ووٹ کی عزت یا ووٹرکی عزت

:Share

پاکستانی قوم ابھی تک سابق امریکی فوجی،سی آئی اے کی معاون بلیک واٹرجیسی خوں آشام ایجنسی کے بدترین ایجنٹ، جاسوس اورکرائے کے قاتل قاتل ریمنڈڈیوس کے27 جنوری 2011ء کو دن دیہاڑے دو پاکستانی بیٹوں فہیم اور فیضان کوجرم بے گناہی میں لاہورکے قرطبہ چوک پرگولیاں مار کرشہید کرنے کی واردات اوراس کی ڈرامائی رہائی کا ڈرامہ نہیں بھولی کہ ایک مرتبہ پھراسلام آبادمیں دن دیہاڑے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف نے شراب کے نشے میں دھت ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک موٹرسائیکل کوٹکرمارکرایک پاکستانی نوجوان کوموقع پرکچل دیااوردوسرے کوشدیدزخمی کردیا۔ یادرہے کہ ریمنڈڈیوس کی مددکوامریکی قونصل خانے سے آنے والی ایک گاڑی نے قرطبہ چوک سے ذرافاصلے پرموٹرسائیکل سوارنوجوان تاجرعبادالرحمان کواسی طرح اپنی گاڑی سے وحشیانہ اندازمیں قتل کردیاتھا۔ریمنڈڈیوس کی مددکوآنے والے قاتل کون تھے جوجیل روڈسے اس تیزی سے آئے اورجیل روڈ کے بیچ میں تعمیرشدہ ڈیوائیڈرکوروندتے ہوئے واپس بھاگنے کی کوشش میں عبادالرحمان کو موت کی نیندسلاگئے۔آج تک یہ گتھی نہیں سلجھ سکی حتیٰ کہ عبادالرحمان کے اہل خانہ جن کوکئی سال تک صرف یہی آرزورہی کی کہ ان کے بھائی کے قاتل کون سے امریکی تھے لیکن تمام تر احتجاج کے باوجود ان کی فریاد نہ سنی گئی ہاں یہ ضرور ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف مقتول عباد الرحمان کے گھرگلشن راوی اس کی والدہ اوربھائیوں سے ملاقات کرکے انہیں تسلیاں دے آئے مگریہ طفل تسلیاں سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوسکیں اورعبادالرحمان کے اہل خانہ آج تک انصاف کوترس رہے ہیں۔
پنجاب پولیس اپنی تمام تراصلاحات اوربہتری کے باوجودان قاتلوں تک نہیں پہنچ سکی اورقاتل ریمنڈڈیوس مبینہ طورپر پاکستان سے بحفاظت روانہ ہوگیا۔اب اسلام آبادمیں بھی اسی سے ملتاجلتا واقعہ پیش آگیاہے گویالاہورمیں کرائے کے امریکی قاتل ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں شہیدہونے والے نوجوانوں کے واقعے کے ایک حصے کا ری ایکشن پلے ہو گیا ہے اوراب امریکی سفارتخانے میں مبینہ ملٹری اتاشی کرنل جوزف نے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوموٹر سائیکل سوارنوجوانوں کوہٹ کیاجن میں ایک موقع پرجاں بحق اوردوسراموت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
ریمنڈڈیوس والے واقعے سے امریکیوں نے ایک سبق ضرورسیکھاکہ کسی پاکستانی شہری کوقتل کرنے کے بعدپولیس کے ہتھے نہیں آنابلکہ ہرقیمت اورہرصورت پولیس کے نرغے سے نکلناہے لیکن بدقسمتی سے مقتول پارٹی یعنی پاکستانی حکومت ،انتظامیہ اورحفاظت کی ذمہ داریوں پرفائز ذمہ داروں نے شائدکوئی سبق نہیں سیکھاہے۔یہی وجہ ہے کہ پولیس کوعملاًجل دیکرمبینہ امریکی ملٹری اتاشی پولیس تھانے سے نکل بھاگنے میں کامیاب رہاجبکہ اسلام آبادکی پولیس اس کامنہ دیکھتے ر ہ گئی جیسے کوئی ملزم نہیں مہمان تھانے میں آیاہواوروہاں سے پوری عزت کے ساتھ رخصت کردیاگیا ہو۔دلچسپ امریہ ہے کہ بظاہریہ فراروزارتِ داخلہ کی منشااورمرضی کے بغیر ہواہے اورپولیس کے مقامی حکام نے مرضی سے جانے دیاہے۔ اسی تاثرکوپختہ کرنے کیلئے وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طورپرپولیس کی ہلکی پھلکی سرزنش بھی کی ہے لیکن کیایہ ممکن ہے کہ ایک معمولی مقامی تھانیداراتنا بڑافیصلہ خودکرلے اوراتنے بڑے بااثرملزم کوخودہی جانے دے جبکہ اس کی گاڑی سے ہٹ ہونے والے نوجوان کی لاش ابھی ٹھنڈی بھی نہ ہوئی تھی ۔اس صورتحال کودوسرارخ دینے کیلئے وزارتِ داخلہ کی ہلکی فہمائش پرپولیس نے بھی ایک پتاپھینکاہے کہ اس نے ملزم کانام ای سی ایل میں ڈالنے کی وزارتِ داخلہ کوسفارش کردی ہے۔
پولیس تھانے میں کچھ دیررکنے کے بعدجوزف جس تیزی سے تھانے سے فرارہواہے اورکسی نے اسے روکاتک نہیں،یہ معاملہ مشکوک بنانے والی بات ہے کیونکہ امریکی سفارتخانے نے پاکستان کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کرنے کے وعدے کے باوجوداس قاتل امریکی تک رسائی دینے سے انکار کیا ۔اگریہ فی الوقع امریکی ملٹری اتاشی ہے توپھراسے چھپا کر رکھنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی،پاکستانی حکام کورسائی نہ دینے سے معاملہ زیادہ مشکوک ہوجائے گا۔اسلام آبادپولیس کی جانب سے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے بارے میں بھی وزارتِ داخلہ تادمِ تحریرچپ سادھے ہوئے گومگو کاشکارنظرآرہی ہے،گویاکچھ توہے جس کی پردہ داری ہے۔قانون کی عجیب بالادستی ہے کہ ایک جانب سابق وزیراعظم نوازشریف باربارعدالت میں پیش ہورہے ہیں اوردوسری جانب امریکی ملٹری اتاشی کے بارے میں وزارتِ داخلہ عملاً الجھ کررہ گئی ہے۔اسی الجھاوے میں امریکی سفارت خانہ اس قاتل امریکی کوفرارکراسکتاہے اوروزارتِ داخلہ خاموشی سے اپناکندھا پیش کرسکتی ہے۔
اس صورتحال میں ریمنڈڈیوس کے پاکستان سے بحفاظت واپس امریکاجانے کے واقعے کاایکشن ری پلے ہوسکتاہے اوراپنے شہریوں کوسستابیچنے کی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے (بقول امریکی سفارت خانے کے ریمنڈڈیوس کی طرف سے خون بہاکی خطیررقم امریکانے نہیں بلکہ زرداری کے حکم سے پاکستانی خزانے سے اداکی گئی تھی) یاجیساکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ مقتول نوجوان عتیق کے والدسے کوہسارکے ایس ایچ او خالد اعوان کے علاوہ ایس پی بھی رابطہ کر چکے ہیں اوردیت وصولی کیلئے مائل کرنے کی غیررسمی کوششیں شروع بھی ہوچکی ہیں۔
ہوناتویہ چاہئے تھاکہ حکومت پاکستان کی طرف سے مبینہ سفارتی استثنیٰ کی باتیں سامنے آنے کے بعدہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھنے کی بجائے اپنے شہری کے نقصان پرسنجیدگی اورحساسیت دکھاتی اوروزارتِ خارجہ کی مددسے کم ازکم اس واقعے کی تفصیلات تک پہنچنے کی خاطرامریکی قاتل کی گاڑی سے ہٹ کرنے کے اصل ذمہ دارسے تفتیش ممکن بناتی۔اس کے خلاف مزید کاروائی کیلئے امریکی دفترخارجہ سے رابطہ کرکے اگر اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتاتواسے ختم کرانے کی بات کرتی کہ یہ پاکستان میں پہلاواقعہ نہیں ہے۔حکومت پاکستان نے اس معاملے کودانشمندی اوراپنے شہریوں کو جان ومال کے ساتھ کمٹمنٹ کے ساتھ ڈیل کرنے کاتاثرقائم نہیں کیاہے۔سول سوسائٹی نے بھی معاملہ امریکاسے متعلق دیکھاتوان کے منہ میں چھالے پڑگئے اورمکمل سکوت اختیارکرلیابلکہ یہ تاثربن رہاہے کہ جب بھی کسی امریکی قاتل کے ہاتھوں کسی بے گناہ پاکستانی شہری کی جان ومال کوخطرہ لاحق ہوگاتوحکومت پاکستان اپنے شہری اورووٹرکے ساتھ نہیں بلکہ امریکی قاتل کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
ایک طرف حکومت سیاسی اعتبارسے مشکلات کاشکارہو رہی اوردوسری جانب ملک میں عام انتخابات کی آمدآمدہے۔ان حالات میں حکومت کا اپنے شہریوں کی زندگی ناحق جانے پربھی اتنی سنجیدگی ظاہرنہ کرناجتنی لیگی حکومت نے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے موقع پرحسین نواز کی تصویرمیڈیا لیک ہونے پرسنجیدگی اوررنجیدگی ظاہرکی تھی۔کیاایک مکمل بے گناہ پاکستانی نوجوان عتیق کی جان لیے جانے کے واقعے کی اتنی بھی اہمیت نہیں جو حسین نوازکی تصویر سامنے آنے کی تھی۔اس معاملے کوبھی کم ازکم انسانی بنیادوں پرہی ٹیک اپ کرلیاجائے ۔ آخرکیاوجہ ہے کہ حکومت اورساری حکومتی مشینری جیتے جاگتے حسین نوازکیلئے جتنی پریشان رہی حکومت کے کسی ایک عہدیداریابڑے نے بھی اس مقتول عتیق کیلئے اتنی اپنائیت اور ہمدردی بھی ضروری خیال نہیں کی ہے۔خصوصاًایسے حالات میں جب الیکشن بھی قریب ہیںاوراس حوالے سے عوام جگہ جگہ حکمران لیگ کی اعلیٰ قیادت سے پوچھ سکتے ہیں بلکہ اس معاملے پرتمام سیاسی جماعتوں کاکرداربھی مختلف نہیں۔
سفارتی استثنیٰ کااحترام اپنی جگہ لیکن سفارتی استثنیٰ ایسی چیزنہیں ہے کہ سبھی کوہمیشہ اوریکساں طورپرملا ہے۔1961ء کے ویاناکنونشن کے باوجود ہرملک چاہے توکسی خاص صورتحال میں مہمان ملک سے درخواست کرے کہ معاملہ انسانی حقوق اور ہمارے شہریوں کے تحفظ کاہے،اس لئے اس معاملے میں متعلقہ سفارتی اہلکارکااستثنیٰ معطل کیاجائے تاکہ ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کی ادائیگی میں سرخروہوکر عوامی غیظ وغضب سے بچ سکیں لیکن یہاں توباواآدم ہی نرالالگتا ہے۔سب کچھ اہم ہے مگراپنے ملک کا عام آدمی اورعام شہری اہم نہیں ہے۔ حیرت انگیزہے کہ بیانیے میںووٹ کی عزت کانعرہ لگایا جا رہاہے لیکن ووٹرکی کوئی عزت نہیں۔یہ غیراعلانیہ بیانیہ صرف اس لئے چل رہاہے کہ حکومت امریکا بہادر کے ساتھ اپنے تعلقات کوہرقیمت پربرقراراوربحال رکھناچاہتی ہے۔جمہوریت کاراگ دن رات الاپنے کے باوجوداسے جمہورکے ساتھ صرف اس حد تک دلچسپی ہے کہ ان سے ووٹ ملتاہے جس کے نتیجے میں ملک کے کھربوں روپوں کے کے وسائل حکمرانوں کے ہاتھ میں آ سکتے ہیں لیکن افسوسناک امریہ ہے کہ عام آدمی کویہ اہمیت بھی محض الیکشن مہم کے دنوں میں ہی حاصل ہونے کاامکان یانیم امکان پیداہوتاہے۔اس کے بعد پھروہی ڈھاک کے تین پات ثابت ہوتے ہیں اورحکمران ان کہے لفظوں میں یہ صاف کہہ رہے ہوتے ہیں کہ توکون اورمیں کون؟اگرایک مرتبہ پھر پاکستان کے نوجوانوں کے خون کوامریکی قاتلوں کے قدموں پرنچھاورکئے جانے کی راہ ہموارکی گئی توپاکستانی عوام کا سخت ردّ ِ عمل آسکتاہے ۔ مائیں اپنی ممتاؤں پرحملہ کب تک برداشت کرتی رہیں گی؟
سوشل میڈیاجس قدرمؤثرعوامی پلیٹ فارم کے طورپرآج کل پاکستان میں کرداراداکررہاہے ،اس کے ہوتے ہوئے ماضی کی شرمناک اورقوم کیلئے توہین آمیزروایات کوجاری رکھنا حکومت کیلئے مشکلات بڑھائے گا۔امریکاکے مبینہ قاتل سفارتکار کیلئے پاکستان میں محفوظ واپسی کاایسے ماحول میں بندوبست کیاجاتاکہ جب پاکستان کے سفارتکاروں کوبھارت میں آئے دن ہراساں کئے جانے کی خبریں آرہی ہیں لیکن پاکستان میں ایک طاقتوربھارتی سرپرست ملک کے سفارتکاروں کوسڑکوں پردندناتے پھرنے اوریہاں کے لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کاموقع ملے ،تعجب انگیزہے۔اس سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کیلئے اتنی بھی حساسیت نہ دکھائے کہ وہ کم ازکم امریکاسے رابطہ کرکے اس مبینہ سفارتکارکیلئے ویانا کنونشن کے تحت موجودتحفظ اور استثنیٰ کومعطل کرنے کی ہی بات نہ کرلے۔گویاپاکستان کے شہری انسان نہیں ظالموں کی شکارگاہ کامال ہوئے کہ جوچاہے جب چاہے اورجہاں چاہے شکارکرتارہے۔
باوجودیہ کہ ہمارے دبنگ وزیرخارجہ خواجہ آصف ہراندرونی وبیرونی معاملے پرکھل کرہی نہیں بلکہ پورے دھڑلے سے بات کرنے کے عادی ہیں ۔ملک کے اندرقانون کی بالادستی کیلئے وہ اس حدتک قائل ہیں کہ کارکنوں کی میٹنگ میں وزیرخارجہ پرسیاہی پھینکنے والے مقامی نوجوان کی اسی قانون کی بالادستی کی وجہ سے ہی ہفتوں بعدضمانت ممکن ہوسکی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی نے حالیہ ہفتوں کے دوران ہی امریکا کاکامیاب وزٹ کیا۔ان کی امریکی نائب صدرسے ان کی رہائش گاہ پرون ٹوون ملاقات بھی ہوئی،گویاوزیراعظم نے ایک ہی جست میں امریکی قیادت سے قربت کی کئی منزلیں طے کرلی مگراپنے شہریوں کوخون کیلئے حکومت کاکم ازکم ابتدائی طورپربے دست وپا نظرآناچشم کشاہے۔ فطری طورپرعوام کی طرف سے پوچھاجانا چاہئے اگرامریکاکے مقابل ہماری حکومت اس قدربے بس ہے توامریکی قیادت سے ملاقاتوں میں ایسے کیا رازو نیازہوتے ہیں کہ ہم اپنے شہریوں کے امریکی قاتلوں سے نمٹنے کیلئے بھی امریکی انتظامیہ کی مددحاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
دوسری جانب الٹی گنگایہ بہانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مقتول کے والد اوراہل خانہ سے پولیس کے ذریعے یہ کہلوایاجارہاہے کہ آپ کابیٹاتواب واپس نہیں آئے گا اس لئے دیت کامعاملہ کر لینابہترہوگاگویااپنے شہریوں کے خون کاسودے کیلئے وزارتِ داخلہ امریکی قاتل کی نمائندہ بن کر کردار اداکرنے کوایک مرتبہ پھر تیار ہے تاکہ امریکی قاتل ایک مرتبہ پھرپاکستان سے باعزت فرار ہوسکے حالانکہ چندبرس اس نوعیت کاایک واقعہ لندن میں پیش آیاتوبرطانیہ نے امریکاسے ملزم سفارت کارکااستثنیٰ ختم کرنے کامطالبہ بھی کیاتھا اوراس امریکی کوگرفتاربھی کیاتھا۔کیاپاکستان کی انتظامی اورقانونی مشینری اس نظیرسے فائدہ اٹھانے کاحوصلہ بھی نہیں رکھتی؟
کیاحکومت وقت جسے صرف چھ ہفتے کے بعدنئے مینڈیٹ کیلئے عوام سے رابطہ کرناہے،اپنے ووٹروں کویہ باورکراسکے گی کہ ہمارے لئے صرف ووٹ ہی نہیں ووٹربھی قابل احترام ہے۔عوام سے ووٹ کی حرمت کی ترغیب دینے والوں کیلئے خودبھی ووٹرکااحترام ضروری ہے۔اپنے ملک کے ووٹر کے تحفظ اورعزت کیلئے امریکاسے بات تک نہ کرنامعنی خیزہے۔
ایسے حالات میں خودامریکا معمولی جرائم پرسفارتکاروں کے ساتھ کیاسلوک کرتاہے؟13 جون 2017ء میں بنگلادیش کے نائب قونصل جنرل محمد شاہد الاسلام پردھونس،دھمکی سے اپنے ملازم سے بلامعاوضہ کام کروانے پرگرفتارکرکے سزاسنادی گئی۔ ایساہی ایک اورواقعہ میں13دسمبر 2013ء کوامریکا میں تعینات بھارتی سفارت کارخاتون دیویانی خوبرا گیڈ اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑنے جارہی تھیں کہ انہیں اسکول کے قریب سے حراست میں لے لیا گیا۔اس پربھی اپنے گھریلو ملازمہ پرکم تنخواہ دیکرزیادہ کام لینے کاالزام تھا۔ جنوری 1997ء میں جارجیا کے ڈپلومیٹ جارجی ماخاردزے سے واشنگٹن میں ایک حادثہ نے اپنی لپیٹ میں پانچ گاڑیوں کو لے لیا۔اس میں ایک سولہ برس کی لڑکی کی موت ہو گئی ۔ اس پر امریکا میں شدید عوامی احتجاج ہواجس پرامریکانے سفارت کار کا سفارتی استثنا ختم کرنے پرمجبورکردیااورجس کے بعد اسے 19اکتوبر1997ء کو سات برس جیل میں گزارنے کے بعدملک بدری کی سزا پرعملدرآمدکروایاگیا۔ پاکستانی حکومت کو یہ ذہن نشین رکھناچاہئے کہ خدانخواستہ اگر امریکا میں ایساجرم کسی پاکستانی سفارتکارسے سرزد ہوتاتواس سے کوئی رعائت نہ ہوتی۔اس لئے اب یہ ضروری ہوگیاہے کہ موجودہ حکومت امریکی سفارتکارسے بھی وہی سلوک کرے جس سزاکاوہ امریکامیں مستحق ہوتاوگرنہ آئندہ انتخابات عوام ووٹ کی عزت بچانے کی بجائے ووٹرکی عزت کابدلہ ضرورلیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں