انسانی وصف

:Share

اللہ کے آخری رسول ﷺنے اپنے پیارے چچاکورازکی بات بتادی تھی۔اللہ کی اس بے کراں کائنات میں حیات کاسفینہ کسی خلل کے بغیر کیونکر رواں رہتا ہے؟محترم شعیب بن عزیز نے کیا خوب کہا:
رواں ہیں تیرے کاکلوں کی لگن میں
وگرنہ ستاروں کے دل ٹوٹ جائیں

گدائے میکدہ ام لیک وقت مستی میں
قدم برفلک وحکم بر ستارہ کنم
شاعروں کی بات اور ہے ،جو چاہیں کہیں،وہ آسمان پر قدم رکھ سکتے اور ستاروں پر حکم چلا سکتے ہیں!

سچ توصرف یہ ہے کہ عدل ہی زندگی کی روح اورزندگی کی اساس ہے۔ان گنت دنیاؤں میں،زمینوں،آسمانوں اورکہکشاؤں میں ہرچیزاپناوظیفہ انجام دیتی اوراپنے اپنے مدارمیں متعین کردہ راستوں پرچلتی رہتی ہے۔سورج ،چاند،ستارے،ہوائیں اور بادل، فرشتے،شجراورہجر،چوپائے،کیڑے مکوڑے اورپرندے،بلندیوں پہ آفتاب کی تمازت برف پگھلاتی ہے اورندیوں میں بہتا پانی میدانوں میں پھول کھلادیتاہے،وہ کھیتوں اورباغوں کو سینچتا ہے،ہواانہیں لوریاں دیتی ہے،سورج کی روشنی گندم کے خوشے کوسنہری رنگ عطاکرتی اورپھلوں کورس اوررنگ وروپ بخشتی دیتی ہے۔ تقریباًایک ارب قسم کی مخلوقات ہیں۔ان سب کی حیات اوربقاءکاانحصاررزق کے ان تنوع اسباب پرہے،زمین پرحیات کی نمودکے ساتھ ہی خود بخودبروئے کا رآگئے اوروہ سب ایک دوسرے پرانحصارکرتے ہیں۔ایک خودکارنظام جوتقریباًچھ ارب سال سے قائم ہے اوراس وقت تک قائم رہے گاجب اسے سمیٹنے کاحکم صادرکردیاجائے گا۔

“عظیم حادثہ!کیاہے وہ عظیم حادثہ،تم کیا جانوکہ وہ عظیم حادثہ کیاہے؟وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑرنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے۔پھرجس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ دل پسندعیش میں ہوگااورجس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی اورتمہیں کیاخبرکہ وہ کیاچیزہے؟بھڑکتی ہوئی آگ۔”
(القارعیہ۔ 1۔11)

سب جانتے ہیں،پہاڑاورپرندے جانتے ہیں،سمندراورساحل کومعلوم ہے،درختوں اورپتھروں کوخبرہے،تتلیوں اورکہکشاؤں کو پتہ ہے،انار اور آلوچے کے شگوفے جانتے ہیں کہ انہیں ثمربنناہے،سورج کی کرنیں خبررکھتی ہیں کہ نموداورفروغ کے عمل میں ان کاوظیفہ کیاہے،بس ایک آدم زادہی نہیں جانتا،وہ ان سب سے بلندہے،ان سے ممتازاورمختلف بھی!اسے سماعت و بصارت بخشی گئی،ارادہ اوراختیاردیاگیا،فکررسا،سیدھاراستہ اوراس کی نشانیاں۔بس وہی گمراہی کاانتخاب کرتاہے،وہی بھلا دیتاہے کہ زندگی کی اساس عدل کے سواکچھ نہیں اورمتعین راستے سے بھٹک جانے میں خرابی ہے” اے نبی ﷺ ان سے کہو،کیاہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام اورنامرادلوگ کون ہیں؟وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی راہِ راست سے دوررہی اوروہ یہ گمان کرتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں۔”(کہف 103۔104)

ملکوں اورقوموں کے مسائل کیاہیں؟آدمیت خرابی سے دوچارکیوں ہے،زمین فسادسے کیوں بھرگئی؟؟لوگ قتل کیوں کردیئے جاتے ہیں،وہ ستائے،روندے اورپامال کیوں کردیئے جاتے ہیں؟؟؟کہیں وسائل کی افراط نے وحشت کی لگامیں توڑڈالیں ہیں اورقوت واقتدارکے ارتکازمیں رقصِ ابلیس جاری ہے۔ادھرکچے گھروندں اورلاچاربستیوں میں انسان ایک لقمے ہی کونہیں ،حواکی بیٹیاں تن ڈھانپنے کیلئے پیرہن تک کوترستی اس دنیاسے رخصت ہوجاتی ہیں۔

لیڈروں کے ریوڑمیں جواس طرح برسرِپیکارہیں،اس بغض حسدرقابت اورعنادکے ساتھ کہ درندوں کودماغ عطاہوتاتوحیرت اور رنج سے چیختے ۔ ایک ایک گلی،ایک ایک گاؤں،ایک ایک دفترسے لیکردنیابھرکے ایوان ہائے اقتدارتک،آسمان سے باتیں کرتی رفیع الشان عمارتوں میں اقوام اور ممالک کی قسمتوں کے فیصلے کرنے کاسیاسی،مالیاتی اورابلاغی ایوانوں تک اورتو سب کچھ ہے،انصاف کہیں نہیں ہے۔سلطانیٔ جمہورکے نام پر سازشیں ،تہذیب کے نام پرخوشنماالفاظ کے پردے میں سکندری ، چنگیزی اورتیمورخانی کی نموداورپرداخت،مذہب کے نام پرریاکاری اورطاقت طلبی،اقوام اقوام کا،ملک ملکوں کا،علاقے علاقوں اورایک نسل کے لوگ دوسری نسل کے لوگوں کالہوپینے اورہڈیاں نوچنے پرآمادہ۔آدمی نے اللہ کوبھلادیااوراللہ نے بندوں کوبھلادیاہے۔انہیں ان کے حال پرچھوڑدیا،کوئی شخص اپنے ساتھ انصاف نہیں کرتا،اپنے خاندان کے ساتھ بھی نہیں۔ کوئی گروہ دوسرے گروہ اورکوئی قوم دوسری قوم کے ساتھ عدل پرآمادہ نہیں۔تب ان کے مالک نے گویایہ کہا”تم اپنے معاملات اب خودہی فیصل کرو،میری تو تمہیں ضرورت ہی نہیں،اورآسمانوں سے جیسے آوازآتی ہے،اے میرے بندوتم پر افسوس”!

کیاعظیم مغالطہ ہے جس میں ساری آدمیت گرفتارہے کہ اسے ترقی اورخوشحالی کی ضرورت ہے،نہیں صرف رزق کی عافیت کی اوریہ سب کچھ عدل کے بغیرممکن نہیں۔ممکن بھی ہوتوعارضی ہے،مستقل نہیں۔خوشحالی اورآسودگی کیامعنی؟یہ تو ایک عارضی مستقرہے۔مسافرکوسایہ درکارہوتا ہے ، محل نہیں۔شعیب پھرایک دفعہ یادآگئے!
خوب ہوگی یہ سرادہرکی لیکن اس کا
ہم سے کیاپوچھتے ہو،ہم کوٹھہرناکب ہے

جنابِ عباس بن عبد المطلب،سرکاردوعالم ﷺکی خدمت میں حاضرہوئے اورآسودگی کیلئے دعاکی التجاکی۔فرمایا:اے میرے چچاؤ!جب سے آدمی اس دنیا میں آیاہے،اس نے عافیت سے بہترکوئی دعانہیں مانگی۔پھریہ دعاتعلیم کی”اے میرے معبود!میں تجھ سے معافی مانگتاہوں،میں تجھ سے دنیااورآخرت میں عافیت کاسوال کرتاہوں”۔

جی ہاں!دعا،دعاہی آدمی کاپہلااورآخری ہتھیارہے،اللہ سے اس کاسب سے بڑارشتہ!لیکن یہاں تودعا مانگنے کی بھی فرصت نہیں۔جولوٹ مار کرکے مال جمع کیااس کواپنی ذہانت پرمعمول سمجھ کرخودکوکسی بھی انصاف سے مبراگرداناگیا۔دنیا جو عدل وانصاف کی متمنی ہے،افرادجوعدل وانصاف کیلئے دہائی دے رہے ہیں اورجواس کیلئے اپنی جانوں سے گئے تھے اب ان سے یہ مطالبہ کیاجارہاہے کہ وہ تاریخ کے پہئے کوواپس جانے کیلئے راستہ دیں،وہ خودکوہرقسم کے احتساب سے بھی بری الذمہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کاقانون ان کوایساکرنے کی اجازت دیتاہے۔کیاوہ بھول گئے کہ آقائے نامدار ﷺ سے ایسی ہی سفارش کی گئی تھی کہ مجرم ایک باعزت گھرانے سے تعلق رکھتاہے اس لئے اس سے نرمی اختیارکی جائے جس کے جواب میں ایک ایساتاریخی فیصلہ آیاجس نے انسانیت کوفرش سے عرش تک پہنچادیا۔”خداکی قسم اگریہ چوری فاطمہ(رسول اللہ ﷺ کی لختِ جگر ) بھی کرتی تومیں اس کابھی ہاتھ کاٹنے کاحکم دیتا”۔

اس کے بعداورکیادلیل باقی رہ جاتی ہے۔انسان کاوصف ہے کہ یہ کبھی اپنی آزادی واپس نہیں کرتا،اس لئے کشمیرآزادی کی جس راہ پرگامزن ہے وہاں سے واپسی ناممکن ہے۔اب توانصاف کے قائم ہونے کاوقت آن پہنچاہے۔صاحبِ اقتدار اپنے پاس لکھ کررکھ لیں کہ تاریخ ہرکسی کاکرداربلاکم وکاست اپنے اندررقم کرے گی کہ وہ کیاکرسکتے تھے جن سے انہوں نے پہلو تہی کی۔
رہے نام میرے رب کاجس کاسارانظام عدل پرقائم ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں