پاکستان ……. معجزاتی ریاست

:Share

قائداعظم کی قیادت کاسب سے بڑاکارنامہ پاکستان کاقیام ہے لیکن پاکستان کے قیام کی حقیقت کیاہے؟یہ برصغیرکی سیاسی صورتحال کااتفاق ہے،کوئی تاریخی حادثہ ہے،برطانوی ہندکی وحدت کوختم کرنے کی سازش ہے یاانسانی معاشرت کیلئے اللہ تعالیٰ کے قوانین کے عمل اورردِّعمل کانتیجہ ہے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دورِحاضرہ میں عالمگیرامت مسلمہ کی بازیافت کااعلان ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ ہم۔۔۔۔۔!
ستیزہ کاررہاہے ازل سے تاامروز
چراغِ مصطفوی سے شراربولہبی

1924ءمیں سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ وہ برائے نام مرکزیت جومسلمانوں کوحاصل تھی وہ بھی ختم ہوگئی اوراس پر مسلمانوں سے دائمی بغض اور عناد رکھنے والی طاقتوں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن اس واقعے کے سولہ برس بعد یعنی1940 ء میں برصغیرکے مسلمانوں نے اپنےعالمگیر ملی تشخص کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کامطالبہ کردیا۔غورکیجئے تواندازہ ہوجائے گاکہ برصغیرکے مسلمانوں نے پاکستان کے قیام کامطالبہ کرکے اجتماعی سطح پراصولی اعتبارسے اتباعِ سنتِ نبویۖ کافریضہ سرانجام دیاہے۔ہمارے ہادی برحق رسولِ اکرم ﷺنے ایمانی رشتے کی بنیادپرایک عالمگیرامتِ مسلمہ کی تشکیل فرمائی۔برصغیرکے مسلمانوں نے دورِحاضرمیں اسی تشخص کی تجدیدفرمائی۔رسولِ اکرم ۖ نے یثرب کی سرزمین کوپہلی اسلامی ریاست کیلئے منتخب فرمایا، برصغیرکے مسلمانوں نے اعلان کیاکہ یہاں اپنے اکثریتی علاقوں کوایک آزاداورخودمختارمملکت کی شکل دیکروہ اسے دورحاضرمیں”عمل پذیراسلام کی تجربہ گاہ”بنائیں گے۔یثرب مدینتہ النبی ﷺ بنا،یہ خطہ پاکستان بنا۔

ایک اورحیرت انگیزبات یہ کہ دنیاکے دیگرتمام علاقوں کے مقابلے میں برصغیرکے مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور جب پاکستان کامطالبہ کیااس وقت یہاں مسلمانوں کی تعداددس کروڑکے لگ بھگ تھی لیکن ہندواکثریت کے مقابلے میں وہ تعداد بہت کم تھی،یعنی ایک چوتھائی تھی۔ تعدادکی وہ کمی پیشِ نظر رکھئے اورقرآنِ پاک میں سورة الانفال کی 26ویں آیت مبارکہ پرغور کیجئے جس میں ارشاد ہواہے”تم زمین میں تھے،تمہیں بے زورسمجھاجاتاتھا،تمہیں خوف تھاکہ لوگ تمہیں مٹانہ دیں،پھراللہ نے تمہیں جائے پناہ مہیاکی،اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے اورتمہیں اچھارزق دیا،شائدکہ تم شکرگزاربن سکو”۔
آں کتاب زندہ،قرآن حکیم
حکمت ولایزال است وقدیم

پاکستان دورِحاضرمیں اس ارشادِ قرآنی کی تشریح اوراسلام کی نشاطِ ثانیہ کی علامت کے طورپروجودمیں آیاہے اوراس تاریخ ساز عمل میں قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت نے اساسی اورکلیدی کرداراداکیاہے۔یہ بہت بلند رتبہ ہے اوراسی زاویہ نظرسے قائد اعظم کے شخصی کردارپربھی غوروفکرکی ضرورت ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی اوررسول اکرم محمد ﷺ کی ذات ِ اقدس سے قلبی وابستگی نے ان کی شخصی اورسیاسی دونوں زندگیوں کوکس طرح باہم مربوط اورمنظم کیا۔ قائد اعظم نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے برطانیہ میں”لنکن ان”میں داخلہ لیاکیونکہ وہاں دنیاکی قانون سازشخصیات میں سرِفہرست ہمارے رسولِ اکرم ﷺ کا اسمِ گرامی تحریرتھااورپھرنصف صدی بعد قیامِ پاکستان کے وقت اقتدارکی منتقلی کرتے ہوئے لارڈ اؤنٹ بیٹن نے جوہم پر طنزکیاتھا،یہ کہہ کر”مجھے امیدہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ رواداری کاوہی سلوک کیاجائے گاجیسااکبرِاعظم کے دورمیں کیاگیاتھا “توقائدنے فوری جواب میں کہاتھاکہ”مسلمانوں کی رواداری اکبرِاعظم تک محدودنہیں ہے بلکہ ساڑھے تیرہ سوبرس پہلے ہمارے پیارے رسول اکرم محمد ﷺنے یہودیوں اورعیسائیوں کوفتح کرکے ان سے نہ صرف منصفانہ بلکہ فیاضانہ سلوک کیا تھا”۔

نوجوان قائدکے قلب میں رسول اکرم ﷺ سے وابستگی کی جوایک روشن کرن تھی،اسی کرن کی روشنی ان کیلئے سیاست کی راہ کے انتہائی صبرآزماسفر میں بھی زادِراہ بنی رہی۔شخصی اعتبارسے قائداعظم میں خامیاں بھی رہی ہوں گی لیکن ان خامیوں کے اثرات ان کی ذات پریااس سے متعلق افرادتک رہے جبکہ ان کی خوبیوں کے اثرات ان کی قیادت میں نمایاں ہوئے جس کی توانائی نے برِصغیرکے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پردیرپااورتاریخ سازاثرات مرتب کئے۔

قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کاجوکارنامہ انجام دیاوہ اس اعتمادکے بغیرممکن نہیں ہوسکتاتھاجوپورے برِصغیرکے آبادمسلمانوں نے ان کی قیادت پرکیا۔ انہوں نے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کوکبھی کسی غلط فہمی میں نہیں رکھابلکہ بالکل واضح طورپرباربار اعلان کیاکہ پاکستان اکثریتی صوبوں میں بنے گااور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کواس عظیم مقصدکیلئے قربانیاں دینی ہوں گی۔سر زمین پاکستان کی آزادی کی یہ انفرادیت ہے کہ اس سرزمین کی آزادی کیلئے ان مسلمانوں نے بھی سوچ سمجھ کرقربانیاں دیں جن کا اس سرزمین سے کوئی براہِ راست کوئی رشتہ نہیں تھالیکن یہاں آبادمسلمانوں سے ایمانی رشتے کے تقاضے کاان کوپوراشعور تھا،تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال موجونہیں ہے۔یہ قائداعظم کی قیادت کی سحرانگیزی تھی اوروہ سحرانگیزی سچائی کی تھی، امانت ودیانت کی تھی۔انہوں نے جذباتی نعرے بازیاں کبھی اختیار نہیں کیں۔ان کودوبہت بڑی طاقتوں کا سامنا تھا، ایک ہندو کانگریسی قیادت اور دوسری برطانوی حکومت۔مادی اعتبارسے صورتحال بے سروسامانی کی تھی،مسلمان منتشر تھے،بکھرے ہوئے تھے لیکن ایمانی توانائی مسلمانوں کو بہرحال حاصل تھی۔قائداعظم کی قیادت کی صداقت نے اسی ایمانی توانائی کا شعور مسلمانوں میں بیدار کر دیا۔اصل توانائی ان دیکھی طاقتوں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ایمان ان دیکھی توانائی ہے لیکن ساری نظرآنے والی طاقتوں پر غالب آ جاتی ہے،اور یہ حقیقت ہے کہ:
آج بھی ہوجوبراہیم کاایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِگلستاں پیدا

قیامِ پاکستان کی راہ کی رکاوٹیں سامنے لایئے،مخالفین کی بھرپورسازشی منصوبہ بندیاں پیشِ نظررکھئے،اس قتل وغارت گری کا تصورکیجئے جوصرف اس لئے برپاکی گئیں کہ پاکستان مستحکم بنیادوں پرقائم نہ ہوسکے اوروہ پھرجذبہ،وہ عزم اورتعمیرکا فیصلہ کن اندازجس سے جوکچھ بظاہرناممکن نظرآرہاتھا،اسے ممکن بنادیا۔پاکستان کاقیام دورِحاضرمیں اسلام کے احیاءکے حوالے سے خصوصی اہمیت کاحامل ہے۔سورۃالانفال میں ارشاد ہواہے: ” وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے”اور سورۃ ابراہیم میں ارشاد ہے: کافروں نے اپنی ساری چالیں چل دیکھیں لیکن ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا،حالانکہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں(46)۔سچی بات یہ ہے کہ:
جہاں ہوں سعی بشرکی تمام راہیں بند
دیاردوست کارستہ وہیں سے کھلتاہے

ارشاداتِ قرآنی پیش نظررکھئے اورپاکستان کے قیام سے لیکرپاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے تک کے واقعات پرغور کیجئے، انسانی معاشرت کیلئے قدرت کی منصوبہ بندی کی کارفرمائیاں واضح ہوتی چلی جائیں گی ۔قیامِ پاکستان کی ایک وجہ ہمارے مخالفوں کاشدیدتعصب اورسیاسی ریشہ دوانیاں بھی بنیں۔قیامِ پاکستان کومتزلزل کرنے کی ہرممکن کوششیں کی گئیں اورہرکوشش ناکام ہوئی اورایٹمی طاقت کی حیثیت سے نمایاں ہونے میں جس عمل نے ہمارے لئے سب سے بہتر دلیل فراہم کی وہ بھارت کاایٹمی دھماکہ تھا۔پاکستان کی داخلی صورتحال اوراس کے وجودکے علاقائی اورعالمی اثرات پرمسلسل تدبراورتفکر کی ضرورت ہے۔ جہاں ہم داخلی سطح پرسماجی تطہیرکے مرحلوں سے گزرہے ہیں(وہاں نائن الیون کے بعد اس خطے کی صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں بھوکے بھیڑیوں کی طرح ہم پرٹوٹ پڑی ہیں اورایک فاسق وفاجرجنرل ہمیں جن خطرات کے بھنور میں پھینک کرفرارہوگیا ہے، موجودہ حکومت تواس سے بھی دس قدم آگے چل رہی ہے،اس لئے اس وقت دشواریاں پہاڑوں جیسی معلوم ہوتی ہیں)۔قیامِ پاکستان کاعلاقائی اثریہ ہواکہ بھارت اس سارے علاقے پراپناتسلط قائم نہیں کرسکااورعالمی اثریہ ہواکہ اسلام عالمی سطح پرنمایاں سے نمایاں ترہوتاچلاگیا۔

وقت کے دوپیمانے ہیں،شب وروزاورماہ وسال۔ایک پیمانہ اللہ تعالی نے ہمارے کاموں کیلئے مقررکیاہے۔دوسراپیمانہ اللہ تعالی کے اپنے حساب کاہے جس کاایک”یوم”ہمارے ایک ہزارسال کے برابریااس سے بھی زیادہ کاہے۔دورِرسالت مآب ۖ میں انسانی معاشرت کیلئے اللہ تعالی کے مقررکردہ قوانین اورانسانی اعمال میں مکمل ہم آہنگی،مثالی ہم آہنگی ہوگئی تھی لہنداتاریخ کی مکمل روشنی میں ایک مثالی معاشرہ،ایک مثالی مملکت وجودمیں آگئی۔اس مثالی معاشرے کی روشنی جہاں تک پہنچائی جاسکتی تھی مسلمانوں نے پہنچائی۔ زمانے کا،انسانی معاشرہ کا،سفرتواب بھی اسی سمت ہے لیکن اس راہ پرہم مسلمانوں کواپنے ایمان وعمل سے جو روشنی پھیلانی چاہئے تھی کہ سفرمیں تیزی آجائے،ہم صدیوں سے اپنا وہ فریضہ بھلابیٹھے ہیں۔قیامِ پاکستان نے ہمیں دورِحاضر میں اپنے ایمانی کردار کی ادائیگی کاایک اورموقع فراہم کیاہے۔پاکستان میں ہم گزشتہ75 سالوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرکے یااس کے شعور سے محروم ہوکرجووقت ضائع کرچکے ہیں اوراس سے نسلِ انسانی کاجوخسارہ ہواہے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کے اعتبارسے اللہ کے سامنے اس کی جوابدہی کرنی ہوگی۔کیاواقعی ہماراایمان ہے کہ جوابدہی ہوگی؟کیاہم کو اس حقیقت کاشعوربھی ہے کہ و ہ جوابدہی ہونی ہے اورضرورہونی ہے؟قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہم نے بہت بڑی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بے خبر تو جوہر آئینہ پیام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

لیکن سورۃ محمدکی آخری آیاتِ مبارکہ کے اختتامی الفاظ بھی کہہ رہے ہیں: “اگرتم اللہ کے حکم سے منہ موڑوگے تواللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا اوروہ تم جیسے نہیں ہوں گے”۔اس وقت ہماراسب سے بڑاامتحان یہی ہے۔کاش!ہمیں اس سچائی کاادراک ہوجائے کہ اللہ کے خوف سے محرومی سب سے بڑی محرومی ،سب سے تباہ کن محرومی ہے جس کاکوئی ازالہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے!!!

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 14/اگست کو75سال کا ہوگیا ہے مگر2022 اب تک کی تاریخ کا بد ترین سال ہے۔یادرہے کہ ارض وطن ایوب خان ،غلام محمد اور جسٹس منیر کی سازشوں کی وجہ سے ابتدا ہی سے مظلوم رہا۔1968میں ایوب گیا۔ یحیی اور بھٹو نے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی ، لیکن تقسیم کا اصل سبب ایوب ہی تھااورپھر1971میں ارض وطن تقسیم ہو گیا۔پھرشعلہ بیان بھٹو کے دورکی تباہی شروع ہوئی۔بھٹو کے جعلی الیکشن پر پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے بائیکاٹ پر1977میں ضیا الحق کا مارشل لا آیا اور1988 تک قوم نے وہ بھگتا۔پھر 1988 تا 1993 جرنیلوں کے ماتحت بینظیر اور نواز شریف کے مختصر دور،پھر 1993 تا اکتوبر 1999 دوبارہ بے نظیر اور نواز شریف کے مختصر دور،اس کے بعد 1999سے اگست 2008تک نو سالہ پرویز مشرف کی آمریت کا دور رہا۔اس ملک میں ثاقب نثار نے جسٹس منیر کی بدترین یاد تازہ کر دی۔

پھر زرداری کی صدارت اورپی پی پی کا پانچ سالہ دور۔ گیلانی اورراجہ اشرف کا دور،پھرنوازشریف کا تیسرامختصر دور،جرنیل پاشا ظہیرالاسلام وغیرہ پرسازشوں کاالزام بھی لگا۔خاقان عباسی کا عارضی دوراوربعدازاں عمران خان نے اقتدارسنبھالا۔عمران کا 2018سے اپریل 2022 تک پونے چار سالہ کادورحکومت،جس میں بیرونی قرضوں میں ملک کوڈبودیا گیا۔اب پی ڈی ایم پچھلے چندماہ کی حکومت میں نیب کاحشرنشرکرکے اپنی کرپشن کے مقدمات ختم کرنے کے قوانین جاری ہوگئے اور پاکستانی روپے کی قدرخوفناک حدتک گرگئی اورملک دیوالیے کے قریب ہے۔2014کے دھرنے سے قوم روزانہ عمران خان کے ایک ایک گھنٹے کے خطاب سنتی ہے۔الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے عمران کے عدالتی امین و صادق کے القاب کومشکوک کردیا ہے۔ادھرقوم کو بھی تقریروں کا نشہ لگ چکا ہے اور سیاسی حریف عمران کودوسرابھٹوثابت کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔اب قوم پریشان ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

فوج مارشل لا نافذ کرے گی تو پابندیاں لگ جائیں گی۔عمران کے حوالے کریں گے تومزید تباہی ہوگی۔پی ڈی ایم کی حکومت کو میڈیا اورعمران خان چلنے نہیں دیتے۔عدلیہ کا کردار بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ملک سودی قرضوں تلے ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیا جا چکاہے ۔ تجارت خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔تخت پنجاب کیلئے ملک کا دھڑن تختہ ہو جائے،پرواہ نہیں ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج سب کو اکھٹا کرکے ایک سال کی ایمرجنسی نافذ کرے اورتمام سیاسی جماعتوں پرمشتمل قومی حکومت قائم کرے تاکہ معیشت مستحکم ہوجائے لیکن ضدی سیاست دانوں سے اس طرح کی قومی حکومت کے قیام کی توقع نہیں کی جاسکتی،جوملک کودیوالیہ ہونے سے بچالے۔

پھر1971اور1977جیسے حالات ہیں۔ ایک دوسرے کوبے ایمان اورکرپٹ ہونے کے الزامات نے ایک خوفناک ماحول پیداکردیا ہے،پولرائزیشن ہے،قوم تقسیم کی جارہی ہے اورخانہ جنگی کاشدیدخطرہ پیداہوگیاہے۔ساری قوم اب بے بسی میں اپنے رب سے استغفارکرتے ہوے رحم کی دعامانگ رہی ہے کہ پاکستان کو آزمائش کے دورسے نکال کراسے نیک اورصالح قیادت عطافرما:آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں