ٹرمپ کانیافتنہ

:Share

ٹرمپ کی گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کی ٹویٹ نے دنیامیں ایک نیافتنہ پیداکردیاہے دراصل ٹرمپ نے یہ اعلان انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت میں اضافہ کرنے کے مقصدسے کیااورنیتن یاہوکی انتخابی مہم میں اس کی کامیابی میں بڑاکرداراداکیاہے۔بقول”باربرا”جوبرکلے میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سینئرفیلو اورانسپائیرنگ پاکستان نامی ایک ترقی پسندپالیسی یونٹ کے سربراہ ہیں”یہ ایک بڑا سرپرائز تھاجوہم نے نیتن یاہوکے گھرمیں بیٹھ کرسنا۔ ہم یروشلم کے مقدس مقامات کے دورے پرامریکی وزیر ِخارجہ مائیک پومپیوکے ساتھ تھے اور دن کے آخرمیں کام ختم کرنے سے پہلے ان کے اورنیتن یاہو کے بیان کے منتظرتھے۔ان دونوں نے پریس کانفرنس میں آنے میں خاصی دیرلگادی جس پرہم سوچنے پرمجبورہوگئے کہ آیاٹرمپ کی ٹوئٹ نے انہیں بھی بری طرح چونکادیاہے۔ اگرایساہے تویہ نیتن یاہوکیلئےایک خوشخبری تھی اورہم سے بات کرتے ہوئے ان کا پہلا جملہ تھا’میں بہت خوش ہوں‘”۔
نیتن یاہواس فیصلے سے نہیں بلکہ اس کی ٹائمِنگ سے حیران ہوئے ہوں گے کیونکہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پراسرائیل کے حق کوتسلیم کرنے کامعاملہ ٹرمپ انتظامیہ میں کافی عرصے سے زیرغورتھااورحالیہ مہینوں میں اسرائیلی اہلکاراس کی منظوری کی پرزورکوششیں کررہے تھے۔دہائیوں سے امریکااوردنیا کے بیشترممالک گولان پراسرائیل کے قبضے کومسترد کرتے آرہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹرمیں درج اصول کے مطابق کوئی ملک کسی علاقے پرقبضہ کرکے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتابلکہ اس کامستقبل مذاکرات سے طے ہوگامگرٹرمپ نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کاحق تسلیم کرکے دراصل ٹرمپ علاقے پراسرائیل کے قبضے کوتسلیم کررہے ہیں،اس کے بعددوسرے ممالک کوایساکرنے سے روکنے کاان کے پاس کیاجوازہو گامثلاً کرائمیا پرروس کاقبضہ۔دوسرایہ کہ انہوں نے کہاہے کہ وہ یہ فیصلہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے کررہے ہیں یہاں ان کا مطلب ایران ہے۔ٹرمپ انتظامیہ اس بات پریقین رکھتی ہے کہ ایران اسرائیل کوہدف بنانے کیلئےشام کااستعمال کررہاہے اورگولان کی پہاڑیاں فرنٹ لائن پرہیں۔
وائٹ ہاؤس اورکانگرس کے کچھ ارکان کی یہی دلیل ہے اوراسرائیل بھی یہی دلیل دیتاآیاہےلیکن گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کوتسلیم کیے جانے سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسرائیل پہلے سے ہی وہاں فوجی قبضہ جمائے ہوئے ہے اوراسرائیل شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔ایک طرف شام خانہ جنگی کے سبب کمزورپڑ چکا ہے اورایران امریکی پابندیوں سے متاثر ہوا ہے،جس کے بعداسرائیل کوامریکامیں اپنے دوستوں کی حمایت سے اپنی دھونس جمانے کاموقع مل رہاہے،دوسری جانب گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کے قبضے پرکھلے عام کوئی تنازع بھی نہیں ہے۔اس معاملے کواچھالاجائے تواسرائیل کے ساتھ ایران اوراس کے علاقائی اتحادی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ روس بھی اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہوگا۔
مقبوضہ غربِ اردن گولان کی پہاڑیوں سے مختلف ہے۔اس پراسرائیل نے1967ءمیں قبضہ کیاتھالیکن یہاں فلسطینیوں کی بڑی آبادی ہے جوحقِ خودارادیت کا مطالبہ کررہی ہے۔بیس سال سے اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اوران مذاکرات کے حامیوں کوتشویش ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی حق کے تسلیم سے غربِ اردن کے اسرائیل سے الحاق کامطالبہ زورپکڑ سکتا ہے۔یہ تشویش بےبنیادنہیں ہے کیونکہ نیتن یاہوکے دائیں بازوکے اتحادکے اراکان اس الحاق پر زوردے رہے ہیں۔خود نیتن یاہوکی سیاسی جماعت میں29میں سے28ارکان اس الحاق کی حمایت کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات لڑ رہے ہیں۔نیتن یاہو ان 28ارکان میں شامل نہیں لیکن انہیں اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات اورسخت مقابلے کاسامناتھااورانہوں نے یہ ظاہرکیاتھاکہ طاقت میں رہنے کیلئےوہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
گولان کے بارے میں ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ تاثرملتاہے کہ ان کی انتظامیہ امریکی پالیسی اسرائیل کے حق میں بدل رہی ہے۔ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں اورانہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کیلئےکام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی فنڈنگ کم کردی ہے۔انتظامیہ نے فلسطینی مقتدرہ کوہرطرح کی امدادروک دی ہے اوران پر دہشتگردوں کی مالی مدداورامن کی کوششوں کوتباہ کرنے کاالزام عائد کیاہے۔اگرفلسطینی اتھارٹی پیش کی جانے والی تجاویزکومسترد کرتی رہی توممکن ہے اس سے اسرائیل کے موقف کومزید تقویت ملے گی تاہم اس منصوبے کیلئےعرب ممالک کی تائید ضروری ہوگی جو کافی عرصے سے اسرائیل کے زیرِ تسلط علاقوں کی واپسی کے خواشمند ہیں۔بہت سے ممالک نے مسئلہ فلسطین کی بجائے ایران سے مبینہ خطرے کے پیشِ نظرٹرمپ کے امن معاہدے کی حمایت ظاہر کرنے کااشارہ دیاہےلیکن ٹرمپ کے گولان کے بارے میں بیان کے باعث وہ عوامی سطح پرمشکل صورتحال کا شکارہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں