Sample Nepal

نیپال:مودی کی نئی سردردی

:Share

نیپال اوربھارت کے درمیان نہایت قریبی اورتاریخی رشتے رہے ہیں لیکن مودی حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعددونوں کے درمیان مسلسل دوری بڑھتی جارہی ہے۔گزشتہ برس نومبرمیں بھی بھارت کی طرف سے جموں وکشمیر کودوحصوں میں تقسیم کرنے کے بعد شائع کیے جانے والے نقشے پر نیپال نے سخت اعتراض کیاتھا۔اس نقشے میں کالاپانی نامی علاقے کوبھارتی ریاست اتراکھنڈکاحصہ دکھایاگیاہے جبکہ نیپال کادعویٰ ہے کہ یہ اس کاعلاقہ ہے جو بھارت ،نیپال اورچین کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعدنیپال کی حکومت نے بھارت کے اقدام کو یکطرفہ قراردیتے ہوئے اعلان کیاتھا کہ وہ اپنے بین الاقوامی سرحدکی حفاظت کرے گا۔

بھارتی میڈیاکے مطابق نیپال کے وزیردفاع ایشورپوکھریال نے گزشتہ برس25مئی میں ایک مقامی اخبار”دی رائزنگ نیپال”سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان پرکہ”نئے راستے کی تعمیر کے حوالے سے نیپال کسی دوسرے کے کہنے پراعتراضات کررہاہے”(بھارتی فوجی سربراہ کا اشارہ واضح طورپرچین کی طرف تھا)سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ”ایک ایسے وقت جب بھارت اورنیپال کے درمیان سرحدی تنازع کے حوالے سے تعلقات کشیدہ ہیں،ایک فوجی سربراہ کو سیاسی نوعیت کے بیانات سے گریزکرناچاہیے۔ان کے بیان سے نیپالی نژادبھارت کے گورکھا فوجیوں کے جذبات کوبھی ٹھیس پہنچی ہے۔یہ بیان نیپال کی تاریخ،اس کی آزادی کونظر انداز کرکے معاشرتی خصوصیت کی توہین اورخود مختاری پرسوال اٹھانے کے مترادف ہے۔بھارتی آرمی چیف نے نیپال کے ان گورکھافوجیوں کے احساسات کوبھی ٹھیس پہنچائی ہے،جنہوں نے بھارت کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کی ہیں اوراب بھارتی جنرل کیلئے گورکھا فوجیوں کے سامنے سراونچاکرکے کھڑا ہونابھی آسان نہیں ہوگا۔فوجی سربراہ کی حیثیت سے سیاسی بیان بازی کس قدر پیشہ وارانہ بات ہے؟ہمارے یہاں تواس طرح کی کوئی چیزنہیں ہے۔نیپال کی فوج توایسے معاملات پر شورنہیں مچاتی ہے۔فوج اس طرح کی باتوں سے گریزکرتی ہے”۔

یادرہے کہ بھارت نے پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں نیپال اورچین کی سرحدسے متصل متنازعہ علاقے میں اسّی کلومیٹرطویل ایک نئی سڑک تعمیرکی ہے۔یہ راستہ اتراکھنڈکوتبت کی سرحدپرلیپولیکھ درّے سے جوڑتاہے۔نیپال کاکہناہے کہ لیپولیکھ درہ اس کااپنا ہے جبکہ بھارت نیپال کے اس دعوے کومستردکرتا ہے ۔بھارت نے جب اس سڑک کاافتتاح کیاتونیپال نے یہ کہہ کرسخت اعتراض کیا تھاکہ یہ اس کی سرزمین پربنایاگیاہے اوروہ اپنی ایک انچززمین بھی بھارت کودینے کے حق میں نہیں ہے۔ نیپال نے اس سڑک کی تعمیرکے ردِّعمل میں بھارت مخالف کئی سخت بیانات دیے اور پارلیمان میں بحث کے دوران نیپالی وزیر اعظم نے بھارت پرسخت الفاظ میں تنقیدکی تھی اورجواب میں ہی بھارتی آرمی نے یہ بیان دیاکہ نیپال یہ سب کچھ چین کے کہنے پرکررہاہے۔

نیپال کاکہناہے کہ1816ءمیں اس نے ایسٹ انڈیاکمپنی سے جومعاہدہ کیاتھا،اس کے تحت مغرب میں دریائے کالی تک اس کی سرحد ہے اوردریاسے متصل مشرق میں جوبھی زمین ہے وہ نیپال کاحصہ ہے۔نیپال نے اس سلسلے میں حال ہی میں اپنانقشہ بھی بدلاہے اورمتنازعہ علاقوں کواپنے نئے نقشے میں شامل کیاہے لیکن بھارت نیپال کے ان دعوؤں کومستردکرتاہے۔سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ متنازعہ علاقے میں جونئی روڈ تعمیرکی گئی ہے وہ دفاعی نکتہ نظرسے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اس نئی سڑک کی مدد سے بھارت کواب نیپال اورچین کے ساتھ مشترکہ سرحد تک براہ راست رسائی حاصل ہوگئی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔پاکستان کے ساتھ توپہلے سے کشیدگی تھی اورآج کل چین اوربھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔نیپال کے ساتھ بھی رشتے بگڑتے جارہے ہیں جبکہ سری لنکا کے ساتھ بھی پہلے جیسی بات نہیں رہی۔بھارت کااپنے پڑوسی ممالک پاکستان اورچین کے ساتھ ایک عرصے سے جاری سرحدی تنازعات کی فہرست میں نیپال کے شامل ہوجانے سے نئی دہلی کی سردردی میں اضافہ ہوگیاہے۔بھارت کے حالیہ اقدام سے نیپالی عوام کی ناراضی دورکرنے کیلئےوزیر اعظم کے پی شرما اولی کو ملکی پارلیمان میں یہ وضاحت دینی پڑی تھی کہ”نیپال اپنی زمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا۔

نیپال نے بروقت بھارت کے خلاف اس وقت سخت ناراضی کااظہارکیا جب بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ برس آٹھ مئی کوحقیقی کنٹرول لائن پرواقع لیپولیکھ کے قریب سے ہوکرگزرنے والی اتراکھنڈ،کیلاش مانسرورسڑک کا افتتاح کیاتھا۔لیپو لیکھ وہ جگہ ہے جہاں بھارت،نیپال اورچین کی سرحدیں ملتی ہیں۔اس سڑک کے افتتاح کے بعدنیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا،جس کے بعدنیپالی وزیراعظم کوکل جماعتی اجلاس طلب کرکے وضاحت کرنی پڑی۔نیپال کی وزارت خارجہ نے بھارت کے سفیرکواپنے دفترمیں طلب کرکے سخت احتجاج کیااورکہا” بھارت نیپال کے علاقے کے اندر اس طرح کی کسی بھی سرگرمی سے گریز کرے”۔

ادھر20دسمبرکوحکمران کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) میں تنازع کے بعد نیپالی وزیراعظم کے پی شرمااولی نے275رکنی پارلیمان کوتحلیل کرنے کی سفارش کردی،جس کے بعدہمالیائی مملکت شدیدسیاسی بحران کاشکارہوگئی۔وزیراعظم کی سفارشات پرعمل کرتے ہوئے صدربی ڈی بھنڈاری نے ایوان کوتحلیل کیااوراپریل یامئی میں نئے انتخابات کااعلان کردیا۔جس کے نتیجے میں ملک بھرمیں مظاہرے شروع ہوگئے۔احتجاج کی قیادت حریف گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم پشپاکمال دہل’’پراچندا‘‘کر رہے ہیں،جوحکمران جماعت کے شریک چیئرمین بھی ہیں۔پارلیمان کی تحلیل کے خلاف عوامی احتجاج زورپکڑتاجارہاہے۔

نیپال کی اعلیٰ عدالت نے صدرکے فیصلے کوچیلنج کرنے والی ایک درجن درخواستوں کی سماعت شروع کردی ہے۔کوئی شک نہیں کہ عدالت عظمیٰ کافیصلہ مستقبل کے واقعات کی صورت گری کرے گا۔اس دوران پراچندانے پارٹی پراپنی گرفت مضبوط کرنے اور اگلے انتخابات میں کامیابی کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری رکھاہوا ہے۔ان کے مطابق ان کوپارٹی کی دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے نیپالی وزیراعظم اولی کی جگہ پارلیمانی پارٹی کی قیادت بھی سنبھال لی ہے اورپروگجی مادھو کمار کوپارٹی کاشریک چیئرمین مقررکیاہے۔پراچندانیپال میں ایک دہائی 1996-2006ءتک جاری رہنے والی طویل ماؤنوازشورش کے دوران ایک پُرعزم رہنمابن کرابھرے تھے۔اس وجہ سے انہیں اندرونی سطح پرپارٹی کی بھرپورحمایت حاصل ہے۔ اس حمایت کے ذریعے وہ ملک میں وزیراعظم کی تبدیلی چاہتے تھے،لیکن اولی نے حیران کن طورپرپارلیمان کوہی تحلیل کرادیا۔

درحقیقت نیپال میں موجودہ سیاسی بحران کی وجہ دوطاقتوررہنماؤں کے درمیان اقتدارکی لڑائی کی طویل تاریخ ہے۔اس لڑائی کو رکوانے کیلئےچینی کمیونسٹ رہنماوقتاًفوقتاًمداخلت کرتے رہتے ہیں۔ان اختلاف کاآغازپراچنداکی قیادت میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی ماؤنوازشورش کے دوران ہواتھا۔شورش کے دوران لوگ قتل ہوئے،پھانسی،اغوااوربدترین جرائم دیکھنے میں آئے۔جس کے نتیجے میں تقریباً17ہزارلوگ مارے گئے اور ہزاروں بے گھرہوگئے۔لینن نظریے کے حامی ماؤنوازپراچنداگروپ نے نیپالی بادشاہت کے خاتمے اورعوامی جمہوریہ کے قیام کیلئےپُرتشدد کارروائیوں کوجائزٹھہرایاتھاجبکہ اعتدال پسنداولی بادشاہت کے خاتمے کیلئےبڑے پیمانے پرپُرتشددکاروائیوں کے خلاف تھے۔تاہم2006ءمیں جامع امن معاہدے اورشورش کے خاتمے کے بعد دونوں رہنمامشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پرقریب آگئے تھے۔

2017ء ءکے عام انتخابات میں ماؤنوازوں نے پارلیمان کی175نشستیں حاصل کرلیں۔اس متاثرکُن کامیابی نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات کوبدل کررکھ دیا۔صرف ایک سال کے بعداولی کی قیادت والی نیپال کی کمیونسٹ پارٹی(یونائیٹڈ مارکسسٹ)اورپراچنداکی سربراہی میں نیپال کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز)نے مل کرنیپال کمیونسٹ پارٹی(این سی پی) تشکیل دی۔اس انضمام میں چینی رہنماؤں نے اہم کرداراداکیا۔نیپالی سیاست پرچینی اثرو رسوخ کافی بڑھ چکاہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے اختلافات کے باوجودبیجنگ کے حوالے سے ایک ہی مؤقف اختیارکیے رکھاہے۔

جب بھی این سی پی میں اختلاف پیداہوا،چینی رہنماؤں نے پارٹی کی اجارہ داری برقراررکھنے کیلئےدونوں رہنماؤں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی۔ چنانچہ جولائی2020ءمیں جب پراچندانے پہلی باراولی کے خلاف بدعنوانی اوربدانتظامی کے الزامات لگائے توکھٹمنڈومیں چینی سفیرنے پراچندااور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرکے معاملہ حل کرانے کی کوشش کی۔ ایوان صدرکی جانب سے اسمبلیاں تحویل کرنے کے بعدبھی چینی سفیر نیپالی رہنماؤں میں بات چیت کرانے کیلئےمرکزی کرداررکھتے ہیں۔انہوں نے ملک کے صدراوردیگررہنماؤں سے ملاقاتوں کاسلسلہ جاری رکھاہے۔ بحران حل نہ ہونے پر گویوزوکی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے چینی وفدنے حال ہی میں نیپال کادورہ کیا۔گویوزونے ہی اولی اورپراچنداکی پارٹیوں کوایک کرانے میں مرکزی کردار ادا کیاتھا۔ان کادورہ بہت اہمیت کاحامل ہے کیونکہ وہ اولی اورپراچندا سمیت پارٹی قیادت پرفیصلہ کن اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔چین کی کوشش ہے کہ اگر دونوں رہنمااختلاف ختم نہیں بھی کرتے توآئندہ انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف انتخاب نہیں لڑیں تاکہ نیپال میں بھارت نوازجماعت کومضبوط ہونے سے روکاجاسکے۔حقیقت میں نیپال کے بارے میں چینی پالیسی بھارت کودیکھتے ہوئے تشکیل دی جاتی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کھٹمنڈوکومسلسل بھارت مخالف لائن اختیارکرنے کی تاکیدکرتارہاہے۔اس کی ایک زبردست مثال 2004ءمیں ماؤنواز باغیوں کی جانب سے کھٹمنڈوکی ناکہ بندی کرکے سامان کی ترسیل روکناتھا۔اُس وقت بھارت نے بہت سے مغربی ممالک کی طرح ماؤ نوازوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نیپال کوسامان کی فراہمی معطل کردی تھی لیکن چین نے ماؤ نوازوں سے نظریاتی تعلق کے باوجودنیپال کو سامان کی فراہمی جاری رکھی۔ اسی طرح نئے آئین میں حقوق نہ ملنے پرمادیسیوں کے احتجاج کے دوران بھی بھارت نے دوماہ کیلئےنیپال کوسامان کی فراہمی بندکردی تھی لیکن چین سے سامان کی فراہمی جاری رہی۔چین سمجھتاتھا کہ مادیسی مظاہرین کے پیچھے دراصل بھارت ہے جس کے نتیجے میں مقامی سطح پرکشیدگی میں اضافہ ہوا اوربڑے انسانی بحران نے جنم لیا۔2015ءمیں تباہ کن زلزلے کے بعدصورتحال کچھ معمول پرآناشروع ہوئی۔بہرحال اس طرح کی حکمت عملی کے تحت چین نے نیپال کے ساتھ دفاع سمیت ہرشعبے میں مضبوط تعلقات قائم کرلیے۔

بھارت جیواسٹریٹجک وجوہات کی بناپرنیپال سے تعلقات مستحکم کرنے کیلئےدباؤڈالتارہتاہےکیونکہ نیپال بھارت کاانتہائی قریبی ہمسایہ ہے اورچین کےمقابلے میں سکیورٹی کے حوالے سے بھارت سے زیادہ جڑاہواہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ مبصرین نیپال کو بغیرسمندرملک نہیں بلکہ بھارت کے حصے کےطورپردیکھتے ہیں۔نیپال اورچین کی سرحدکی قریب بھارت کی جانب سے بنائی جانے والی80کلومیٹرسڑک ہندوستان کوبہتراسٹریٹجک پوزیشن فراہم کرتی ہے۔جس کے بعدچین کے اشارے پرہی نیپال نے کچھ بھارتی علاقوں پرملکیت کادعویٰ کیا۔جس کے بعداولی حکومت نے نیپال کانیانقشہ شائع کیا،جس میں بھارت کے400مربع کلومیٹر کے علاقوں کونیپال کاحصہ دکھایاگیاہے۔اس نقشے کی نیپال کی پارلیمان نے توثیق کی جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔نیپال کاکرداربھارت کی داخلی سلامتی کے حوالے سے بھی اہم ہے کیونکہ نیپال نے متعدد مواقع پربھارتی ایجنسیوں کونیپال کے ذریعے ہونے والے دہشتگردحملے روکنے میں مددکی ہے۔داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک اوراہم معاملہ بھارت اورنیپال کے ماؤنوازوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ بھارت کے ماؤ نوازوں نے ایک سرخ کوریڈوربنایاتھا، جواترپردیش کے ترائی علاقے سے ہوتاہواجنوبی نیپال،کیرالہ، کرناٹک اور تامل ناڈوتک جاتاہے۔

اگرچہ بھار ت میں سی پی این اوراین سی پی جیسی بڑی ماؤنوازجماعتیں انقلاب کاراستہ چھوڑکرمرکزی دھارے میں شامل ہوچکی ہیں لیکن نیپال میں ماؤ نوازوں کی طرف سے لگائی گئی آگ اب تک بجھائی نہیں جاسکی ہے۔نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے کچھ گروپ آج بھی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔2017ءکے انتخابات کے دوران بم دھماکوں اور پرتشددواقعات کے بعدان گروپوں پرپابندی عائدکردی گئی تھی۔جغرافیائی، تزویراتی عوامل اورچین کے غالب اثرورسوخ کی وجہ سے بھارت نیپال میں جاری سیاسی بحران میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے کیونکہ دہلی سرکار اس بات سے واقف ہے کہ چین نیپال میں اپنے اثرورسوخ کوکبھی بھی گزند پہنچنے نہیں دے گا، اسی لئے بھارت نے انتہائی مجبوری میں اس بحران کونیپال کااندرونی معاملہ قراردے کرکسی بھی رہنماکی حمایت نہ کرنے کافیصلہ کیاہے لیکن مودی کے اس بیان پرکوئی بھی یقین کرنے کوتیارنہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

18 + 16 =