تاریخ کاکوڑہ

:Share

ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ اقوام متحدہ کااب بڑی طاقتوں بالخصوص امریکاکی لونڈی سے بڑھ کرکوئی کردارنہیں رہا اورموم کی ناک کی طرح اپنی مرضی کے مطابق اس کی ناک مروڑ کراسے استعمال کیاجارہاہے۔مشرقی تیمورکامعاملہ فوری طورپرتوجہ کامرکزاس لئے بن گیاکہ وہاں مغرب اورامریکا کو مسیحی برادری کوبچانے کیلئے انسانیت کادرس یادآگیا لیکن اسی اقوام متحدہ میں پچھلی سات دہائیوں سے کشمیراورفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کابہتاہواخون اوروہاں کے مظلوموں کی آہ و پکاران کونہ ہی دکھائی اورسنائی دے رہی ہے اور اس وقت غوطہ کے مسلمانوں کے خون کی ارزانی نے توامریکا،روس اورمغربی انسانیت کے منہ پرکالک مل کررکھ دی ہے۔غوطہ شام میں شامِ غریباں کے دلخراش مناظرسب کے سامنے عیاں ہیں جہاں بشارالاسدنے اپنے اقتدارکی بقاء کیلئے اب تک بے دریغ لاکھوں شہریوں کوقتل کردیاہے۔نقل مکانی کرنے اوردوسرے ملکوں میں پناہ لینے والی شامی باشندوں کی تعدادایک کروڑ سے زائدہوچکی ہے لیکن شامی ڈکٹیٹربشارالاسدکے خون کی پیاس بجھنے کانام نہیں لے رہی۔
اگربشارالاسدکی حکومت تنہاہوتی تووہ اپنے خلاف عوام کی مزاحمت ،جسے وہ بغاوت قراردیتی ہے ،کامقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔شامی باشندوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ بشارالاسدکی پشت پناہی کرنے والوں میں روس،ایران کے علاوہ لبنان کی ایران نوازشیعہ تنظیم حزب اللہ کے علاوہ کرایہ کے ازبک اوردیگرممالک کے شیعہ جنگجوباقاعدہ اس کونی کھیل میں شامل ہیں، پچھلے ایک ماہ کے دوران محصورغوطہ پرفضائی اوربری حملوں میں ایک ہزارسے زائدافرادشہیدہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوزکرچکی ہے جن کے علاج کیلئے ادویات بھی ناپیدہوچکی ہیں اورغذائی اجناس کے سلسلے میں بھی ایک قحط کا منظرہے۔اقوام متحدہ نے غوطہ کی موجودہ صورتحال کوقطعی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تسلیم کیاہے کہ عام شہری باشندوں کواجتماعی سزادی جارہی ہے۔ جنگ بندی پرعملدرآمدکی بجائے اب عام آبادیوں ۔ اسکولوں میں پناہ لینے والوں اورہسپتالوں پربھی فضائی اورزمینی حملوں سے نشانہ بنایا جارہاہے ۔امدادی کاروائی کرنے والے تمام اداروں اور افرادکوبھی وہاں جانے کی قطعی اجازت نہیں بلکہ خودراقم کواپنی ایک امدادی ٹیم کے ساتھ بیروت لبنان میں غوطہ کےمسلمانوں تک جانے کیلئے نہ صرف شام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکی بلکہ شامی سرحدپرحزب اللہ کی جانب سے نہ صرف حراساں کیاگیابلکہ مسلکی منافرت اورجان سے ماردینے کی دہمکیوں کابھی سامناکرناپڑا۔
ادھرشام کے سرکاری ذرائع کادعویٰ ہے کہ بشارالاسدکی فوج نے مشرقی غوطہ میں مزیدپیش قدمی کرتے ہوئے اس کے ایک چوتھائی اورکئی دوسری اہم راستوں پرقبضہ کرلیاہے۔ شامی حکومت کایہ دعویٰ ثابت کرتاہے کہ ابھی تک پچھتر فیصد علاقے کے لوگ بشارالاسداوراس کی فوج اورملیشیاکو پسندنہیں کرتے۔شدیدلڑائی اوربمباری کے باعث لوگوں کی نقل مکانی کاسلسلہ بڑے پیمانے پرجاری ہے۔شہریوں کی ایک بڑی تعدادتہہ خانوں میں پناہ لیکراپنی جانیں بچانے کی کوشش کررہی ہے اورایک اطلاع کے مطابق فضائی بمباری سے یہ پناہ گاہیں ان مظلوموں کی اجتماعی قبروں میں تبدیل ہوگئیں۔ روس،ایران ،حزب اللہ اورشام کے کردارسے قطع نظر،ایک طرف مسلم دنیامیں شام کے بحران اورخانہ جنگی پرکوئی قابل ذکر ہلچل نظرنہیں آتی تودوسری طرف عالمی امن کے قیام کاذمہ دار ادارہ اقوام متحدہ بھی مسلمانوں کے دیگر معاملات کی طرح شام کے مسئلے پر اظہارِافسوس اورقراردادیں منظور کرنے سے آگے بڑھ کرکوئی عملی اقدامات نہیں کررہا۔اقوام متحدہ کے پاس عالمی امن فورس موجودہے جس میں مختلف ممالک کے فوجی دستے شامل ہیں اوران کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیامیں جہاں کہیں بھی گڑبڑدیکھیں،فوری طورپرمداخلت کرکے انسانی جانیں بچانے کیلئے عملی جنگ بندی کروائیں۔
مارچ۲۰۱۱ءسے جاری شام کی جنگ یاخانہ جنگی کوروکنے کیلئے اقوام متحدہ نے کوئی قابل ذکرکردارادانہیں کیا۔ادھراقوام متحدہ نے سیزفائراورجنگ بندی کی جب بھی قراردادمنظور کرنے کی کوئی کوشش کی تواسے روس نے ویٹوکردیا جس کے بعداس ادارے کے وجوداورجوازکے سلسلے میں کئی اہم سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ فلسطین،مقبوضہ کشمیر،افغانستان اورعراق میں بھی اقوام متحدہ مسلمانوں کی تباہی اورخونریزی کوبڑی خاموشی اوراطمینان سے دیکھتاچلاآ رہا ہے۔گزشتہ ماہ فروری میں بشارالاسدکی حکومت کے قبضے میں ملک کا۵۵ فیصدحصہ بتایاگیاجس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ اپنی تمامتر خون آشامی اور ایران،روس ،حزب اللہ ودیگر ملیشیا گروپس کی عسکری امدادکے باوجودنصف کے قریب ملک سرکاری کنٹرول میں نہیں ہے۔امریکانے کچھ عرصے تک بشار الاسد کی مخالفت کرکے اسے اقتدارسے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اس کی کوششیں قطعی طورپرسطحی اورنمائشی تھیں۔اسے شامی فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام سے کوئی دلچسپی ہے نہ مظلوم شامی باشندوں سے کوئی دلچسپی یاہمدردی،چنانچہ اب وہ عدم تعلق اورغیرجانبداری کی چادراوڑھ کر شامی مسلمانوں کے قتل عام کاتماشہ دیکھ رہاہے۔اپنااثرورسوخ استعمال کرنے کے علاوہ امریکااگراقوام متحدہ پر دباؤ ڈالے تواس کی فوجیں شام کے لوگوں کوعظیم انسانی المیے سے بچاسکتی ہیں ۔ترکی نے شام میں موجودکردباغیوں کو کچلنے کیلئے فوجی کاروائی کے علاوہ شام کی سنگین صورتحال پرعالمی برادری کومتوجہ کرنے کیلئے مسلسل آوازاٹھائی ہے۔
مارچ۲۰۱۱ءسے اب تک شام میں ہلاک ہونے والوں کی تعدادساڑھے تین سے پانچ لاکھ سے بھی تجاوزکرچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جولائی ۲۰۱۵ء تک شام کے اندر۸۰لاکھ کے قریب باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اوراب تویہ تعدادایک کروڑ سے زائدہوچکی ہے۔ جولائی۲۰۱۷ء تک ۵۱لاکھ سے زیادہ نقل مکانی کرنے والے شامی باشندوں کااقوام متحدہ کے مذکورہ کمیشن میں اندارج ہواتھا۔ بشارالاسد۲۰۰۰ءمیں اپنے باپ حافظ الاسد کے بعدشام کاصدربناتھا۔اس کے دورمیں بیروز گاری،کرپشن، شہری آزادیاں چھیننے اورحکومتی مظالم کاسلسلہ عروج پرپہنچاتومارچ۲۰۱۱ءمیں حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع ہوئی جس کے جواب میں بشار لاسد نے روس ،ایران اور حزب اللہ کی مددسے مزاحمت کرنے والوں کاقتل عام شروع کردیا۔اس کے نتیجے میں لاکھوں شامی باشندے جاں بحق اورکروڑوں بے گھرہوگئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن عربوں اورمسلمانوں کی تمام تنظیموں سمیت پوری عالمی برادری میں بے حسی چھائی رہی اورلوگ خداکی بے آواز لاٹھی کی حرکت کا انتظارکرتے رہے۔
اپنی جانیں بچانے کیلئے شامی باشندوں نے دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کیلئے زمینی اورسمندی راستوں کواختیارکیااوراسی دوران ایک شامی کشتی سمندر کی بپھری ہوئی لہروں کاشکارہو کرڈوب گئی جس کے نتیجے میں ایک معصوم شامی بچے کی لاش ترکی ساحل پرپہنچ گئی جس کی تصویرجونہی وائرل ہوئی تو ساری دنیامیں بالخصوص یورپ میں کھلبلی مچ گئی اورانسانی ہمدردی کے تحت مقامی باشندوں نے اپنی اپنی حکومتوں کوان بدنصیب شامی مہاجرین کی امدادکرنے کیلئے دباؤڈالناشروع کردیاجس کے جواب میں سب سے پہلے کینیڈا کے۲۳ویں وزیراعظم جواں سال جسٹن ٹروڈیونے انسانی ہمدردی کاانمول مظاہرہ کرتے ہوئے۲۰۱۵ءتک۴۰ہزارشامی مہاجرین کوملک میں باقاعدہ مستقل پناہ کی باقاعدہ نہ صرف اجازت دی بلکہ خودہوائی اڈے پران کاجس خوش دلی اورپرنم آنکھوں سے استقبال کیا۔وہ تاریخ میں یادرکھاجائے گا۔اب تک ۶۰ ہزارسے زائدشامی کینیڈامیں پناہ لے چکے ہیں۔
جرمنی کی خاتون حکمران چانسلراینجلامرکل نے بھی شامی مہاجرین کواپنے ملک میں پناہ دینے کااعلان کیاجس پربائیں بازو کی جماعت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس اقدام کوالیکشن کانعرہ بنادیاجس کے جواب میں اینجلامرکل نے یہ دلیل دی کہ میں نے ان بے خانماں شامی مہاجرین کواپنے ملک میں قیام کی اس لئے اجازت دی ہے کہ ان کی اگلی نسل یہ یاد رکھے گی کہ اس انتہائی مشکل وقت میں ان کے اپنے مسلمان ہمسایہ ملکوں بشمول مکہ اورمدینہ کے حکمرانوں نے ان کیلئے اپنے ملکوں کی سرحدوں کومکمل طورپربندکردیا تھااوران کے آباؤاجدادکی زندگیاں بچانے کیلئے نہ صرف مسیحی ملک جرمنی نے پناہ دی بلکہ معاشی طورپرمددکرکے ان کو پاؤں پر کھڑا کرنے میں بھی پورے اخلاص کے ساتھ مددکی جبکہ امریکی قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ نے جونہی اقتدار سنبھالاتوان کا ایک منافرتی بیان بھی تاریخ اپنے اندرمحفوظ رکھے گی کہ امریکا اب کسی اورمسلمان مہاجرکونہیں البتہ شامی عیسائیوں کوپناہ دینے کیلئے تیارہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ اینجلامرکل کا بیانیہ بھی ان مسلمان حکمرانوں کی نسل کے ضمیروں پر کوڑے برساتارہے گااورتاریخ ان شرمناک کرداروں کابھی ریکارڈمحفو ظ کررہی ہے جنہوں نے غزہ فلسطین،مقبوضہ کشمیر،یمن،عراق اورافغانستان میں لاکھوں انسانوں کوتہہ تیغ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں