انڈیاکی نئی تجارتی سٹریٹیجی اورپاکستان

:Share

پاکستان کی موجودہ مخدوش اورابترسیاسی داخلی صورتحال نے ہماری خارجہ پالیسی کوبھی بری طرح متاثرکردیاہے اورپاکستان خطے میں بری طرح تنہائی کاشکارہوتاجارہا ہے اورہماراازلی دشمن بھارت اس سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری غلطیوں سے بھرپورفائدہ اٹھانےہوئے بڑی مستعدی سے اپنی سازشوں میں مصروف ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین اور افغانستان جیسے اہم پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے بڑھتے ہوئےکشیدہ تعلقات کے بعداس نے بنگلہ دیش کے ساتھ مزیدمضبوط تعلقات کیلئے نئی سٹرٹیجی پرکام کرنا شروع کردیاہے۔شیخ حسینہ اورمودی حکومت آنے کے بعددونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی گرمجوشی آئی ہے اوراس کااظہار اس بات سے ہوتاہے کہ2015سے لے کراب تک دونوں رہنما12بارملاقات کرچکے ہیں۔

بنگلہ دیش جنوبی ایشیاکی سب سے جوان ریاست ہے لیکن اِس کی فی کس مجموعی قومی پیداوارپاکستان سے کئی فیصداوراپنے سے کئی گنابڑی ریاست،انڈیاسے بھی زیادہ ہے۔اس وقت بنگلہ دیش جنوبی ایشیاکی ایک سیکولرریاست کے طورپرایک تیزی سی ترقی کرتاہواملک سمجھاجارہاہے جس کی وجہ سے اس میں ایک سیاسی استحکام نظرآرہاہے۔1971ءمیں ایک آزادریاست بننے سے پہلے بنگلہ دیش ایک اسلامی ریاست پاکستان کاحصہ تھا،جہاں اب اسلامائزیشن بیک وقت ریاست کی قومی یکجہتی کی تعمیر اورمعاشرے کی فرقہ وارانہ تقسیم کاایک بڑاسبب بن چکی ہے۔تاہم دونوں ممالک جس ملک سے علیحدہ ہوئے تھے،یعنی انڈیاوہ ایک طویل عرصے تک سکیولرزم کے بعد”ہندوتوا”کی جانب بڑھ رہاہے،یعنی جہاں ایک انتہائی دائیں بازوکی سخت گیرمتعصب حکومت اور معاشرہ فروغ پا رہا ہے۔

گلوبل اکانومی نامی درجہ بندیوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق غیرمساوی ترقی کے انڈیکس میں انڈیاکا نمبر61 واں ہے جبکہ بنگلہ دیش کا نمبر 71 واں بنتاہے اور پاکستان کا نمبر 82 واں بیان کیا گیا ہے۔یہ انڈیکس معاشرے میں عدم مساوات ظاہر کرتا ہے۔ورلڈ جسٹس فورم،ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارہ، کے رُول آف لاء انڈیکس میں پاکستان کو 130ویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے جبکہ اسی انڈیکس میں بنگلہ دیش کی درجہ بندی124 ہے اورانڈیا کا نمبر 79ہے۔انڈیا کی ایک درجہ بندی کم ہوئی اوربنگلہ دیش کی درجہ بندی میں بہتری آئی جبکہ پاکستان کی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تاریخ دان،علومِ سیاسیات اورسماجیات کے ماہرین کے سامنے یہی بڑاسوال ہے کہ تینوں ممالک کی تاریخ ایک جیسی ہے،یہ تینوں ایک ہی محکوم ریاست کے حصے تھے جس سے یہ آزاد ہوئے تھے۔گلوبل اکانومی میں 200ممالک کے سیاسی استحکام کے انڈیکس کے مطابق انڈیا159نمبر،بنگلہ دیش161اور پاکستان184نمبرپرہے۔پیوریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق،لوگوں کی زندگی میں مذہب کی اہمیت کے لحاظ سے پاکستان میں94فیصدافرادکیلئے ان کا مذہب بہت اہم ہے۔اس طرح پاکستان دنیاکے سب سے زیادہ مذہبی ممالک میں شمارہوتاہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح81فیصداورانڈیامیں80 فیصدہے۔لیکن اس وقت خطے میں بنگلہ دیش اورانڈیامیں غیرمعمولی طورپردوستی اورتعاون کیلئے کوشیں جاری ہیں کیونکہ جب سے انڈیاامریکاکی جھولی میں پناہ لے چکا ہے،اب وہ خطے میں تھانیدارکاکرداراداکرنے کیلئے بے تاب ہے لیکن چین اورپاکستان اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔لداخ میں چین کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعدانڈیاکی مکمل خواہش ہے کہ چین کاراستہ روکنے کیلئے ماسوائے پاکستان کے اپنے باقی تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایساگٹھ جوڑقائم کیاجائے جوچین کے بڑھتی ہوئی معاشی برتری کوروکاجا سکے۔اس کیلئے اس نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کومزیدبڑھانے کیلئے کئی مراعات کابھی اعلان کیا ہے۔

دریائے تیستاکے پانی کی تقسیم اورسرحدی علاقوں میں انڈین سکیورٹی فورسزکے ہاتھوں بنگلہ دیش کے شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے معاملے کوالگ چھوڑدیا جائے تودونوں ممالک کے درمیان تعاون کے کئی معاہدے طے پاچکے ہیں۔رواں ہفتے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی قیادت میں دوطرفہ مذاکرات میں مفاہمت کی سات یادداشتوں پردستخط کیے گئے۔ان میں آبی وسائل،ریلوے، سائنس وٹیکنالوجی اورخلائی ٹیکنالوجی سے متعلق اُمورشامل ہیں۔ کشیراندی کے پانی کی تقسیم پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جو جنوبی آسام اور سلہٹ کیلئے بہت مفیدہے اوراسے مودی نے بھی اہم قرار دیا ہے۔دونوں رہنماؤں نے میتری سپرتھرمل پاورپراجیکٹ کے یونٹ-1کی بھی نقاب کشائی کی۔ انڈیا کی مدد سے کام کرنے والے اس منصوبے سے بنگلہ دیش کو 1320 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔

بنگلہ دیش اب دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی فہرست سے نکل گیاہے۔گزشتہ چندبرسوں کے دوران بنگلہ دیش نے مینوفیکچرنگ اورزرعی برآمدات کے ساتھ ساتھ صحت،خواتین کی ترقی اورتعلیم کے شعبوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اوراب گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک بن گیا ہےتاہم شیخ حسینہ ایک ایسے وقت میں انڈیا آئی ہیں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل،گیس،مشینری اور خام مال کی قیمتوں کی وجہ سے اس کے کرنسی کے ذخائر پر شدید دباؤ ہے۔اس معاشی بحران سے نکلنے کیلئےبنگلہ دیش نے آئی ایم ایف سے 400 ارب ڈالر کا قرض بھی مانگ رکھاہے۔ایسے وقت میں دونوں ممالک کی ایک دوسرے کیلئے اہمیت بڑھ گئی ہےاورایشیا کی موجودہ سٹریٹجک صورتحال،چین اورپاکستان جیسے پڑوسیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظربنگلہ دیش پرانڈیاکاسٹریٹجک انحصارکافی بڑھ گیاہے۔

شیخ حسینہ کادورہ دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت کوبڑھانے کیلئے بڑااہم ہوگا۔بنگلہ دیش اس وقت یہ چاہتاہے کہ دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت،سائبرسکیورٹی،سٹارٹ اپس اورکنیکٹیویٹی میں اپنی شراکت داری میں اضافہ کریں۔اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کامعاہدہ(CEPA)آنے والے دنوں میں دوطرفہ کاروبارکیلئےاہم کرداراداکرے گا۔تاہم،شرکت داری کایہ معاہدہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب بنگلہ دیش2026کے بعد انڈین مارکیٹ میں اپنے سامان تک ڈیوٹی فری اورکوٹہ فری رسائی سے محروم ہوجائے گا۔بنگلہ دیش یقیناًاس میں اضافی سہولت چاہتاہے،اس وقت انڈیانےبنگلہ دیشی برآمدات پربہت زیادہ رعایتیں دے رکھی ہیں۔اس لیے انڈین بازار میں بنگلہ دیشی اشیا کی رسائی بھی بڑھ رہی ہے۔بنگلہ دیش کی برآمدات کومضبوط بناناانڈیاکے مفادمیں ہے کیونکہ وہ اپنازیادہ ترخام مال انڈیاسے درآمد کرتاہے۔ورلڈ بینک کے ورکنگ پیپرکے مطابق آزاد تجارتی معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کی برآمدات میں182فیصد اضافہ ہوسکتاہے۔

اگرانڈیابنگلہ دیش کوکچھ اضافی تجارتی سہولیات فراہم کرتاہے اورلین دین کے اخراجات کوکم کرتاہے تویہ برآمدات 300فیصدتک بڑھ سکتی ہیں۔اس سے انڈیا کی خام مال کی صنعت سے لیکرمینوفیکچرنگ اورسروس دونوں شعبوں کوفائدہ ہوگاکیونکہ بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی ضروریات انڈیاکومارکیٹ فراہم کریں گی۔بنگلہ دیش انڈیاکاچھٹاسب سے بڑا تجارتی شراکت دارہے۔2009میں دونوں کے درمیان 2.4ارب ڈالرمالیت کی تجارت ہوئی لیکن2020-21میں یہ بڑھ کر 10.8ارب ڈالرہوگئی۔مودی نے شیخ حسینہ سے حالیہ ملاقات میں کہاکہ بنگلہ دیش انڈیاکے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ انڈیااب بنگلہ دیش کے ساتھ آئی ٹی،خلائی اورجوہری شعبوں میں تعاون بڑھائے گا۔یادرہے کہ تینوں شعبوں میں انڈیا کومہارت حاصل ہے۔اس لیے اگرکاروباری تعاون مزیدبڑھتا ہے توبنگلہ دیش میں اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی مارکیٹ بڑھے گی۔ انڈیاہر سال 15سے20لاکھ بنگلہ دیشیوں کوویزادیتاہے، جوعلاج،نوکری، سیاحت اورتفریح کیلئےوہاں آتے ہیں۔ظاہرہے کہ انڈیاکے میڈیکل،لیبر،سیاحت اور تفریح کے شعبے اس سے کماتے ہیں۔

شیخ حسینہ شمال مشرقی انڈیاکوباقی انڈیا سے جوڑنے اوروہاں امن کی بحالی میں بھی اہم کرداراداکیاہے۔ بنگلہ دیش نے انڈیاکوچٹاگانگ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔آج اگرتلہ سے اکھوڑہ تک ریل لنک بنایاگیاہے ۔آج اگرتلہ سے کوئی ڈھاکہ کے راستے کولکتہ آناچاہتاہے تووہ آسانی سے آسکتا ہے ۔انڈیانے حسینہ حکومت کی مددسے تریپورہ میں پاورپلانٹ کھولاہے۔اس طرح انڈیااوربنگلہ دیش کی شمال مشرقی ریاستوں کے درمیان رابطے میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔حسینہ حکومت کے تعاون پرمبنی نقطہ نظرنے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک نئی جہت کھول دی ہے۔حسینہ حکومت نے بنگلہ دیش کے کیمپوں سے شمال مشرقی انڈیامیں علیحدگی پسندتحریک کی حمایت کوکچلنے میں بھی اہم کرداراداکیاہے۔حسینہ حکومت نے وہاں رہنے والے علیحدگی پسندتحریک کے بڑے لیڈروں کوانڈیاکے حوالے کردیا۔ان میںULFAلیڈراروندراجکھواسمیت بہت سے دوسرے علیحدگی پسندلیڈر ہیں۔ اب وہ انڈیاکے ساتھ امن مذاکرات کررہے ہیں۔

حسینہ کی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرزمین سے سرگرم علیحدگی پسندوں کے تقریباًتمام نیٹ ورکس کوکچل دیاہے۔ماضی میں بھی آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتابسواشرما نے کہاتھاکہ بنگلہ دیش کی وجہ سے ان کی ریاست کے لوگ آج سکون سے سوسکتے ہیں۔درحقیقت بنگلہ دیش نے شمال مشرق میں امن اورخوشحالی لانے میں انڈیاکیلئےاہم کرداراداکیاہے۔یہی نہیں،شمال مشرق میں انڈیا کے باقی حصوں کے ساتھ رابطے کوبہتربنانے میں بھی بنگلہ دیش کابڑا کردارہے۔تریپورہ کوریڈورجیسا بنیادی ڈھانچہ بنگلہ دیش کی مددسے ہی بنایاجاسکتاتھا۔اب بنگلہ دیش سے سامان لے کرفینی ندی پرپل کے ذریعے سیدھا تریپورہ پہنچاجاسکتاہے۔انڈیا کی بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً چارہزارکلومیٹرکی سرحدہے۔اس لیے چین اورپاکستان جیسے ممالک کے چیلنجزکے پیش نظر ا نڈیاکواس علاقے میں ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو اس کا دوست ہو۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیاکوبنگلہ دیش کی مددکی ضرورت ہے۔رابطے کے اقدامات نئے طریقے سے کیے جارہے ہیں۔سارک آج فعال نہیں ہے لیکن انڈیا BBIN (بنگلہ دیش بھوٹان،انڈیااورنیپال)لنک کے ذریعے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعاون کومزیدمضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے۔انڈیا-بنگلہ دیش سرحدپردریائے کشیاراکے پانی کی تقسیم کامعاہدہ طے پاچکاہے۔بنگلہ دیش ریلوے کے افسران انڈین ریلوے کے تربیتی اداروں میں تربیت حاصل کریں گے-انڈیاآئی ٹی میں بنگلہ دیش ریلوے کی مددکرے گا۔فریٹ مینجمنٹ سسٹم اورآئی ٹی پرمبنی صلاحیتوں کوبڑھانے میں انڈیابنگلہ دیش کی مددکرے گا۔بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ اور انڈیاکی نیشنل جوڈیشل اکیڈمی کے درمیان بنگلہ دیش کے شعبہ قانون کے افسران کی انڈیامیں تربیت کیلئےمعاہدہ انڈیا اوربنگلہ دیش کی سائنس اورصنعتی تحقیق کی کونسل کے درمیان تعاون ہوگا۔

انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان خلائی میدان میں تعاون اورٹی وی نشریات کے شعبے میں انڈیاکی پرساربھارتی اوربنگلہ دیش ٹی وی کے درمیان معاہدہ بھی ہوگیا ہے۔انڈین تھنک ٹینک ریسرچ اینڈ انفارمیشن سسٹم فارڈیولپنگ کنٹریز(RIS)کے پروفیسرپراویرڈی نے انڈیا،بنگلہ دیش تعاون کے ایک اورپہلو کاذکرکیاہے ۔ پروفیسرپراویرڈی کاکہناہے کہ”اگرانڈیابنگلہ دیش کی مددکیلئےدوقدم آگے نہیں بڑھتاہے توچین اس کیلئےچارقدم آگے بڑھائے گاجوانڈیا کے تمام منصوبوں کوشدید نقصان پہنچے گا۔بنگلہ دیش نے پدما ندی پرحال ہی میں بنایاگیاپُل بھلے ہی اپنے پیسوں سے بنایاہے لیکن اس کی تعمیرمیں چینی کمپنیوں کی مددلی گئی۔اب صورتحال یہ ہے کہ ڈھاکہ کے اردگردچینی مزدوروں کی بستیاں آگئی ہیں۔بہت سے چینی شادی کے بعدوہاں آبادہو چکے ہیں ۔اس طرح چین کی موجودگی انڈیا کیلئےبڑاخطرہ بن سکتی ہے۔اس تناظرمیں بنگلہ دیش کے ساتھ انڈیا کے تعاون کومضبوط کرنابھی ضروری ہے اوربنگلہ دیش اپنی حیثیت کوخوب سمجھتاہے اوراس سلسلےمیں اپنے مفادات پرکوئی سودہ ہرگزنہیں کرے گا۔

بنگلہ دیش تجارت بڑھانے کیلئےانڈیا پربہت زوردے رہاہے۔25اشیاکوچھوڑکرانڈیا نے تقریباًسب برآمدات کوبہت چھوٹ دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی انڈیاکوبرآمدات بڑھ رہی ہیں۔پروفیسرڈے کہتے ہیں کہ”بہت سی چھوٹی انڈین کمپنیاں شمال مشرق اوربنگال میں سرگرم ہیں۔اس کے علاوہ کئی اوربنگلہ دیشی کمپنیاں انڈیامیں کاروبارکررہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی انڈیاکوبرآمدات میں روزبروزاضافہ ہورہاہے۔اس وقت160بنگلہ دیشی تاجروں کا وفد شیخ حسینہ کے ہمراہ ہے۔ اتنے بڑے دستے کے ساتھ ان کاانڈیاآنابہت اہم سمجھاجاتاہے۔

فیڈریشن آف بنگلہ دیش چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف بی سی سی آئی)کے مطابق مالی سال2022-23کے اختتام تک بنگلہ دیش کی انڈیاکو برآمدات بڑھ کردوارب ڈالر ہوجائیں گی۔گزشتہ ایک سال میں انڈیااوربنگلہ دیش کی برآمدات میں 94فیصداضافہ ہواہے۔سلی گوڑی کے ذریعے شمال مشرق کاباقی انڈیا کے ساتھ رابطہ بہت اہم ہے۔اس لیے شمال مشرق سے ملحقہ بنگلہ دیش کی اہمیت ہمارے لیے بہت بڑھ جاتی ہے۔سلی گوڑی کے ذریعے شمال مشرق کے رابطے کی وجہ سے بنگلہ دیش پرانڈین اسٹریٹجک انحصارنمایاں طورپربڑھ گیاہے۔ڈوکلام میں چینی سرگرمیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش پربھی انڈیاکاانحصاربھی کافی بڑھ گیا ہے۔یہ علاقہ بھوٹان کے قریب ہے۔بھوٹان کے قریب ہونے کی وجہ سے انڈیاکیلئے بنگلہ دیش کاکرداراوربھی بڑھ جاتا ہے۔انڈیااوربنگلہ دیش اس علاقے میں رابطے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔بنگلہ دیش کاکرداربھی انڈیاکی ہند،بحر الکاہل حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہے،اسی لئے بنگلہ دیش، بھوٹان،نیپال اورسری لنکاجیسے چھوٹے پڑوسیوں کی اہمیت انڈیاکی سکیورٹی حکمت عملی کیلئے بہت اہم ہوجاتی ہے۔سلی گوڑی کے علاوہ یہاں رابطے کاکوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔لہذا”بیم سٹیک کوریڈور اوربی بی آئی این”کے ذریعے متبادل رابطے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ان حالات میں پاکستان کہاں کھڑاہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں