مودی کاجنگی جنون ورسوائی

:Share

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجودکو شروع دن سے ہی تسلیم نہیں کیااوراس سلسلے میں پچھلی سات دہائیاں اس بات کی گواہ ہیں اورتقسیم ہندکے وقت ریڈکلف ایوارڈمیںماؤنٹ بیٹن اورجواہرلال نہروکے ساتھ ملی بھگت کرکے ایک ناپاک سازش کے تحت مشرقی پنجاب کے گورداسپورکوایک خاص منصوبے کے تحت ہندوستان کے نقشے میں شامل کرکے مسئلہ کشمیرکی بنیادرکھ دی گئی جبکہ تقسیم ہندکاتو فارمولہ یہی تھاکہ جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہوگی ،وہ علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے اور کشمیر میں اس وقت 98٪آبادی مسلمانوں کی تھی اورہرکس کویہ علم تھاکہ کشمیربھی اسی اصول کے تحت پاکستان کاحصہ بن جائے گالیکن برطانیہ نے ہمیشہ کی طرح یہاں اپنی خوں آشام سازش کاسہارالیکردنیاکاسب سے بڑاتنازعہ ان دونوں ملکوں کے درمیان اس لئے چھوڑدیا کیونکہ وہ بھی پاکستان کے وجودِ مسعودکومشکوک سمجھتے ہوئے یہ ہی سمجھتاتھاکہ پاکستان چندماہ میں ہی خوداپنے وجودکوسنبھال نہیں پائے گااور اسی طرح مسلمانوں کی طرف سے چلائی گئی ”دوقومی نظریہ”تحریک خاکم بدہن ناکام ہوجائے گی اوراس طرح خطے کے مسلمان مکمل طورپربھارتی ہندوؤں کے رحم وکرم پراپنی باقی ماندہ زندگی گزارنے پر مجبورہوں گے لیکن قائداعظم محمدعلی جناح نے اپنے مضبوط استدلال اورانتھک محنت سے خطے کے مسلمانوں کے وکیل کاحق اداکرتے ہوئےپاکستان جیسی معجزانہ ریاست کوقائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
پاکستان نہ صرف وسائل کی عدم موجودگی اوردیگرمعاشی پریشانیوں کے باوجودخودکوقائم ودائم رکھنے میں کامیاب رہابلکہ دنیامیں ایک جوہری قوت بن کرسراٹھانے میں کامیاب ہو گیالیکن بھارت جومسلسل پاکستان کے خلاف سازشوں اوردہشتگردی میں مصروف ہے بلکہ اس نے پچھلے سات دہائیوں سے کشمیرپرنہ صر ف ناجائزقبضہ برقراردرکھے ہوئے ہے بلکہ کشمیریوں پربے پناہ تشدداورظلم وستم کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ باوجود اقوام متحدہ میں اقوام عالم کی طرف سے متفقہ طورپر منظورحق خودارادیت کی قراردادوں پرعمل کرنے سے بھی منکرہوچکاہے اور پاکستان پرکشمیر میں مداخلت کابہانہ بناکرہرروزپاکستان کوموردِ الزام ٹھہراتارہتاہے۔ابھی حال ہی میں 14فروری کوکشمیرکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کشمیری نوجوان ڈارنے پلوامہ کی ایک سڑک پرفوجی کانوائے پرخودکش حملہ کرکے 49فوجیوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاجس کے بعد مودی سرکارنے ہمیشہ کی طرح بغیرکسی تحقیق کے اس کاالزام فوری طورپرپاکستان میں موجود ”جیش محمد”پرلگادیاکہ جبکہ پاکستان پراس تنظیم پرایک عرصے سے پابندی لگی ہوئی ہے۔یادرہے ایساہی الزام میں بھارت نے 26/11 ممبئی حملوں کا الزام بھی پاکستان پرلگایاتھاجوبعدازاں گزشتہ برس جرمنی کے ایک مشہور محقق(الیس ڈیوڈسن) نے اپنی مشہورزمانہ کتاب”دی بٹریل آف انڈیا” لکھ کربھارت کے اس جھوٹے دعوے کی قلعی کھول دی کہ کس طرح بھارت کاخودساختہ رچایا
ہواڈرامہ تھااور20جون 2018ء کوبرطانوی ہاؤس آف پارلیمنٹ میں ”لیزا ‘ ‘تھنک ٹینک کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ اس کتاب کی رونمائی بھی کی گئی جس کے بعدپہلی مرتبہ عوام الناس کوبھارت کی اس مکارانہ چال کاپتہ چلاکہ کس طرح اپنے مقاصدکیلئے اقوام عالم کو دھوکہ دینے کیلئے بھارت اپنے مربی کی تائیدسے اپنے مفادات کیلئے ایسے ڈرامے ترتیب دیتاہے۔
بھارت میں مودی سرکاردوبارہ عام انتخابات میں دوسری سیاسی جماعتوں کامقابلہ کرنے کیلئے میدان میں اتررہی ہے اوراس سے پہلے ابتدائی طورپر بھارت کی پانچ ریاستوں میں مودی سرکار بری طرح انتخابات ہارچکی ہے جس کے بعداب اسے خدشہ ہے کہ وہ عام انتخابات میں بری طرح شکست کھاجائے گی جس کیلئے اس نے پلوامہ جیسی ایک نئی سازش تیارکی تا کہ بھارتی عوام سے پاکستان دشمنی کے نام پرووٹ لئے جاسکیں ۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت مہاراشٹرنو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پلوامہ کے حملے کے بارے میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے پوچھ گچھ کی جائے تو اس حملے کی پوری حقیقت عیاں ہو جائے گی۔راج ٹھاکرے نے ہلاک ہونے والے انڈین سیکورٹی اہلکاروں کو ”سیاسی مظلوم”قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر حکومت اس طرح کی صورتحال تخلیق کرتی ہے لیکن مودی کی حکومت میں یہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے لیکن مودی کی یہ بدقسمتی کہ خوداس کے اپنے ملک بھارت میں اس سازش کاپردہ چاک ہوگیااورہرطرف سے یہ آوازیں اٹھناشروع ہوگئیں کہ یہ مودی کی انتخاب جیتنے کیلئے ایک ہولناک سازش کی گئی جس میں نچلی ذات کے انچاس فوجیوں کو قربانی کابکرا بنایاگیالیکن مودی اپنی ہٹ دھرمی کے ساتھ پاکستان کومووردِ الزام ٹھہراتارہااورخطے میں جنگی ماحول پیداکرکے پاکستان پرحملے کی دہمکیاں دیناشروع کردیں۔
عمران خان نے مودی دہمکیوں کے جواب میں بڑے مؤثراورحکیمانہ اندازمیں یہ کہا کہ انڈیا کو اب تسلیم کر لینا چاییے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا میں نئی سوچ آنی چاہیے اور انڈیا کو سوچنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس حد پر پہنچ چکے ہیں کہ انھیں اب موت کا بھی خوف نہیں رہا۔ انڈین حکام کی جانب سے نہ صرف پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے بلکہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اس حملے کے ساتھ بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور کاروائی سے ہچکچانا بھی دہشت گردی کو فروغ دینے کے برابر ہے اور اب کاروائی سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ ان دہمکیوں کے بعد باقاعدہ 26فروری کی نصف شب کو بھارتی ایئرفورس نے پاکستانی سرحدمیں داخل ہوکرفضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں کے فضا میں آنے کے بعد وہ جلدبازی میں اپنے بم گراکرواپس چلے گئے۔دوسری جانب انڈیا نے کہا کہ اس نے اپنی ایک فضائی کاروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ اِسی تناظر میں پاکستانی آئی ایس پی آرکے ترجمان میجرجنرل آصف غفورنے بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی جھوٹ کابھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس علاقے کوبھارتی میڈیاسمیت دنیابھرکے میڈیاکواس علاقے میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے خودتحقیق کرنے کی دعوت دے ڈالی جوبعدازاں عالمی میڈیاسمیت مقامی میڈیاکے افرادنے وہاں پہنچ کربھارتی ذلت اورجھوٹ کاپردہ دفاش کردیاجہاں بھارتی نے جیش محمدکے کیمپ پرحملہ کرکے چارسودہشتگردمارنے کادعویٰ کیاتھا،وہاں ایک کوے کے مرنے کے علاوہ چنددرختوں کی تباہی کے سواکچھ نہ ملا۔
عقدہ یہ کھلاکہ بھارتی ہوابازوں نے عجلت میں اپنی جان بچانے کیلئے فرارمیں پناہ ڈھونڈنالازم سمجھااورپے لوڈ کرکے پاکستانی طیاروں کے پہنچنے سے قبل دم دباکرواپس انڈیابھاگ گئے۔ طیارے کے پروں کے نیچے جو بھی چیز لگی ہوتی ہے وہ پے لوڈ کہلاتی ہے۔ مثلا میزائل، بم اور راکٹ، یہ سب پے لوڈ میں شامل ہیں۔ طیارے کی رفتار بڑھانے کیلئے طیارے کو ہلکا کرنا پڑتا ہے تا کہ تیزی سے کسی جگہ سے نکلاجاسکے اورپیچھے سے آنے والے طیارے آپ کومارنہ سکیں۔ حالیہ واقعے میں انڈین طیاروں نے اِسی لیے پے لوڈکیایعنی اپناگولہ بارودگراکراپنا وزن کم کیا اور تیزی سے وہاں سے بھاگ گئے۔ انڈین ایئر فورس کی جانب سے پاکستانی حدود میں آ کر بم گرانے کے واقعے میں انڈیا کی جانب سے میراج طیارے استعمال کیے گئے جبکہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کیلئے ایف سولہ اور جے ایف سترہ لڑاکا طیارے تھے۔ ایف سولہ بلاک 52 میراج سے بہتر طیارہ ہے جبکہ جے ایف سترہ تھنڈر اور ایف سولہ کے بعض دوسرے ورژن میراج برابر ہیں۔ انڈیا نے اپنے میراج طیاروں کوفرانس سے اپ گریڈ کروایاہے لیکن اس کے باوجودایف سولہ کو ہتھیاروں اورریڈار کے لحاظ سے میراج پرفوقیت حاصل ہے۔جدید تھرڈ جنریشن طیاروں میں نائن جی کی صلاحیت ہوتی ہے۔نائن جی کا مطلب ہے کہ جب طیارہ موڑکاٹتا ہے تواس کا وزن نوگنا تک بڑھ سکتا ہے۔ دونوں طیاروں کے پاس نائن جی صلاحیت ہے اور بی وی آر یعنی بیونڈ ویژول رینج یعنی نظر سے دور ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل بھی دونوں کے پاس ایک طرح کے ہیں۔
پاکستان نے بدھ کی صبح یہ دعویٰ کیاتھا کہ اس کے طیاروں نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پاراہداف کونشانہ بنایا ہے اور بعدازاں لائن آف کنٹرول عبورکرکے پاکستان میں داخل ہونے والے دوانڈین طیاروں کومارگرایاگیاہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹرپرجاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستانی فضائیہ کی کاروائیوں کے بعد انڈین فضائیہ کے طیاروں نے ایک مرتبہ پھرایل اوسی عبورکی جس پر پاکستانی فضائیہ نے دوانڈین طیاروں کوپاکستانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا ہے۔
یوں محسوس ہورہاہے کہ حالیہ واقعے میں دونوں طرف سے رولزآف انگیجمنٹ یہ ہیں کہ اگر مارنا پڑ جائے تو مار دو لیکن کوشش یہ ہوگی کہ جھڑپ سے بچنا ہے تاکہ جنگ بڑھ نہ جائے۔پاکستان کی جانب سے کوشش تھی کہ انڈین طیاروں کو روکا جائے اور دھمکایا جائے تاکہ وہ بھاگ جائیں اورشائد انڈین پائلٹوں کو بھی کہا گیا ہوگا کہ آپ نے دشمن طیارے کا سامنانہیں کرنااورنہ ہی تلاش کر کے لڑناہے اورجلدی نکلناہے۔اب تک کے حالات سے یوں معلوم ہوتاہے کہ دونوں جانب سے جنگ کوبڑھانامقصد نہیں تھاکیونکہ جب زمینی سرحد پرسپاہی لڑتے ہیں تواس سے ایک بڑی جنگ چھڑنے کا امکان کم ہوتا ہے لیکن اگر طیارہ کئی میل اندر گرا دیا جائے تو حالات کافی خراب ہو سکتے ہیں۔عام حالات میں جنگ کے قوائد مختلف ہوتے ہیں اوروہ یہ کہ اگر کسی غیرملکی طیارے کوگراناہے تواِس طرح کے اس کاملبہ اپنی سرحد کے 10کلومیٹراندرگرے،اِس سے یہ ثابت ہوگا کہ دوسروں نے حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔اگرملبہ پڑوسی ملک میں پایاگیاتواس کامطلب یہ ہوگا کہ آپ نے اندرگھس کرکاروائی کی ہے۔دراصل مودی سرکارکامقصدیہ ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کی جائے جوآئندہ انتخابات میں کامیابی کاسبب بن سکے لیکن مودی کی سازش اب خودان کے گلے پڑگئی ہےتاہم بھارتی حملے کے فوری بعدپاکستان کی عسکری اورسیاسی قیادت نے یہ فیصلہ کیاکہ بھارت کواس کاجواب دینالازم ہوگیاہے۔ پاکستان کی عسکری قیدات کے ترجمان نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں بھارت کواس بزدلانہ حملے کے جواب کیلئے متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اس کے جواب کیلئے اپنی مرضی کاوقت اورجگہ کاانتخاب خودکرے گااوربھارت کوایسا سرپرائز دے گاجووہ عمربھریادرکھے گااوراس سے اگلی صبح بھارتی بنئے نے اپنے تکبرمیں پاکستان کی فضاؤں کی دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوئے توہمارے شاہینوں نے موقع پرہی ان کو ایسابھرپورجواب دیاکہ بھارت نہ صرف اپنے دوجہازوں سے محروم ہوگیابلکہ اس کاایک پائلٹ اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھااوردوسراپاکستانی سپاہ کے ہاتھ زندہ گرفتارہوگیا اوریوں مودی کے نتھنوں سے نکلتاہوادھواں خوداسی کوبھسم کررہاہے ۔پاکستان نے ایک مرتبہ پھراس ساری کاروائی کے بعدبڑے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکارکوبات چیت کی دعوت دیتے ہوئے اسے جنگی جنون سے بازرہنے کاپیغام دیااوراس کے ساتھ یہ بھی باورکروایاگیاکہ ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے نہ صرف اس خطے کوبلکہ دنیاکوبچانے کی فکرکی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں