خوش فہمی یاغلط فہمی

:Share

ارضِ وطن کی موجودہ ابتر سیاسی اوراقتصادی صورت حال نے جہاں دنیابھرکے پاکستانیوں کوانتہائی تشویش میں مبتلاکررکھاہے وہاں ہمارے دشمن بھی ہمارے سیاستدانوں اوردیگر اداروں کی چپقلش میں مزیداضافہ کرنے کیلئے اپنے پریس والیکٹرانک کے علاوہ سوشل میڈیاکابھرپوراستعمال کر رہاہے۔ہمارے دوست ممالک بھی اس سلسلے میں جہاں پریشان دکھائی دیتے ہیں وہاں پہلی مرتبہ چین جیسے دوست نے بھی سیاسی ماحول کوبہتر بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست ایک ایسے اندھے غاریاکھائی کا رخ اختیارکرگئی ہے لیکن اس کے باوجودکچھ درددمندحضرات اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ کسی ایسے فارمولے پراتفاق ہوجائے جہاں سے اس بربادی کے سفرکونہ صرف ختم بلکہ ان اندھیروں سے نجات مل سکے۔اس سلسلے میں امریکاکے مختلف اخبارات اورجرائدکھل کراس خطے میں مستقبل میں ہونے والی تبدیلی میں پاکستان کے کردارپرانگلیاں اٹھارہے ہیں اوروہ اپنے مقاصدکی تکمیل میں طاقت کے استعمال کی طرف بھی اشارے کررہے ہیں۔

آج سے دوہفتے قبل امریکی صدرجوبائیڈن نے واضح طورپرکانگرس سے امریکی قرضوں کی مقررہ معیادنہ بڑھانے کی صورت میں امریکی دیوالیہ کے خطرے سے آگاہ کرکے دنیا کے مالی معاملات کے ماہرین کی اس رائے کی تصدیق کردی ہے جووہ پچھلے کئی برسوں سے تسلسل کے ساتھ کہہ رہے تھے۔ اس وقت امریکاصرف چین اورجاپان کا آٹھ ٹریلین ڈالر کامقروض ہے جبکہ اس کامکمل قرضہ31.5ٹریلین ڈالرکی حدوں کوچھورہا ہے۔چین نے شروع دن سے اپنی مالیاتی پالیسیوں کی ترجیحات میں دنیابھرکی منڈیوں میں اپنامقام بنانے کیلئے سستی اورمعیاری اشیاء کاسہارالیااور سب سے پہلے اس نے دورافتادہ افریقامیں اپنے قدم جمائے اورپھر ساؤتھ ایشیاسے ہوتاہوااب یورپی اورامریکی منڈیوں میں اس کی اجارہ داری قائم ہوچکی ہے۔اس نے جہاں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کافائدہ اٹھاتے ہوئے ”سی پیک”جیساعظیم الشان منصوبہ شروع کیاوہاں اس نے ایران کے ساتھ 460بلین ڈالرکامعاہدہ کرکے روسی ریاستوں کیلئے تجارتی راستہ بھی محفوظ کرلیا۔اس کے ساتھ ہی پانچ ہزاربلین ڈالرکے”ون روڈون بیلٹ”کے عالمی منصوبے کاآغازکرتے ہوئے یورپی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کرلی۔

امریکانے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرچین کاراستہ روکنے کیلئے کئی منصوبے تشکیل دیئے جس کیلئے سابق امریکی صدرٹرمپ نے تجارتی ٹیرف کامسئلہ بھی کھڑا کیالیکن چین کی دانش نے امریکاکی ساری چالیں ناکام کردیں۔امریکانے ایک عرصے تک مشرقِ وسطیٰ میں چین کوقدم نہ رکھنے دیالیکن چین نے اپنی سیاسی مستقل مزاجی کایہاں بھی جھنڈاگاڑدیا اورآج چین نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کاسب سے بڑاتجارتی پارٹنرہے بلکہ سے سے زیادہ بااعتماددوست ماناجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے کمال حکمت سے خطے میں سعودی عرب اورایران کی دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرکے یمن کی طویل جنگ کاخاتمہ کروادیاجس کے نتیجے میں ایک عرصہ درازکے بعدشام کی عرب لیگ میں واپسی نے شام کی خانہ جنگی کابھی خاتمہ کردیااور اب اس علاقے سے چین کا تجارتی سیلاب امریکی اثرونفوذکا ٹھہرنامشکل ہوگیاہے اورجلدہی سنگل کرنسی کااعلان جس کی پشت پناہی کیلئے سعودی عرب،روس، یو اے ای، بحرین اورقطرکے ساتھ روس بھی کھڑے ہوں گے۔کیاان حالات میں ایک مرتبہ پھر”ون ورلڈ”کافارمولہ کامیاب ہوسکے گا؟اس کیلئے تاریخ کے اوراق پرنظرڈالناہوگی!

افغانستان میں دنیاکی ایک سپرپاورسوویت یونین کوافغان مجاہدین کے ہاتھوں ا یسی ناقابل یقین شکست ہوئی کہ بالآخراسی کے بطن سے چھ مزیدمسلم ریاستیںدمعرضِ وجود میں آ گئیںلیکن افغانوں کی اس عظیم الشان فتح کاسارافائدہ امریکااورمغرب کی جھولی میں جاگراجس کے بعدمشہورزمانہ امریکی یہودی سیکرٹری خارجہ ہنری کسینجرکے خفیہ”ورلڈآرڈر” کابھی انکشاف ہوگیاکہ دنیاپرمکمل حکمرانی کاخواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاجب تک مسلمانوں کے اندرسے اسلامی ریاست اور اس کے حصول کیلئے جہادکے تصورکو بزورختم نہیں کردیاجاتا۔یہی وجہ ہے کہ اپنے ان مکروہ مقاصدکیلئے حصول کیلئے اس وقت عالم اسلام میں خانہ جنگی کاخونی ماحول جاری وساری رکھاگیاجواب ختم ہوتادکھائی دے رہاہے۔ امریکااورمغرب اپنے مقاصد میں پے درپے ناکامیوں میں بری طرح نہ صرف جھنجلاگئے ہیں بلکہ امریکاکی طرف سے ننگرہارافغانستان میں سب سے بڑے غیرجوہری بم کے حملے بعدشمالی کوریاکی آڑمیں چین اورروس کوخوفزدہ کرنے کیلئے جہاں کوریائی سمندی خطے میں بین البرالاعظمی ایٹمی میزائل پھینک کرقصرسفیدکے فرعون نے اپنے چہرے سے نقاب اتارپھینکاتھا وہاں اسرائیل نے دمشق کے بین الاقوامی ہوئی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پرحزب اللہ کے اسلحے کے ڈپوکوتباہ کرکے اپنی فرعونیت کااظہارکیاتھاجس کے بعدیوں محسوس ہورہاتھاکہ دنیابڑی تیزی کے ساتھ پتھرکے دورکی طرف لوٹ جائے گی!

ایک لمحے کیلئے فرض کرلیتے ہیں کہ القاعدہ اوردیگراسلامی تنظیموں کی جانب سے امریکااورمغرب کے خلاف جنگ کا سلسلہ بدستورجاری رہتا ہے ،ہم یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ اسلام کے نام پرگزشتہ عشروں کے دوران کیے جانے والے تمام حملے اسی جنگ کاایک ناگزیرحصہ تھے اوریہ کہ موجوہ تصادم جو تقریباًپچاس ممالک سے زائدتک پھیل گیاتھا اوراس جنگ کا لاکھوں افرادرزق بھی بن گئے جس میں سرفہرست افغانستان،عراق اور”عرب بہار”کے نام پرلیبیا،تیونس میں امریکااوراس کے اتحادیوں کی یکطرفہ جارحیت اور مسلمانوں کی آپس میں باہمی خونریزی(شام)کے واقعات بھی شامل ہیں یہ سب کچھ اس اعلان جہادکافطری نتیجہ ہے جوان تنظیموں نے شروع کررکھاتھا۔اگرفی الواقع ایسی جنگ جاری ہ دوبارہ شروع ہوجائے توواقعات اورشواہدکودیکھتے ہوئے دس اسباب اوروجوہ ایسی ہیں جن کی بناپراسلام اورمسلمانوں کے خلاف امریکااوراس کے تمام اتحادیوں کی طرف سے جاری یہ جنگ کبھی کامیابی سے ہمکنارنہیں ہوپائے گی!یہ اسباب اوروجوہ درج ذیل ہیں۔

٭سب سے پہلاسبب تویہ ہے کہ غیرمسلم دنیاموجودہ واقعات کے جوازاورعدم جوازکے حوالے سے باہمی طورپراورسیاسی اعتبارسے بھی مکمل طورپرمنقسم ہے۔ان میں سے بعض غیرمسلم ممالک توایسے ہیں جنہوں نے ایسی کسی بھی جنگ کے وجودکوتسلیم کرنے سے یکسرانکارکردیاہے چنانچہ ان کے خیال میں ایسی کوئی جنگ کہیں بھی لڑی نہیں جارہی اوروہ اس بنیادپراسے مستردکرتے ہیں جبکہ ان کے برعکس چندممالک اوراقوام سابق جوامریکی صدرجارج بش کے ہمنواہوگئے تھے کہ جوجنگ ہم لڑرہے ہیں وہ اکیسویں صدی کی ایک فیصلہ کن نظریاتی جنگ ہے،چنانچہ ان منقسم اورمتضادآرااورخیالات نے اس معاملے کومذاکرات مکالمے اورگفت وشنیدسے لے کرجوہری ہتھیاروں تک کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پرزور دیااورپبلک ڈپلومیسی سے لے کرمسلمانوں کے اہم ترین مقامات پرقبضے کامشورہ بھی دیاجن میں مکہ کامقدس شہربھی شامل تھا۔اس اختلافِ رائے نے ان دوطرح کے طبقات کے مابین مسئلے کوحل کرنے کی غرض سے بھی ایک وسیع خلیج پیداکر رکھی ہے چنانچہ ایک طبقے کاخیال ہے کہ اس جنگ کوبراہ راست مخالف جنگجوگروپوں تک لے جاناصحیح ہو گاجبکہ دوسراگروہ اس خیال کامخالف ہے۔اس کاکہناہے کہ ایسی کسی بھی جنگ کاخواہ وہ داخلی شہری آزادیوں کے حوالے سے لڑی جائے یاپھرحریفانہ جیوپولیٹکل اندازوں کے پیش نظرجاری رکھی جائے،ہردوصورتوں میں ایسی کسی بھی جنگ کا بظاہرکوئی جوازاورفائدہ نظرنہیں آتا۔

٭دوسراسبب یہ ہے کہ واقعات اورشواہدکے پیش نظراسلام کوکس بھی قیمت پرشکست سے دوچارنہیں کیاجاسکتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عالمی برادری اوردنیابھر کے مسلمانوں کی مجموعی قوت،طاقت اوراستطاعت کاابھی پوری طرح سے کوئی اندازہ نہیں لگایاگیا۔اس کے برعکس اس کی اہمیت کوگھٹاکر دیکھااورپیش کیاجارہاہے۔اسلام کی نوعیت فطرت اورسرشت کوٹھیک طورسے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ نہ ہی یہ امن کامذہب ہے نہ اس مذہب کوکسی نے ہائی جیک کیاہے اورنہ ہی بعض لوگ اسے اپنے محض اغراض ومقاصداورمفادات کیلئے استعمال ومقاصداورمفادات کیلئے استعمال کررہے ہیں۔اس کے برعکس اس مذہب کااخلاقی نظام جہادی اخلاقیات اورکسی بھی غیراسلامی نظام اقدارکے ساتھ عدم اشتراک کارویہ آپس میں مل کراس مذہب کی تعریف کا تعین کرتے ہیں اورقران میں بھی اس کاجوازموجودہے۔آپ روایتی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے اسلام کومحض ایک مذہب بھی قرارنہیں دے سکتے یہ ایک ماورائے قوم سیاسی اوراخلاقی تحریک ہے جس کے مطابق بنی نوع انسان کے تمام مسائل کاکافی اورشافی حل اس کے پاس موجودہے چنانچہ اسلام کی رو سے یہ بات خودانسانیت اوربنی نوع انسان کے اپنے مفادمیں ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے اندراسلام کی حکمرانی کے تحت اپنی زندگی بسرکریں اس طرح مغرب کی جانب سے مسلمان ممالک میں مغربی جمہوریت کی بحالی اورفروغ کاتصورمحض مہمل اوربے معنی ہوکررہ جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کاتصوراسلامی تعلیمات کے تناظرمیں قطعی طورپر ناقابلِ تسلیم ہے۔اس کاثبوت خود اسلامی تاریخ میں بھی موجودہے۔اسی طرح اسلامی تحریک کے فوجی اور سیاسی بازؤں کوبھی ایک دوسرے سے علیحدہ اورالگ کرنے کاتصوربھی خاصامضحکہ خیزنظرآتاہے۔اس حوالے سے امریکی وزیردفاع ڈونلڈرمسفلیڈ کایہ بیان احمقانہ تھا کہ عراق میں لڑنے والے باغی مسلمان کسی بھی وژن سے محروم ہیں اسی لیے وہ شکست خوردہ ہیں۔اس جنگ میں اگر واقعی اسے جنگ کہا جا سکتاتھاتواس میں حقیقی شکست ان لوگوں کوہوئی جواس جنگ کو چھیڑنے کے ذمہ دارتھے۔

٭اسلام کے مغرب کے مقابل ناقابل شکست ہونے کاتیسراسبب یہ ہے کہ مغربی قیادت کی سطح جتنی بلندہونی چاہیے تھی اس قدربلندنہیں۔اس کے برعکس اس کی سطح بہت نیچی ہے بالخصوص موجودہ امریکی قیادت پرتویہ بات بالکل صادق آتی ہے۔ یادکیجیے اسلامی احیااورنشا الثانیہ کی نصف صدی کے دوران سفارتی سیاسی اورعسکری اعتبارسے اسلامی حکومتیں اپنے عروج پرتھیں،اس کے برعکس موجودہ امریکی حکومت اورانتظامیہ کے پاس کوئی اسٹرٹیجک سمت موجودنہیں ہے نہ ہی اس کے جنگی منصوبے کسی مشترکہ غوروخوض کے نتیجے میں جنگی ضروریات کودیکھ کربنائے گئے ہیں ۔حتی کہ اپنے مقاصد کی وضاحت کیلئے اس کے پاس موزوں اورمناسب زبان اورذریعہ اظہاربھی موجودنہیں ہے!یہاں مشہورفلسفی اینڈمنڈبرک کا1775کایہ قول یادآرہاہے”ایک عظیم الشان سلطنت اورچھوٹے دماغ ایک دوسرے کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے”۔چنانچہ اسلام کے خلاف اس جنگ میں اگر واقعی اسے جنگ کہاجاسکے،مجھے برک کایہ قول سچ ہوتادکھائی دے رہاہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت چھوٹے دماغوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکے گی۔

٭چوتھاسبب مغربی پالیسیوں کاایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوناہے۔ان پالیسیوں کی انانیت کی کشمکش کوعجلت کے نتیجے میں ان افرادنے تیارکیا ہے جو اسلام کے حوالے سے نہایت اشتعال انگیزرویوں کے حامل ہیں۔ان لوگوں میں اسلام سے خوفزدہ افرادبھی شامل ہیں جواسلام کے نام پریہ پالیسیاں وضع کر رہے ہیں۔اس محاذجنگ کوبھی یہ پالیسی ساز افراداپنی ذات کے فروغ کی غرض سے استعمال کررہے ہیں اوران میں سے بیشترکا خیال ہے کہ ان کی آر اء اورخیالات بے حداہمیت کے حامل ہیں بہ نسبت ان مسائل کے جن کے بارے میں وہ یہ پالیسیاں وضع کررہے ہیں۔ چنانچہ یہ اسی بدحواسی اورخودپرستی کا نتیجہ ہے کہ مغربی پالیسیاں کسی مستقل اورباقاعدہ نوعیت سے محروم اورناکام ہیں۔

٭پانچواں سبب ترقی پسندحلقوں کے ذہن میں موجودوہ کنفیوژن ہے جس کاتعلق اسلام کی ترقی فروغ اورپیش رفت کے حوالے سے ہے۔ کمیونزم سوشلزم اور سوویت روس کے زوال کے بعدیہ ترقی پسند افراداپنی بنیادی اوراصل شناخت سے محروم ہوچکے ہیں لیکن رسی جل جانے کے بعدان کے بل نہیں گئے چنانچہ وہ آج بھی نوآبادیاتی نظام کے مخالفانہ مؤقف پر ہی انحصارکرنے پرمجبورہیں۔بہرطورمغرب کے ان مسائل کوبھی اس کے نوآبادیاتی ماضی کاایک لازمی نتیجہ قرار دیناایسا کچھ غلط بھی نہیں ہے تاہم اس کے باوجوداسلامی احیااورنشاة الثانیہ کی اندرونی قوت اور داخلی طاقت کوبھی نہ سمجھناایک زبردست غلطی ہوگی۔یہ طاقت اورقوت نوآبادیاتی نظام کاشکاررہنے کے نتیجے میں نہیں پیداہوئی بلکہ اس کاتمام ترانحصار اپنے عقیدے کی بڑھتی ہوئی قوت اوراپنے عقائدکے نظام کی حقانیت پرہے۔مزیدبرآں یہ بات بھی اسلام کے حق میں جاتی ہے کہ آج کے بیشترترقی پسندوں کے پاس بھی روایتی طورپراسلام کے رجعت پسندانہ اورفرسودہ تصورات کے بارے میں کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے نہ ہی وہ اپنے مخالفین کے سلسلے میں اسلام کے مظالم کاذکرکرتے ہیں نہ ہی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کاکوئی تذکرہ ان کی زبانوں پرآتاہے۔یہودیوں اور ہم جنس پرستوں سے اس کی شدیدنفرت پربھی اب کوئی تبصرہ نہیں کیاجاتاجن کے خلاف اسلام میں پورامنصفانہ جوازموجود ہے۔

٭اسلام کی روزافزوں بڑھتی ہوئی قوت اورطاقت کاایک اہم سبب ان غیرمسلموں کاپراسراررویہ اوراظہارِاطمینان ہے جن کا تعلق امریکاکی پسپائی سے بتایاجاتاہے چنانچہ ایسے غیرمسلم جواس قسم کے اطمینان کااظہارکررہے ہیں درحقیقت ٹروجن گھوڑے ہیں جن کی تعدادروزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ان میں بعض اس اصول پر عمل پیراہیں کہ دشمن کادشمن دوست ہوتاہے جبکہ دیگرکاخیال یہ ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مغرب کی اس جنگ میں کسی بھی صورت میں مغرب کی حمایت نہیں کریں گے،وہ سمجھتے ہیں کہ ان کافیصلہ بالکل درست اورصحیح ہے۔تاہم ان تمام حقائق کے باوجودنتائج ان سب کیلئے یکساں ہی ہیں۔اسلام کی پیشرفت کے نتائج کویہ دونوں طبقات یکساں طورپربھگتنے کیلئے مجبورہیں۔

٭ساتواں سبب مغرب کی اخلاقی غربت اوراخلاقی اقدارکے مجموعی نظام کے افلاس میں مضمرہے بالخصوص امریکاکا اخلاقی نظامِ اقدارزوال اور تباہی کی حدوں کو چھورہاہے چنانچہ آزادمنڈی کی معیشت آزادانہ انتخاب تجارتی مقابلہ اور کاروباری مسابقت کووہاں آزادی اورلبرٹی کانیانام دیا گیاہے۔ان چیزوں کااسلام اوراس شریعت سے قطعاًکوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتاخواہ آپ اسے پسندکریں یانہ کریں۔اسلام کے اخلاقی نظامِ اقدار میں ایسی چیزوں کی کوئی گنجائش موجودنہیں ہے۔ تعجب خیزواقعہ تویہ ہے کہ دلوں اوردماغوں کے نام پرجوجنگ لڑی جارہی ہے اسی کے دوران امریکاکی پہلی کیولری ڈویژن نے آدم اسمتھ آپریشن کاآغازکرتے ہوئے عراق جیسے جنگ زدہ ملک کوتجارتی اورکاروباری مارکیٹنگ کے اسرارو رموز سکھاناشروع توکردیئے تھے مگران حالات اورحقائق کی روشنی میں کم ازکم امریکاکو تووہاں کامیابی اورفتح حاصل نہ ہو سکی۔مجھے یاد ہے کہ آج سے بیس سال قبل 2003ء میں اس موضوع پراپنے ایک لیکچرمیں یہ کہاتھاکہ”مغرب ہمیشہ آزادی اورخودمختاری کی دہائی دیتارہتاہے۔اسلام ایسی کسی آزادی کوتسلیم نہیں کرتا۔اصل آزادی اللہ تعالی کی عبادت اوراطاعت ہی میں مضمرہے”الحمداللہ وقت نے یہ درست ثابت بھی کردیا۔

٭آٹھواں سبب اسلام کے ناقابل شکست ہونے کایہ ہے کہ اس کی موجودہ پیش رفت ترقی اورآگے ہی آگے بڑھتے رہنے کی رفتاراسی طرح بدستور جاری رہے گی کیونکہ اس غرض اورمقصدسے دستیاب ذرائع ابلاغ کوبڑی خوبی اورمہارت کے ساتھ استعمال کیاجارہاہے۔اس کے علاوہ اسلامی ویب سائٹ کے ذریعے الیکٹرانک جہادکے فروغ کے علاوہ مغربی نظریات کے پرچارکی مسلمان علمااوراسکالرزکی جانب سے شدیدمخالفت بھی جاری ہے۔آپ اسے درپردہ ایک سیاسی شراکتی معاہدہ بھی کہہ سکتے ہیں جومسلمانوں اورغیر مسلموں کے مابین اسلام کے عالمی نقطہ نظرکی پہنچ کووسیع ترکرنے کی غرض سے عمل میں آچکاہے۔اس سلسلے میں مغرب کے پروڈیوسرزاوربراڈ کاسٹرزکی جانب سے الجزیرہ ٹی وی چینل کوفراہم کی جانے والی مددکاتذکرہ بطورحوالہ پیش کیاجاسکتاہے۔

٭نواں سبب جواسلام کی مزیدپیش رفت کاضامن ہے وہ ہے مسلم ممالک اورعربوں کے مادی اورمعدنی ذرائع اوروسائل پر امریکاکاکلی انحصار ہے ! یادرہے کہ اپریل1917 میں سابق امریکی صدرروڈ وولسن نے امریکی کانگریس کویہ مشورہ دیاتھاکہ وہ جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کردے جس کے بارے میں وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ جنگ چھیڑنے میں ہماراکوئی ذاتی مفاد اورمقصدپوشیدہ نہیں ہے۔اس وقت تواس نوعیت کااعلان جنگ ممکن بھی تھا لیکن آج کی تبدیل شدہ صورتحال اس بات کی ہرگزاجازت نہیں دے گی کیونکہ امریکاکی صارفانہ احتیاج اورمختلف شعبوں میں کیے جانے والے معاشی اور اقتصادی نوعیت کے اقدامات اورضروریات لامتناہی حدتک بڑھ چکی ہیں جن کیلئے اسے مسلم اورعرب ممالک کے ذرائع اوروسائل پرکلی انحصارکرناپڑتاہے چنانچہ آج کے امریکاکامکمل انحصارمشرقِ وسطی میں موجودتیل کے کنوؤں سے برآمد ہونے والے تیل کے ایک ایک بیرل تک ہی محدودہوکررہ گیاہے اورمستقبل میں بھی یہ صورتحال جوں کی توں رہے گی چنانچہ وہ اس حیثیت میں ایساکوئی خطرہ مول لینے کیلئے تیارنہیں ہوگا۔

یادرہے کہ نائن الیون کے خفیہ مقاصدمیں یہ بھی شامل تھاکہ افغانستان کے مشرقی علاقے کواپنے تسلط میں لانے کے بعدپاکستان اورازبکستان کے درمیان زمینی راستہ قائم کرکے گوادرپورٹ پرلایاجائے تاکہ پاکستان اورچین کے اشتراک کومکمل طورپرختم کرکے بحرہندسے لیکرپاکستان، افغانستان تک ازبکستان سے ہوتے ہوئے بحرخزرتکاپناتسلط قائم کرلیا جائے اوراس طرح یوروایشیااوربحرخزرکے علاقے تک نہ صرف اس کا تسلط قائم ہوچکا ہو گابلکہ وہاں کے گیس وتیل کے ذخائراور معدنیات پرمکمل کنٹرول بھی حاصل ہو جائے گالیکن افغانستان میں بری طرح رسوائی کے بعدامریکافوری طورپراپنے اتحادیوں سمیت”یوکرین” کی جنگ میں الجھ گیاہے ۔امریکا،ہندوستان اور اسرائیل (ٹرائیکا)ایک مرتبہ پھرپاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں کہ کسی طریقے سے پاکستان کوروس اورچین کے گروپ میں شامل ہونے سے روکاجائے کیونکہ پہلی مسلم ایٹمی ریاست کی بناء پراس کی جغرافیائی حیثیت اس ٹرائیکاکے مستقبل پرکافی اثراندازہوسکتی ہے۔

٭آخرمیں مغرب کواس بات کاپورایقین ہوچلاہے کہ ٹیکنالوجی پرمبنی مغربی معاشرے کاجدیدترین لائف اسٹائل اورمنڈی کی معیشت پرمبنی اس کی اقتصادی ترقی اورپیش رفت بالآخرپسماندہ اورقدامت پرست اسلام کے تصورات کی بہ نسبت زیادہ ترقی یافتہ اعلی اوربرترہے،یہ بھی مغرب کی ایک پرانی غلط فہمی یاخوش فہمی ہے۔1899 میں سابق برطانوی وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے اس خیال کااظہارکیاتھاکہ پوری دنیامیں اسلام سے زیادہ رجعت پسندی کسی بھی مذہبی نظریے میں موجودنہیں ہے۔بہرطورایک صدی کاعرصہ گزرنے کے بعدآج امریکااورمغرب کواس بات پرپختہ یقین ہے کہ جدید ترین ہارڈ ویئراسلحہ اوراسٹاروارکے دفاعی حربے ان کواس جنگ میں فتح سے ہمکنارکردیں گے لیکن یہ اس صدی کی سب سے بڑی خوش فہمی یاغلط فہمی ہوگی۔ آج جوحقائق اورصورتحال ہمیں نظرآرہی ہے،یقینا آپ بھی اسلام کوشکست نہ ہونے کے مندرجہ بالا دس اسباب کی بناپرمجھ سے اتفاق کریں گے کہ اسلام ایک خاص منصوبے کے تحت رفتہ رفتہ پیش رفت کر رہاہے جوایک دن مغرب اورامریکاکی مکمل شکست وریخت اورتباہی وبربادی کاباعث بن جائے گا۔

اس کیلئے اب انتہائی ضروری ہوگیاہے کہ عالم اسلام کے ساتھ فوری بہترتعلقات بنانے میں امریکااورمغرب کوپہل کرنے میں تاخیرنہیں کرنا چاہئے اوران پرہونے والے مظالم کاخاتمہ کرنے کیلئے ان کے دیرینہ مسائل(فلسطین اورکشمیر)کے منصفانہ حل میں مزیدتاخیرنہ روا رکھی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں