پاکستان اورگریٹراسرائیل

:Share

دوقومی نظریہ کی بنیادپرجب اس معجزاتی ریاست جس کاقیام 27رمضان کی مبارک ساعتوں میں انجام پایا ،توہم نے من الحیث القوم اپنے رب سے یہ عہدکیاکہ ہم اس عطائے ربّ ذوالجلال ریاست میں ایفائے عہدنبھاتے ہوئے اس کے احکام کی مکمل پابندی کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ہرعمل کی رہنمائی کیلئے اس کے محبوب نبی ۖ کے سینہ مبارک پر نازل ہونے والی الہامی کتاب ”قرآن کریم”کواپنارہنماء مانتے ہوئے اس کے مکمل نفاذکا اعلان کرتے ہوئے ملک کاآئین قراردیں گے تاکہ اپنے رب کے وعدے کے مطابق اس کی برکات سمیٹ سکیں لیکن آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجودہم ایفائے عہدنہ کرسکے جس کی سزاساری قوم بھگت رہی ہے اور آج اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں بھانت بھانت کی بولیاں ہماری نئی نسل کو گمراہ کرنے کیلئے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے انہی کی پالیسیوں کو رائج کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ لبرل ،سیکولراورآزادخیال اب کھلے عام موجودہ صورتحال پر برملااپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ”عرب ممالک تواسرائیل کے ساتھ اپنی دوستیاں نبھارہے ہیں اورہم(پاکستانی)لٹھ لیکراسرائیل اور ہندوستان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اورہرایشوپریہودوہنودکے خلاف عندیہ دے رہے ہوتے ہیں”۔یہ بات وہ پاکستانی عوام کے احساست کے حوالے سے کہہ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی حکمران خواہ ماضی کے ہوں یاموجودہ(ایک یادوکے استثناء)وہ کب کے اسرائیل اور بھارت کومربی تسلیم کرچکے ہوتے اگر پاکستانی عوام الناس کاردّ ِ عمل نہ ہوتا۔یہی سوچ تقریباًان تمام عناصرکی ہے جوپاکستان کی تخلیق کوکسی نظریہ یاآئیڈیالوجی کامرہونِ منت نہیں سمجھتے۔ایسے لوگوں کویہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اسرائیل بہ نسبت دوسرے تمام اسلامی ممالک کے پاکستان ہی کواپناحقیقی دشمن سمجھتاہے ۔ایسے عناصرالقدس پریہودی قبضہ اور آگے جاکرامریکی حکومت کایروشلم کواسرائیل کادارلخلافہ تسلیم کرناعرب ممالک ہی کامسئلہ سمجھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے سامنے جب امت مسلمہ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو ا ن کواس سے بھی الرجی ہوتی ہے کیونکہ ان کے ذہن میں امت مسلمہ تودرکنارپاکستانی قومیت کے حوالے سے بھی بات نہیں بیٹھتی۔ان کے ذہن میں قومیت،لسانیت،علاقائیت اورصوبائیت کی تعصب کی اس حدتک بھری ہوئی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسرے زاویے سے سوچ نہیں سکتے لہنداان تمام عناصرکیلئے پاکستان کوایک نظریاتی مملکت،پاکستانی قوم کوامت مسلمہ کااہم جزواورامت مسلمہ بحیثیت کل جیسی اصلاحات نامانوس اورغیر معقول ہی نہیں ناقابل اعتناء بھی دکھائی دیتی ہیں۔
قارئین اس بات کوسمجھتے ہیں کہ جب ہمارے سیاسی سیکولررہنماء کبھی القدس پربات کرتے ہیں تووہ اس کو فلسطینیوں ہی کا مسئلہ قراردیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ان پرظلم کے حوالے سے بات کرکے ایک مظلوم قوم کے ساتھ انسانی ہمدردی کی حدتک ہی اپنے آپ کومحدودرکھتے ہیں۔انہوں نے بھی اس حقیقت کا اظہارنہیں کیاکہ یہ مسئلہ عرب کانہیں ،فلسطینیوں کانہیں،کسی خاص قوم کانہیں بلکہ امت مسلمہ کامسئلہ ہے اوراسے اسی تناظرمیں دیکھناچاہئے۔بدقسمتی یہ ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کی جوحیثیت ہے اسے بھی نہ اہمیت دی جاتی ہے اورنہ اس سوچ کے حامل عناصر ان خدشات کاادراک رکھتے ہیںجوبین الاقوامی سطح پرپاکستان کے خلاف سازشوں کی وجہ سے ممکن الوقوع ہوسکتی ہیں۔
سمجھنے والے سمجھتے ہیںکہ دنیائے اسلام کے جتنے بھی ممالک ہیں خواہ عرب ہیں یاعجم،ان سب سے زیادہ یہ پاکستان ہی ہے جواس صہیونی ریاست (اسرائیل)کی آنکھ میں کھٹکتاہے اوراسرائیل مملکت خدادار پاکستان کواپنے لئے سب سے بڑااور خطرناک دشمن سمجھتاہے۔اس کے بیت سارے دلائل ہیں جن سے آنکھیں بندنہیں کی جا سکتیں۔سب سے پہلے تو ایک اہم تاریخی واقعہ کوآج یروشلم کے ساتھ ہونے والے تازہ سانحے کی حساسیت کی روشنی میں اٹھاکر دیکھناچاہئے۔وہ یہ کہ جب 1967ء کے عرب اسرائیل جنگ میں پڑوس کے عرب ممالک مصر،اردن اورشام مکمل طورپرشکست کھاکربہت بڑے علاقے سے ہاتھ دھوچکے تواس فتح کی خوشی میں جشن منانے کے موقع پراس وقت کے وزیر اعظم بن گوریان نے کہاتھاکہ عرب ہمارے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے ،وہ کبھی بھی ہمارے مقابلے میں نہیں آسکیں گے تاہم ہمیں اب پاکستان کیلئے مکمل تیاری کرنی ہوگی کیونکہ اب ہماراسخت ترین مقابلہ اب پاکستان ہی سے ہے۔یہاں یہ بات قابل غورہے کہ اتنے متعددمسلم ممالک میں اسرائیل کوپاکستان کوہی کیوں سنگل آؤٹ کرناپڑا؟عربوں کے علاوہ کیاانڈونیشیا،ملائشیا،افغانستان،ایران، دوسرے خلیجی ممالک،عرب ممالک،المغرب کے ممالک اورافریقہ کے کسی ایک ممالک مسلم ممالک نہیں ہیں؟
آئیے سمجھیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نے جس وجہ سے پاکستان کوخاص کراپنے خبثِ باطن کااظہارکیاتھا وہ یہ کہ اسرائیل کوپاکستانی فوج کی صلاحیت اوراہلیت کا پورا پورااندازہ تھااوریہ کہ اسے یہ بھی معلوم تھاکہ اس فوج کے دل میں اسلامی جذبہ موجزن ہے اوراس کاعقیدہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی مملکت کی محافظ ہے جونظریہ اسلام یعنی لاالہٰ کی بنیادپروجودمیں آئی ہے۔کوئی اورمسلم ملک ابھی تک نظریاتی بنیادپروجودمیں نہیں آیا۔اسرائیل خودبھی مذہب کی بنیاد پر وجودمیں آنے کا دعویدارہے لیکن یہ جھوٹادعویٰ ہے کیونکہ اہل علم جانتے ہیں کہ اسرائیل ایک نسلی اسٹیٹ ہے جوایک نسل(اسرائیل) کی بنیادپروقوع پذیرہوا ہے۔بدقسمتی سے ہم پاکستان میں سات دہائیاں گزرنے کے باوجودبھی اس نظریہ کوعملی طورپر بروئے کارنہیں لاسکے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ہدف سے دورہوتےجارہے ہیں۔
اس کی تازہ مثال سرکاری طورپروہ ترمیم تھی جوقانون ختم نبوت میں کی گئی تھی اورجس میں حکومت وقت کی پوری کار فرمائی شامل تھی۔یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہمارے نااہل وزیراعظم بھارت اورپاکستانی قوم کوایک ہی قوم کہہ چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان حدفاضل کوایک لکیرسے تعبیردے چکے ہیں تاہم الحمداللہ نظریہ موجودہے اورپاکستان کوسمجھنے والی اکثریت کے دل اس سے معمورہیں جوان شاء اللہ کسی بھی وقت عملی شکل اختیارکرسکتاہے۔یہ ہدف ہمارے سامنے بالکل واضح ہے اورایسی بات نہیں کہ قوم بحیثیت مجموعی اسے بھول چکی ہے اگرچہ اسے عملی شکل دینے کیلئے اس وقت جوپاکستانی جدو جہدکررہے ہیں وہ یقیناًتھوڑے ہی ہیں۔دوسرایہ میڈیاکازمانہ ہے اوریہ بے خدا اور لادین میڈیادراصل ایک مخصوص مغربی ایجنڈہ کولئے ہوئے سیکولر مقاصداور سیکولراسلام ہی کوپروموٹ کررہاہے اور قوم ابھی دین کونظام عدل وقسط اور نظام اجتماعی نافذکرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستانی قوم خواہ کتنی ہی بے عمل ہی کیوں نہ ہولیکن دین کے ساتھ اسے ایک جذباتی لگاؤ اورتعلق ہے۔جب بھی کسی طرف سے دین کی دیوارمیں نقب لگائی گئی پاکستانی قوم نے زبردست ردّ ِ عمل دکھایا۔قانون ختم نبوت ،قادیانیت کامسئلہ ، القدس کامسئلہ اوراس جیسے دوسرے واقعات شاہدہیں کہ پاکستانی قوم نے ایسے مواقع پراپنے جذبات کامؤثراظہار کیا ہے ۔تاریخی طورپرتحریک خلافت کے نام سے ہندوستان میں مسلمانوں نے ترکی میں جوعلامتی خلافت تھی اورجسے اتاترک نے ختم کیاتھااوراس پرجس پیمانے پرردّ ِعمل دکھایااس کی نظیربرصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔یہ اتنی زوردار اورجذباتی تحریک تھی کہ مسلمانوں کے دشمن گاندھی کوبھی اپنی سیاسی ضرورت کے پیش نظراس میں شرکت اس لئے ناگزیرہوگئی تھی کہ وہ اس کی آڑمیں مسلمانوں کی حمائت حاصل کرنے کااس سے بہترکوئی اورموقع گنوانانہیں چاہتے تھے۔
یہ بات شائدبہت سے مسلمانوں کے علم نہ ہوکہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں جس پر1897ء ہی سے قدم بقدم کام ہوتا رہتاہے۔مدینہ منورہ کا ارضِ مقدس بھی شامل ہے۔ خدانخواستہ اگراسرائیل کچھ ایسی حرکت کربیٹھے توپھرپاکستانی عوام کاجوردّ ِ عمل ہوگا،وہ وقت کی پاکستانی حکومت خواہ کتنی ہی سیکولراورلبرل کیوں نہ ہو، کاروائی کرنے پرمجبورکیے بغیرنہیں چھوڑے گی اوراسی میں اسرائیل کی بربادی وتباہی یقینی ہی ہے(ان شاء اللہ) ۔یہ وجہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کے وجود کواپنے لئے بہت بڑاخطرہ سمجھتاہے۔حالیہ امریکا،بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑاورپاکستان کے اندربھارتی ”را”کی طرف سے کلبھوشن کے بنائے ہوئے نیٹ ورک اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔پاکستان میں اندرونی سبوتاژ، فرقہ واریت،دہشتگردی ،مذہب کے نام پرخونریزی،عبادت گاہوں(مساجد،امام بارگاہوں،چرچ) وغیرہ کی شکل میں حملے کی شکل میں ظہور پذیرہورہی ہے۔
سطوربالامیں جو1967ء میں اسرائیلی بیان کاذکرکیاگیاہے ،اس وقت پاکستان ایٹمی قوت نہیں تھا،اب توایٹمی طاقت اور جدیدمیزائل سے لیس پاکستان ،اسرائیل کواوربھی کھٹکتا ہے اوراسرائیل اوراس کے تمام مربیوں کویہ علم ہے کہ اسرائیل اوربھارت کاایک ایک انچ پاکستانی میزائلوں کی رینج میں ہے ۔تاریخی طورپریادکیجئے کہ یہودی نژاد سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر نےگورنر ہاؤس لاہورمیں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقاربھٹوکوایٹمی پروگرام کوترقی دینے پرخطرناک انجام کی دہمکی دی تھی اورامریکیوں نے بہرحال اس دہمکی پرعمل کر دکھایا۔یہ ملک چونکہ مملکت خدا دادہے لہندا جب ہم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اسے خطروں میں دھکیلتے ہیں تواللہ تعالیٰ غیب سے کوئی معجزہ رونماکرکے اسے بچاہی لیتا ہے یاپھرمیرا کامل ایمان ہے کہ اس معجزاتی ریاست کے قیام کے وقت جو صدی کی سب سے بڑی ہجرت اورجانی قربان کرنے والے شہداء اپنے کٹے پھٹے اعضاء کے ساتھ ربّ ِکریم کے سامنے سلامتی اورمددکیلئے گڑگڑانے لگ جاتے ہیں جن کی میرارب لاج رکھ لیتا ہے۔
ہوایہ کہ بھٹوکی پھانسی کے بعدسوویت یونین نے افغانستان پرحملہ کیاتواس وقت جنرل ضیاء الحق نے امریکاکوافغانستان میں اپنی شرائط پرپوری مدد فراہم کی کیونکہ جنرل ضیاء الحق سمجھتاتھاکہ برادرمسلمان ملک افغانستان اورپاکستان کی سلامتی کیلئے یہ بہت ضروری ہوگیاہے کہ مغرب اورامریکاکا ساتھ دیاجائے اورانہی دنوں جنرل ضیاء الحق نے درپردہ پوری طاقت اورتوانائی کے ساتھ اپنے تمام سائنسدانوں کوایٹمی پروگرام کی تکمیل کیلئے تمام وسائل فراہم کئے کیونکہ اس حالت جنگ میں امریکا اورمغرب نے اپنے فوائدکیلئے ہمارے ایٹمی پرگرام کی ترویج وتکمیل پرآنکھیں بندکرلیں اوراللہ تعالیٰ نے ہمیں پوراموقع فراہم کیاکہ ہم کسی دباؤکے بغیراپنے ایٹمی پروگرام آگے بڑھاتے گئے اورافغانستان میں روسی پسپائی کے بعدجب امریکااورمغرب نے فوری طور پرپاکستان سے آنکھیں پھیرلیں توپاکستان نہ صرف ایٹمی قوت بن چکاتھابلکہ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی خاصی پیش رفت کرچکا تھااورپاکستان اس قابل ہوچکاتھاکہ اس ٹرائیکاکی طرف سے کسی بھی دہمکی کاخاطرخواہ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آچکاتھا۔
قارئین اگرآپ کوجنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی یادہو ان دنوں بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ طورپرپاکستان پر فضائی حملے کاپلان تیارکرلیاتھا جس کیلئے اسرائیل کے ڈھائی سوطیارے پٹھانکوٹ اوردیگربھارتی ایئرپورٹس پراڑان بھرنے کیلئے تیارتھے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس کی طلاع پرپاک بھارت کرکٹ میچ کے بہانے اچانک جنرل ضیاءالحق بھارت پہنچ گئے اورمجبوراًبھارتی وزیر اعظم راجیوگاندھی کودہلی ہوائی اڈے پرآنااوررخصت کرناپڑا۔رخصتی کے وقت اچانک جنرل ضیاء الحق نے راجیوکاہاتھ پکڑکرایک طرف لیجاکرروایتی مسکراہٹ کے ساتھ صرف ایک جملہ کہاکہ:ہم آپ کے فضائی حملے کے پلان سے واقف ہیں لیکن یہ یادرکھیں کہ اس وقت دنیامیں56
ا سلامی ریاستیں ہیں اور اگراس جنگ میں خدانخواستہ پاکستان تباہ بھی ہوجائے توپھربھی پچپن اسلامی ممالک موجودرہیں گے لیکن دنیامیں صرف ایک ہندو ریاست بھارت ہے،اس کاتو اس زمین پرمکمل نام ونشان مٹ جائے گا”۔یہ کہہ کرجنرل ضیاء الحق مسکراتے ہوئےطیارے کی طرف چل پڑے اورشنیدہے کہ راجیو،جنرل ضیاء الحق کوخدا حافظ کہنے کی بجائے فوری طورپراپنی کارکی طرف تیزی سے بھاگااوراپنی کارخودڈرائیوکرتاہوادفترپہنچ کرہنگامی اجلاس طلب کرکے اس پلان کومنسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔مجھے یہ واقعہ ایک ملاقات میں جنرل ضیاء الحق کے انتہائی قریبی ساتھی جنرل حمیدگل نے خودبتایاتھا۔
یہ ہے وہ صورتحال جس میں اسرائیل گریٹراسرائیل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے محسوس کرتاہے اوربجامحسوس کرتاہے کہ پاکستان اس کی راہ میں ایک آہنی چٹان ہے لہنداوہ ہرحربہ استعمال کرکے پاکستان کوزک پہنچانے کی تدابیرمیں شب و روزمصروف ہے۔مغرب اورخصوصاًامریکااس کی پشت پرہیں اوروہ خطے میں بھارت کوکرایہ کے سپاہی کے طورپر استعمال کرنے کیلئے مودی کا ہاتھ تھامے کھڑے نظرآتے ہیں لیکن مودی یقیناً راجیو کے زمانے کے اس واقعےسے بھی بخوبی واقف ہیں اوراس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ اس وقت کے پاکستان اورآج کے پاکستان میں کئی گنازیادہ فرق بھی آگیا ہے لیکن بھاری بنیاء اپنی مکاری کوبروئے کارلاتے ہوئے فی الحال اس آڑمیں پورے فوائدحاصل کرنے میں کوشاں ہے ادھرامریکاکیسے مرحلہ واراقدامات کرکے اسرائیل کے راستےکے کانٹے کس طرح صاف کررہاہے،وہ بھی قابل غورہے۔عراق کے کویت پر حملے کے بہانے امریکانے سعودی عرب اورخلیج میں اپنی فوجیں اتاردیں۔نائن الیون کے بہانے افغانستان کوتہہ وبالاکردیا۔ ڈبلیوایم ڈی کے بہانے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی جبکہ امریکاکے سب سے بڑےاتحادی برطانیہ کے سابقہ وزیراعظم ٹونی بلیئرنے میڈیاکے سامنے اپنے اس جرم کی معافی بھی طلب کی۔ جب دیکھاکہ شام کے علاوہ اسرائیل کاکوئی دشمن نہیں رہاتووہاں خانہ جنگی شروع کروادی جس کوختم کرنے کیلئے اب کسی کے پاس کوئی علاج نہیں۔عرب ممالک کاتیاپانچہ کرہی لیااوراب عرب راجدھا نیوں کے اکثرحکمران ایک سے ایک بڑھ کراسرائیل کے سامنے سجدہ ریزہورہے ہیں۔
خودسعودی عرب کے سب سے طاقتورمحمدبن سلمان (ولی عہد)کاٹرمپ کے یہودی داماد”جیئرڈ کشنر”کے ساتھ ذاتی مراسم اب ڈھکی چھپی بات نہیں اوریہ بات بھی زبان زدِ عام ہے کہ سعودی ولی عہد کے خصوصی محل میں تین دن قیام کے بعدنئے سعودی عرب کاپلان2030ء”نوم”کاساراپلان”جیئرڈ کشنر”نے ترتیب دیاجس کے فوری بعدسعودی عرب میں پہلی مرتبہ کرپشن کے الزامات کی بناء پراعلیٰ سعودی حکام،شہزادوں اور کاروباری شخصیات کی گرفتاریوں کے احکام جاری کئے گئے اوربعدازاں ایک کھرب ڈالرکی وصولی کے بعدان کی جزوی رہائی عمل میں لائی گئی۔اس پلان کے تحت سعودی عرب اپنے 28 ہزارکلو میٹر کے علاقے پرایک ایسانیاشہرآبادکرے گاجہاں کسی قسم کاکوئی شرعی قانون نافذ نہیں کیاجائے گا بلکہ دبئی کی طرزپرایک فری شہرکی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جہاں روایتی عیاشی کیلئےتمام ملکوں کے سیاحوں کوہروہ سہولت ہوگی جو امریکا،مغربی ممالک اوردیگر ممالک میں میسرہیں۔ مکافات عمل یہ ہے کہ امریکی اخبار”ایگل ٹریبون”کی 19مارچ 2018ء کی اشاعت کے مطابق ٹرمپ کے دامادکی کمپنی 2015ء میں طے شدہ کرائے داروں پرجعلی دستاویزات کے دستخط میں ملوث پائی گئی ہے جس کی بناء پرانہیں جعل سازی کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اب آخری بات یہ ہے کہ امریکااسرائیل اوربھارت جواب پاکستان دشمنی کیلئے ایک مضبوط ٹرائیکابن چکا ہے ،اس کی دلچسپی اس حدتک ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ختم کردی جائے ۔ایک کمزور،مفلوج،غیرایٹمی اورمحتاج پاکستان ،امریکا، اسرائیل کومنظوربھی ہے اوروہ ایساکرنے کیلئے سب عوامل کوبروئے کارلانے سے گریز بھی نہیں کرتے۔خدانہ کرے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کوکچھ ہوجائے ،اس صورت میں بھارت جوپاکستان کاازلی دشمن ہے ،کبھی بھی پاکستان کوایک دن کیلئے بھی زندہ رہنے کاحق نہیں دے گااوربھارت کے اندر دودرجن علیحدگی کی تحریکوں کے نتیجے میں شکست وریخت پرقابوپانے کیلئے اکھنڈ بھارت کے پلان پرعمل کرتے ہوئے بعض علاقوں پرقبضہ کرنے کیلئے فوری حملہ کردے گا۔اس لئے ازحدضروری ہے کہ فوری طورپراجتماعی استغفارکرتے ہوئے ایفائے عہدکرتے ہوئے ملک کے اندرقرآن کوبطور آئین نافذکرنے کااعلان کریں جس کے بعدسیکولر، لبرل کالبادہ اوڑھے وہ تمام افرادناکام ہوجائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں