپنے مشیرں اوروزراء کے ساتھ مہنگے وکلاء کی خدمات بھی حاصل کررکھی تھیں جن کی فیسیں اس غریب ملک کے عوامی ٹیکس سے اداکی گئی۔اپنے خطاب میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے امین وصادق کااعزازبھی حاصل کرنے کاتذکرہ فرماتے رہے لیکن کیاوہ یہ بھول گئے کہ مدینہ ریاست کے حکمران کاطرززندگی کیساتھا؟وہ اپنے خطاب میں کثرت سےرسول مقبول ﷺکے ارشادات کاحوالہ دیکرقومی دولت واملاک کوریاست کی امانت اورخودکواس کاامین قراردیتے رہے لیکن انہوں نے کبھی یہ سوچاکہ ان کے لاکھوں مداح نے جب توشہ خانہ سے ان تحائف کی وصولی اور فروخت کرنے کااعتراف سناتوان کے قول وفعل کے تضاد سے سوال پیداہوتاہے کہ عدلیہ کی طرف سے موصول ہونے والے القاب کوتوانہوں نے خوداپنے ہاتھوں غرقاب کردیااوراب وہ کس بنیادپرخودکوکرپٹ اوردبدیانت حکمرانوں سے الگ کرسکتے ہیں۔آپ نے تواس ملک کی معیشت کواسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے وعدے پراقتدارسنبھالاتھا۔کیاآپ کومعلوم ہے کہ اسلامی معیشت کوملک میں چلانے کیلئے کسی خاص محنت کی نہیں بلکہ خلوص نیت اوراپنے عمل کی ضرورت ہوتی ہے:

اسلامی معیشت کاسب سے پہلا اصول تویہ ہے کہ ملک کاسب سے بڑھیاآدمی معاشی اعتبارسے سب سے سادہ زندگی گزارےجیسے کہ خلفائے راشدین عملاً ایساکرتےتھے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دورمیں مدینہ منورہ میں مساکین کی ایک فہرست تیارکی گئی اوران کی درجہ بندی کی گئی اورجب فہرست تیارہوگئی توسب سے پہلے نمبرپرجس مفلس تھاوہ خودخلیفہ وقت حضرت عمررضی اللہ عنہ کانام تھالیکن1700ایکڑپرپھیلی ہوئی جاتی عمرہ سٹیٹ،جوویٹی کن سٹی کے سائز سے 15گنازیادہ ہے،بنی گالہ جو250کنال سے زائدپرمحیط ہے اوردرجنوں بلاول ہا ؤ س میں صرف ایک 25ایکڑپرلاہورمیں واقع ہے، ان سے کیسے امیدکی جاسکتی ہے کہ یہ غریبوں کاخیال رکھیں گے۔

ہرایک گھرمیں دیابھی جلے اناج بھی ہو
اگرنہ ہوکہیں ایساتواحتجاج بھی ہو
حکومتوں کوبدلناتوکچھ محال نہیں
حکومتیں جوبدلتاہے وہ سماج بھی ہو
رہے گی کب تلک وعدوں میں قید خوشحالی
ہرایک بارہی کل کیوں،کبھی توآج بھی ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں