عرب بہارکااگلاشکارسعودی عرب؟

:Share

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط میں جب لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی نے مغرب کے طور طریقے اپناتے ہوئے معیشت کو قدرے آزاد کیا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دی تب مغرب بہت خوش ہوا۔ امریکا اور یورپ کے بیشتر اخبارات نے کرنل قذافی کی” اصلاحات” کو سراہا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کرنل قذافی نے اپنی عوام کی فلاح بہبودکیلئے جو اصلاحات کی،اس کاتذکرہ بہت کم کیاجاتاہے لیکن مغرب اورامریکا کوخوش کرنے کے باوجودان کی ہی بدترین سازشوں کاشکارہوکرعبرتنال انجام تک پہنچادیئے گئے۔ان کے مخالفین کاکہناہے کہ انہوں نے لیبیا پر اسی طور حکمرانی جاری رکھی جس طور کرتے آئے تھے۔ اس میں طاقت کے استعمال کا عنصر نمایاں تھا۔ مخالفین کو کسی بھی حال میں برداشت نہ کرنے کا کلچر لیبیا میں تبدیل نہ ہوسکا۔ ایوان ہائے اقتدار میں جو کچھ ہوتا رہا تھا وہی ہوتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ معمر قذافی پر طاقت کے استعمال کے جس رجحان کو پروان چڑھانے کاالزام ان کودیاجارہاہے وہ اب تک اپنی بہار دکھا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ ہو یا یورپ، اسٹرانگ مین یا مردِ آہن کے حوالے سے نئے رومانس کی باتیں عام ہیں۔ مشرق وسطیٰ کا معاملہ یہ رہا ہے کہ مطلق العنان حکمران اپنا اقتدار بچانے کیلئے جو کچھ کرتے تھے اسے وقت سے بہت پہلے اصلاحات قرار دے کر ان تمام حکمرانوں کی انا کے غبارے میں ہوا بھری جاتی تھی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ پرنالے جہاں گرتے آئے تھے وہیں گرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جو کچھ کر رہے ہیں اس کے حوالے سے بھی مغربی پریس میں ستائش آمیز مضامین اور رپورٹس شائع کی جارہی ہیں ۔ جو کچھ محمد بن سلمان نے اب تک کیا ہے اس پر مغربی میڈیامیں تنقید برائے نام ہوئی ہے یعنی بالکل سرسری انداز سے تاکہ اس بات کاشک تک نہ ہوسکے کہ ولی عہدکی ڈورکہیں اورسے ہل رہی ہے۔
دنیا بھر میں جمہوریت ایک طرف رہ گئی ہے اور مرد ہائے آہن میدان میں دکھائی دے رہے ہیں۔ مصر میں جنرل فتح السیسی، روس میں ولادیمیر پوٹن ، فلپائن میں راڈریگو ڈیوٹرٹ اور خود امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یہ سب اپنے اپنے مزاج کے مطابق حکومت کر رہے ہیں۔ امریکا میں جمہوری روایات کی جڑیں گہری ہیں مگر اس وقت صدر ٹرمپ اپنی مرضی کے مطابق چل رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ رجحان طاقتور ہوتا جارہا ہے۔ ہر بڑے ملک میں جمہوری روایات کو کچل کر مطلق العنان حکمران آگے آرہے ہیں۔ اہم فیصلوں میں پارلیمان کو زحمت کار دینے کی زحمت گوارا نہیں کی جارہی۔ روس میں تمام اختیارات ولادیمیر پوٹن کی ذات میں مرتکز ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہی حال مصر اور فلپائن کا ہے۔ امریکا میں بھی کچھ کچھ ایسی ہی کیفیت ابھر رہی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے اب تک بیشتر فیصلے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ان کے انتہائی قریبی ساتھی اور امریکاکی فیڈرل بیوریوآف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)کے سابق ڈائریکٹرجمیزکومی نے اپنی نئی کتاب”اے ہائر لائیلٹی”میں انکشاف کیا
ہے کہ صدرڈونلڈٹرمپ کسی مافیاکے سرغنہ کی طرح کام کرتے ہیں جواپنے لئے مکمل وفاداری چاہتاہے۔جسے لگتاہے کہ ساری دنیااس کے خلاف ہے اورجوہربات میں جھوٹ بولتا ہے۔یہ وہی کومی ہیں جنہیں گزشتہ برس مئی میں ٹرمپ نے انہیں ایک ٹویٹ کے ذریعے عہدے سے برطرف کردیاتھا ۔جمیزکومی کی یہ کتاب ”بیسٹ سیلرز”کاریکارڈ توڑتے ہوئے پہلے چنددنوں میں چھ لاکھ کی تعدادمیں فروخت ہوچکی ہے۔
اپنی کتاب میں انہوں نے کہاکہ” ٹرمپ اپنے بنائے ہوئے خول میں قیدرہتے ہیں اوردوسروں کوبھی اس میں زبردستی گھسیٹ کراس کے اندرلیجانا چاہتے ہیں۔جمیزکومی نے اپنی ملاقاتوں کودہراتے ہوئے لکھاکہ ”منظوری کامنظر ایک خاموش ماحول ،تمامترطاقت کاحامل سربراہ،وفاداری کا حامل ،ہربات کے بارے میں جھوٹ،پوری دنیاایک طرف، ہم ایک طرف والاروّیہ ۔ادارے کے قواعدوضوابط سے بالاصرف وفاداری کایقین دلانا، ملازمت کے شروع میں ایسالگتاتھاجیسے میں کسی ہجوم کے خلاف وکالت کررہاہوں”۔معاملہ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ٹرمپ کے کردارپربھی کھلے عام کئی سکینڈلز کے طوفان سامنے آناشروع ہوگئے ہیں جس میں کئی خواتین نے جنسی تعلقات کے الزامات بھی لگائے ہیں اور ایک خاتون کوتوخاموش رہنے کیلئے ایک خطیررقم دینے کا الزام بھی سامنے آگیاجس نے نہ صرف ٹرمپ بلکہ امریکاکی ساکھ پربھی ایک بدنماداغ لگادیاہے۔
دوسری طرف سوچنے کی بات ہے کہ دنیا بھر میں مطلق العنان حکمران ایک بار پھر کیوں فیشن بنتے دکھائی دے رہے ہیں؟ اس سوال کاآسان سا جواب یہ ہے کہ مغرب کو یہی اچھا لگتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر بڑے ملک سے کسی ایک شخصیت کے ذریعے ڈیل کرے۔ پارلیمان بیچ میں ہو تو معاملات اٹک جاتے ہیں۔ ہر بڑی طاقت چاہتی ہے کہ معاملات تیزی سے نمٹائے جائیں اور معاشی امور کی راہ میں کوئی دیوار کھڑی نہ ہو۔ جمہوری روایات والے معاشروں میں سب کچھ پارلیمان کے ذریعے طے پاتا ہے اور اس میں خاصا وقت لگتا ہے۔ مطلق العنان حکمران اپنی مرضی کے مطابق پورے نظام کو چلاتے ہیں۔ ان سے کوئی بھی معاہدہ بہت تیزی سے طے پاتا ہے کیونکہ وہ اپنے چند مشیروں کے سوا کسی سے بات نہیں کرتے۔ مغربی دنیا چاہتی ہے کہ کسی بھی بڑے ملک سے کسی ایک شخصیت کے ذریعے ڈیل کرےاور دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مطلق العنان حکم رانوں کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں۔ایک طرف تووہ قومی معیشت کوزیادہ مستحکم نہیں کرپاتے اور دوسری طرف بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی ان کی کارکردگی شرمناک رہتی ہے، اور یوں معاشروں میں انتشار غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کے عشروں میں مصر میں جمال عبدالناصر، الجزائر میں حوری بومدین اور شام میں حافظ الاسد مطلق العنان حکمرانوں کی حیثیت سے ابھرے اور انہوں نے ملک کو مضبوط کرنے کے دعوؤں کے ساتھ کام شروع کیا۔ انہوں نے چند ایک ایسے اقدامات ضرور کیے جن کی مدد سے ملک کو مستحکم کرنا کسی حد تک ممکن ہوسکا مگر انقلابی لہر جلد ختم ہوگئی ۔ زمینی حقائق نے جب معاملات کو اپنی گرفت میں لیا تو جو کچھ ترقی جیسا دکھائی دے رہا تھا وہ غائب ہوگیااورطاقت رہ گئی۔ان حکمرانوں کے پاس طاقت کے استعمال کے ذریعے اقتدار کو طول دینے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ آج تینوں ممالک کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ ہے مرد ہائے آہن کی کارکردگی۔
مصر میں حسنی مبارک اور شام میں حافظ الاسد نے کسی جواز کے بغیر حکمرانی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں صرف انتشار پیدا ہوا، خرابیوں نے جنم لیا۔ مصر اور شام دونوں ہی کو بالآخر تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ حسنی مبارک اور حافظ الاسد نے معاملات کو جوں کا توں رکھنے کیلئے طاقت کا بے محابا استعمال کیا۔ دونوں ممالک میں بنیادی حقوق کچلنے کا سلسلہ ایسا چلا کہ اب صرف خرابیاں باقی رہ گئی ہیں۔ مطلق العنان حکمرانی صرف عرب دنیا کا وتیرہ نہیں۔ جنوبی امریکا کی بھی یہی کہانی ہے۔ وینزویلا میں ہیوگو شاویز کی حکمرانی بھی اسی نوعیت کی تھی۔ انہوں نے پورے ملک کے معاملات کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالا اور جس طور چاہا اسی طور حکمرانی کی۔ کیوبا کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا ہے۔ فیڈل کاسترو نے اپنی مرضی کو حکومت کا نام دیا۔ ان دونوں ممالک کا جو حال ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کی ابتدامیں ترکی کو بھی تبدیل ہونا پڑا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مصطفی کمال پاشا نے ترکی کو تبدیل کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی۔ انقلاب کو بنیادی نکتہ بنایاگیا۔ پورے ملک کو تبدیل کرنے کی بات کی گئی اور بہت کچھ بالجبر کیا گیا۔ مگر چندہی عشروں میں انقلابی لہر مکمل طور پر ختم ہوگئی اور صرف انتشار رہ گیا۔ اس کے بعد فوجی حکمرانی کا دور شروع ہوا۔ سبھی جانتے ہیں کہ ترکی میں فوج کا اقتدار کس قدر مستحکم تھا۔ کئی عشروں تک فوج ترکی کے معاملات پر چھائی رہی۔ اس دوران مشکلات ہی مشکلات رہیں۔سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور قطر کی مثالیں عجیب ہیں۔ ان تینوں ریاستوں میں غیر جمہوری حکومتوں نے عوام کو بہت کچھ دیا ہے۔ ترقی بھی ہوئی ہے اور عمومی سطح پر خوشحالی کا دور دورہ بھی رہا ہے مگر ہمیں چند ایک امور کا خیال رکھنا پڑے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان تینوں ریاستوں کا رقبہ بہت کم ہے اور آبادی بھی۔ دولت زیادہ ہے جس کے نتیجے میں عام آدمی کیلئے بلند تر معیارِ زندگی ممکن بنانا آسان رہا ہے اور پھرمعاملہ قائدین کابھی ہے۔ تینوں ریاستوں کو ایسے قائدین ملے جنہوں نے عوام کا بھلا سوچا اور ملک کی ترقی یقینی بنانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی۔ باقی ساری دنیا میں ایسا نہیں ہے۔
بڑی ریاستوں میں کسی بھی مطلق العنان حکمران کو اپنی خواہشات کے مطابق کام کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ بڑی آبادی اور بڑے رقبے میں اپنی مرضی کے مطابق بہت کچھ کرنا کسی بھی فرد کیلئے ممکن نہیں ہوتا۔جمہوریت کادم بھرنے والی تمام مغربی ممالک اورامریکاکی واضح دوعملی یوں سامنے آئی کہ الجزائرکے بعد مصرکی منتخب عوامی حکومت کے سربراہ ڈاکٹرمرسی کی حکومت محض اس لئے ختم کردی گئی کہ ان کاطرز حکمرانی امریکا اورمغرب کی غلامی سے نکالنا اورمظلوم فلسطینیوں کواسرائیل کے مطالم سے نجات دلانامقصودتھا۔ امریکااوراسرائیل کیلئے یہ ممکن نہ تھاکہ وہ مرسی کی منتخب حکومت کوجمہوری طریقے سے ہٹاسکتے ،اس لئے امریکااوراس کے اتحادیوں نے منافقت سے کام لیتے ہوئے اپنے مفادکی تکمیل کیلئے اپنے خاص پٹھوجنرل السیسی کی ذریعے منتخب حکومت کاتختہ الٹ دیا ۔ جنرل فتح السیسی نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے تو لیا ہے مگر وہ ظلم وجبرکے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود معاملات کو بہتر طور پر چلانے اور ملک کو حقیقی ترقی سے ہم کنار کرکے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں اب تک مکمل ناکامی سے دوچار دکھائی دیے ہیں اوراب تک ان کے حصے میں اپنے ہی ملک کے ہزاروں شہریوں کے قتل وغارت اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرنے کاتاریک سہراتاریخ اپنے اندررقم کررہی ہے ۔
یہی حال روس اور دیگر بڑی ریاستوں کا ہے۔ روس کا رقبہ اتنا زیادہ ہے کہ پوٹن کیلئے اپنی مرضی کے مطابق تمام معاملات کو درست کرنا انتہائی دشوار ہے۔ وہ ایک خاص حد تک ہی جاسکتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ مصر کے تمام معاملات حسنی مبارک کی ذات میں سمٹے ہوئے تھے۔ مغرب کیلئے ایک فرد سے ڈیل کرنا آسان ہوتا ہے، اس لیے وہ حسنی مبارک کے ذریعے مصر کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتے رہے۔ انہوں نے حسنی مبارک کی ذات میں اپنے لیے ایک ایسا حکمران دیکھا جو تمام معاملات ان کی مرضی مطابق چلانے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا تھا لیکن امریکااوراسرائیل بدستورخوفزدہ ہیں کہ کٹھ پتلی جنرل فتح السیسی ان کے تابع رہنے کے باوجودان کی مرضی کے نتائج حاصل نہیں کرسکا اور اب تک پورے ملک پر ان کی گرفت زیادہ مضبوط نہیں۔ انہوں نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ زیادہ قابل رشک نہیں۔ جو کچھ حسنی مبارک نے اپنے مغربی آقاؤں کوخوش کرنے کیلئے کیا، اس کے مقابلے میں جنرل فتح السیسی کچھ زیادہ کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیے مگر ہاں، انہوں نے مذہبی قیادت پر دہشتگردی کے جھوٹے الزامات لگاکرجوظلم وستم کابازارگرم کیاہے ،اس کودیکھ کرآج فرعون بھی شرمندہ ہے۔
مغربی قیادتوں کو دنیا کے ہر خطے میں مطلق العنان حکمران پسند ہیں۔ ان سے بات کرنا اور معاملات طے کرنا بہت آسان ہوتا ہے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکا اور یورپ کے مقابلے میں جمہوریتیں کمزور لیڈر پیدا کرتی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کیا درکار ہے، کیسے حکمران چاہئیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں جمہوری طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ طاقتور اور باشعور لیڈر ابھر کر سامنے نہیں آتے۔ ایسے میں معاشرے ترقی بھی نہیں کر پاتے اور اپنی بات بہتر انداز سے بیان کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ لیبیا اور یمن اگر اپنے موجودہ بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو بھی گئے توامریکااورمغربی خواہش کے مطابق ان کے معاملات مطلق العنان حکمرانوں ہی کے ہاتھ میں آئیں گے کیونکہ مغرب کو ان کے ساتھ ڈیل کرنا آسان تر ثابت ہوگا۔یہی وجہ ہے مغربی میڈیاشب وروزیہ دہائی دےرہاہے کہ ان دونوں ممالک میں خون خرابہ ختم کرنے کیلئے لازم ہے کہ تمام معاملات ایک فرد کے ہاتھ میں ہوں لیکن شام کے بارے میں ان کی رائے مختلف ہے کیونکہ وہ خطے میں سعودی عرب کی حمائت کوکھونانہیں چاہتے۔
ملک بھر میں کسی حد تک استحکام اسی صورت قائم کیا جاسکتا ہے۔ مگر خیر، حقیقت یہ ہے کہ مطلق العنان حکمران ملک کو حقیقی استحکام سے کبھی ہم کنار نہیں کرسکتے۔ ان کی لائی ہوئی ترقی عارضی ہوتی ہے۔ وہ اپنے تمام اقدامات کی بقا یقینی بنانے کیلئے طاقت کا بے محابا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صرف خرابیوں کو راہ ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مطلق العنان حکمرانوں کے اقدامات سے معاشرے صرف انتشار کی طرف جاتے ہیں۔ اپنے حقوق چھن جانے پر لوگ مشتعل رہتے ہیں، انقلابی سوچ پروان چڑھتی رہتی ہے اور موقع ملتے ہی لوگ اس سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں حقیقی، قابل رشک اور قابل تقلید استحکام شاذ و نادر ہی پیدا ہو پاتا ہے۔
یادرہے کہ کویت عراق جنگ کے فوری بعداس وقت کے امریکی صدرجارج بش سنیئرنے یہودی نژادہنری کسنجرکے تشکیل کردہ ورلڈآرڈرکو متعارف کروایاجس میں واضح طورپر صرف ”اسلام” کواپنادشمن قراردیتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے اسلامی روح کومکمل طورپرختم کرنے کاعزم کیاگیا ہے،یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کواستعمال کرتے ہوئے پہلے روس کے ٹکڑے کرکے امریکاکوواحدسپرپاوربنایاگیااوراب ”عرب بہار”کے نام پر لیبیا،تیونس اوردیگرممالک کوتہہ تیغ کردیاگیااوراس کے بعدانہوں نے مصرمیں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اب انہوں نے انتہائی منظم انداز میں تمام مسلمانوں کی محبتوں کے مرکزحرمین شریفین سعودی عرب کی طرف رخ کرتے ہوئے بڑی مہارت کے ساتھ اپنے مہروں کوآگے بڑھایاجارہا ہے۔
آج ولی عہد محمد بن سلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت سوں کے نزدیک سعودی عرب کیلئے زہر قاتل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی معاشرہ غیر معمولی خرابیوں سے دوچارضرور رہا ہے لیکن اس کے باوجوداسلامی شعائرکاامین ہوتے ہوئے پرسکون اورخوش حال معاشرے کاضامن بھی رہاہے۔اس میں شک نہیں کہ یہاں بہت کچھ ہے جوطاقت کے ذریعے دبایاجاتارہالیکن اس عمل نے سعودی معاشرے کوبہت سی خرافات سے محفوظ رکھا مگر اچانک خلاف توقع ولی عہدمحمدبن سلمان کی جبری تقرری نے سعودی بادشاہت کومغربی مزاج کے مطابق ڈھالنے کااعلان کردیاگیا۔ مغربی اور امریکی میڈیانے اچانک ولی عہدمحمدبن سلمان کی نوجوان قیادت کواپنے مستقبل کے خوابوں کی تعبیرگردانتے ہوئے اسے ہیروبناکر پیش کرنا شروع کردیا۔امریکاکی اسلحہ سازکمپنیاں جودیوالیہ ہونے جارہی تھی،سعودی سرمایہ نے ان کودوبارہ پاؤں پرکھڑاہونے میں نہ صرف بر وقت مددکی بلکہ اس کے جواب میں اسلحہ کے وہ ڈھیرمہیاکرناشروع کردیئے جواپنے ہی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوناشروع ہوگئے جبکہ مغرب اورامریکانے اپنے ورلڈ آرڈرکے تحت پہلے ہی خطے میں مسلمانوں میں تفریق پیداکرتے ہوئے ایران اورخلیج کی تمام ریاستوں سمیت سعودی عرب کے درمیان دشمنی کی ایک گہری خلیج پیداکردی اورآج یمن اورشام لہولہوہے۔
ولی عہدمحمدبن سلمان کوسعودی عرب کی نوجوان نسل کاہیروبناکرپیش کرنے کے بعدسعودی عرب میں اصلاحات کے نام پرمغربی طرزکی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے پہلی مرتبہ سارے ملک میں خواتین کوبظاہروہ تمام مراعات دینے کاعملی اعلان کردیاگیا جویقیناًآئندہ کی نوجوان نسل کو بتدریج تباہی کے گڑھے میں دھکیل دے گااوراس کے ساتھ ہی ملک بھر میں کیسینوکی طرزپرتاش کھیلنے کے مراکزاورسینماؤں کاایک طوفان بدتمیزی کاآغاز کردیاگیا ہے۔مغربی میڈیانے آج شب وروزمحمدبن سلمان کوجدید سعودی عرب کامعمار کہنا شروع کر دیاہے۔ادھر محمد بن سلمان نے سرمایہ کاروں کودعوت دے کر ملک کواس حوالے سے ایک جنت نشان ملک بنانے کی اپنی کوششوںکاآغازکردیاہے ۔ولی عہدکاکہناہے کہ وہ خواتین اور نوجوانوں کو حقوق دینا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں چند ایک مثبت تبدیلیاں ضرور آئیں گی۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی آقاؤں کوخوش کرنے کیلئے نوجوان نسل مردوزن کیلئے کئی پابندیوں کوختم کرکے پرکشش آزادی کانعرہ لگاتے ہوئے قوانین میں تبدیلی کردی ہے اورنہی والمنکرکے ادارے کے اختیارات کو بہت ہی محدودکردیاہے۔ ان کایہ بھی کہناہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ ایک ناکام ہوتے ہوئے سعودی عرب سے تو یقیناً بہت بہتر ہے ۔
ادھرامریکی اورمغربی میڈیاکو محمد بن سلمان کی شکل میں ایک ایسا رہنما دکھائی دے رہا ہے، جو ان کے سب سے بڑے مشکل مسئلے اسلام سے متوقع خطرے کوحل کرنے میں کامیاب ہوسکتاہے۔ مصری ڈکٹیٹر جنرل السیسی جوابھی تک مصرمیں اخوان المسلمین کی مقبولیت کوکنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکالیکن امریکااورمغرب یہ سمجھتاہے کہ( مسلم انتہا پسندی) کنٹرول کرنے کی کوشش میں خادم حرمین شریفین کی حیثیت سے محمد بن سلمان کو زیادہ کامیابی ملنے کی توقع ہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اپنے امریکی دورے کے دوران انہوں نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ فلسطینی امریکاکے تشکیل کردہ پروگرام کوقبول کرلیں وگرنہ اپنی ”بکواس” بندکردیں کہ اب سعودی عرب کواپنی حفاظت اورترقی کیلئے اوربہت سے کاموں کواوّلیت دیناہے۔انہوں نے وہاں ایک مشہورامریکی میڈیا کے نمائندے کوانٹرویودیتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیاکہ اس نے اپنی وہابیت کی جنگ میں کئی دوسرے اسلامی ملکوں کی سرزمین پرجوخطیررقم خرچ کی ہے وہ اب اس سلسلے کوبھی بندکر رہاہے۔تاہم محمدبن سلمان اب تک یہی ثابت کرنے جارہے ہیں کہ باضابطہ بادشاہت ملنے پر وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کریں گے اور مغرب ان سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکے گا۔ وہابی ازم کسی زمانے میں نرم خوئی کا نام تھالیکن ایران میں انقلاب کی آمد کے بعد سعودی عرب کے وہابی ازم نے سخت گیری شروع کی۔ اس کے نتیجے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ ملک میں سخت تر قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ اب بہت سے لوگ یہ سوچ کر سکون کا سانس لے رہے ہیں کہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پرمعروف ومنکر کا محکمہ گرفتار نہیں کرسکے گا۔محمدبن سلمان نے بہت سی چھوٹی چھوٹی پابندییوں کے ساتھ کچھ اہم اورسخت پابندیوں کوبھی ختم کردیا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے۔
ولی عہدمحمدبن سلمان نے امریکااورتمام مغربی ممالک کواس بات پرقائل کرلیاہے کہ خطے میں ایران کی ابھرتی ہوئی ایٹمی قوت کاخطرہ نہ صرف ان کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی شدیدخطرہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکااب اپنے مغربی اتحادیوں کواعتمادمیں لیکرایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کوختم کرنے یااس معاہدے میں مزیدپابندیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔انہی حالات کودیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکااورمغرب کوایساکرنے پرمتنبہ کرتےہوئے اسے عالمی امن کیلئے شدیدخطرہ قراردیاہے لیکن سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کاکردارایک امریکی لونڈی سے زیادہ نہیں۔ولی عہدمحمدبن سلمان نے امریکااورمغرب سے سعودی عرب کے مستقبل کیلئے ایٹمی ری ایکٹرزکا مطالبہ بھی کیاہےجس کا جواز اس نے اپنے ملک کیلئے پٹرول کے ساتھ بجلی بنانے کے عمل کوختم کرکے ایٹمی ری ایکٹرزسے بجلی بنانے کی خواہش کااظہارکیاہے۔
مشرق وسطیٰ میں آخری چیز جس کی کسر باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک اور ملک جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے اور یہ ممکن بھی ہے امریکا سعودی عرب کے جوہری توانائی کے کاروبار میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی سے غلط انداز میں نمٹے اور پچیس سال میں بجلی پیدا کرنے کیلئے۱۶/ایٹمی ری ایکٹرز بھی لگا کرخوب مال کما لے۔سعودی یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ بدترین عدم استحکام کا شکار اس خطے میں اسرائیل کے بعد ایٹمی ہتھیار رکھنے والا دوسرا ملک بننا چاہتے ہیں، بلکہ ان کا اصرار ہے کہ ری ایکٹرز کو صرف بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر کو بیرون ملک فروخت کرکے آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ پھر بھی اس طرح کی کئی علامات موجود ہیں کہ سعودی اپنے روایتی حریف ایران کے خلاف دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیار بنانے کا اختیار چاہتے ہیں۔ایران۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے سے قبل ایک مضبوط ایٹمی پروگرام رکھتا تھا۔اوباما انتظامیہ نے سعودیہ سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے کے حوالے سے مذاکرات بھی کیے تھے، سعودی عرب کی جانب سے یورینیم کی افزودگی اور پلاٹینیم کی ری پراسسنگ کی قانونی حد کو تسلیم کرنے سے انکارپر مذاکرات ناکام ہوگئے۔ کیونکہ اس سے ایٹمی ہتھیاروں کیلئے ایندھن تیار کیا جاسکتا تھا۔اس سے قبل عرب امارات ۲۰۰۹ء کے معاہدے میں ان قانونی حدوں کو تسلیم کرچکا تھا،اس نے سول نیوکلیئر معاہدے کیلئے عدم پھیلا ؤکے بلند معیار کو قبول کرلیا۔ نئے مذاکرات ایک ایسے صدر کے ماتحت ہونے جارہے ہیں، جو امریکا کی تجارتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایران اوردیگرعرب ممالک پرتوعالمی پابندیوں میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کرتا لیکن خودتمام عالمی قوانین کوردی کی ٹوکری میں پھینکنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا اوروہ سمجھتاہے کہ جارحانہ انداز میں ایران کے ساتھ ساتھ سعودی قیادت سے بھی نمٹ سکتا ہے۔قصرسفیدکافرعون ٹرمپ اپنے اس اقدام کواپنے اتحادیوں کومطمئن کرنے کیلئے یہ دلیل دے رہاہے کہ وہ سعودی عرب سے قانونی حدوں کو تسلیم کروانے کیلئے زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں اورامریکی نگرانی کے تحت سعودی عرب کیلئےبیرون ملک سے افزودہ ایندھن حاصل کرنے کی بجائے ملک میں سستا ایندھن تیار کرنے میں کوئی حرج نہیں گویا ری ایکٹرزمہیاکرنے کی آڑمیں سعودی عرب کواپنی کالونی بنانے کاایک سنہری موقع ضائع نہیں کرناچاہئے۔
ایسا کوئی بھی معاہدہ سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات کو مزید مضبوط توکردے گا،ویسے بھی امریکا نے سعودیہ کوہرقسم کے دشمنوں سے حفاظت کرنے کا وعدہ کررکھا ہے لیکن مذاکرات کے آغاز سے قبل سوال یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی حدود اور شرائط کیا ہوں گی جو سعودیوں کو بھی قبول ہوں،سخت شرائط پر اصرار سعودی عرب کوروس، چین، فرانس اور جنوبی کوریا سے خریداری پر مجبور کرسکتا ہے۔ یہ ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی شرائط بھی نہیں لگائیں گے، ویسے بھی امریکی جوہری صنعت قریب المرگ ہے اور کسی بڑے منافع بخش کا م کی تلاش میں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاامریکا آنے والے دنوں میں سعودی عرب کواپنی گرفت سے نکلنے کی اجازت دے گا؟
امریکی کمپنیاں ایک کنسورشیم پر تبادلہ خیال کررہی ہیں،جو کئی ارب ڈالر کے منصوبے کی بولی دے سکے، تاہم معاہدے میں سخت پابندیاں شامل کرنے میں ناکامی سے سعودیوں کو ایٹمی ہتھیار وں کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ اس سے کئی دہائیوں سے جاری ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤکو روکنے کی امریکی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔امریکا طویل عرصے سے ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کرنے والوں میں قیادت کادرجہ رکھتا ہے،یہ فروخت دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ سول جوہری معاہدے کے تحت ہوتی ہے اور معاہدے میں جوہری عدم پھیلا ؤکی ۹شرائط شامل ہوتی ہیں۔ معاہدہ کرنے والے ملک کوامریکاکی جانب سے فراہم کردہ جوہری مواد کوایٹمی دھماکے کیلئے استعمال نہ کرنے کی ضمانت دیناہوتی ہے۔امریکاکی اجازت کے بغیر ٹیکنالوجی اور معلومات کسی تیسرے ملک کو فراہم نہیں کی جاسکتی اور معاہدہ کرنے والا ملک یورینیم کی افزودگی اور پلوٹونیم کو ری پروسیس نہیں کرسکتا لیکن سعووی حکام کا اصرار ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت انہیں یورینیم افزودگی اور پلوٹونیم کو ری پروسیس کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ ان ٹیکنا لوجیز تک صرف ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہ رکھنے والے ممالک کو ہی رسائی دی جاتی ہے۔
اگر یہ اختلافات مذاکرات کو ناکام بنا دیتے ہیں تو امریکا سعودی عرب پر جوہری عدم پھیلا، نیو کلیئر سیکیورٹی او ر سیفٹی کو نافذ کرنے کا موقع کھو دے گا ۔اس لیے معیاری معاہدہ کرنے میں ناکامی کی صورت میں امریکا کے سابق جوہری مذاکرات کاررابرٹ این کی جانب سے اس معاملے میں سمجھوتہ کرنے کی تجویز اہمیت رکھتی ہے۔ اس صورت میں سعودی عرب پر ۱۵سال تک یورینیم افزودگی اور پلوٹونیم کو ری پروسیس کرنے پر پابند ی ہوگی، اگرچہ اس طرح سے مستقبل میں کئی سوالات جنم لیں گے جس کیلئے امریکامیں اسرائیلی لابی چاہتی ہے کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ کرنے کاحتمی حق کانگریس کو ہونا چاہیے اوراگر انتظامیہ عدم پھیلا ؤکی شقیں معاہدے میں شامل کرنے میں ناکا م رہے تو کانگریس کو ان شقوں کو معاہدے میں شامل کرانے میں اپناکرداراداکرنے کاحق حاصل ہو۔سعودی عرب کی جوہری سہولیات کا اچانک معائنہ کرنے کاحق بھی حاصل ہونا چاہیے، جیسا کہ ایران کے معاملے میں یہ حق حاصل ہے ۔ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا بدلتا رویہ ایٹمی عدم پھیلا کے حوالے سے کانگریس کی ذمہ داریوں پر اثر انداز ہورہا ہے،یہ رویہ نہ صرف سعودی عرب، بلکہ ترکی، مصر اور دیگر ممالک کو بھی جوہری طاقت بنا سکتا ہے۔ کانگریس ارکان کوان قوانین کے تحفظ کی ضرورت ہےتاکہ بہت سارے ممالک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے قریب نہ پہنچ جائیں۔یہی وہ سازش ہے جو ”عرب بہار” کے پردے میں پوشیدہ ”امریکی ورلڈآرڈر”کی تکمیل کیلئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
امریکامیں مشہوریہودی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ مغربی قائدین کو بہرحال یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ محمد بن سلمان نے اب تک جوکچھ کیاہے،اس کی پشت پرطاقت ہے۔وہ اپنے بیشتر اقدامات طاقت کے ذریعے نافذ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شائدولی عہد سمجھتے تھے کہ وہ قدرے معقول اندازاختیارکرتے ہوئے آگے بڑھتے تومخالفت اور مزاحمت کاسامناکرناپڑتا۔ مغربی قیادتوں کودیکھناہگا کہ محمد بن سلمان اس راستے پر آگے کیسے بڑھتے ہیں۔جو کچھ محمد بن سلمان کرناچاہتے ہیں وہ اگر عوام کی زندگی میں دکھائی نہ دیاتو ان کے چاہنے والوں کودکھ بھی ہو گااورمکمل تبدیلی کے واقع نہ ہونے کی قیمت بھی انہی کوادا کرناپڑے گی۔سعودی معاشرے کومکمل تبدیل کرناانتہائی دشوارعمل ہے۔ایسا کرنے میں کامیابی کی صورت میں بھی محمدبن سلمان اوران کے حامیوں کوبہت کچھ جھیلناپڑے گااورناکامی کی صورت میں تونتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں