متاع گم گشتہ

:Share

دنیاانسان کے سامنے ہے،اس سے وہ انکارنہیں کرسکتا۔اس میں غیرمعمولی کشش ہے،اس لیے وہ اس میں پوری طرح غرق رہا ہے اوراب بھی اسی میں مدہوش ہے۔آخرت گناہوں سے اوجھل ہے۔اس سے وہ غافل اوربے خبرہےحالانکہ یہ دنیاانسان کاحال اور آخرت اس کامستقبل ہے۔یہ دنیافانی ہے اور آخرت کوبقائے دوام حاصل ہوگا۔یہاں فکروعمل کیلئےانسان آزادہے اوروہاں اس کاحساب کتاب ہوگااورانسان اپنے اچھے یابرے انجام سے دوچار ہو گا۔آخرت کاتصورکسی نہ کسی شکل میں مذاہبِ عالم میں رہاہے لیکن افراداورقوموں کے احساس برتری،اللہ کے دربارمیں سفارش و شفاعت کے غلط تصور جیسے باطل خیالات نے اسے غبارآلودکردیاہے۔قرآن نے ان سب کی تردیدکی اورآخرت کابے آمیزعقیدہ پورے زوراورقوت سے پیش کیااور اس کے حق میں اس قدرمضبوط دلائل فراہم کیے کہ وہ خواب وخیال نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن گیا۔

“اے ایمان والو!کیامیں تمھیں وہ تجارت بتاؤں جودردناک عذاب﴿جہنم﴾سے نجات دے؟اللہ اوراس کے رسول پرایمان رکھواوراللہ کے راستے میں اپنے اموال اوراپنی جانوں سے جہاد﴿بدرجۂ غایت جدوجہد﴾کرو۔یہ تمھارے حق میں بہترہے،اگرتم جانو۔اللہ تمہارے گناہوں کومعاف کردے گااور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گاجن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اورپاکیزہ مکانات عطا کرے گاجوہمیشہ رہنے والے باغات میں ہوں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے﴿الصف:12-11﴾

دنیا کے سامنے مادیت اورروحانیت کامسئلہ شروع ہی سے رہاہے۔دونوں میں تضادسمجھاگیااوراس کیلئےراستے بھی جداجدا اختیارکیے گئے۔اس حقیقت کوفراموش کردیاگیاکہ انسان کی مادی ضرورتیں بھی ہیں اوراس کی روح کے مطالبات بھی ہیں۔ان میں سے کسی ایک کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔ انسان بالعموم مادی خواہشات کے پیچھے پڑارہتاہے۔اس سے اس کی روح کی تسکین نہیں ہوپاتی۔بعض لوگ روح کی تسکین کیلئے مادی تقاضوں سے صرفِ نظرکرنے لگتے ہیں۔قرآن نے ان دونوں میں توازن قائم کیا۔اس نے ترک دنیایارہبانیت کومذہب کی دنیامیں ایک بدعت قراردیا:
پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہئے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں﴿الحدید:27﴾
اور اس خیال کی تردیدکی کہ مادی تقاضوں کو پوراکرنا،بہترخوراک،صاف ستھرالباس،یاآرام دہ رہائش کااستعمال روحانی ارتقاءکے منافی ہے۔جائز حدود میں ان کی تکمیل کواس نے کارِثواب قراردیااوراس کی ترغیب دی:
اے بنی آدم!مسجدکی ہرحاضری میں اپنی زینت سے آراستہ رہواورکھاؤاورپیواوراسراف نہ کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کوپسند نہیں کرتا۔ان سے کہو ﴿بتاؤ﴾کس نے اللہ کی اس زینت کوجواس نے اپنے بندوں کیلئےپیداکی ہے اورکھانے کی صاف ستھری چیزوں کوحرام کیاہے؟ان سے کہوکہ یہ نعمتیں دنیا کی زندگی میں﴿اصلاً﴾ان لوگوں کیلئےہیں جوایمان رکھتے ہیں،قیامت میں تو خاص ان ہی کیلئےہوں گی۔اس طرح ہم آیات کھول کھول کربیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئےجوجانتے ہیں۔﴿الاعراف:31-32﴾

روح کے سکون اوراطمینان کیلئےقرآن مجید نے اللہ تعالیٰ سے تعلق اوراس کے احکام کی اطاعت کوضروری قراردیااوراللہ تعالیٰ سےمحبت،ذکر،اخلاص توبہ اورانابت جیسے پاکیزہ جذبات ابھارے اوربتایاکہ : (یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔﴿الرعد:28﴾

قرآن نے اس طرح روحانیت اورمادیت کی کشمکش ختم کی اوردنیاکوایک متوازن راہِ عمل دکھائی۔انسان اپنی عظمت سے ناواقف تھا۔وہ اس عظیم کارخانۂ عالم کوڈراورخوف کی نظرسے دیکھتا،اس کے ذرہ ذرہ کودیوتایااللہ سمجھتااوراس کے سامنے اپنی جبینِ نیازجھکادیتا۔قرآن نے بتایاکہ وہ دنیاکی ہرشیٔ سے برتراوراشرف المخلوقات ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی عظمت کا اعلان ہے:
ہم نے بنی آدم کوعزت کامقام دیاہے اوراس قابل بنایاہے کہ خشکی اورسمندرمیں سفرکرسکے اوراس کی غذا کیلئےصاف ستھری اورپاکیزہ چیزیں فراہم کی ہیں اوراپنی بہت سی مخلوقات پراسے فضیلت اوربرتری عطاکی ہے۔‘‘ ﴿الاسراء:70﴾

یہ عالمِ ہست وبوداپنی تمام وسعتوں اوروسائل کے ساتھ اس کیلئےمسخرکردیاگیاہے۔اسے ایسے فطری قوانین کاپابندبنایاگیاہےکہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتاچلاآرہاہے اورمزیداستفادے کی راہیں اس کے سامنے کھلی ہیں۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کااحسان ہے۔اس میں کسی دوسرے کاکوئی حصہ نہیں ہے:
“وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے تمہارے لیے سمندرکومسخرکردیاتاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اورتم اس کافضل ﴿رزق﴾ تلاش کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ اسی نے تمھارے لیے اپنی طرف سے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں مسخر کردی ہیں،بے شک اس میں ان لوگوں کیلئےنشانیاں ہیں جوغوروفکرکرتے ہیں۔‘‘﴿الجاثیۃ:12-13﴾
یہ مضمون مزیدوضاحت کے ساتھ سورۂ ابراہیم میں بیان ہواہے:
اللہ ہی نے آسمانوں اورزمین کوپیداکیا،آسمان سے پانی برسایا،اس کے ذریعہ تمہارے رزق کیلئےطرح طرح کے پھل پیداکیے۔اس نے تمہارے لیے کشتی ﴿جہاز﴾کومسخرکیاتاکہ وہ اس کے حکم سے سمندرمیں چلے،اس نے تمہارے لیے دریامسخرکیے،اس نے تمہارے لیے سورج اورچاندکومسخرکیاکہ وہ مسلسل گردش میں ہیں۔اس نے تمہارے لیے رات اوردن کومسخرکیا۔اس نے تم کووہ سب کچھ دیاجوتم﴿تمہاری فطرت﴾نے طلب کیا۔اگرتم اللہ
کی نعمتوں کاشمارکرنے لگوتوشمارنہیں کرسکوگے(اس کے باوجود) حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑاہی بے انصاف اوربڑاہی ناشکراہے‘‘۔﴿ابراہیم:34-31﴾
قرآن نے اس حقیقت سے پردہ ہٹایاکہ یہ دنیااس لیے ہے کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے،نہ یہ کہ اس کے سامنے سجدہ ریزہوجائے ،اطاعت اوربندگی کا حق صرف اس ذات کاہے جواس دنیاکاخالق ومالک ہے۔اللہ اوراس کی پیداکردہ کائنات کے بارے میں اس تصورسے انسان نے اس وسیع دنیاکو اپنے تابع دیکھااوربغیرکسی خوف اوراندیشے کے اس سے فائدہ اٹھانے کی تدبیرکی۔ وہ اس اعتمادکے ساتھ آگے بڑھ رہاتھاکہ وہ اللہ کابندہ ہے اوراللہ نے یہاں کی ہرچیزسے استفادے کااس کوحق دیاہے۔

قرآن نے انسان کو”خلیفۃ اللہ فی الارض”کہا۔وہ زمین میں اللہ کاخلیفہ ہے۔اس کاکام دوسروں کی غلامی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین پرعمل کرنااوردنیا میں اسے نافذکرناہے.اس پہلوسے اس نے انسان کوجومقام بلندعطاکیااس کاتصوربھی نہیں کیاجاسکتااور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔﴿البقرہ:30﴾

انسان کے فکروعمل کی دنیامحدودتھی۔وہ خاندانوں،قوموں اورملکوں میں تقسیم تھااوران ہی کے نفع وضررکے بارے میں سوچتا تھا۔آج بھی یہی صورت حال ہے۔قرآن نے انسان سے بہ حیثیت انسان خطاب کیا۔اس نے آوازدی”﴿اے لوگو!﴾ يَابَنِي آدَمَ ﴿اے اولادِ آدم﴾۔یہاں صرف دوچارحوالے دیے جارہے ہیں۔

﴿1﴾اے انسان! کس چیز نے تجھے تیرے رب کریم سے دھوکے میں ڈال دیا۔﴿الانفطار:6﴾
﴿2﴾اے لوگو! اپنے رب کی بندگی کرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ امید ہے تم اللہ کی نافرمانی سے بچو گے۔﴿البقرۃ:21﴾
﴿3﴾اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو﴿قیامت آنے والی ہے﴾بے شک قیامت کازلزلہ بڑی﴿بھیانک﴾چیزہے۔﴿الحج:1﴾
﴿4﴾ اے بنی آدم اگرتمہارے پاس تم ہی میں سے اللہ کے رسول آئیں جوتمہیں میری آیات سنائیں توجولوگ تقویٰ اختیارکریں گے اور اپنی اصلاح کریں گے توان کیلئے﴿قیامت میں﴾خوف ہوگااورنہ وہ غمگین ہوں گے۔﴿الاعراف:35﴾
﴿5﴾قسم ہے زمانے کی!بے شک انسان خسارے میں ہے،سوائے ان لوگوں کے جوایمان لائے اورجنہوں نے نیک عمل کیے اورایک دوسرے کوحق کی تاکیداورایک دوسرے کوصبرکی نصیحت کرتے رہے۔﴿العصر:1-3﴾

انسان جوتنگ دائروں میں بندتھا،قرآن نے اسے نوع انسانی کے وسیع میدان میں پہنچایااورقومی ونسلی مفادات کی جگہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے اولاد آدم کی صلاح وفلاح کے بارے میں سوچناسکھایا۔اس کانتیجہ یہ نکلاکہ قرآن کاپیغام جغرافیائی حدودسے آزادہوگیااوردنیاکے ہرانسان نے محسوس کیاکہ قرآن اس سے مخاطب ہے اوراس کی فلاح وکامرانی کی راہ دکھاتاہے۔اس کے سامنے قومیت یاعلاقائیت کی جگہ آفاقیت اوربین الاقوامیت تھی۔دنیاکے ہرانسان کیلئےاس میں جگہ تھی۔

انسان،آباءواجدادکی تقلید،بے معنی رسوم وروایات اورمذہب کے نام پرطرح طرح کی بندشوں میں جکڑاہواتھا۔قرآن نے اسے ان بندشوں سے آزاد کیا ۔رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہاگیاکہ:’’آپ ان کو﴿اہل کتاب کو﴾معروف کاحکم دیتے اورمنکرسے منع کرتے ہیں،ان کیلئےپاک چیزوں کوحلال اور ناپاک چیزوں کوحرام قراردیتے ہیں۔ان پرجوبوجھ ہے اسے اتارتے ہیں اورجن طوق وسلاسل میں وہ جکڑے ہوئے ہیں انہیں ختم کرتےہیں۔﴿الاعراف:157﴾

قرآن حکیم،حرّیتِ فکروعمل کاعلم برداربن کرابھرااوراس نے کسی بھی معاملہ میں جبرواکراہ کوغلط قراردیا۔اس نے اپناعقیدہ اور فکر،دلائل کے ساتھ پیش کیااوراس پرغوروفکرکی دعوت دی۔وہ اس اطمینان کے ساتھ اپنانقطہ نظرپیش کرتاہے کہ آدمی ہوش مندی اوردانائی سے کام لے تواس کاانکارنہیں کرسکتالیکن اس کے باوجوداس کے تسلیم کرنے پروہ کسی کومجبورنہیں کرتا۔اس نے علی الاعلان کہا:﴿ دین کے قبول کرنے کیلئےکسی پر جبرنہیں ہے۔البقرۃ:256﴾مزیدوضاحت ہے: کہہ دو،حق تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے جس کاجی چاہے اسے قبول کرےاورجواس کاانکارکرناچاہے انکار کرے۔ ﴿الکہف:29﴾ اس طرح انسان کوکھلی فضاملی اورآزادی کے ساتھ اپنے لیے راہ حیات طے کرنے کاحق حاصل ہوا۔یہ سب سے بڑی نعمت تھی جس سے وہ اب تک محروم تھا۔

مذہب عام طورپرانسان سے بعض رسوم ورواج کامطالبہ کرتاہے۔اس کے بعداس کاکردارختم ہوجاتاہے۔قرآن نے توحید،رسالت اور آخرت کوایک حیات آفریں عقیدہ کی حیثیت سے پیش کیااوراس کی بنیادپرایک پورانظامِ شریعت عطاکیا۔اس میں عبادات بھی ہیں، اخلاق بھی ہے، معاشرت، معیشت اورقانون سے متعلق ہدایات بھی ہیں،جواس بات کاثبوت فراہم کرتی ہیں کہ اس عقیدے کے تحت کس طرح کی زندگی گزاری جاتی ہے۔ عقیدے سے مربوط اس طرح کامکمل نظام حیات دنیاکوپہلی مرتبہ ملا،جس سے مذہب کی دنیاناآشناتھی۔قرآن نے عقیدہ کے ساتھ نظام شریعت بھی دیا۔اس کے بغیرعقیدہ ومذہب کی معنویت باقی نہیں رہتی۔

یہ فکرونظرکے نئے آفاق تھے،سعی وعمل کی دنیائے تاباں تھی۔اس میں شرک کی تمام راہیں مسدودتھیں اوراللہ واحدکی عبادت کا عقیدہ پورے آب و وتاب کے ساتھ موجودتھا۔یہاں بے شمارخداؤں کے اقتدارکی جگہ ایک اللہ کااقتدارتھااورپوری زندگی پرصرف اس کی حکمرانی تھی،اس میں بے قید زندگی اپناجوازکھوچکی تھی اورہرقدم پرجواب دہی کااحساس ابھررہاتھا،یہاں مادی اورروحانی تقاضوں کی تکمیل تھی اوردنیا وآخرت کی فوزو فلاح تھی۔

یہاں عظمت آدم کاادراک تھا۔یہاں وہ بندشیں ٹوٹ رہی تھیں جوانسان کی ترقی کی راہ میں حائل تھیں۔یہاں فکروعمل کی آزادی تھی اورآدمی کوخود سے اپنی راہِ حیات طے کرنے کاحق تھا،اس وجہ سے مشرق ومغرب اورشمال وجنوب کاانسان اس کی طرف لپک رہاتھا۔وہ آگے بڑھ کراسے اس طرح سینے سے لگارہاتھا جیسے یہ اس کی متاع گم گشتہ ہے۔اسے وہ سب کچھ مل رہا ہے جس سے وہ اب تک محروم تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں