Not justice but favoritism

عدل نہیں بس ترافضل

:Share

جس صاحب نظرسے ملو،اس کے چہرے کوغورسے دیکھو،اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کروتویوں لگتاہے جیسے ایک پریشانی اوراضطراب ہے جوجھلکتانظرآتاہے۔ایسااضطراب جوکشتیوں کے ملاحوں کے چہرے پرسمندروں پربادل امڈتے، طوفانی ہواؤں کواپنی سمت بڑھتے ہوئے دیکھ کرنظر آنے لگتاہے۔ہرکوئی ایک دوسرے سے یہی درخواست کرتاپھررہاہے،دعا کریں ہم پر بہت کڑاوقت آگیاہے۔ہمارے اعمال کی سزاملناشروع ہوگئی ہے۔یوں لگتاہے76سال سے جوڈھیل ہمیں دی گئی تھی اب اس کاخاتمہ ہوگیا۔اب کارکنان قضاوقدرنے معاملات اپنے ہاتھ میں لے کراس صفائی کاآغازکردیاہے جوکسی تعفن زدہ معاشرے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ہر صاحب نظرکی آنکھ نم ہے،دل پریشان ہے اوردعاؤں میں ہچکیوں،سسکیوں اور ندامت کی صورت بندھی ہوئی ہے۔

ہرکوئی اس مملکت خدادادپاکستان کی بقاوسلامتی کی دعاؤں میں مصروف ہے اورہرکسی سے صرف ایک ہی التجاکرتا ہے۔اس سے پہلے کہ آندھیاں اور طوفان اورعذابوں اورسیلابوں کے قافلے ہمیں گھیرلیں،اللہ کے سامنے گڑگڑاکراستغفارکرلو۔اپنے اعمال کی،اپنی کوتاہیوں کی،ظلم پراپنی خاموشی کی تاکہ میرارحیم رب ان ناگہانی مصائب کارخ پھیردے جس نے میرے وطن کوگھیر رکھاہے کہ میں جوایک کوتاہ نظر،گناہ گاراورکم مایہ شخص ہوں،وہ جب ان صاحبان نظرکودیکھتاہوں جنہیں اللہ نے بصیرت اور بصارت عطاکی ہے توخوف سے کانپ اٹھتاہوں۔مڑکراپنے گزرے ہوئے سالوں پرنگاہ پڑتی ہے تویوں لگتاہے جیسے میرے جیسے لوگوں کے گناہ،بداعمالیاں اورمصلحتیں اتنی شدیدہیں کہ شایدآنسوؤں کے سمندراورہچکیوں سے مانگی ہوئی معافی کی درخواستیں بھی قبولیت کامقام حاصل نہ کرسکیں۔وہ خوف جس سے آج اس ملک کاہرمومن صفت برگزیدہ شخص کانپ رہاہے وہ کس قدر شدید ہوگااگرمیری قوم کواس کااحساس ہوجائے توحضرت یونس کی قوم کی طرح سجدے میں گرجائے،اللہ سے پناہ کی طالب ہوجائے، امان مانگے۔

سید الانبیاءﷺکی حدیث پڑھتاہوں توخوف اورغالب آجاتاہے۔آپﷺنے فرمایا”جس وقت غنیمت کوذاتی دولت ٹھہرایاجائے،امانت کو غنیمت سمجھاجائے،زکٰوۃ کوتاوان سمجھاجائے، آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے،اپنی ماں سے نافرمانی کرے،اپنے دوست کو نزدیک اوراپنے باپ کو دوررکھے،فاسق وفاجرشخص اپنے قبیلے کاسردارہو،قوم کاسربراہ ذلیل اورکمینہ شخص ہو۔آدمی کی عزت اس کے شرکے ڈرسے کی جائے ،گانے بجانے والیاں اورباجے ظاہرہوں،شراب پی جائے اورامت کے لوگ اپنے سے پہلے گزر جانے والوں پرلعنت بھیجیں توپھرانتظار کرو سرخ ہواؤں کا، زلزلوں،زمین کے دھنس جانے،پتھروں کے برسنے کا،اور پے درپے نشانیوں کاجیسے موتیوں کی لڑی ٹوٹ جائے اوردانے پیہم گرنے لگیں”۔

سیدالانبیاءﷺکی مسند احمد میں موجود ایک اورحدیث میرے خوف میں اضافہ کردیتی ہے۔آپﷺنے فرمایا ”اللہ عام لوگوں پرخاص لوگوں کے عمل کے باعث اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتاجب تک ان میں یہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے برے اعمال ہوتے دیکھیں اور انہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگرنہ روکیں۔جب وہ ایساکرنے لگتے ہیں تو اللہ عام اورخاص سب پرعذاب نازل کرتاہے”۔

گزرے سالوں پرغورکرتاہوں تونگاہیں76سال قبل اس سرزمین پرداخل ہونے والے لٹے پٹے قافلوں کی جانب لوٹ جاتی ہیں۔بے سروسامان لوگ ،جن کے پیارے راستوں میں ماردئیے گئے،جن کاکل اثاثہ لوٹ لیاگیا۔جن کی عفت ماب بیٹیوں،بہنوں نے عصمتوں کی حفاظت کیلئے کنوؤں میں کود کرقربانی دی لیکن بلکتے،زخموں سے چوریہ لوگ جب اس سرزمین پرپہنچے توسجدہ ریز ہو گئے،آنکھوں سے تشکرکے آنسوامڈ پڑے۔یوں لگتاتھاجیسے ان کے رب نے انہیں ویسے ہی بدترین غلامی سے نجات دی ہوجیسے بنی اسرائیل کوفرعون کی غلامی سے چھڑایاتھا۔

میرے ایک انتہائی قریبی صحافی دوست نے بھارت کے18شہروں میں گھومنے کے بعدخودوہاں کے لوگوں سے جوویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے تھے،مجھے اپنے گھردعوت دیکران کودکھانے کا اہتمام کیاہواتھا۔دراصل اس بھارتی یاتراکیلئے برطانوی پاسپورٹ پر بھی مجھے ویزہ دینے سے انکارکردیاگیاتھاجس کی وجہ سے میں اپنے اس دوست کانام خوداس فہرست میں شامل کروایالیکن ساتھ نہ دے سکا۔میری اپنی خواہش تھی میں اس بدترین غلامی کا نظارہ اورمشاہدہ خوداپنی آنکھوں سے کروں۔ بنارس،اورنگ آباداور ممبئی جیسے شہرجہاں مسلمان کسی طوربھی40فیصدسے کم نہیں،وہاں وہ اس قدر خوفزدہ، بے اطمینان اورمضطرب ہیں جیسے ان کی ذراسی خطاان کے گھرجلاکر رکھ کروادے،عصمتیں تارتارہوجائیں گی اوراولادآنکھوں کے سامنے تڑپتی جان دے دی گی۔

ان تمام ویڈیوزانٹرویودیکھ کرمیں یہ سوچ رہاتھاکہ ہم نے ان76سالوں میں ملنے والی اس جائے امان کے ساتھ کیاکیا۔وہ سرزمین جسے نہ ہم نے اپنے خون سے سینچاتھااورنہ ہی اپنی جدوجہدسے حاصل کیاتھابلکہ عطائے خداوند قدوس تھی۔ہم نے اس کے کونے کونے کوظلم زیادتی،بے انصافی،جبراور استحصال سے بھردیا۔ہم نے سوچاتک نہیں کہ یہ سرزمین توہمارے پاس ایک امانت ہے۔کیاہم نے اپنے بدمعاشوں،اپنے تھانیداروں،اپنے حکمرانوں کی عزت ان کے شرکی وجہ سے نہیں کی۔کیا م نے فاسق وفاجر لوگوں کواپنے قبیلوں کاسربراہ نہیں بنایا۔کیا ہم نے قوم کاسربراہ چنتے ہوئے کبھی سوچاکہ اسے کن خصلتوں کاامین ہوناچاہیے۔ہم پرجومسلط ہوگیاہم نے اسے تسلیم کرلیا۔ہم نےسیدالانبیاء ﷺکے اس فرمان کوکیوں بھول گئے کہ”اللہ کی ،اس کے فرشتوں کی اور تمام انبیاءکی لعنت اس شخص پرجوطاقت کے ذریعے اقتدارپرقبضہ کرے اور شریف لوگوں کوذلیل ورسواکرے اورکمینوں کو عزت دے ،ہم اس عمل کودیکھ کرخاموش رہے بلکہ ہم توبے حس ہوگئے ہیں۔

ہمارے سامنے ہرروز15کے قریب لوگ بھوک اورافلاس سے تنگ آکرخود کشی کرتے رہے اورہمارے بڑے بڑے ہوٹل مرغن کھاناکھانے والوں سے آبادرہے،ہمارے سامنے گھروں کے گھربارودکے دھوؤں اوربموں کی کرچیوں سے اڑتے رہے،معصوم بچوں کی قطاردرقطارلاشیں دفن ہوتی رہیں اورہم اپنے گھروں کے آرام دہ صوفوں پربیٹھے ٹی وی سکرین پریہ خوفناک مناظر دیکھتے رہے،تنگ آکرچینل بدلتے رہے،معصوم بچیاں بموں کی گھن گھرج میں اپنے پیاروں کی خون آلودلاشیں گودمیں رکھ کر آسمان کی سمت دیکھتیں رہیں اوراپنے اللہ کے حضور پیش ہونے تک سوچتی رہیں کہ اس مملکت خداد اد پاکستان میں کتنے ہوں گے جو اپنی بیٹیوں کو گلے سے لگائے پیارسے میٹھی نیندسو رہے ہوں گے۔

گزشتہ برس ساری دنیا کاالیکٹرانک میڈیاسیلاب کی تباہ کاریاں دن رات دکھارہاتھا۔ہرروزکسی نہ کسی شہراورگاؤں کے ڈوبنے کی تصاویر دیکھنے کو مل رہی تھیں،سیلاب زدگان سے متاثرہ60لاکھ بچے،پچاس لاکھ سے زائد خواتین کے علاوہ نقصانات کی دل دہلا دینے والی ایک طویل فہرست عبرت کیلئے کیاکم تھی کہ اب ان کے آبادکاری کے نام پراربوں روپے کی مالی امدادخردبردکر لی گئی اوراب تک ان بےخانماں افرادکی اشک شوئی نہ ہوسکی۔اسی ظالم اشرافیہ نے ملک میں مصنوعی ذخیرہ اندوزی کرکے غریبوں کاخون چوس کرراتوں رات اربوں روپے اپنے تجوریوں میں بھرلئے۔

آئی پی پی کمپنیوں کے مالکان پرنظردوڑائیں توایسے ہوشرباجدیدلٹیروں کانام نظرآتے ہیں جیسےعبدالرزاق داؤد،میان منشاء، شریف خاندان،زرداری گروپ،بیسٹ وے،لک گروپ،جہانگیر ترین ،سیف اللہ خاندان۔مزیدتحقیق کرنے پرپتہ چلاکہ انہی مالکان کی کمپنیوں کوایل این جی اورایل پی جی کو منظوری دینے اوربیچنے کی اجازت ہے،ان کمپنیوں کی تعدادتقریباً14ہے اورآپ ان کمپنیوں کے مالک کچھ ایسے ہی لوگ پائیں گےجوآئی پی پی کمپنیوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائلزاورشوگرملزاور سیمنٹ کارخانوں کے مالکان بھی ہیں۔اس وقت حیرت میں اضافہ ہوجاتاہے جب یہ پتہ چلتاہے کہ کون سی کمپنیوں کوگندم اور چینی کی ایکسپورٹ اورامپورٹ کی منظوری حاصل کرنے کی اجازت ہے،تودوبارہ آپ وہی مالک پائیں گے ج آئی پی پی اور دیگرکمپنیوں کے بھی مالک ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی نئی کمپنی ایل این جی یاایل پی جی کی امپورٹ کی اجازت حاصل نہیں کرسکتی اورگندم اورچینی کی امپورٹ/ایکسپورٹ کے ساتھ بھی ایساہی ہے۔اورمزید دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف تقریباً تمام ان کمپنیوں کے ریٹائرڈ فوجی افسران یاان کے خاندان کے رشتہ دارشراکت دارہیں بلکہ اس منظم سازش میں عدلیہ کے ججز کے نام بھی لئے جارہے ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے پر پنجاب حکومت کوپیش کی گئی خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ چینی مہنگی ہونے کی وجہ لاہورہائی کورٹ کے حکم امتناعی ہیں۔لاہورہائی کورٹ کے جسٹس شاہدکریم اورجسٹس انورحسین کے4مئی2023ءاوریکم اگست 2023ءکے چینی کی قیمتوں کے معاملے پرجاری کردہ حکم امتناعی نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموارکی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ چینی کی قیمتوں میں بے تحاشااضافہ کرکےبھتہ خوری کے ساتھ مل کرشوگرملز،بروکرزاورسٹہ بازوں کے ذریعے ناجائزاربوں روپے کاناجائزمنافع کمایاجارہاہے۔پنجاب حکومت کوپیش کی گئی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیاہےکہ گنے کی کھڑی فصل کی کاشت میں17فیصدکمی واقع ہوئی ہے۔اگلے سال پاکستان کوچینی کی درآمدپرخاطرخواہ زرمبادلہ خرچ کرناپڑسکتا ہے۔قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ عدالتوں کے حکم امتناعی ہیں۔قوم حیران ہے کہ آخرشوگرملزکے تمام کیس جسٹس شاہدکریم کی عدالت میں کیوں چلائے جاتے ہیں؟آخرکیاوجہ ہے کہ تمام کیسزمیں شوگرملوں کے حق میں اورعام لوگوں اور کسانوں کے خلاف فیصلے ہوئے ہیں؟کیایہ وہی عدلیہ ہے جس کے حقوق کی بازیابی کیلئے قوم نے سڑکوں پراپناخون بہایا؟اب قوم کس کے ہاتھ پر اپنا خون تلاش کرے؟

میرے گناہوں اورمیری خاموشیوں کی تفصیل طویل ہے۔اس ملک کے کروڑوں افرادطاقت رکھتے تھے اس ظلم اورزیادتی کے خلاف کھڑے ہونے کی لیکن ان کی مصلحتیں ان کے سامنے آکرکھڑی ہوگئیں،کسی کاکاروبارتھا،کسی کی نوکری اورکسی کا مستقبل۔یوں لگتا ہے کوئی سمجھنے کیلئے تیارنہیں۔ ہمیں کئی مرتبہ خوفناک زلزلوں اورقیامت خیزسیلابوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی:جب زمین اپنی پُوری شدّت کے ساتھ ہلاڈالی جائے گی،اورزمین اپنے اندرکے سارے بوجھ نکال کرباہرڈال دے گی،اورانسان کہے گا کہ یہ اِس کوکیاہورہاہے،اُس روزوہ اپنے﴿اُوپر گزرے ہوئے﴾حالات بیان کرے گی،کیونکہ تیرے ربّ نے اُسے﴿ایساکرنے کا﴾حکم دیاہوگا۔(سورة الزلزا ل5۔1)

لیکن حکومت کے روشن خیال ان نشانیوں کو اپنے بودے دلائل سے جھٹلاتے رہے۔ہم اپنے شب وروزمیں اسی طرح مگن ہوگئے جس طرح پہلے نافرمانیوں میں مبتلا تھے۔کئی صاحبِ بصیرت افرادنے اجتماعی استغفارکی طرف توجہ دلائی لیکن ان کے پندو نصائح کواستہزاکی نذرکردیاگیا۔ملک میں مسلسل خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے،اب معاشی زلزلوں اوسیاسی منافرت کے سیلابوں نے ملک کوجکڑرکھاہے۔خودکشیوں میں روزبروزاضافہ ہوتا جارہاہے۔ماں جوشفقت ومحبت کاستعارہ ہے،بھوک اورمفلسی کے ہاتھوں مجبورہوکراپنے ہاتھوں سے بچوں کوزہرپلاکرخودبھی ان کوآغوش میں لئے ہوئے معاشرے کے چہرے پرتھوک کرایک پیغام چھوڑجاتی ہے لیکن کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومنے والوں کی پیشانی پرفکرمندی کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، بس انہیں یہ فکرہے کہ اگلے اقتدارکاہماکس کے سرپربیٹھے گاتاکہ اپنی تمام وفاداریاں ان کے قدموں میں ڈھیرکرنے کیلئے خاطرخواہ تیاری کی جاسکے۔کیاکروں کہ اس خوفناک سیلاب اورزلزلوں نے مجھے ایک مرتبہ پھرآن گھیراہے اورمیراخوف میراساتھ نہیں چھوڑرہا۔

میں صاحبان نظرکی آنکھوں میں آنسواورچہروں پربھی خوف دیکھ رہاہوں،اے میرے اللہ ہم پررحم فرما،ہم کمزورہیں،ہم گناہ گار ہیں،ہماری خطائیں معاف فرما،اگرتونے فیصلہ کرلیاکہ توہرخاص و عام پرعذاب مسلط کردے،پھرتوخواص کی دعائیں بھی نامراد لوٹ آئیں گی۔ناکام ونامراد۔ایسے میں ہم کہاں جائیں گے،ہم بربادہوجائیں گے۔اے میرے کریم ورحیم رب!ہم تیرے غضب کے مقابلے میں تیری رحمت سے پناہ مانگتے ہیں۔تیرے عدل کے مقابلے میں تیرافضل مانگتے ہیں،بے شک تیری رحمت تیرے غضب سے بالاترہے،ہم پر رحم فرما۔

سیدنازین العابدین کی دعازبان پرہے۔”اللہ میں تیرے غضب سے تیری رحمت کی پناہ چاہتاہوں”۔
کب تری رحمت کوجوش آئے گارب مصطفیٰ؟
آج پھرآل محمدﷺغم سے گھائل ہوگئی

اپنا تبصرہ بھیجیں