اقبال اورپاکستان

:Share

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ :
“میں روزانہ صبح تلاوت قرآن کیاکرتاتھا…. میرے والد صاحب شیخ نورمحمد اکثرمیرے پاس سے گزرتے تھے۔ایک دن رک کر مجھے فرمانے لگے؟اقبال کسی دن تمہیں بتاؤں گاکہ قرآن کیسے پڑھتے ہیں؟اتناکہہ کروہ آگے بڑھ گئےاورمیں حیران بیٹھاسوچنے لگاکہ میں بھی توقرآن پڑھ رہا ہوں۔کچھ دن بعدمیں اسی طرح تلاوت کررہاتھاکہ والد صاحب میرے پاس رکے، جب میں خاموش ہوا تومجھے کہنے لگے:جب قرآن پڑھوتویوں سمجھوجیسے یہ اللہ نے صرف تمہارے لئے بھیجاہے،اللہ پاک براہِ راست تمہیں خطاب کررہاہے……اورتمہیں اپنی زبان سے احکامات دے رہاہے۔ جب اس کیفیت کے ساتھ قرآن پڑھو گے کہ قرآن کامخاطب اللہ ہے تو پھرتمہیں اس کی لذت ملے گی اورفہم بھی حاصل ہوگا۔اقبال کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد قرآن کی جولذت اورسرورمجھے ملاوہ اس سے پہلے نہیں ملاتھا۔ تب اقبال نے کہا:
سجدہ عشق ہوتوعبادت میں مزاآتاہے
خالی سجدوں میں دنیاہی بساکرتی ہے
لوگ سمجھتے ہیں بس اک فرض ہی اداکرناہے
ایسالگتاہے جیسے کوئی قرض لیاہورب سے
تیرے سجدے تجھے کہیں کافرہی نہ کردیں اقبال
توسوچتاکہیں اورہے اورجھکتاکہیں اورہے

علامہ محمد اقبال (1877ء1938)برصغیرکی ملتِ اسلامیہ کے سب سے عظیم مفکراورشاعرِاسلام ہیں۔انہوں نے انیسویں صدی عیسوی کے ربع آخرکے جس ماحول میں آنکھ کھولی،اسلامی ممالک بہت حدتک استعماری قوتوں کے نخچیربن چکے تھے۔ ترکان عثمانی اپنی بقاکی جدوجہدمیں مصروفِ کارتھے مگربالآخروہ بھی جنگِ عظیم اوّل کے بعداپنی آزادی کوبرقرارنہ رکھ سکے اور یوں مسلم اتحادکی سیاسی زنجیر کی آخری کڑی بھی اپنے ضعف کے باعث ٹوٹ گئی۔
اگرعثمانیوں پرکوہِ غم ٹوٹاتوکیاغم ہے
کہ خونِ صدہزارانجم سے ہوتی ہے سحرپیدا
نواپیراہواے بلبل کہ ہوتیرے ترنم سے
کبوترکے تنِ نازک میں شاہین کاجگرپیدا

عالمِ اسلام اورملتِ اسلامیہ کی اس صورت حال کی نزاکت کودیکھتے ہوئے اقبال نے جس مخصوص اسلوب اورتجزیے کے بعدراہِ عمل تجویزکی،اس کی تفصیلات’’اسرارِخودی‘‘(1915ء) اور ’’رموزِبیخودی‘‘(1918ء)میں نمایاں طورپردیکھی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں میں حریت،بیداری اورجہادکی فکرپیداکرنے کیلئےاپنے مخصوص اور منفرداندازمیں خودی اوربیخودی کےتصورکوپیش کیا۔احساسِ خودی کے ذریعہ وہ فردکومخاطب کرتے ہیں اوراس میں ایمان وعمل کی سرشاری پیداکرتے ہیں۔تصورِبیخودی میں وہ فردسے آگے بڑھ کرکتاب ملت بیضاکی شیرازہ بندی کرتے ہیں۔اسرارِخودی کی ابتداہی میں اقبال یوں گویاہیں:
ساقیابرخیزومے درجام کن
محوازدل کاوشِ ایام کن
می کنداندیشہ راہشیارتر
دیدۂ بیداررابیدارتر
اعتبارکوہ بخشدکاہ را
قوت شیراں دہدروباہ را
خاک اواوجِ ثریامیدہد
قطرہ راپہنائے دریامیدبد
خامشی راشورشِ محشرکنند
پائے کبک ازخونِ بازاحمرکند
“اے ساقی!اٹھ اورمیرے پیالے میں وہ شراب انڈیل دے جودل سے زمانے کی تکالیف کودورکردے۔
ایسی شراب فکرمیں اورتیزی پیداکردیتی ہے اورجوآنکھ پہلے ہی بیدارہو،اُس میں مزیدبیداری پیداکردیتی ہے۔
یہ تنکوں کوپہاڑکاوقارعطاکرتی ہے اورلومڑی کوشیروں کی طاقت بخشتی ہے۔
اس کی خاک کوثریاکی بلندی بخشتی ہے اورقطرے کوسمندرکی وسعت دیتی ہے۔
یہ خاموشی کوقیامت کے شورمیں بدل دیتی ہے اورچکورکے پنجے کوبازسے لڑادیتی ہے‘‘۔

یوں’’اسرارِرموز‘‘کامطالعہ کریں تواس کامجموعی تاثرفردکوغلامانہ ذہنیت سے چھٹکارادلاکراس میں ایک نشۂ جہادپیداکرنا ہے اوراسے عزم ویقین کی دولت سے مالامال کرناہے۔فکرِاقبال کی اس عسکریت اورجہادی روح کایہ نتیجہ نکلاکہ جنگِ عظیم دوم کے بعدمسلمانوں نے غلامی کی زنجیروں کوتوڑ ڈالا اورپھرمراکش سے ملائیشیاتک آزادی کی ایک لہرپیداہوگئی جس کیلئے اقبال نے بجاطورپریہ پیغام دیاتھا:
خدائے لم یزل کادست قدرت تو،زبان توہے
یقین پیداکراے غافل کہ مغلوب گماں توہے
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِراہ ہوں،وہ کارواں توہے
یہ نکتہ سرگزشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوامِ زمینِ ایشیاکاپاسبان توہے
سبق پڑھ پھرصداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا

علامہ اقبال کی شعری اورنثری تخلیقات کابالاستیعاب مطالعہ کریں تویہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے عروقِ مردہ میں تازہ خون کی گردش دیکھناچاہتے تھے۔انہوں نے قرآنِ مجیدکاجس گہرائی سے مطالعہ کیااورپیغمبرِاسلامﷺسے جس محبت وعقیدت کاوالہانہ اظہارکیاہے،اس کے باعث وہ اس رمزسے آشناہوچکے تھے کہ مسلمان کی زندگی اعلاے کلمۃ الحق اورغلبۂ دین کیلئےہے جس کیلئےجِہادفی سبیل اﷲ کاشعورناگزیرہے۔یہ جِہاداپنے اوّل قدم پردعوتی،علمی،لسانی،مالی اورقلمی نوعیت کاہے مگر اس کاایک پہلوجانی بھی ہے جس کامنتہیٰٰ شہادت ہے۔آپؐ کی بعثت ونبوت کے ابتدائی تیرہ برس مکہ مکرمہ میں گزرے،ان برسوں میں جہادکی نوعیت دعوتی اورتبلیغی ہے اورجہادباللسان،جہادبالمال اورجہادبالنفس کی صورتیں سامنے آتی ہیں مگرجب ہجرت کے بعدآپؐ مدینہ تشریف لے جاتے ہیں توپھرفتنے کی سرکوبی اورنوزائیدہ اسلامی ریاست کے دفاع کیلئےمختلف قسم کے دفاعی، انتظامی،جنگی اورعسکری انتظامات بھی کیے۔اسلامی ریاست کے استحکام اوراعلاے کلمۃ الحق کیلئےکی جانے والی جدوجہدخواہ اس کاتعلق کسی بھی پہلوسے ہو،جہادکہلائے گی۔کیاتاریخِ عالم میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی ایسی تہذیب موجودہے جس کے ہاں تعلیم وتدریس،تزکیۂ نفس اورزیر دستوں ،غلاموں اورمحروموں کی مددکوبھی جہادقراردیا گیاہو۔اسلام میں تلواراورتیر وتفنگ کا استعمال محض جوع الارض اورمالِ غنیمت حاصل کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ ریاستی استحکام،دعوتی نظام اورامنِ عام کے برقراررکھنے کیلئےہے۔اقبال کتاب وسنت کے گہرے اِدراک کے باعث جہادوقتال کی تمام ضرورتوں کوبخوبی سمجھتے تھے اور جس کیلئے وہ مسلمانوں کی الگ ایسی ریاست کاوجودضروری سمجھتے تھے جو”مدینہ ثانی”کاپرتوہو۔

علامہ اقبال نے ملّتِ اسلامیہ کیلئے جوسب سے بڑاکارنامہ سرانجام دیاوہ اس کے ملی تشخص کی حفاظت اوراحساس کوبیدارکرنا ہے۔وہ ہندوؤں کی چال کو،جومتحدہ قومیت کی صورت میں پروان چڑھ رہی تھی،بھانپ گئے تھے،چنانچہ1908ء میں وطنیت کے عنوان سے مشہورنظم میں وہ فرماتے ہیں:
اس عہدمیں مے اورہےجام اورہے
ساقی نے بناءکی روش لطف وستم اور
تہذیب کےآذرنے ترشوائے صنم اور
مسلم نے بھی تعمیرکیااپناحرم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑاسب سے وطن ہے
جوپیرہن اس کاہے وہ مذہب کاکفن ہے
(نظم وطنیت (وطن بحیثیت ایک سیاسی تصورکے(صفحہ160بانگ درا

وہ اپنے مشہورخطبہ الہ آبادمیں فرماتے ہیں:
اسلام ہی وہ سب سے بڑاجزوِترکیبی تھاجس سے مسلمانانِ ہندکی تاریخ حیات متاثرہوئی۔اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات وعواطف سے معمورہوئے جن پرجماعتوں کی زندگی کادارومدارہے اورجن سے متفرق ومنتشرافراد بتدریج متحدہوکر ایک متمیزومعین قوم کی صورت اختیار کرتے ہیں اوران کے اندرایک مخصوص اخلاقی شعورپیداہوجاتاہے۔حقیقت میں یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ دنیابھرمیں شائد ہندوستان ہی ایک ایساملک ہے جس میں اسلام کی وحدت خیزقوت کابہترین اظہارہواہے،اس لئے کہ اسلامی تمدن کے اندرایک مخصوص اخلاقی روح کارفرماہے”۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:لیکن آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کیلئے ایک ایسے شخص کومنتخب کیاہے جواس امرسے مایوس نہیں ہوگیاکہ اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے جوذہن انسانی کونسل ووطن کی قیودسے آزادکرسکتی ہے جس کاعقیدہ یہ ہے کہ مذہب کوفرداورریاست دونوں کی زندگی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔اسلام کی تقدیرخوداس کے ہاتھ میں ہے،اسے کسی دوسری تقدیرکے حوالے نہیں کیاجاسکتا……..یہ ایک زندہ اورعملی سوال ہے جس کے صحیح حل پراس امرکادارومدارہے کہ ہم لوگ آگے چل کرہندوستان میں ایک ممتازاورمتمیزتہذیب کے حامل ہوسکیں” ۔”کیایہ ممکن ہے کہ ہم اسلام کوبطورایک اخلاقی نصب العین کے توبرقراررکھیں لیکن اس کے نظامِ سیاست کی بجائے ان قومی نظامات کواختیارکریں جن میں مذہب کی مداخلت کاکوئی امکان باقی نہیں رہتا؟”

“میں نہیں کہتاکہ کوئی مسلمان ایک لمحے کیلئے بھی کسی ایسے نظامِ سیاست پرغورکرنے کیلئے آمادہ ہوگاجوکسی ایسے وطن یا قومی اصول پرہوجواسلام کے اصول اتحادکی نفی کرنے پرمبنی ہو۔یہ وہ مسئلہ ہے جوآج مسلمانانِ ہندکے سامنے ہے”…….. مجھے یہ اعلان کرنے میں مطلق تامل نہیں کہ اگرفرقہ وارانہ امورکے ایک مستقل اورپائیدارتصفیہ کے ماتحت اس ملک میں مسلمانوں کوآزادانہ نشوونماکاحق حاصل ہے تووہ اپنےوطن کی آزادی کیلئےبڑی سے بڑی قربانی سے بھی نہیں دریغ کریں گے”۔”میری خواہش ہے کہ پنجاب،صوبہ سرحد،سندھ اور بلوچستان کوایک ہی ریاست میں ملادیاجائے،مجھے تویہ نظرآتاہے کہ اور نہیں توشمالی مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کوبالآخرایک منظم ریاست قائم کرناپڑے گی”۔

“اگرہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تواس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے”۔”اسلامی قانون کے طویل اورگہرے مطالعے کے بعدمیں نے یہ نتیجہ اخذکیاہےکہ اگراس نظامِ قانون کوعملی جامہ پہنایاجائے توکم ازکم ہرفردکے معاشی حقوق کاتحفظ ہوسکتاہے لیکن اس ملک میں شریعت اسلامی نظام کانفاذاوراس کی توسیع ایک آزادمسلم مملکت یاچندمملکتوں کے بغیر ناممکن نہیں تودوسری طرف صرف خانہ جنگی ہے”۔

“میری رائے میں اسلام کامستقبل بہت کچھ پنجاب کے کسانوں کی آزادی پرانحصارکرتاہے توپھرنوجوانوں کی حرارت کومذہب کی حرارت کے ساتھ مل جاناچاہئے تاکہ زندگی کی دمک بڑھے اورہماری آئندہ نسلوں کیلئے عمل کی ایک نئی دنیاپیدا ہو”۔ “ہندوستان میں مختلف اقوام اورمختلف مذاہب موجود ہیں ، اس کے ساتھ ہی اگرمسلمانوں کی معاشی پستی اوران کی بے حد مقروضیت(بالخصوص پنجاب میں)اوربعض صوبوں میں ان کی اکثریتوں کاخیال کرلیاجائے توآپ کی سمجھ میں آجائے گاکہ مسلمان جداگانہ انتخابات کیلئے کیوں مظطرب ہیں”۔وہ خطبہ ختم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“ایک سبق جومیں نے تاریخِ اسلام کے مطالعے سے سیکھاہے،یہ ہے کہ صرف اسلام ہی تھاجس نے آڑے وقتوں میں مسلمانوں کی زندگی کوقائم رکھانہ کہ مسلمان،اگرآپ اپنی نگاہیں پھراسلام پرجمادیں اوراس کے زندگی بخش تخیل سے متاثرہوں توآپ کی منتشراورپراگندہ قوتیں ازسرِنوجمع ہوجائیں گی اورآپ کاوجودہلاکت وبربادی سے محفوظ ہوجائےگا”۔”میں صرف ہندوستان اور اسلام کی فلاح وبہبودکے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کامطالبہ کررہاہوں”۔”مسلم ہندوستان کیلئے ان مسائل کے حل کوممکن بنانے کی خاطرملک کی تقسیم کے ذریعے سے بڑی مسلم اکثریت کے واسطے ایک یازیادہ مسلم مملکتوں کی فراہمی ضروری ہے۔کیاآپ یہ نہیں سمجھتے کہ اس قسم کے مطالبے کاوقت آگیاہے،جواہرلال نہروکی ملحداشتراکیت کاشائدیہی بہتر جواب ہے جوآپ دے سکتے ہیں”۔”پس یہ امرکسی طرح بھی نامناسب نہیں کہ مختلف ملتوں کے وجودکاخیال کئے بغیرہندوستان کے اندرایک اسلامی ہندوستان قائم کریں”۔

اجلاس منعقدلاہور21مارچ1931ءمیں نیشلزم پران کاتبصرہ حرفِ آخرکی حیثیت رکھتاہے!
“میں نیشلزم کے خلاف ہوں جیساکہ یورپ میں اس سے مفہوم لیاجاتاہے،اس لئے نہیں کہ اس تخیل کوہندوستان میں نشوونماپانے کی اجازت دے دی گئی تواس سے مسلمانوں کوکم مادی فائدہ پہنچے گا۔میں اس لئے اس کے خلاف ہوں کہ میں اس کے اندر ملحدانہ مادیت کے جراثیم دیکھتاہوں۔میرے خیال میں یہ جدیددورکی انسانیت کیلئے سب سے بڑاخطرہ ہے، حب الوطنی صحیح طورپرایک قدرتی نیکی ہے اورانسان کی اخلاقی زندگی میں وہ خاص درجہ رکھتی ہے تاہم جوچیزدراصل اہمیت رکھتی ہے وہ انسان کاعقیدہ ہے،اس کی تہذیب ہے،اس کی تاریخی روایات ہیں،یہی وہ چیزیں ہیں کہ جن کیلئے انسان کوزندہ رہناچاہئے اورجس کیلئے انسان کواپنی جان تک قربان کردینی چاہئے”۔

“ہمارامطمع نظربالکل صاف ہے اوروہ یہ ہے کہ آنے والے دستورمیں اسلام کیلئے ایسی پوزیشن حاصل کریں جواسے ملک میں اس کی قسمت کی تکمیل کے مواقع بہم پہنچائے۔اس مطمح نظرکی روشنی میں قوم کی ترقی کرنے والی قوتوں کاجگانے اوران قوتوں کوجواب تک خوابیدہ پڑی ہیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔زندگی کی روشنی دوسروں سے قرض نہیں لی جاسکتی، اسے خود اپنی روح کے اندرروشن کرنے کی ضرورت ہے”۔مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں”ملت فیضان پراک نظر”میں حضرت علامہ اقبال نے اپنے نقطہ نظرکی وضاحت اس طرح کی:
“مسلمانوں اوردنیاکی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کااسلامی تصوردوسری اقوام کے تصورسے بالکل مختلف ہے،ہماری قومیت کااصل اصول نہ اشتراکِ زبان،نہ اشتراکِ وطن،نہ اشتراکِ اغراض اقتصادی ہے بلکہ ہم لوگ اس برادری میں جوجنابِ رسالتِ مآبۖ نے قائم فرمائی تھی،اس لئے شریک ہیں کہ مظاہرِکائنات کے متعلق ہم سب کے معتقدات کاسرچشمہ ایک ہے اورجوتاریخی روایات ہم سب کوترکہ میں پہنچی ہیں وہ بھی سب کیلئے یکساں ہیں۔اسلام تمام مادی قیودسے بیزاری ظاہرکرتا ہے ……اسلام کی زندگی کاانحصارکسی خاص قوم کے خصائص مخصوصہ وشمائل پرمنحصرنہیں ہے،غر ض اسلام زمان ومکان کی قیودسے مبراہے۔”

“اسلام کی حقیقت ہمارے لئے یہی نہیں کہ وہ ایک مذہب ہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کرہے۔اسلام میں قومیت کامفہوم خصوصیت کے ساتھ چھپاہوا ہے اورہماری زندگی کاتصوراس وقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آسکتاجب تک کہ ہم اصولِ اسلام سے پوری طرح باخبرنہ ہوں،بالفاظِ دیگراسلامی تصورہماراوہ ابدی گھریاوطن ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسرکرتے ہیں، جونسبت انگلستان کوانگریزوں اورجرمنی کوجرمنوں سے ہے،وہ اسلام کوہم مسلمانوں سے ہے،اسلامی اصول یاہماری مقدس روایات کی اصطلاح میں خداکی رسی جوں ہی ہمارے ہاتھ سے چھوٹی اورہماری جماعت کاشیرازہ بکھرا۔

حضرت علامہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نئی نسل کیلئے تعلیمی سہولتوں کے فقدان کاذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“ہم کویہ سمجھ لیناچاہئے کہ اگرہماری قوم کے نوجوانوں کی تعلیمی اٹھان اسلامی نہیں ہے توہم اپنی قومیت کے پودے کواسلام کے آبِ حیات سے نہیں سینچ رہے ہیں اوراپنی جماعت میں پکے مسلمانوں کااضافہ نہیں کررہے ہیں بلکہ ایسانیاگروہ پیداکررہے ہیں جوبوجہ کسی اکتنازی یااتحادی مرکزکے نہ ہونے کے اپنی شخصیت کوکسی دن کھوبیٹھےگااورگردوپیش کی ان قوموں سے کسی ایک قوم میں ضم ہوجائے گاجس میں اس کی بہ نسبت زیادہ قوت وجان ہوگی۔”

آل پارٹیزمسلم کانفرنس کے فروری1931ء کے اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے فرمایا:
“جس دین کے تم علمبردارہووہ فردکی قدروقیمت تسلیم کرتاہے اوراس کی تربیت کرتاہے تاکہ وہ دنیامیں کچھ خدااورانسان کی خدمت میں دے ڈالے، اس کے امکانات ابھی تک ختم نہیں ہوئے ہیں،وہ اب بھی ایسی نئی دنیاپیداکرسکتاہے جہاں انسان کامعاشرتی درجہ اس کی ذات،رنگ ،اس کے کمائے ہوئے”ڈویڈنڈ”کی مقدارسے متعین نہ ہوتاہوبلکہ اس زندگی کےمطابق قائم کیاجاتاہو جسے وہ بسرکرتاہے،جہاں غرباءمال داروں پرٹیکس عائدکرتے ہوں،جہاں انسانی سوسائٹی شکموں کی مساوات پرقائم نہ ہوبلکہ روحوں کی مساوات پرجہاں ایک اچھوت بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرسکتاہو۔ان تمام اقتباسات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ حضرت علامہ مسلمانوں کومذہب کی بنیادپرایک علیحدہ قوم تصورکرتے تھےاوراسی بنیادپروہ ایک علیحدہ خطہ چاہتے تھے جسے وہ اسلامی ریاست کانام دیتے تھے۔کوئی ذی ہوش انسان اس بات سے انکارنہیں کرسکتاکہ یہ ساری جدوجہداسلام ہی کے نام پرتھی۔وہ ملتِ اسلامیہ کوان محدودحصوں میں قوم سمجھنے کیلئے تیارنہ تھے اوریہی چیزانہوں نے مسلمانوں کوسکھائی ،وہ فرماتے ہیں:
اپنی ملت پرقیاس،اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیۖ
ان کی جمعیت کاہے ملک ونسب پرانحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری (مذہب ص248بانگ درا)

اقبال جہاں جہادکادرس دیتاہے وہاں اس نے اجتہادکی طرف بھی توجہ دلائی ہے اوراس خطے میں اقبال واحدشاعرہے جس نے صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ نیچی ذات کے ہندوؤں کیلئے بھی آوازاٹھائی ہے:
آہ شودرکیلئے ہندوستاں غم خانہ ہے
دردانسانی سے اس بستی کادل بیگانہ ہے (نانک ص 239بانگ درا)
اس لئے آج چوراہےمیں بیٹھاٹی وی کابونادانشورجب یہ کہتاہے کہ اقبال رجعت پسندشاعرتھادراصل اقبال کانام استعمال کرکے اپنے چھوٹے قدکو نمایاں کرنے کی کوشش کررہاہے۔پاکستان اورقائد اعظم دونوں اقبال کی دریافت ہیں اس لئے جواقبال کونہیں مانتاوہ شوق سے پاکستان میں تورہے لیکن اسے پاکستانی کہلوانے کاکوئی حق نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں