اپنے حصے کی شمع توروشن کریں

:Share

ہماری ایک اوربدقسمتی جوعلم ودانش کے نام پرہمیں لوٹ رہی ہے وہ آئے دن ہمارے دانشوروں کے ہاتھوں ہورہی ہے جو غربت کاعلاج فائیویا سیون اسٹارز ہوٹلوں کے یخ یاگرم میزوں پربیٹھ کراپنی دھواں دھارتقریروں میں بتارہے ہوتے ہیں یاپھر یہی دانشورعلمی ڈھول بجاتے ہوئے اپنے علم کی ابکائیوں سے کررہے ہوتے ہیں۔ان دنوں ساری قوم کوسیاسی انتشار اور اقتصادی بربادی میں مبتلاکرکے سیاسی رہنماء اقتدارکے حصول کی جنگ میں مبتلاہیں اورکوئی دن ایسانہیں جاتاجب یہ ایک دوسرے کوانتہائی غلیظ القابات سے نوازکراپنے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہوتے ہیں۔ رہی سہی کسراب ملک کے سب سے بڑے بااختیارادارے عدلیہ کی عزت کاکھلواڑشروع ہوگیاہے اورباہم ججوں کی نااتفاقی نے ایک انتہائی خطرناک طوفان کابندتوڑنے کی طرف اشارہ کردیاہے۔

رہی سہی کسی پلاننگ کے نام پرڈھیروں کتابیں،رپورٹیں،بروشرسوشل میڈیاپرشائع کئے جارہے ہیں۔حالانکہ ہم نے توپہلے ہی بیچ چوک میں اس ردّی کے ڈھیر کوبارہابکتے دیکھاہے۔دورنہ جائیں،آپ نارکلی لاہورمیں مال روڈ کی طرف سے جب داخل ہوں توآپ کواس گندی اورغلیظ سڑک پربیش بہا قیمتی علم کے موتی چھپائے زبان حال سے اپنی فریادکرتی ہوئی سرسید، حالی،غالب،ابن سیناء،فارانی ،اقبال،قائداعظم پرلکھی ہوئی کتابیں نظرآئیں گی اوربالکل اس کےعین مقابل شوکیس میں سجے ہوئے جوتےبھی دکھائی دیں گے لیکن کسی دانشورکوکتاب کی توہین نہ تودکھائی دیتی ہے
اورنہ ہی آج تک کتاب کی اس توہین پران کی زبان سے ایک کلمہ نکلاہے۔

ہمارے یہ دانشورعمل کے لحاظ سے اتنے کورے ہیں کہ قوم کوبتائے ہوئے فارمولوں پرخودجنبش تک نہیں کرتے اوراس قوم سے توقع کرتے ہیں کہ جب یہ اپنی سواریوں سے نیچے اتریں تواس کادروازہ کھولنے کیلئے میزبان قطارمیں کھڑے ہوں اور نعروں کی گونج میں ان کوجلسہ گاہ یاتقریرکے جوہردکھانے والے ہال کے اسٹیج پرپھولوں کے ہارپہناکربٹھائیں اورمیزبان تعارفی کلمات میں زمین آسمان کے قلابے ملادے۔میں ایمانداری سے سمجھتاہوں کہ وہ علم جوکبھی نیت نہ بن سکا، وہ نیت جو ارادہ نہ بن سکی،وہ ارادہ جوعزم نہ بن سکا،اوروہ عزم جوکسب نہ بن سکا،وہ کسب جوعمل نہ بن سکا،وہ عمل جونتیجہ نہ لا سکا،وہ نتیجہ جومحاسبہ نہ کراسکا،وہ محاسبہ جوتوبہ نہ کراسکا،ایسے علم کے بارے میں تومیرارب ببانگ دہل تنبیہ فرماتا ہے” كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا” ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔

میں اکثرسوچتاہوں کہ آج سوشل میڈیاپرجس طرح پاکستان کی جودرگت بنائی جارہی ہے،اگرعلامہ اقبال،قائداعظم اوردیگر مشاہیرپاکستان زندہ ہوتےتوان کے دل پرکیا گزرتی۔ہمارے ملک میں واقعی اچھی گفتگوکاخوفناک قحط ہے،آپ ملک کے کسی حصے میں چلے جائیں کسی فورم کسی گروپ کاحصہ بن جائیں۔آپ کو سیاسی افواہوں،سیاسی لطیفوں اورسیاسی گپ شپ کے علاوہ کچھ نہیں ملے گااورآپ اگرکسی طرح سیاست سے جان چھڑابھی لیں توآپ مذہبی گفتگوکے تالاب میں گرجائیں گےاور وہ ساری بات چیت بھی سیاسی گفتگوکی طرح غیرمصدقہ واقعات پرمشتمل ہوگی،ہماراپورا ملک بولنے کے خبط میں مبتلاہے، ایک اندازے کے مطابق ہم میں سے ہرشخص روزانہ تین چارکروڑلفظ بول کرسوتاہےاورجن کی اس میں بھی تسلی نہیں ہوتی وہ نیندمیں بھی بڑبڑاتے رہتے ہیں لیکن آپ جب اس گفتگوکاعرق نکالتے ہیں تواس میں سے شخصیت پرستی اورسیاست کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا،ہم میں سے ہرشخص اندھادھندبولناچاہتاہے اوراس میں کوئی کسرنہیں چھوڑتا۔اس کی گفتگومیں سیاست اورمذہب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتااوریہ بھی سنی سنائی اورغیرمصدقہ باتیں ہوتی ہیں۔

انسان بولنے والاجانوریعنی حیوان نطق ہے،یہ اظہارکرتاہے اوراظہارکیلئےآئیڈیازچاہیے ہوتے ہیں اورآئیڈیاز کیلئےمعلومات اورعلم درکارہوتا ہے۔ علم اورمعلومات کیلئے پڑھنااورگھومنااورگھومنےاورپڑھنے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھناپڑتاہے اورہم یہ کرتے نہیں ہیں لہٰذاپھرہم کیاسنیں گے اورکیاسنائیں گے؟ہم کیاگفتگو کریں گے؟نیاخیال،نیاآئیڈیاکہاں سے آئے گا؟ہم کیاگفتگوکریں گے؟اس لیے اس معاشرے میں علم،معلومات، اچھی گفتگو، نئے آئیڈیازکی کمی ہے چنانچہ اس کمی نے ہمارے معاشرے میں ایک ایک اچھی گفتگوکابحران پیداکردیاہے۔

یہاں بہت ہی اہم بات کاذکرکرناضروری سمجھتاہوں کہ خوشامداورتحسین میں فرق ہے۔خوشامدجھوٹی بات اورتحسین پرخلوص بات ہوتی ہے ۔ لوگوں کے ساتھ بات کریں توان کی ضرورتوں پربات کریں اوراس کی تکمیل کاراستہ بنایاجائے،ہمیشہ دوسروں کے نقطہءنظر کوسمجھنے کی کوشش کریں،لوگوں میں سچی دلچسپی لیں۔ملنے والے کوواقعی آپ کے اخلاص پراس قدریقین ہوجائے کہ وہ رخصت ہوتے ہوئے دوبارہ ملنے کیلئے اصرار کرے۔

یہ آفاقی سچائی ہے کہ ہروہ آدمی جس سے آپ ملتے ہیں اپنے آپ کوکسی نہ کسی طرح آپ سے بہترخیال کررہاہوتاہے اوراس کے دل میں گھرکرنے کایہ بہترین طریقہ ہے کہ اسے باورکرائیں کہ آپ اس کوایک اہم شخصیت مانتے ہیں،حجت بازی سے ہمیشہ پرہیزکریں،کبھی کوئی بحث وتکرارسے نہیں جیت سکا،دوسروں کے نقطہءنظرسے چیزوں کودیکھنااوراس کے منہ سے ہاں کہلوانابہت نفع بخش اوردلچسپ بات ہے۔ہمیشہ مخاطب کوزیادہ سے زیادہ بات کرنے کاموقع دیں اپنے کارناموں کاتذکرہ کم سے کم کریں اوراعتدال پسندی سے کام لیں،اس دنیامیں ہم سب کواپنی ہی آوازاچھی، میٹھی اوراہم لگتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہم نیاپین لیتے ہیں توسب سے پہلے اس سے اپنانام لکھتے ہیں،لہٰذا لوگوں کواچھے ناموں سے پکاراکریں اس سے معاشرے میں بہتری بھی آئے گی اورآپ بھی مطمئن زندگی گزاریں گے۔اللہ نے آپ کواس نیک کام کی خودسے ابتداکرنے کیلئے رمضان الکریم کامبارک مہینہ عطافرمایاہے۔اس مہینے اپنے تمام سیاسی اختلافات،دلی کدورت اور نفرت کوبھول کرایک دوسرے کوگلے لگانے میں پہل کریں ۔سوشل میڈیاکے کسی ایسے پروگرام کابالکل حصہ نہ بنیں جوکل کلاں روزقیامت ہماری پکڑکاسبب بنے اوراگرکوئی ایساپیغام اگرموصول ہوتا بھی ہے تواسے اسے آگے بڑھانے سے مکمل اجتناب کریں۔آپ کواپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی دیرہے توآپ دیکھیں گے کہ جلدہی ہمارے معاشرے کی ظلمتیں راہ فراراختیارکرلیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں