ہرلمحہ”مدرڈے”

:Share

اللہ تعالی کے محبوب مرسل حضرت محمد مصطفی ﷺ کی والدہ ماجدہ کوماں ہونے کابلندمرتبہ عطاہواتوسچ مچ ماں کی عظمت اوروقاربلندیوں کوچھونے لگیں کہ مامتاکا پاکیزہ رشتہ عروج وکمالات سے مالامال ہوا۔حدیث کے مطابق جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے تواس والدہ ماجدہ کی شان کوبھلاکون پہنچ سکتاہے۔سرکاردوعالم ﷺ نے حضرت آمنہ کے بطن اقدس سے جنم لیااوران کی آغوش میں پروان چڑھے۔اس لحاظ سے بی بی آمنہ تمام عالم کی خواتین میں ایک ممتازمقام رکھتی ہیں کہ خاتم الانبیا ﷺ کوجنم دینے اورپالنے کاشرف آپ کے حصے میں آیا۔

بی بی آمنہ کاتعلق عرب کے معززترین قبیلہ بنوقریش سے تھا۔آپ کے والدوہب بن عبد مناف بن کلاب تھے اور والدہ بربنت عبدالعزی بن کلاب تھیں۔ آپ نہایت پرہیزگار اور پاکبازخاتون تھیں۔آپ کا نکاح حضرت عبدالمطلب کے پیارے بیٹے حضرت عبداللہ سے ہوا۔نکاح کے کچھ عرصہ بعدحضرت عبداللہ تجارت کیلئے شام کوروانہ ہوئے۔وہاں پہنچ کر آپ بیمارہوگئے اور بیماری کی حالت میں واپس آرہے تھے کہ یثرب سے گزرتے ہوئے والد کے ننھیال میں ٹھہرگئے اوروہیں وفات پائی۔حضرت آمنہ سے شادی کے کچھ ہی عرصہ بعداس عالم میں بیوگی کاصدمہ اٹھایاکہ امام الانبیا ﷺان کے بطن مطہرمیں پرورش پارہے تھے۔

20/اپریل571بروزپیرصبح کے وقت اللہ تعالی نے حضرت آمنہ کووہ بیٹاعطاکیاجسے آگے چل کرتمام عالم کی فلاح کی ذمہ داری اٹھاناتھی۔حضرت عبدالمطلب نے پوتے کی خوشی میں قربانی کیلئے اونٹ ذبح کئے اورسارے مکہ میں غریبوں کوکھانا کھلایا۔اس موقع پرتمام قبائل کے بڑے بڑے سرداروں نے بچے کود یکھااور حضرت عبدالمطلب کومبارکباد دی۔ اس موقع پرآپ کے داداحضرت عبدالمطلب نے بچے کانام محمدﷺیعنی بہت تعریف کیاگیارکھا۔

حضورﷺکی ولادت کے وقت عرب میں یہ رواج تھاکہ پیدائش کے بعدشرفااپنے دودھ پیتے بچے کواچھی تربیت اورپرورش کیلئے صحرایادیہات میں دایہ کے حوالے کردیتے تھے تاکہ بچہ باہرکی کھلی اورصحت بخش ہوامیں پرورش پاسکے۔جب حضورﷺکی عمرمبارکہ چھ ماہ ہوئی توآپ کوبھی قبیلہ بنی سعدکی ایک خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپردکردیاگیا۔کچھ عرصہ بعد حضرت حلیمہ آپﷺکوواپس مکہ حضرت آمنہ کے پاس لائیں مگرشہرمیں وباپھیلی ہوئی تھی اس لئے حضرت آمنہ نے اپنے نورِنظراورلخت جگرکودوبارہ حضرت حلیمہ کے سپردکرکے واپس بھیج دیا۔جب حلیمہ دوبارہ حضور اکرم ﷺکوواپس لائیں توان کی عمرمبارک تقریباچھ سال تھی۔آپ بڑے توانااوتندرست تھے گویاجس مقصد کیلئے حضرت آمنہ نے اکلوتے فرزند کی جدائی کاصدمہ سہاتھاوہ پوراہوچکاتھا۔اب آپﷺاپنی والدہ کے ہمراہ رہنے لگے۔ حضرت آمنہ کواپنے پیارے بیٹے کابڑاخیال تھا۔ وہ آپ ﷺ کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتیں،آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ کے انتقال کے بعدحضرت آمنہ ہرسال ان کی قبرکی زیارت کومدینہ تشریف لے جاتیں۔

چلئے!اگلے منظرکی طرف …….ساٹھ سترہزارکامجمع …….آخری حج کے سفرپررواں دواں …….اونٹنی کارخ ماں کی قبرکی طرف پھیردیایعنی ابواکی طرف(جوکہ مدینہ سے 249 کلو میٹر دورمکہ کی جانب واقع ہے)۔یہ ایک پتھریلاعلاقہ ہے جوایک پہاڑی کاہموارحصہ ہے۔چشم تصورمیں اپنے آقا ﷺ کاوہ منظریادآگیاجب میرے آقا بچپن میں اپنی والدہ محترمہ کاہاتھ تھامے اپنے والدکی قبرکی زیارت کیلئے تشریف لے گئے تھے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جناب آمنہ بنت وہب حضرت عبداللہ کی قبرکی زیارت کیلئے مدینہ گئی تھیں وہاں انہوں نے ایک ماہ قیام کیا،جب واپس آنے لگیں توبمقام ابواپر25 سال کی عمرمیں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں اوروہیں دفن ہوئیں آپ کی خادمہ ام ایمن ، آپﷺکولیکرمکہ آئیں گویاوالدمحترم اوروالدہ محترمہ دونوں 25سال کی عمرمیں خالق حقیقی سے جاملے(روضہ الاحباب1۔ص67)

میرے آقاﷺ(جن کے روضہ اقدس پر70ہزارملائکہ صبح فجرسے لیکرمغرب تک،اور70ہزارملائکہ کی دوسری جماعت مغرب سے لیکرفجرتک حاضرہوتی ہے اورپھرقیامت تک ان ملائکہ کی باری نہیں آئے گی اوریہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا)آج اپنی ماں کی قبرپریوں حاضری دے رہے ہیں کہ باپ عین عالم شباب میں سال کی عمرخالق حقیقی سے جا ملے اورماں بھی عین جوانی میں دریتیم کوسات سال کی عمرمیں چھوڑکراپنے شوہرنامدارکوملنے کیلئے اپنے رب کے ہاں حاضرہوگئیں۔میرے آقاﷺکووہ تمام مناظرازبرتھے کہ صرف تین افرادکایہ قافلہ تھا۔والدہ محترمہ نے اپنے لال کاتھ تھاما ہواتھااورخادمہ ام ایمن بھی ہمراہ تھیں ۔اچانک طبیعت خراب ہوگئی اوراسی پتھریلی زمین پرلیٹ گئیں،جسم پسینے میں شرابوراوربولا نہیں جارہاتھا، بار بار کروٹ بدل رہی تھیں۔ شائداپنے معصوم بچے کے سامنے اپنی تکلیف کوچھپانے کاعمل ہوکہ بیٹا پریشان نہ ہوجائے۔آپ سہمے ہوئے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نجانے اب کیا ہوگا۔

پھراس عظیم ماں کی زبان سے آخری کلمات اداہوئے…….کل حیی میت وکل جدید بعد……لبیک”ہرزندہ نے مرناہے اورہرجوانی نے ڈھلناہے، لبیک میرا آخری وقت آگیاہے۔”ولقدولد الطحرا”میں نے ایک پاکیزہ ہستی کوجنم دیاہے۔اس کے بعدوہ پاکیزہ شمع بجھ گئی۔میرے آقا ﷺنے جب ماں کو رخصت ہوتے دیکھاتو بے ساختہ رقت اورہچکیوں کے ساتھ روناشروع کردیا۔اپنے ہی سینے سے منہ لگائے اس قدرروئے کہ سینہ مبارک ترہوگیا……اس وقت آنسوپونچھنے والاکوئی بھی نہ تھا،بڑی دیرتک دریتیم ماں کی قبر کے سرہانے بیٹھے اپنے آنسوں کاخراج پیش کرتے رہے۔قبرکے اردگردپتھرجوڑکرنیچے اترے ہی تھے کہ فورابے ساختگی سے دوڑکردوبارہ قبرپرپہنچ گئے۔ام ایمن یہ منظردیکھ کرپیچھے دوڑیں۔جب قریب آئیں توکیادیکھتی ہیں کہ میرے آقاﷺاپنی ماں کے قبر کے ساتھ چمٹ کراس کے اوپرلیٹے ہوئے یہ فرمارہے تھے۔”بے تحاشہ محبت کرنے والی ماں!تجھے توخبرتھی کہ اس دنیامیں تیرے سوامیراکوئی نہ تھا۔مجھے چھوڑکرتم کہاں چلی گئی ہو؟”

یوں لگ رہاتھاکہ میرے رب نے چودہ صدیوں کے تمام پردے الٹ دیئے ہیں،میری اپنی حالت اس قدرغیرہوگئی کہ کھڑے ہونے کی سکت نہیں رہی اور میں بھی بے اختیار آنکھیں بندکرکے بیٹھ گیااورچشم تصورمیں اپنے آقاﷺکے بچپن کے تمام مناظرمیری آنکھوں کے سامنے آنے شروع ہوگئے۔میں بے اختیار سوچنے لگا،اے ارض وسماکے مالک !جسے تونے اپناحبیب اورتمام جہانوں کیلئے رحمت العالمین بنایا،اسے اتنے بڑے دکھ اور صدمے میں مبتلاکردیا. … ….باپ دیکھانہیں، کوئی بھائی اوربہن نہیں جواس صدمے میں سینے سے لگاکرتسلی اورحوصلہ دے اورمیرے آقاﷺ کے ان آنسوں کواپنے دامن میں سمیٹ لے…….اگریہ واقعہ مکے میں رونماہوتاتوچلووہاں محبت کرنے والادادا، خاندان کے دوسرے عزیزو اقارب اس گھڑی میں غم بانٹنے کیلئے اردگرد موجودہوتے۔بیاباں جنگل،پتھریلے پہاڑوں اورصحرامیں یہ غم دیکھنے کوملا……..دل سے ایک ہوک اٹھی ، یامیرے رب!توواقعی بے نیازہے۔ام ایمن نے اپنے بازوں میں لیتے ہوئے التجاکی،اٹھوبیٹا،میرے آقاﷺنے اپنے آنسوؤں سے ترچہرہ سے جواب دیاکہ ”نہیں،میں نہیں جاؤں گا،مجھے اپنی ماں کے پاس ہی رہنے دو”ام ایمن فرماتی ہیں کہ میں زبردستی اس ننھے شہزادے کوقبر سے اٹھا کرلائی” ۔

آئیے اب اگلے منظرکی طرف چلتے ہیں!میرے آقاﷺآخری حج کے سفرمیں اپنے رب کے حضورمناجات کیلئے تشریف لیجارہے ہیں،شدیدگرمی کا مہینہ،آپ نے اپنی اونٹنی کامنہ ابواکی طرف موڑدیااور70ہزارکاقافلہ اپنے آقاکے پیچھے رب کی تسبیح بیان کرتے ہوئے گامزن ہے۔57برس گزر گئے،اتنابڑازخم اورصدمہ نجانے کیسے بھراہوگا۔کہاں وہ بچپن کاچھٹاسال اورآج میرے آقا ﷺ تریسٹھ سال کی عمرمیں، میرے آقااپنی ماں کی قبر کے سرہانے تشریف لائے،اونٹنی کوبھی فاصلے پربٹھادیا،اس عظیم ہستی کی آخری آرام گاہ کی پتھریلی زمین پردوزانوہوکر،سرگھٹنوں میں جھکاکربیٹھ گئے جس طرح بچپن میں اپنی ماں کے پاس بیٹھے تھے جب وہ انتہائی تکلیف میں بے چین ہوکرکروٹیں بدل رہی تھیں۔ یقیناوہ سارے مناظریادآگئے توبے ساختہ پھوٹ پھوٹ کراسی طرح روناشروع کردیاجس طرح وہ بچپن میں اپنی والدہ مرحومہ کواپنے ہاتھوں لحدمیں اتارتے ہوئے بیتاب ہوئے تھے، جس طرح بے تابی میں ام ایمن کاہاتھ چھڑاکر دوڑکرقبرسے چمٹ گئے تھے۔آج ایک مرتبہ پھران مبارک آنسوؤں کی برسات ریش مبارک کوترکرتی ہوئی سینہ مبارک پرطوفان برپا کررہی تھیں اورآج بھی کوئی چپ کرانے والانہ تھاکہ صحابہ کرام کی پوری جماعت حزن وملال کے اس مناظرمیں ماں بیٹے کی ملاقات میں حائل نہیں تھے اورادب کی بنا پرایک فاصلے پربیٹھے اپنے آقاﷺکی اس جذباتی اور رومانوی کیفیت کودیکھ کر بے چین ہورہے تھے ۔کافی دیرتک نجانے اپنی والدہ محترمہ سے کیاباتیں کرتے رہے کہ بچپن میں ماں کو ابھی جی بھرکردیکھا بھی نہیں ہوگا،لاڈوپیارکاوہ سارازمانہ اب آنکھوں کے سامنے آرہاہوگاجس کی بنا پرحزن وملال کی کیفیت بے چین کررہی تھی، دائمی جدائی کے تمام مناظرآج یکجاہوکرمیرے آقاﷺکو مضطرب کررہے تھے۔طبیعت اس قدربے چین ہوئی کہ آپ نے اپنے تمام ساتھیوں کوارشادفرمایا:میں آج رات یہاں ہی قیام کروں گااوروہاں نہیں گئے جہاں قیام کیلئے بندوبست کیاگیا تھا،اپنی ماں کے سرہانے ساری رات قیام فرمایا۔

حضور نبی کریمﷺبڑے مضبوط دل اورحوصلہ مندانسان تھے۔مشکل سے مشکل وقت اورکڑے سے کڑے حالات میں بھی آپ صبروضبط کادامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آپ ﷺنے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کوصبروتحمل،شجاعت اورمردانگی کاسبق دیالیکن ان کی زندگی میں بھی چند مواقع ایسے آئے جب ان کی مبارک آنکھیں بے اختیار اشک بارہوگئیں۔

ان میں سے ایک موقع وہ تھاجب غزوہ احدمیں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد آپ ان کے گھرتشریف لے گئے ان کے بچوں کوپیارکیااوران کی شہادت کی خبران کی رفیقہ حیات کودی۔اس موقع پرآپﷺکی آنکھیں بھیگ گئیں۔ایک موقع وہ تھا جب آپﷺکے ڈیڑھ سالہ فرزند حضرت ابراہیم انتقال کرگئے ۔اس وقت بھی ہزارضبط کے باوجود آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں اورایک موقع وہ تھاجب غزوہ بد رسے آپﷺفارغ ہونے کے بعد اپنی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہاکی قبر مبارک پرحاضرہوئے جواسی نواح میں تھی۔ وہاں آپﷺکی آنکھوں میں آنسوآ گئے۔یہ دیکھ کرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھا کہ یارسول اللہﷺ!آپ کی آنکھوں میں آنسو؟مطلب یہ تھاکہ آپ توفرمایاکرتے ہیں کہ مرنے والوں پررونانہیں چاہیے لیکن اب آپ جیسے جری اورمضبوط انسان کی آنکھیں بھی نم ناک ہیں۔

اس موقع پرآپﷺنے جوکچھ فرمایااس کامفہوم یہ ہے کہ ایک بیٹے کی طرف سے اپنی والدہ محترمہ کی جناب میں نذرانہ عقیدت و احترام ہے۔ان آنسوؤں کوکم حوصلگی یاتھڑدلی سے کوئی تعلق نہیں۔یہ توبے اختیارآنسوہیں جواس حرم محترم میں حاضری کا خراجِ عقیدت ہے۔یہ ماں کے ان قدموں میں،جن کے نیچے جنت ہوتی ہے،گلہائے عقیدت کے طور پرآنسوں کا گلدستہ ہے۔جن کے ہاتھ میں جنت کی کلیدہے اورجن سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔آپ کاارشادگرامی ہے کہ سب نبیوں پرجنت حرام ہے جب تک میں جنت میں داخل نہ ہوجاں،وہ اپنی ماں کیلئے ایسے بے قرارہیں ۔ سبحان اللہ!

ان دنوں ہم بھی مغرب کی تقلیدمیں پچھلے کئی برسوں سے ”مدرڈے ”کاتہوارمنانے میں بڑاتفاخرمحسوس کرتے ہیں۔چلے آج ایک چھوٹی سی کہانی پر اس مضمون کوختم کرتاہوں جومجھے ایک پڑھی لکھی ماں نے سنائی جس کے بچے ان سے دوربیرونِ ملک میں مقیم تھے۔وہ ایک کالج کی پرنسپل رہ چکی ہیں ۔ ساری عمردرس وتدریس میں گزاردی۔اب بھی کئی غریب بچیوں کی کفالت انتہائی پردہ داری اورخاموشی کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں۔مجھے اس بات کاکبھی پتہ نہ چلتااگر بوڑھا ڈاکیا مجھے اس کی اطلاع نہ دیتا۔ایک دفعہ میں ان کے گھرکے سامنے سے گزررہاتھاتومجھے روک کرمیرے کل شام کے ٹی وی پروگرام پر تبصرہ فرمانے لگیں۔مجھے جہاں ان کی علمی گفتگونے حیران کردیاوہاں ان کی لاجواب یادداشت نے میرے دل ودماغ کے کئی چراغ روشن کر دیئے۔میں جتنی دیرپاکستان میں رہتاہوں ان سے جی بھرکرباتیں کرتاہوں،ان کی ڈھیرساری باتیں سنتاہوں جووہ ساراسال میرے لئے جمع کرکے رکھی ہوتی ہیں۔یہاں سے میں جب ٹیلیفون پران کوسلام کرتا ہوں توان کی خوش کلامی سے میرادل معطرہوکے رہ جاتاہے لیکن مختصر سی بات کرکے یہ کہہ کرختم کردیتی ہیں کہ تمہیں خواہ مخواہ اس کازیادہ بل آئے گا۔آؤگے توخوب باتیں کریں گے۔

دوران قیام پاکستان ایک دن خودبخودمیرے پاؤں ان کے گھر کی سمت چل پڑے۔ وہ مجھے باہرہی مل گئیں۔کیسی ہیں آپ ماں جی ……..بہت شرمیلی ہیں وہ ،مسکرائیں اور کہنے لگیں تم کیسے ہو؟آج صبح سویرے ہی ……..جی ماں جی آپ کو سلام کرنے آگیا۔انہوں نے پھولوں کاایک گلدستہ تھام رکھا تھا۔میں نے ان پھولوں کی بابت پوچھاتوانہوں نے جواب دیا کہ میرے تینوں بیٹے امریکامیں مقیم ہیں،سب سے چھوٹے بیٹے نے یہ پھول بھیجے ہیں کیونکہ آج”مدرڈے”ہے ناں!میں نے بھی انہیں مدرڈے کیلئے جب وش” کیا تو دعائیں دینے لگیں”جیتے رہومیرے بچے،سداخوش رہو،خوشیاں دیکھو۔ان کی آوازکازیروبم میں کیسے تحریرکروں اوران کے آنسو کیسے صفحہ پربکھیروں۔ تھوڑی دیرآسمان کی طرف ٹکٹکی باند ھ کردیکھتی رہیں،بالکل گم سم۔آپ ٹھیک توہیں ماں جی!میری آوازسن کرچونک سی گئیں اورواپس اسی دنیامیں لوٹ آئیں۔اب توتمہارے سرکے بالوں اورداڑھی میں کافی سپیدی آگئی ہے،کیاتمہارے پوتے پوتیاں تم سے کہانی سننے کی فرمائش کرتے ہیں؟جی ہاں،کبھی کبھار،وگرنہ آج کل تواسکول کاہوم ورک اوربعدمیں کمپیوٹرپربچوں کی مصروفیت کے بعددوستوں سے موبائل فون کی گپ شپ اورٹیکسٹ پیغامات نے توگھرمیں عجیب اجنبیت پیداکررکھی ہے کہ بچوں کے پاس اب بڑوں کے پاس بیٹھنے کی فرصت کہاں؟

تم نے مجھے”مدرڈے”پر”وش”کرکے ماں جی تومان لیااوراس میں کوئی شک بھی نہیں کہ میں تم سے عمرمیں کافی بڑی ہوں۔ چلوآج ہم دونوں ایک بھولی بسری روائت کوقائم کرتے ہیں۔کہانی سنوگے؟انہوں نے اچانک مجھ سے یہ فرمائش کردی۔”ضرور، کیوں نہیں،مدت ہوئی مجھے کوئی کہانی سنے ہوئے”۔انہوں نے ایک کہانی سنائی، آپ بھی سنیں:

ایک شخص اپنی ماں کو پھول بھجوانے کاآرڈردینے کیلئے ایک گل فروش کے پاس پہنچا۔اس کی ماں دوسومیل کے فاصلے پر رہتی تھی۔ جب وہ اپنی کارسے نیچے اتراتواس نے دیکھاکہ دکان کے باہرفٹ پاتھ پرایک نوعمرلڑکی بیٹھی سسکیاں بھررہی تھی۔ وہ شخص اس لڑکی کے پاس آیااوراس کے رونے کا سبب پوچھا ۔لڑکی بولی:میں اپنی ماں کیلئے سرخ گلاب خریدنا چاہتی ہوں لیکن میرے پاس صرف پچاس پنس ہیں جبکہ گلاب کی قیمت دوپاؤنڈہے۔یہ سن کروہ شخص مسکرایا اوراسے دلاسا دیتے ہوئے بولا، میرے ساتھ اندرچلومیں تمہیں گلاب دلادیتاہوں۔اس نے بچی کوگلاب خریدکردے دیااوراپنی ماں کیلئے پھولوں کاآرڈربک کروایا۔ دکان سے باہرآنے کے بعداس نے لڑکی کوگھرتک پہنچانے کی پیشکش کی۔یس پلیز!لڑکی نے جواب دیاآپ مجھے میری والدہ کے پاس لے چلیں۔لڑکی کی رہنمائی میں وہ ایک قبرستان تک پہنچے۔لڑکی نے وہ سرخ گلاب ایک تازہ بنی ہوئی قبرپررکھ دیا اوردعا مانگنے لگی۔وہ شخص پلٹ کرگل فروش کے پاس پہنچااس نے اپناآرڈرمنسوخ کرادیااورایک گلدستہ لیکرفوری اپنی ماں سے ملنے کیلئے روانہ ہوگیا۔

آخری فقرہ کہتے ہوئے ان کی آوازکپکپانے لگی تومیں نے اپنی جھکی گردن اٹھاکران کے چہرے پرنظرڈالی توانہوں نے منہ پھیرلیاکہ میں ان کی آنکھوں کی چغلی نہ پکڑلوں۔سنا ہے تم اخبارات میں لکھتے ہو۔لگتاہے جوبچے اپنی ماں سے ہزاروں میل دوررہتے ہیں،اب کیاوہ اپنی ماں کی قبرپرسرخ گلاب رکھ کرہی محبت کا اظہارکریں گے؟کتنامشکل ہے اس طرح جینا……..!”اس سوال کااگرکوئی جواب ہوتومجحے ضرربتانا!’مجھے تویہ کہانی سناکرانہوں نے لاجواب کردیا،اب بھلا میرے پاس اس کاکیاجواب ہوسکتاہے؟

میرے کریم رب نے مامتاکے جذبے اورتعظیم کی کیاخوبصورت تعبیرفرمائی ہے کہ اپنی محبت کے اظہارکیلئے ماں کی محبت کوبطوراستعارہ استعمال کیا۔میرا وہ رب! جواتناغیرت مند ہے کہ اپنی ذات و صفات دوئی کو اپنی غیرت کے منافی تصور کرتا ہے ،وہ اپنی تخلیق کیلئے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر ماں کی محبت کو بطور مثال بیان کررہا ہے۔پیار، محبت، خلوص، قربانی، چاہت، دلداری اور اس قبیل کے ہزاروں الفاظ بھی استعمال کئے جائیں تو اس جذبہ کو استعارے کے طور پر بھی شائد مفہوم اور معنی کے کسی ایک پہلو کو بھی اجاگر نہ کرپائیں جو ایک ماں کی کیفیت اور مامتا کے جذبے کا اظہار کرسکتا ہے۔ کس قدر کربناک اور انسانیت سوز دستور ہے کہ ماں جو تخلیق کا بہترین حسن ، کائنات کا سب سے مقدس اور متبرک کردار ہے، آج اپنے تقدس کے اظہار اور خود سے محبت کے اظہار کیلئے کسی مخصوص دن سے منسلک کردیاجائے ……….حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دن ماں کا دن ہوتا ہے۔ہر لمحہ ماں کا لمحہ ہوتا اور ہر ساعت ماں کی ساعت ہوتی ہے۔ماں کی مھبت کے اظہاراورتعریف کیلئے اگرالفاظ کادامن تنگ ہے توپھریہ کیسے ممکن ہے کہ ماں کی محبت کیلئے سال بھرمیں ایک دن مقرر کیا جائے۔

نجانے کیوںمجھے عافیہ کی یادبری طرح ستارہی ہے۔پاکستان کی وہ بیٹی عافیہ جس کوناکردہ گناہ کی سزا میں86برس کے تاریک عذاب میں مبتلاکردیاگیا ہے ۔اس پر آئے دن تشدد، ظلم وبربریت کے وہ حربے استعمال کئے جارہے ہیں جن سے انسانیت کادل دہل گیاہے۔عافیہ جوخودایک ماں ہے جواپنے بچوں کی شکل دیکھنا تودورکی بات،وہ ان سے بات تک نہیں کرسکتی۔میں سوچتاہوں کہ وہ صدمے کی اس کیفیت میں ہرروزاپنے بچوں کوتصورات میں لاکرنجانے کیسی کیسی لوریاں سناتی ہوگی۔اسے توابھی یہ معلوم ہی نہیں کہ اس کا تیسرابچہ اپنی ماں سے اگلے جہان میں ملاقات کاوعدہ کرکے اپنے رب کے پاس فریاد کرنے کیلئے پہلے پہنچ گیااوریہ عذاب مسلط کرنے والے منافقین خودکومدرڈے کاچیمپئن سمجھتے ہیں۔

امریکااورمغرب جہاں ”مدرڈے”بڑی دھوم دھام سے منایاجاتاہے،ماں کودینے کیلئے پھول کم پڑجاتے ہیں،کیاایک لمحے کیلئے ان کے ضمیرپریہ دستک ہوئی کہ ان کامہذب معاشرہ ،برسوں کی محنت اورقربانی سے حاصل کردہ شخصی زادی،عورتوں کے حقوق پرفخرکرنے والوں کاعدالتی نظام اس قدر کمزور اورخوفزدہ ہوگیاہے کہ ایک نحیف وکمزورماں کو صرف یہ فرد جرم عائد کرکے 86 برس کی سزا دے دے کہ اس کی اسلامی فکر امریکہ کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ آج ”مدرڈے”کے موقع پرامریکی مائیں مقدس حضرت مریم کاسامناکیسے کرتی ہوں گی ۔ایک ایسی ماں جو محبت کا استعارہ اور قربانی کی علامت ہے اور مامتا کا یہ بلند درجہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر معاشرے نے تسلیم کیا ہے توپھر ان کے ہاں ایک ماں کے ساتھ ایساسلوک کا دہرامعیارکیسےقرارپاسکتاہے ؟خود عفت صدیقی نے ہرصاحب دل اوربیٹی کے دروازے پراپنی فریادوں کے ڈھیرلگادیئے،کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی اوربالآخروہ اپنی بیٹی کی ملاقات میں شب وروزتڑپ تڑپ کراللہ کے ہاں حاضر ہوگئیں۔ہے کوئی جواب کسی کے پاس!اگرنہیں توپھر جلدی کیجئے کہ ہمارے لئے توہردن ہرلمحہ”مدرڈے”ہے اوریہی تعلیم میرے آقاخاتم النبین ﷺ کی ہے ۔
لیکن صدافسوس ہمارے ہاں اقتدارکے حصول کیلئے توعافیہ کی رہائی کے بلندوبانگ نعرے بلندکئے گئے لیکن اقتدارملتے ہی عافیہ کانام ہی ان کے کانوں میں پگھلا ہواسیسہ بن کردوڑنے لگ جاتاہے.آج یہی افرادایک مرتبہ پھراقتدارکیلئے ملک کے ہردروبام کوآگ لگانے کیلئے تومیدان میں اترآئے لیکن آسمان تک بلند عافیہ کی چیخیں انہیں سنائی نہیں دیتی.شائدانہی کیلئے کہاگیاہے کہ ان کومیرے رب نے اندھااوربہرہ کردیاہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں