ماڈریٹ اسلام ……… آستین کے سانپ

:Share

وہ ابھی بچہ تھاکہ اس کا باپ یونان سے بہترمستقبل کی تلاش میں امریکاچلاگیا۔اس بچہ کی پیدائش بھی یونان میں ہوئی تھی لیکن اس کے باپ نے ان سب کواپنے پاس امریکامیں بلالیا۔دنیاکے کسی بھی قانون اورکسی بھی ملک کے رہنے والوں کی نظرمیں وہ اوراس کا باپ غیرملکی تھے کیونکہ وہ اپناملک یونان چھوڑ کرامریکامیں آبادہوئے تھے۔پھریہ بچہ محنت اورلگن کی منزلیں طے کرتاہواایک ایسے مقام پرپہنچاکہ اس نے کئی سال پہلے اپنے انٹرویومیں مسکراتے ہوئے پوچھاکہ مجھے دنیاکاکوئی بھی ایساملک دکھادو جس کی سب سے زیادہ طاقتوراوراہم خفیہ ایجنسی کاسربراہ کسی دوسرے ملک سے آکرآبادہونے والاہو؟ یہ سوال پوچھنے والاامریکاکی سب سے زیادہ متنازع اورامریکی حکومت کی سب سے زیادہ طاقتورخفیہ ایجنسی کاسربراہ جارج ٹینٹ تھا۔

اس شخص نے اپنے پیشروجان ڈچ کے زمانے کی ناکامیوں کوایک چیلنج کے طورپرلیااورامریکاکوایسی جنگ میں جھونکاجس کی آگ کے شعلوں نے دنیاکے امن کوخاکسترکرکے رکھ دیااورکوئی نہیں جانتاکہ امریکاکواب اس جنگ سے نکلنے میں اورکتنے برس لگیں گے۔یوں سردجنگ کے بعدجس خفیہ ایجنسی کے خلاف امریکا کے دانشوروں،صحافیوں اورکانگریس کے ارکان کی انگلیاں اٹھنے لگ گئی تھیں،جسے امریکاکی معیشت پرناقابل برداشت بوجھ تصورکیاجارہاتھا،اس ادارہ کواس نے نئے اندازمیں زندہ کردکھایااورامریکی سیاست میں یہ خفیہ ایجنسی اس قدرطاقتورہوگئی کہ سابقہ صدرجارج بش کواس کے ہیڈکوارٹرمیں جاکریہ بیان دیناپڑاکہ میں اس کے کام اوراس کی منصوبہ بندیوں کااحسان مندہوں اورپوری امریکی قوم کوان کاشکرگزارہوناچاہئے۔

میں یہاں سی آئی اے کی گزشتہ کہانیوں کانہیں بلکہ11ستمبر2001ءکے بعدکے اس نعرے”دہشتگردی کے خلاف جنگ“سے جنم لینے والی حکمتِ عملی کاذکر کرناچاہتاہوں جس کے تحت روس اورکیمونزم کے مرنے کے بعدسی آئی اے کوزندہ رکھنے کیلئے ایک نیا دشمن پیداکیاگیااوروہ دشمن تھامسلمان اوراسلام، اسے دشمن بناناآسان بھی تھاکیونکہ کئی سوسالوں کی میڈیاوار،کتب،اخبار،ریڈیواور ٹیلیویژن کی کوششیں اس نفرت کوسلگارہی تھیں۔بس سی آئی اے کے پالیسی سازوں کوایک دیاسلائی دکھانے کی دیرتھی اورپوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آگئی۔

لیکن اصل حیرت اس بات کی ہے کہ78سالہ کیمونزم کے خلاف سردجنگ میں سی آئی اے کے کسی ڈائریکٹرنے اتنے اعتماد کے ساتھ اوراتنے کھلے لفظوں میں اپنے ارادوں اورمنصوبوں کاذکرنہیں کیاجیسے جارج ٹینٹ نے کیاتھا۔اس کے پیشرونہ توکسی ٹی وی پرآتے اورنہ ہی کسی اخباریامیگزین سے ان کاکوئی رابطہ ہوتالیکن جارج ٹینٹ نے نیویارک ٹائمزکے ایک صحافی کوجواپنی تفتیشی صحافت کی وجہ سے بہت مشہورتھااسے سی آئی اے کی اس جنگ پرکتاب لکھنے کیلئے اپنی تنظیم کے دروازے کھول دیئے۔رونالڈکیسلرنے پچاس سے زائدبڑے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اورپھرانکشافات سے بھرپورایک کتاب”سی آئی اے ایٹ وار”تحریرکی۔

یہ ضخیم کتاب جہاں اس رازسے پردہ اٹھاتی ہے کہ کیسے افغانستان میں ڈالروں کے ساتھ امریکی کمانڈوبھیجے گئے تاکہ قبائلی سرداروں کوخریداجا ئے۔کون سے طریقے تھے جن سے اسامہ بن لادن اوراس کے ساتھیوں کے ٹیلیفون ٹیپ ہوئے اورپھران پرچھاپہ ماراجاتا۔کیسے تمام اقوامِ متحدہ اسلحہ انسپکٹروں،عرب رہنماؤں اور دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہوں کے کمرے اورفون پرگفتگو ریکارڈ ہوتی۔کیسے سینسرلگاکرامریکاکوٹارگٹ بتائے جاتے۔کیسے خالدشیخ محمد کوایف بی آئی کے ہیڈ کوارٹرسے اٹھالیاگیاکہ وہ مزید معلومات نہ بتاسکے۔کیسے صدرکلنٹن کومجبورکیاگیاکہ عراق سے سیٹلائٹ دورلے جائے جائیں جوتباہ کن ہتھیاروں کاسراغ لگارہے تھے اورکس طرح اپنے ہی دوست ممالک کے سفارت خانوں میں گھس کران کے کوڈچوری کئے گئے(اوریہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اس ادارے نے جاسوسی کے ان حساس آلات پراب بھی کروڑوں ڈالرکابجٹ مختص کررکھاہے اوریہ ادارہ کی مستقل پالیسی کا لازمی حصہ ہے)اس طرح یہ کتاب سی آئی اے کی اس جنگ کی ایک سب سے اہم پالیسی اورسب سے اہم حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتی ہے ۔

یہ حکمتِ عملی آج سے کئی سو سال پہلے بھی استعمال کی گئی تھی لیکن آج اس کا راستہ اور طریقہ ذرا سا مختلف کر دیا گیاہ ے۔جارج ٹینٹ نے اس ادارے کی پالیسی تیارکرتے ہوئے یہ کہا تھاکہ مسلمانوں کوان کے اندرہی سے شکست دی جاسکتی ہے۔ہم مسلمانوں کے درمیان ایسے ملّاوں کوتیارکرکے بھیجیں گے جوان میں ماڈریٹ اسلام کی ترویج کریں گے۔ہم اب ملّاخریدیں گے نہیں کہ یہ طریقہ اب پراناہو چکاہے۔ہم اب اپنے ملاخودبنائیں گے،وہ ہمارے آدمی ہوں گے۔ ان کو ہم مسلمانوں کے مدرسوں میں داخل کرواک ے پوری مذہبی تعلیم دلوائیں گے اور پھر ان کی حیثیت اتنی اہم ہو جائے گی کہ ان کے منہ سے نکلا ہوا ہرلفظ وہاں کے مسلمانوں کوقرآن وسنت کی تعبیرلگے گا۔یہ لوگ ایک ماڈریٹ اسلام لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔

یہ ماڈریٹ اسلام ان مسلمانوں کوبہت اچھالگے گاجوڈانس کلب سے لیکرمخلوط پارٹیوں تک،حجروں سے لیکرجوئے خانوں تک زندگی گزارنے کے بعدایک سجدہ کرنے سے یہ سمجھ لیں گے کہ اب ہمارارب ہم سے راضی ہوگیاخواہ ہم نے سارا دن اس سے بغاوت کی ہو ۔بغیرآستین کے ملبوسات زیبِ تن کئے ہوئے خواتین اور لوگوں کی نظروں پر حسن کی بجلیاں گراتی ہوئی عورتوں کو اس خواب کی تعبیر مل جائے گی کہ پردہ تو نظر کا ہوتا ہے،ذہن کا ہوتا ہے،دل کا ہوتا ہے، عریانی سے کیاہوتاہے؟دوسری طرف ان مدارس میں بھی اپنے ان منظورِنظر لوگوں کو پروان چڑھایا جائے گا جوایسے ماڈریٹ اسلام کو ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہوئے ان کے خلاف ہروقت جہاد کوضروری سمجھیں گے اوران کو گردن زنی سمجھتے ہوئے خودکش حملوں کو جنت میں جانے کا آسان راستہ اپنائیں گے۔مسلم اور عرب ممالک سے مخصوص ایسےافرادکووظائف دیکراپنے ہاں اس بات کی تربیت دی گئی کہ کس طرح واپس اپنے ممالک کی تعلیمی درسگاہوں ،میڈیااور بیوریو کریسی میں جاکرروایتی اسلام،صوفی اسلام،سیاسی اسلام اورماڈریٹ اسلام کی ترویج اورتنفیذکا کام شروع کریں جوکہ ہمارے ہاں آغاخان بورڈکے توسط سے تعلیمی نصاب کی تبدیلی کے نام سے شروع ہوچکاہے۔

مغربی دنیا سعودی عرب کوعالمِ اسلام کاسب سے’’قدامت پسند‘‘ملک باورکراتی ہے،لیکن امریکااوریورپ کے اثرکایہ عالم ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور مستقبل کے’’بادشاہ‘‘محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں’’ماڈریٹ اسلام‘‘کا علان کر دیا۔ولی عہدنے 24 اکتوبر 2017ء کو ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کئی اہم باتیں کہیں۔ انہوں نے اعلان کیاکہ سعودی عرب بہت جلداپنی شمال مغربی ساحلی پٹی پرایک 500/ ارب ڈالر صرف کرکےعظیم الشان شہرتعمیر کرے گا جہاں کے”قوانین “اور”ضابطے”سعودی عرب کے دوسرے علاقوں کے قوانین اور ضابطوں سے’’مختلف‘‘ہوں گے۔ سعودی عرب کے70فیصد نوجوانوں کی عمر32 سال سے کم ہے،اورہم اپنے آئندہ 30برسوں کو’’تخریبی خیالات‘‘ پرصرف ہوتے نہیں دیکھناچاہیں گے، بلکہ ہم انہیں آج اور ہمیشہ کیلئےتباہ کر دیں گے۔ہم اپنے اُسی تشخص کی طرف لوٹ رہے ہیں جو کبھی ہماری پہچان تھا،یعنی ایک میانہ روی’’ماڈریٹ اسلام‘‘جو دنیاکے کسی مذہب یا کسی روایت کیلئےاپنے دروازے بندنہیں کرتا۔سعودی ولی عہدکواپنی عوام اورامت مسلمہ کوبتاناہوگا کہ ماڈریٹ اسلام پرعمل کیلئے الگ شہر آباد کرنے کی حاجت کیوں درپیش ہے؟کیا رسول اکرمﷺ کے زمانۂ مبارک سے آج تک کب کب ہمارے کسی مستند عالم یامستندصوفی نے ماڈریٹ اسلام کی اصطلاح استعمال کی ہے؟

سعودی ولی عہدکااصرارہے کہ وہ ماڈریٹ اسلام کے راستے سے اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔اگرایساہے تواس سلسلے میں ماڈریٹ اسلام کی اصطلاح استعمال کرنے کی ضرورت ہے نہ ماڈریٹ اسلام پرعمل کیلئےایک الگ شہرآباد کرنے کی حاجت ہے۔ ولی عہد کی یہ ذمے داری بھی ہے کہ وہ سعودی عوام بلکہ پوری امتِ مسلمہ کوبتائیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک سے آج تک کب کب ہمارے کسی مستندعالم یامستندصوفی نے ماڈریٹ اسلام کی اصطلاح استعمال کی ہے؟

اس مسئلے کا ایک پہلو یہ ہے کہ سعودی ولی عہدکواسلام تو ماڈریٹ یاجدیدمغرب زدہ درکارہے مگراقتدارکا ڈھانچہ انہیں تین ہزار سال پہلے والامطلوب ہے،یعنی بادشاہت پرمبنی۔ بدقسمتی سے بادشاہت نہ اسلامی ہے نہ مغربی،انہیں چاہیے کہ وہ سعودی عرب کے بادشاہ بنتے ہی بادشاہت کے خاتمے کااعلان کردیں اور سعودی عرب کوجمہوریت کے دائرے میں لے آئیں۔اس طرح سعودی عرب کے حکمرانوں اور عوام کا مذہب بھی جدید اور ماڈریٹ ہو جائے گا اور سیاسی نظام بھی جدید اور ماڈریٹ کہلائے گا۔جمہوری نظام میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ چنانچہ سعودی ولی عہد کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو مشرف بہ جمہوریت کرتے ہی مشرف بہ آزادیٔ اظہار بھی فرما دیں بلکہ یہ کام تووہ اِس وقت بھی کرسکتے ہیں۔آخرجب سعودی عرب کے اسلام کوماڈریٹ ہونا ہے تو سیاسی نظام اورابلاغی بندوبست کیوں’’پسماندہ‘‘اور ’’انتہاپسندانہ” رہے؟

بالآخر6نومبر2017ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں سے معلوم ہواکہ ولی عہدنے اپنےعزائم کی تکمیل کیلئے راست اقدام اٹھاتے ہوئے کھرب پتی ولید بن طلال سمیت11شہزادوں،4موجودہ اور38سابق وزراءکوکرپشن کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا۔گویامسلم دنیاکے حکمران امکانات کوحقیقت بنانے میں خواہ کتنے ہی’’کنجوس‘‘کیوں نہ ہوں،اندیشوں کوحقیقت بنانے میں بڑے’’فراخ دل”ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں گرفتارکرنے کی سفارش جس اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کی وہ گرفتاریوں سے چارگھنٹے پہلے وجودمیں آئی،اورکمیٹی کے سربراہ خودولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔فوری شاہی فرمان جاری کردیاگیاکہ دہشتگردی کی معاونت پرسزائے موت جبکہ ولی عہدکی شان میں گستاخی پر10سال تک قیدکی سزا ہو گی۔اہم بات یہ کہ گرفتاریوں کے ساتھ ہی سعودی علماءکے ایک بورڈ نے نہ صرف یہ کہ گرفتاریوں کی تائیدکی بلکہ یہ بھی فرمایاکہ کرپشن دہشتگردی کی سطح کاجرم ہے۔ان خبروں کے دوفائدے ہوئے، ایک یہ کہ ولی عہدمحمدبن سلمان نے شاہی خاندان میں اپنی سیاسی پوزیشن بہت مضبوط کرلی اوران کے’’شاہ‘‘ بننے کی راہ میں حائل تمام ممکنہ رکاوٹیں دورہوگئی اوردوسراپہلویہ ہے کہ سعودی عرب میں”ماڈریٹ اسلام”کی ایجاداورفروغ کی رفتاراندازے سے کہیں زیادہ تیزہوگئی۔ایک اطلاع کے مطابق”علمائے حق‘‘کی کثیرتعدادکوگرفتارکرکے جیل میں ڈال دیاگیاہے۔اس کے ساتھ ہی”انتہاپسند” متن یعنی ایکسٹریمسٹ ٹیکسٹ کی روک تھام کیلئےاسلامی سینٹرقائم کردیاگیاہےجوبتائے گاکہ کون سی حدیث مستندہے اورکون سی نہیں۔ سعودی عرب میں دہشتگردی کاکوئی مسئلہ ہی نہیں،تاہم اس کے باوجودشاہی فرمان میں کہاگیاہے کہ دہشتگردی کی معاونت کی سزا موت ہوگی۔اس کامطلب یہ ہے کہ اب’’جہادی اسلام‘‘ ہی نہیں’’سیاسی اسلام‘‘کی حمایت بھی بھیانک جرم ہوگی۔

سعودی عرب اسلام کی جائے پیدائش ہے اورحرمین کی وجہ سے امت مسلمہ کیلئے مرجع خلائق،اسلام کاروحانی اورتہذیبی اورعلمی مرکزہے۔چنانچہ سعودی عرب میں اسلام’’وہابی‘‘توہوسکتاہے لیکن’’ماڈریٹ اسلام‘‘نہیں ہوسکتابلکہ حرمین کی فضاؤں میں ماڈریٹ اسلام کی اصطلاح کی گونج بھی نامحمودہے۔ مغرب زدہ اسلام کاتصورلیکرکوئی مسلمان خانۂ کعبہ یاروضۂ ﷺ پرکیسے حاضری دے سکتاہے؟

سوال یہ ہے کہ اگرماڈریٹ اسلام اچھی چیزہے تومحمدبن سلمان اس کے نفاذکی ابتدامکہ اورمدینہ سے کیوں نہیں کررہے؟چونکہ سعودی ولی عہد کے نزدیک ماڈریٹ اسلام ہی اصل اسلام ہے اس لیے یہ اسلام جیسے ہی مکہ اورمدینہ میں ظاہرہوگا،لوگ فوراًاس کوپہچان لیں گے اوراسے سینے سے لگالیں گے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ ولی عہدکوماڈریٹ اسلام ایجادکرنے پر’’داد‘‘بھی دیں گے مگر سعودی ولی عہد کی حکمت عملی بتارہی ہے کہ ماڈریٹ اسلام،اسلام کی تخریب ہے اس لیے پہلے اس کیلئےایک الگ تھلگ شہرآباد کیاجائے گا۔اس شہرکوماڈریٹ اسلام کی تجربہ گاہ یالیبارٹری میں ڈھالاجائے گااوراگرتجربے کے’’اچھے نتائج‘‘ برآمدہوئے تو ماڈریٹ اسلام سعودی عرب کے’’تمام شہروں‘‘میں نافذکیاجائے گا۔

ظاہرہے کہ ماڈریٹ اسلام 32سالہ سعودی ولی عہدکی ایجادہے تواس کے حوالے سے انہیں سعودی عرب کے بڑے بڑے مدبرین، بڑے بڑے دانش وروں اوربڑے بڑے علماءکی حمایت حاصل ہوگی۔ظاہرہے کہ جس منصوبے کی پشت پرسیکڑوں بڑے لوگ کھڑے ہوں وہ یقیناَزبردست ہوگا۔چنانچہ سعودی ولی عہد اس’’زبردست منصوبے‘‘پرعام بحث کرانے کیلئے سعودی عرب کے اخبارات،ریڈیو اورٹیلی ویژن پرصاحب الرائے اورصائب الرائے لوگوں کوبلائیں اور دیکھیں کہ’’ماڈریٹ اسلام‘‘کے حامی اورمخالفین اس بارے میں کیاکہتے ہیں؟ ظاہرہے کہ ماڈریٹ اسلام کی روحانی،علمی،تہذیبی اور اخلاقی بنیادیں مستحکم ہوں گی تومذاکروں اورمباحثوں میں ماڈریٹ اسلام کے حامی ہی غالب رہیں گے۔سعودی عرب کے عوام جب یہ دیکھیں گے تووہ خود ماڈریٹ اسلام زندہ بادکانعرہ لگاکر اسے دلوں میں بسائیں گے اورپھرسعودی ولی عہدکوماڈریٹ اسلام کیلئے500ارب ڈالرکی خطیررقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن سعودی ولی عہد ماڈریٹ اسلام پردانش ورانہ یاعوامی مباحثہ کرانے کی بجائے اپنے ناقدوں کوگرفتارکرارہے ہیں،اور اب تک درجنوں افرادجیل میں ڈالے جاچکے ہیں۔اتفاق سے یہ اطلاع بھی ماڈریٹ اسلام ایجادکرنے والے مغرب کے ذرائع ابلاغ نے مہیاکی ہے۔

اسلام اللہ کادین ہے اورمسلم حکمران اس میں کسی تبدیلی کاحق نہیں رکھتےمگراس کے باوجودیواے ای،مصراورتیونس کے حکمران یاسعودی عرب کے ولی عہد… سبھی اسلام کوبدل کراسے’’ماڈریٹ‘‘بنانے پرتلے ہوئے ہیں مگر اقتدار کا ڈھانچہ جو انسانوں کا بنایا ہوا ہے اسے مسلم دنیا کا کوئی جرنیل،کوئی سیاست دان اور کوئی بادشاہ حقیقی معنوں میں’’جدید‘‘یا ’’ماڈریٹ‘‘ نہیں بناناچاہتا۔

سعودی عرب کے ولی عہد نے اپنے خطاب میں ایک اور بات بھی کہی۔انہوں نے فرمایا کہ ہم’’معمول کی زندگی‘‘یا نارمل لائف بسر کرنا چاہتے ہیں۔مغربی
اقدارچاہتے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق اس سے ولی عہدکی مرادایسی زندگی ہے جس میں موسیقی ہو،فلم ہو،فیشن کرتی ہوئی خواتین ہوں، کھیل کودہوں،ایک مغربی ذریعے کے مطابق ایسے سرکس ہوں جن میں خواتین بھی کام کرتی ہوں۔رقص گاہیں،جواخانے اورطوائفیں وغیرہ بھی شامل ہوں تویہ تصور مزیدترقی کرے گا اورزندگی مزیدلطف اندوزیانارمل لائف کاسفرشروع ہوجائے گایہاں اقبال کا ایک بے مثال شعر یاد آگیا:
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی وصورت گری وعلم نباتات

اقبال کہہ رہے ہیں کہ مغربی اقوام نے اپنے غلاموں کیلئےجن فنون کواچھاسمجھاہے اُن میں سے ایک موسیقی ہے،ایک مصوری ہے،اورایک علم نباتات یعنی محکوم کی’’نارمل زندگی‘‘یہی ہے۔یقیناًسعودی ولی عہدکی’’نارمل زندگی‘‘سے یہی مراد ہو گی،اور اس’’نارمل زندگی‘‘ میں نہ ایسا خدا ہو گاجو کسی بھی جھوٹے خداکو برداشت نہیں کرتا۔،نہ ایسی کتاب ہو گی جو خود کو’’اُم الکتاب‘‘کہتی ہو، نہ اس نارمل زندگی میں تقویٰ ہو گا،نہ علم ہوگا،نہ وہ تصورِزندگی ہو گا جو زندگی میں انقلاب برپا کرنے کا تقاضا کرتاہے اور زندگی کو کچھ سے کچھ بنا دیتا ہے۔اس تناظرمیں دیکھا جائے تو سعودی ولی عہدکی نارمل زندگی دراصل محکوموں کی زندگی ہے،مُردوں کی زندگی ہے،محتاجوں کی زندگی ہے،معذوروں کی زندگی ہے۔اسلام کے اعتبارسے دیکھاجائے توسعودی ولی عہد”ابنارمل زندگی” کو “نارمل لائف”کانام دیناچاہتے ہیں۔

بدقسمتی سے مسلم دنیا کے دانش ور، سیاسی و مذہبی رہنما اور علماءیہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مغرب اسلام اور امتِ مسلمہ کے خلاف جو جنگ برپا کیے ہوئے ہیں اُس میں اسلام اوراسلامی تہذیب پرمغرب کادباؤبے انتہابڑھ چکاہے۔اس دباؤکے کئی مظاہرسامنے آئے عرصہ ہوچکامثلاًبنگلہ دیش کے آئین کااسلامی تشخص ختم کیاجاچکا،جماعت اسلامی بنگلہ دیش پرپابندی عائدہوچکی۔تیونس کی اسلامی تحریک النہضہ نے دین اورسیاست کوایک دوسرے سے جداکرکے ان کی علیحدگی تسلیم کرلی ہے۔طیب اردگان ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اسلام اورسیکولرازم میں کوئی تضادنہیں۔گلبدین حکمت یارافغانستان میں امریکی بندوبست کاحصہ بننا قبول کرچکے۔مغرب اورخودمسلم معاشروں میں توہینِ رسالت کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اوراسلامی جمہوریہ پاکستان تک میں کوئی ریاستی ادارہ انہیں روکنے اور ذمے داروں کو سزا دینے کیلئےتیارنہیں۔پاکستان ہی نہیں پوری مسلم دنیاک ے ذرائع ابلاغ میں ایسے مواد کا سیلاب آ چکاہے جو ہماری اقدار کو تاراج کرنے والاہے۔جنرل(ر)پرویز مشرف ماڈریٹ اسلام ایجادکر کے جاچکے،نوازشریف”امیر المومنین”بننے کےخواب کی تعبیر نہ پا سکے،عمران خان بھی اپنے پیشرووں کی طرح عالمی مالیاتی اداروں سے سود پر قرضہ لیکر مدینہ ریاست بنانے کادعویٰ کرتے رہے اوراب اگرولی عہداورمستقبل کے بادشاہ محمدبن سلمان ماڈریٹ اسلام کے موجد بن کر ابھرے ہیں تو یقیناًجارج ٹینٹ کا لگایا ہواپودا تناور درخت بن کر”ون ورلڈآرڈر”کا راستہ تو ضرور ہموار کرے گا۔ اصول ہے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہوتاہے۔بلاشبہ اسلام ہم سب کو عزیزہے،مگر’’آرام‘‘ کے ساتھ “۔

پاکستان میں مغرب زدہ اسلام کے پہلے علَمبردارجنرل ایوب خان تھے۔انہوں نے ڈاکٹرفضل الرحمٰن کے توسط سے سودکومشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی، عائلی قوانین متعارف کرائے،انہوں نے اسلام کے کئی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی۔امریکااور مغرب کی تابعداری میں نام نہادماڈریٹ یامغرب زدہ اسلام کی ترویج میں جنرل(ر)پرویزمشرف نے سب کومات کردیا۔موصوف نائن الیون سے قبل مغربی دنیا سے کہاکرتے تھے کہ وہ جہاداوردہشتگردی میں فرق کرے مگرنائن الیون کے بعدانہوں نے کہناشروع کر دیا کہ جہادجہالت اورغربت کے خلاف جدوجہدکانام ہے اورساتھ ہی ماڈریٹ اسلام اورروشن خیالی میانہ روی کی گردان شروع کر دی۔یہ توامریکاکی مہربانی ہے کہ اُس نے پرویزمشرف پرایک حدسے زیادہ دبائونہ ڈالا،ورنہ امریکااگراُن سے کہتا کہ تم توحیدکے تصورکوترک کرکے مغرب کے عقیدۂ ’’تثلیث‘‘کو مانو تو جنرل صاحب”سب سے پہلے پاکستان”کانعرہ لگاتے ہوئے کہتے کہ توحید اور تثلیث میں زیادہ فرق نہیں ہے،اس لیے کہ توحید میں بھی خدا کا تصورموجود ہے اور تثلیث میں بھی خدا کا تصور موجود ہے، بلکہ معاذ اللہ تثلیث میں خدا کا تصورتھوڑی سی’’ترقی‘‘کر گیاہے۔

لیکن اس سارے معاملے میں جوخوف اورپریشانی مجھے سونے نہیں دیتی وہ یہ ہے کہ ہوسکتاہے اس وقت ہمارے بعض مدارس،درس گاہوں اورمسجدوں میں کتنے ایسے سی آئی اے کے ایجنٹ چوری چھپے تعلیم حاصل کررہے ہوں جوایک دن لارنس آف عریبیا کی طرح استادبن کرنکلیں گے یااب تک نکل چکے ہوں گے اوراپناحقِ نمک اوراپنے”آقا“سے وفاداری کاحق اداکرنے میں مستعدہوں گے ۔میرے دین کی تعلیمات کومسخ کرتے ہوئے کتنے ایسے ہوں گے جوآج بھی ہیں اورنفرت کابیج بورہے ہیں۔صرف ایک اشارے پر گولیوں اوربموں کی بوچھاڑسے آئے دن بے گناہ اورمعصوم مسلمانوں کواپناشکاربنارہے ہیں اور اس عمل کوجہادکانام دیکردرپردہ اس تکفیری گروہ کے نظریات کوتقویت دے رہے ہیں جودرپردہ سی آئی اے کے ایجنڈے پرعمل پیراہیں۔

سی آئی اے نے اپنے سابقہ سربراہ جارج ٹینٹ کی پالیسیوں کی تکمیل کیلئے اب مسلمانوں کے ابھرتے ہوئے میڈیاپراپنی پوری توجہ مرکوزکررکھی ہے جہاں ان کی پالیسیوں کے مطابق ماڈریٹ اسلام کی ترویج کرنے والے چینلزبھی اتنی ہی تندہی سے کام کررہے ہیں جہاں تکفیری خیالات کے لوگ بھی اسی میڈیاکو شب وروزاستعمال کررہے ہیں لیکن یہ بات یادرکھنے کی ہے جارج ٹینٹ نے مسلمانوں کے اندرہی سے جو دشمن تلاش کرنے کی پالیسی وضع کی تھی ہمارے ارد گرد اسی پالیسی پرعمل ہورہاہے اوراب امت مسلمہ یہ سوچ رہی ہے کہ دیکھونفرت کابیج بونے والے تومسجدوں میں رہتے ہیں،امام بارگاہوں میں پلتے ہیں،ان سے بہترتووہ لوگ ہیں جومسلمان بھی ہیں اورماڈریٹ بھی!اوریوں جارج ٹینٹ کاوہ خواب پوراہوتارہے گا،مسلمان خون میں نہاتے بھی رہیں اورپہچان بھی نہ سکیں کہ ان کے درمیان آستین کے سانپ کون چھوڑگیاہے۔چنگاری سلگانے والے ہاتھ کسی کونظرنہیں آئیں گے لیکن جلتاہواگھرسب کیلئے تماشہ بن جائے گا۔

مجھے اس بات کابھی شدیدخوف اورڈرہے کہ کسی بڑے خودکش حملے کوبہانہ بناکران ماڈریٹ اسلام پسندوں کا اگلاشکارمیرے ملک کے ان تمام مدارس کونہ بنادیا جائے جہاں میرے ملک کے پندرہ لاکھ سے زائد غریب، یتیم اور بے سہارا بچے سر چھپائے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ہمیں مالیاتی بحران میں مبتلا کرکے عالمی مالیاتی ادارے بھی اپنے خفیہ ٹاسک کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہماری شہہ رگ کی طرف ان کے مکروہ دانت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات تیزی سے ہمیں اسی طرف ہانک رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں