اصل توانائی روح کی بالیدگی

:Share

جس ذات نے انسانی آنکھ کودیکھنے والابنایا،اسی نے انسان کے دیکھنے کیلئےایک خوبصورت کائنات بنائی۔رنگارنگ جلوے پیدا فرمائے اوران جلوؤں میں اپنی جلوہ گری کےکرشمےدکھائے۔ فنکار،فن کے جلوؤں میں خودجلوہ گرہے۔آنکھ نہ ہوتی توکسی رنگ اورکسی روشنی کی کوئی ضرورت وافادیت نہ تھی ۔ مشاہدہ،جہاں مشہودکی جلوہ گری کاکمال ہے،وہاں یہ شاہدکے اندازِنظرکاحسن بے مثال بھی ہے۔قدرت نے جس ذوقِ تخلیق کااظہاربے رنگ زمیں میں رنگ دارگل کاری کرکے کیاہے،اس کی دادبس چشمِ بیناہی دے سکتی ہے۔بس آنکھ والاہی ترے جوبن کاتماشا دیکھ سکتاہے۔دیدۂ کورپھردیدۂ کورہی ہے۔

پھرایک دن ہمارے بابانے یہ بھی کہا:آنکھوں میں جلوے اورجلوؤں میں آنکھیں……خوشبومیں رنگ اور رنگ میں خوشبو……ہرچیز ہردوسری شے کے خیال میں محو……محوکرنے والااورمحوہونے والا……سب ایک ہی محویت کاحصہ ہیں…میں وصول بھی کرتا ہوں اورمیں ہی ارسال بھی کرتاہوں…چہرے بھی میرے ہیں اورآنکھیں بھی میری ہیں……میرے ہی خیال کی زدمیں ہیں……سب فاصلے……سب دوریاں پاس ہی رہتی ہیں……بس اک نگاہ کی بات ہے……اتفاقاً ہی اٹھ گئی تووقت بدل جائے گا…انقلاب بپاہوجائیں گے…جونہیں ہے ہوجائے گا…اورجوہے وہ نہیں رہے گا…حاضرغیب ہوجائے گااور غیب حاضر…ناممکنات کوممکنات بنانے والی آنکھ کسی وقت اٹھ سکتی ہے…….. اورپھرحجابات اٹھ جائیں گے…سکوت سے کلام کا پہلونکل آئے گا۔ صدیاں سمٹنا شروع ہوجائیں گی اورلمحے پھیلنے شروع ہوجائیں گے…بطون سے ظہورکاسفربس اک نگاہ کاسفرہے…ظلمات سے نورکاسفرایک نگاہ کاسفر ہے… بیگانے کواپنا بنانے کیلئےایک نظرکافی ہے…جان لینے کے ارادے سے آنے والاجانثاربن جاتاہے…یہی اعجازنگاہ ہے…اپنامقدربس وہی نگاہ ہے ……
ورنہ دامن عمل توخالی ہے۔

اورہمارے بابے اقبال نے بھی کمال کیاہے،کبھی فرصت ہوتودیکھئے۔واہ واہ،کیابات ہے ان کی تو……
آہ،کس کی جستجوآوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو،رہروبھی تو،رہبربھی تو، منزل بھی تو
وائے نادانی کہ تومحتاجِ ساقی ہوگیا
مے بھی تومینابھی توساقی بھی تو،محفل بھی تو

حکیم الامت تھے،اک نیامرض دے گئے:
ترے سینے میں دم ہے،دل نہیں ہے
ترادم گرمیٔ محفل نہیں ہے
گزرجاعقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے،منزل نہیں ہے
یہ میں کیالکھ بیٹھاآج ۔چلئے آپ ایک چھوٹاساقصہ پڑھئے اوروفاکے موتی چن لیں کہ زندگی میں کام آئیں گے۔

ٹوکیو(جاپان)کے نواح میں ایک چھوٹاساقصبہ ہے،اس کے اسٹیشن کے سامنے چوک میں ایک کتاتھا،اس کامعمول تھا کہ وہ اپنے مالک کوہرصبح ٹوکیوجانے والی ٹرین پرسوارکراتاتھااورہرشام مقررہ وقت پراسے لینے کیلئےوہاں موجودہوتاتھا۔ ایک دن اس کا مالک ٹوکیومیں حادثے کاشکارہوکرچل بسااوراس شام مقررہ ٹرین سے وہ گھرنہ لوٹ سکا۔وفادارکتااس شام بھی اسٹیشن پرآیااورپھر جواس کے انتظار میں بیٹھاتومرتے دم تک اس نے وہ جگہ نہیں چھوڑی۔قصبے کے لوگ کتے سے واقف تھے،اس کے مالک کی موت سے آگاہ تھے،ان کی تمام کوششوں کے باوجودکتااپنی جگہ سے نہ ہلا، یہاں تک کہ وہیں مرگیا۔ لوگوں نے اس کی یادمیں اس کامجسمہ چوک میں نصب کردیا۔غورکیجئے تویہاں اہمیت مجسمے کی نہیں اُس مقصدکی ہے جس کی خاطرکتے نے جان دی،اہمیت اس کے جذبۂ وفاداری کی ہے، اس کی محبت کامحورصرف اس کامالک تھا،اس کی زندگی صرف اسی کیلئےتھی،وہ مرگیاتوکتے نے بھی زندہ رہناگوارانہ کیا۔

باباجی نے شہہ سواری اپنے گھوڑے موتی کی کمرپرسیکھی۔کیامجال کہ موتی پرکوئی دوسراسوارہوجائے۔پاکستان بنا،موتی کو اپنے محلے کے ایک شخص کیلاش کے حوالے کردیا۔معلوم ہواکہ موتی اس قدررویا کہ نابیناہوگیااورجان دے دی۔موتی کی تصویرانہوں نے خودسے کبھی جدانہیں کی۔کہتے تھے کہ موتی نے مجھے جودرسِ محبت دیااوراذیت فراق کاجومفہوم سمجھایاوہ ناقابلِ فراموش ہے۔

شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ کل صبح ایک پرندہ بڑے دردوسوزسے بول رہاتھا،اس کی آوازسن کرمیرے ہوش جاتے رہے۔صبر، برداشت اورہوش کادامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا،میری یہ حالت دیکھ کرمیرے دوست نے کہا:میری سمجھ میں نہیں آتاکہ ایک پرندے کی آوازسن کرتم اپنی سدھ بدھ کیوں کھوبیٹھے۔میں نے کہا:مجھے یہ توبتاکہ یہ کہاں کی آدمیت ہے کہ پرندہ تومسلسل اللہ کی حمدکرے اور میں انسان ہوکرخاموش رہوں۔”شیخ سعدی بصارت وبصیرت کی عظمتوں پرفائزتھے ۔انسانیت ان کاکردارتھااورزندگی کاکوئی لمحہ انہوں نے بے فکری سے نہیں گزارا۔انہوں نے اس رازکوپالیاتھا کہ ہرذی روح کی حیات مستعار کاہرلمحہ اپنے اندر معنویت رکھتاہے۔

ایک پرندہ چہچہایا توسعدی نے اس کی چہچہاہٹ کومقصدیت ومعنویت دے دی۔ہم درختوں پرروزوشب پرندوں کوایساکرتے دیکھتے ہیں یاگزرجاتے ہیں یاغلیل سے شکارکرلیتے ہیں۔یہ اندازِفکرکافرق ہے۔ایک فکروہ ہے کہ ایک کتےکی وفاداری کوجاپان کے دیہاتیوں نے دوام دے دیااور ہم ہیں کہ انسان کی وفاداریوں کامضحکہ اڑاتے ہیں۔

ایک بزرگ تلاشِ عرفان میں جنگل جنگل مارے مارے پھررہے تھے۔ایک دن ایک گاؤں کے باہرانہوں نے بچوں کوایک گڑھے کے گردکھڑا دیکھا۔ بچے ہنستے تھے اورتالیاں بجاتے تھے۔دیکھاکہ اس گڑھے میں کتیانے بچے دئیے ہیں۔وہ بے حدکمزور ہوگئی ہے،گڑھے سے باہرآنے کی کوشش کرتی ہے توکمزوری کے باعث واپس لڑھک جاتی ہے۔بچے اس منظرکالطف لے رہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں۔بزرگ یہ دیکھ کرگاؤں کے نان بائی کے پاس آئے ،روٹی خریدی،دودھ فروش سے مٹی کے پیالے میں دودھ لیا، دودھ میں روٹی بھگوکرگڑھے میں اترے اوربرتن کوکتیاکے آگے رکھ دیا۔وہ جانے کب سے بھوکی تھی، جلدی جلدی پیٹ بھرااور منہ اٹھاکر آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔بزرگ فرماتے ہیں:مجھے ٹھیک اسی وقت وہ چیزمل گئی جس کامیں برسوں سے متلاشی تھا اورجنگل جنگل ماراماراپھررہاتھا۔

ہمارے چاروں طرف ایسی نشانیاں بکھری پڑی ہیں،یہ حصولِ عرفانِ ذات کا آزمودہ طریقہ ہے۔لفظ “عرفان”شاید آپ کو نہیں بھایا۔اس کی جگہ لفظ”سکون” استعمال کر لیتے ہیں۔ آج کے ہرانسان کو اس کی تلاش ہے،میرے خیال میں آج کل کے تمام امراض کی اصل “عدل سکون”ہی ہے۔سکون کے متلاشیوں کو چاہئے کہ “طالب علم”بن جائیں۔دولت،حسن،اقتداراورحیثیت ہی کونعمت عظمیٰ نہ سمجھ بیٹھیں۔قدرت نے ایسی بے شماراشیاءتخلیق کی ہیں جن کو دیکھ کر اور جن کوسمجھ کر ہم حقیقت اوغیرحقیقت میں تمیزکرسکتے ہیں۔بے شمارکام ایسے ہیں جن کے انجام دینے سے گہری طمانیت حاصل ہوسکتی ہے۔یہ زندگی کے وہ حقائق ہیں جنہیں تا قیامت جھٹلایانہیں جا سکتا۔طالب علم بننے میں یہی نکتہ پوشیدہ ہے کہ آدمی دیکھے،سیکھے،سوچے اورراہِ راست اختیارکرتاچلاجائے۔ایسے ہی لوگ قلبِ مطمئن کے مالک ہوتے ہیں۔وہ اللہ سے راضی اوراللہ ان سے راضی ہوتاہے اورجان رکھئے کہ اصل توانائی روح کی بالیدگی ہے۔

اگردل کویہ تحریربھائی ہے توعمل کی توفیق طلب کیجئے؟چلئے خوش رہئے۔
کچھ بھی نہیں رہے گا،بس نام رہے گااللہ کا۔
ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں