میراپاکستان

:Share

کل میرے پاکستان کی سالگرہ ہے،مجھے اس کی دوستی پرفخرہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتاہوں تومجھے ایک گونہ اطمینان ہوتاہے۔پاکستان کی ایک بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کوجوساتھی ملے،اس کے خلوص،اس کی محبت،اس کی ہمدردی اس کی وسیع القلبی کابے جااستعمال کرتے رہے۔پاکستان یہ سب چکر سمجھتا تھا مگراپنی طبعی شرافت کی وجہ سے اس نے یہ سارے معاملات اللہ پرچھوڑرکھے تھے۔جب میں اپنے گھرسے باہرنکلاتومیں نے جگہ جگہ اجتماعات دیکھے جس میں مقرر حضرات پاکستان سے اپنی دوستی اورمحبت میں ایک دوسرے سے بڑھ کررطب اللسان تھے۔میں ایک جلسے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے میں پاکستان کوتلاش کرتارہامگرایسالگتاتھا کہ شائدوہ اپنی اس62ویں سالگرہ کی تیاریوں میں نہ توشریک ہوناچاہتاہے اورنہ دوسروں کوشریک ہونے دیناچاہتاہے۔

ان پریشان کن خیالات کولیکرمیں نے گلی گلی اس کوڈھونڈناشروع کیا،جیسے جیسے میری تلاش بڑھتی گئی،میری امیدکمزور پڑتی گئی اوروقت بھی تنگ ہوتاچلا گیا۔ مجھے یہ بھی فکرلاحق تھی کہ شام کوبچوں نے بھی پاکستان سے مل کرمبارکباددیناتھی، اگرمجھے پاکستان نہ ملاتومیں اپنے بچوں کوکیاجواب دوں گا،ویسے بھی بچے پاکستان سے میری دوستی کوایک خواب ہی سمجھے تھے اورمیں نے بڑے وثوق سے ان کویقین دلایاتھاکہ میں تم کوبتاؤں گاکہ میں اورپاکستان کتنے اچھے دوست اورساتھی ہیں۔اچانک خیال آیاکہ پاکستان جب گھبراتاہے یاکسی بات پراس کوصدمہ ہوتاہے تووہ ایک ہی جگہ ملتاہے۔یہ خیال آتے ہی میں الٹے پاؤں بھاگتا ہواگھرآیااوراپنے بچوں،پوتوں کوساتھ لیکرقائداعظم کے مزارکی طرف روانہ ہوگیا۔بابائے قوم کے مزارکے احاطے میں آیاتوکیا دیکھتا ہوں کہ پاکستان باباکی قبرسے لپٹاہچکیاں لے رہاہے۔

قدموں کی آہٹ پرپاکستان نے اپناچہرہ قبرسے الگ کیااوراپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے میری طرف لپکا۔میں نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ پھیلائے، بغل گیرہوتے ہی میں نے کہاکہ پاکستان تم اپنی سالگرہ کے جلسوں میں کیوں نہیں تھے؟اس نے مجھے فوراًاپنے سے الگ کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے میرا کندھاپکڑ کرزورسے جھٹکادیاکہ تم بھی مجھے یہی کہنے کیلئے آئے ہو؟کیا کوئی اپنی سالگرہ اس منافقت سے مناسکتاہے؟میں نے کہاکہ میں تمہاری بات نہیں سمجھا،اس پر پاکستان نے مجھے یہ کہاکہ کیا مجھے میرے باپ نے اسی لئے جنم دیاتھاکہ یہاں قتل وغارتگری ہو،عبادت گاہوں میں خون خرابہ ہو،رشوت، چوربازاری ہو، امتحانوں میں نقل اورغنڈ ہ گردی ہو،ہزاروں میل دورسے وہی استعمارآکرتم پرحکم چلائیں جن سے میں تمہیں باوقاراندازمیں آزاد کروا کے گیاتھا،میری تصویرکواپنی پشت پر لٹکاکرمیرے سامنے میری غیرت کوسرِعام نیلام کیاجائے اوتم سب منہ میں گھنگھنیاں ڈال کرکسی مصلحت کی بناءپراف تک نہ کرو،حتیٰ کہ دنیاکی تمام برائیوں کواپنے ہاں رائج کرکے خودکوترقی یافتہ سمجھو؟؟؟؟؟

میں جب ایک سال اورکچھ دن کاتھاتومجھ سے میرے بابابچھڑگئے،اس یتیم کوپالنے کیلئے میرے چچاؤں نے بھرپورکرداراداکیا اورآہستہ آہستہ وہ لوگ بھی مجھ سے بچھڑگئے۔ایک پھوپھی تھی جومیری غمخواراورہمدردتھی،باپ کی کمی جب مجھے محسوس ہوتی تومیں ان کی گودمیں سررکھ دیتااوربے انتہاسکون پاتا۔افسوس وہ بھی مجھ سے جداہوگئیں،میں غیروں کے رحم وکرم پرآگیا ،جوچچااوررشتہ دارکروڑپتی تھے،نواب تھے،صاحبِ حیثیت تھے،انہوں نے اپناتمام دھن مجھ پرلٹادیااورمرتے وقت ان کی زبان سے میرے لئے دعائے خیرکے کلمات ہی نکلے کہ اے اللہ!پاکستان کی حفاظت کرنا(آمین)۔اب تم خودہی بتاؤکیاوہ لوگ عظیم تھے جنہوں نے ایک یتیم کی پرورش کرنے کیلئے اپنی جان ومال داؤپرلگادیئے یاوہ لوگ عظیم ہیں جومیری جائیداد،میری دولت کو لوٹتے رہے اوراپنے ناموں اوراپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے اورپھرڈھٹائی دیکھوکہ اس یتیم کوبجائے سنوارنے اور بنانے کے ایک بازوسے بھی محروم کردیااورپھربھی میری محبت کاجھوٹادم بھرتے ہیں۔اب تم خودہی بتاؤکیامیں ان کی محفلوں میں شریک ہوسکتاہوں؟

میں نے کہادیکھومیرے ساتھ میرے بچے اورمیرے پوتے بھی آئے ہیں اورمیں بڑے فخرسے اپنی اورتمہاری دوستی کے متعلق بتاتاہوں تویہ مانتے نہیں۔ پاکستان نے اپنے بازومیرے بچوں اورپوتوں پررکھے اورکہااے بچو!تمہارے اورتمہارے ابواوردادا جیسے لوگ مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں اورانہی جیسے لوگوں کی وجہ سے میں اب تک مملکتِ خدادادہوں ورنہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں کاشکارہوکرکب کاختم ہوگیاہوتا۔مجھے آج بھی یادہے جب تمہاراباپ میراایک بازوکٹ جانے کی خبرسن کر زمین پرگرگیاتھاتواس کے سرپرایک چوٹ آئی تھی تومیرے ہی دوسرے سلامت مگرزخمی ہاتھ نے اس کوسہارادیکرزمین سے اٹھایا اوراس کے زخم پراپنی محبت کامرہم رکھااوریہ احساس اسی وقت پیداہوتاہے جب کسی کیلئے زندگی جیسی قیمتی چیزبھی قربان کردی جائے۔وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں جوایمانداری،وفاداری اورخلوص کے ساتھ میری خدمت میں لگے ہوئے ہیں اورکسی قسم کاصلہ نہیں چاہتے۔

پاکستان نے ان کومسرت سے دیکھتے ہوئے کہاکہ بچو!میری خدمت یامجھ سے محبت کے اوربھی بے شماراندازہیں جومیں تم کو بتاناچا ہتاہوں۔لال بتی پررکنا ،قانون کی پاسداری کرنا،اپنے اختیارات کاناجا ئزاستعمال نہیں کرنااورمظلوموں کے حقوق دلانا،یہ بھی مجھ سے محبت کے اندازہیں۔اپنے کام کوتندہی سے کرنا،میرے باباکے فرمان”ایمان،اتحاد،تنظیم”کی پاسداری کرنااورجس منصب پرفائزہواس کوایمانداری سے انجام دینابھی میری محبت ہے۔ پاکستان نے بچوں کوایک اورنصیحت فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا:شیراورشارک دونوں پیشہ ورشکاری ہیں لیکن شیرسمندرمیں شکارنہیں کرسکتااورشارک خشکی پرشکارنہیں کرسکتی۔ شیر کوسمندرمیں شکارنہ کرپانے کی وجہ سے ناکارہ نہیں کہاجاسکتااورشارک کوجنگل میں شکارنہ کرپانےکی وجہ سے ناکارہ نہیں کہاجاسکتا۔دونوں کی اپنی اپنی حدودہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔

اگرگلاب کی خوشبوٹماٹرسے اچھی ہے تواس کایہ مطلب نہیں کہ اسے کھاناتیارکرنے میں بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں ۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اوراس کے مطابق خودکوتیارکریں۔کبھی خودکو حقارت کی نظرسے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خودسے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔ یادرکھیں ٹوٹاہوارنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتاہے۔اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خودکوبہترکاموں کے استعمال میں لے آئیں۔وقت کابدترین استعمال اسے خودکا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرناہے۔مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہوجاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تووہ اس کی وجہ سے مرسکتے ہیں۔کبھی بھی اپناموازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑاپنی رفتارسے مکمل کریں۔جوطریقہ کسی اورکی کامیابی کی وجہ بنا،ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگارہو۔کریم ورحیم رب کے عطاءکردہ تحفوں نعمتوں اورصلاحیتوں پرنظررکھیں اوراُن تحفوں سے حسدکرنے سے بازرہیں جواللہ نے دوسروں کودیے ہیں۔

بچے پوری توجہ اوراپنائیت سے یہ پندونصائح سن رہے تھے کہ اچانک میری پوتی نے شکائتی اندازمیں کہاکہ پاکستان!میں نے آج صبح اسکول میں آپ کے بابا کے احسانات پرتقریرکی تھی اورمجھے یہ دیکھ کربہت افسوس ہواکہ میں جب تقریرکررہی تھی تواسٹیج پربیٹھے بزرگ بجائے میری بات سننے کے باتوں میں مشغول ہوگئے اورمیری تقریرکے بعدجب یہ اعلان ہواکہ اب ان کی خدمت میں ایک گانا اوررقص پیش کیاجائے گاتووہ خوشی کے مارے اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ کرکھڑے ہوگئے اورمسلسل تالیوں کے ساتھ وہ زمین پرپاؤں مارنے لگے۔

پاکستان نے سردآہ بھری اورمیری پوتی کے سرپراپناکانپتاہاتھ رکھ کرکہابیٹی!تم صحیح کہہ رہی ہو،ہمارے بڑوں نے اپنے مقصدِ حیات کارخ صحیح راہ پرنہیں ڈالاجس کے نتیجے میں ہم اپناتمدن اورثقافت،آداب واطوارفراموش کربیٹھے،پھرپاکستان نے کہابیٹا! یہ میرے باباکی عظمت ہے کہ آزادی کی جنگ میں جہاں لاکھوں افراد قربان ہوتے ہیں انہوں نے ایک گولی چلائے بغیراورایک قطرہ خوں بہائے بغیراتنی بڑی اسلامی مملکت وجود میں لے آئے،یہ الگ بات ہے کہ فرنگی اورہندو بنئے کی سازشوں نے میرے ہزاروں بچوں کوہجرت کرتے ہوئے کاٹ دیالیکن اس کے باوجودوہ جب مجھ سے ملے توان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ پھرپاکستان نے میرے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہابیٹا!تم ڈاکٹرہومگرتمہارایہ علم اورپیشہ تمہارے لئے دولت کمانے کا ذریعہ نہ بنے بلکہ تمہارے ساتھیوں اور دوسرے شہریوں کیلئے باعثِ خدمت ہو،یہی تمہاری محبت کااظہا ہوگا۔پھرننھے معصوم پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ یہ عمرمعصومیت کی ہے اوراس کی معصومیت کوبچانااوراس کی حفاظت کرنایہ تم بڑوں کاکام ہے۔یہ ابن الوقت لوگ جواس وقت میرے نام کی بیساکھی لیکرسیاسی میدان میں اونچااڑناچاہتے ہیں،وہ زیادہ عرصے تک پنپ نہیں پائیں گے۔

بچو!میں تمہیں آج ایک رازکی بات بتاتاہوں کہ تمہارے ابواورداداکی محبت جووہ مجھ سے کرتے ہیں،ایک عجیب سی محبت ہے ۔یہ دنیامیں جہاں جہاں بھی گئے میرے نام کوبلندہی کرتے رہے!ایک بات اوربتا دوں کہ آج صبح تمہارے ابونے اپنے تمام ساتھیوں کوکانفرنس روم میں جمع کیااورمیرے بھائی اقبال کی لکھی ایک نظم”لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنامیری”سب نے مل کرپڑھی،پھرہرایک نے باری باری میری تاریخِ آزادی اورلوگوں کی مجھ سے عقیدت اورمحبت کے اوپراپنے خیالات کااظہار کیا۔محبت کایہ اظہارکسی کے زور،کسی زبردستی،کسی لالچ کے بغیرتھا،سب ساتھیوں کے چہروں پرجذبات کی حرارت،آنکھوں میں فرطِ محبت سے امڈے ہوئے آنسواورکپکپاتے ہوئے لب اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ یہ اوران جیسے بے شمارلوگ اب بھی مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں توبچو!تم بھی اپنے ابواوران کے ساتھیوں جیسے بنوکیونکہ تم ہی سے ان کی کل اورمیری نئی صبح وابستہ ہے۔پاکستان کی آوازگلوگیرتھی اوروہ خاموش کھڑا اپنے باپ سے کہہ رہاتھا!

“بابا!تم نے میراایک تشخص بنایا،تمہارے ساتھیوں نے اس میں رنگ بھرااورکچھ نادانوں نے اس رنگ کواپنی حماقتوں سے مٹانے کی کوشش کی ۔ اچانک رات کے وقت شب خون مارکرایک طالع آزماجواپنے آپ کوایک کمانڈوجنرل بھی کہتاتھا تمہاری کرسی پرقبضہ جماکربیٹھ گیا۔مسلسل آٹھ سال سے کچھ اوپراس نے مجھ پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔میرے بچوں اوربچیوں کواس نے ایک استعماری طاقت کے ہاتھوں ڈالروں کے عوض فروخت کردیااور بڑے فخرسے اپنے اس اقبالِ جرم کواپنی کتاب میں تحریر بھی کیا۔پاکستان کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوبچوں سمیت اغواکرکے استعمارکے حوالے کردیاگیا ۔افغانستان کے تعزیب خانوں سے امریکی عذاب خانوں کی داستان ناقابل یقین ہے لیکن اسی مہذب ملک جوکہ انسانیت کی معراج پرپہنچنے کادعویٰ کرتاہے، اس نے اس بے گناہ عافیہ کو86سال کی سزاسناکرسلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاگیااورعافیہ کی ماں عصمت صدیقی بیٹی کے انتظارمیں اللہ کے حضور حاضرہوگئیں۔آج وہی شخص موت کامنتظرہےاوراسی وطن میں آنے کی استدعاکررہاہے جہاں اس نے کئی پاکستانیوں کے داخلے پرپابندی لگارکھی تھی۔

متنازعہ کشمیرجس کوتم نے میری شہ رگ قراردیاتھا،اس کوخاموشی سے ہندوبنئے کے سپرد کردیا،میری غیرت وحمیت کواس نے تارتارکردیااورجاتے ہوئے اپنی کھال کوبچانے کیلئے ایک رسوائے زمانہ قانون این آراوکے تحت تمہاری کرسی اورمیری تقدیروقسمت کوانہی کے سپردکرگیاجن پراس ملک کے لوٹنے کے بے شمارالزامات تھے۔بابا!اس کے بعدپاکستان کی بدنصیبی کاایساآغازہوگیاہے کہ ہرآنے والے نے قوم کومختلف نعروں کے سحرمیں مبتلاکرکے اس ملک کولوٹنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورآج شب وروزسیاسی ابتری اورمعاشی بدحالی نے دیوالیہ کے خطرے سے دوچارکردیا۔مہنگائی کایہ عالم ہے کہ دووقت کی روٹی کے لالے پڑگئے ہیں۔کرپشن کوجڑسے اکھاڑنے اورملکی دولت لوٹنے والوں کوانجام تک پہنچانے کانعرہ لگانے والابھی توشہ خانے کے تحفوں تک کولے اڑا،اوراب الیکشن نے ممنوعہ فنڈنگ کے مقدمے کاشواہدکے ساتھ فیصلہ سناکرچہرے پردیانتداری کے سارے میک اپ کواتارکرقوم کواصل چہرہ دکھاکرساری امیدوں پرپانی پھیردیا۔ملک کے اہم قیمتی اثاثےعالمی مالیاتی اداروں کے ہاں گروی رکھ دیئے گئے ہیں اورقوم کوبھاری قرضوں میں ڈبودیاگیاہے تاجہ آنے والے کئی نسلیں قرض اتارنے کی لعنت میں مبتلارہے اوروہ آزادی جس کیلئے آپ نے اورآپ کے ساتھیوں نے خواب دیکھے تھے،وہ سب انتشارکاشکار ہوگئے ہیں مگراب بھی بہت سے لوگ میری محبت میں تن من دھن کی بازی لگانے کیلئے تیارہیں اورمجھے امیدہے میرانام ، میری شناخت انشاءاللہ ختم نہیں ہوسکتی!

بابا!میں بڑے دکھی دل سے یہ کہناچاہتاہوں کہ آپ کے رخصت ہونے کے بعدماں باپ نے اپنی نوجوان نسل کوپاکستان کے ان مقاصدسے بالکل غافل کر دیااورآج ارضِ وطن کی آزادی کادن رب حضورکاشکراداکرنے کی بجائے ناچ گانے اوردوسری بے ہنگم حرکات سے ایساہڑبونگ مچاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ!ہم نے تواپنے رب سے اوفوبالعہدکیاتھاکہ ہم اس معجزاتی ریاست میں اللہ کاقانون یعنی مکمل قرآن نافذکریں گے لیکن اس ملک کی باگ ڈورکچھ ایسے کرپٹ اورلبرل افرادکے ہاتھوں منتقل ہوگئی ہے کہ ان کی اولادیں اس حرام کمائی سے مغرب کی اندھادھندتقلیدکوسینے سے لگاکرجب یوم آزادی کیلئے سڑکوں پرنکلتی ہیں توشرم سے سرجھک جاتے ہیں۔ایسی ہی ایک بیباک بیٹی دفترمیں اپنے باپ کومحض اس لے جلدگھربلانے پرمضرہے کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈکے موٹربائیک پربیٹھ کررات باہرگزارنی ہے۔ذراان کامکالمہ توسنیں تواس کے بعدفیصلہ کریں کہ اس پاکستان کے ساتھ کیاسلوک ہورہا ہے

ہیلوپاپاکہاں ہیں آپ؟
گڑیا:میں آفس میں ہوں کیوں کیاہوا؟
گڑیا:پاپاآپ جلدی گھرآجائیں مجھے اپنے فرینڈعامرکے ساتھ14اگست کی شاپنگ کرنے جاناہے،گھرکوئی بھی نہیں ہے آپی توکالج سے ہی اپنے فرینڈکے ساتھ شاپنگ کرنے چلی گئی ہے،مجھے وائٹ شرٹ اورٹرازرلیناہے تاکہ کل جب میں گال پردل دل پاکستان لکھواں توجودیکھے وہ دیکھتارہ جائے۔پچھلے سال کی طرح اس باربھی ہم خوب انجوائے کریں گے۔عامرنے تو14اگست کیلئے نئی بائیک بھی لے رکھی ہے۔
پاپا:اوکے بیٹامیں آتاہوں۔
سامنے ہاتھ میں گن پکڑے ایک ریٹائرڈ فوجی جوبڑھاپے کی کئی مسافتیں طے کرچکاہے،فون کے اسپیکرپرباپ بیٹی کایہ مکالمہ سن رہاتھا،وہ کمال ضبط کے باوجود بے اختیار رو دیا ۔ ماڈرن باپ نے حیران ہوکرباباسے پوچھا:باباخیرتوہے،کیاہواآپ کو؟بابانے اپنی بوسیدہ آستیں سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے جواب دیا:کچھ نہیں صاحب!مجھے اپنے بچپن کے دن یادآگئے،جب میں نے اپنی بہن سے کہاتھاکہ باجی مجھے بھی جھنڈاچاہیے،مجھے بھی جھنڈا لہرانا اور آوازلگانی ہے”لے کہ رہیں گے پاکستان،بن کے رہے گاپاکستان”۔ صاحب میری بہن چپکے سے اندرگئی اوراپنی سبزقمیض کادامن پھاڑکرمجھے کہتی ہےجاؤبھائی لکڑی کاڈنڈالے آؤ،پھر میری بہن نے پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں جھنڈادیااورمیں بہت خوش تھاآج معلوم ہواکہ وہ خوشی کس بات کی تھی۔وہ خوشی اس بات کی تھی کہ میں نے پاک سرزمین کواپنی بہن کے دامن سے پہچان دی تھی۔ صاحب آپکو معلوم ہے پھر کیا ہوا؟

ہمارے محلے پرہندوؤں نے حملہ کردیااورمیری بہن کی عزت لوٹ لی اوراسے ساتھ لے گئے دودن بعدہمیں اپنی بہن کھیتوں سے ملی تووہ ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی اوراس کی زبان پرایک ہی نعرہ تھا”بن کے رہے گاپاکستان،ہم لے کے رہیں گے پاکستان”۔ صاحب! میں چھوٹاتھا،میں ساری رات اپنی بہن سے لپٹ کرروتارہااوررات کوکسی پہرہمارے ماموں لوگ آئے اورمیری بہن کو کہیں لے گئے۔میں اورمیرے چاچوصبح ہونے سے پہلے ہی اپناگھر چھوڑ چکے تھے۔میرے ہاتھ میں صرف ایک جھنڈاتھاجسے میرے چاچونے جب صبح دیکھاتواسے سینے سے لگاکربہت رویااورکہتارہاکہ تمہاری خاطرہم نے اپنی ما ؤں بہنوں اوربیٹیوں کی عزتیں لٹوادی ہیں نہ جانے تم ہم سے اورکتنی دردناک قربانیاں لوگے۔میں سمجھ نہیں پارہاتھاکہ چاچوبارباراس جھنڈے کویہ کیوں کہہ رہے تھے کہ تم اورکتنی قربانیاں لو گے؟

صاحب! میں چاچوسے پوچھتاکہ ہم کہاں جارہے ہیں توچاچوکہتے معلوم نہیں بیٹا،تم بس چلتے رہواس وقت تک جب تک موت نہیں آ جاتی یاپھرہم اپنے ملک نہیں پہنچ جاتے ۔ صاحب آج سمجھ آئی کہ میرے چاچوکس ملک کواپناملک کہتے کہتے سفرمیں مصروف رہے۔راستے میں بہت سی لاشیں پڑی تھیں۔ ایک مکان میں ہم چھپے ہوئے تھے کہ ایک دودھ پیتابچہ رونے لگاتواس کی ماں نے اس کاگلہ گھونٹ دیاتاکہ وہ ہمیں پکڑوانہ دے لیکن فرط غم میں خودبھی جان دیدی۔

صاحب ہرطرف ان لاشوں کوگدھ اورجانورکھانے میں مصروف تھے،ہم کچھ لوگ رات کووہیں رک گئے تاکہ اس جگہ رات گزار سکیں اورصاحب معلوم ہے آپ کوساری رات میرے چاچوکیاکرتے رہے؟ساری رات عورتوں کی لاشوں پرمردوں کے بدن سے کپڑے پھاڑکرڈالتے رہے اورروتے رہے اورجاگتے رہے کہ جانورمسلمان ماؤں بہنوں بیٹیوں کی لاشوں کی بے حرمتی نہ کرسکیں اورپوپھٹتے ہی انہوں نے سفرشروع کردیا۔راستے میں میرے ماموں کے گاؤں کے افرادنے ہمیں بتایاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ قافلے میں موجودتھے،ان سب کوشہیدکردیاگیااورمیری بہن کے بارے میں بتایاکہ وہ ذہنی توازن کھوجانے کے باوجودپاکستان کے نعرے لگاتی ہوئی شہیدہوگئی۔

جب میرے چاچوپاکستان پہنچے تومیری بہن کے دامن اورپاکستان کے سادے جھنڈے کومصلیٰ بناکرسجدہ ریزہوگئے اوران کی ہچکی بندھ گئی۔وہ ساری عمراس پرچم دوپٹے کوچومتے رہے اوروصیت کی میرے کفن میں اس کورکھ دینااورآخرجس دن اس دنیاسے رخصت ہوئے،ہم نے ان کی وصیت کے مطابق ان کے کفن میں اپنی شہیدبہن کادوپٹہ بھی رکھ دیا۔میرے چاچوکے سامنے جب بھی کوئی شخص بھارت کی بات کرتاتوآپ رونے لگ جاتے اور کہتے کہ خداکیلئے اس ملک کانام مت لوجس نے پاکستان کی قیمت ہم سے ہماری ماؤں بہنوں اوربیٹیوں کی عزتیں لوٹ کروصول کی۔صاحب!جن عزتوں کوبچانے کیلئے ہماری ماؤں اوربہنوں نے کنو ؤں میں چھلانگیں لگادیں انہیں ہماری آج کی بیٹیاں سرعام نیلام کرتی پھررہی ہیں۔ کاش میں انہیں اپنی بہن کاپھٹادامن دکھاپاتا۔انہیں کون بتائے کہ اس پاکستان کوحاصل کرنے کامقصد اپنی عزتیں لٹاکراپنی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ کرنا تھا ۔ میں اسی لئے پاک فوج میں چلاگیااوردوجنگوں میں شہادت کی آرزومیں ساری زندگی گزاردی۔یقین کریں کہ ایساہی جذبہ میرے تمام ساتھیوں کابھی تھالیکن آج جب اس ادارے کوکوئی برابھلاکہتاہے توبہن کادوپٹہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتاہے۔

پھرپاکستان نے اپنا آنسوؤں سے ترچہرہ اٹھایا،میرااورمیرے بچوں کاہاتھ پکڑا،ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرپاکستان پائندہ باداور قائد اعظم زندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے،قومی ترانہ پڑھ کرمزارسے باہرآئے۔سب نے باری باری پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایااورتجدیدِعہدکرکے ہم لوگ اپنے گھرکو واپس ہوئے(پاکستان پائندہ باد)

اپنا تبصرہ بھیجیں