غافل:زمانہ قیامت کی چال چل گیا

:Share

اس جدیددورمیں ملکوں کوفتح کرنے کیلئے افواج کی نہیں بلکہ معاشی طورپرمفلوج کرکے،اپنادست نگربناکر اپنی شرائط پر ملکوں کی قسمت کا مالک بننے کا پروگرام جاری وساری ہے۔معاشی طورپرزیرکرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس وقت یہ خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔اسٹیٹ بینک پاکستان کی خودمختاری کے حوالے سے ایک مسودہ قانون منظرعام پرآیاہے جس پرکئی حلقوں نے شدیدتشویش کا اظہارکیاہے۔ناقدین کاخیال ہے کہ اس سے ملک کیلئے بہت سارے مالی اورمعاشی مسائل پیداہوں گے۔ اس مجوزہ قانون کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ2021 کانام دیا گیا ہے اوراس کی منظوری وفاقی کابینہ نے9مارچ کودی تھی۔یہ مسودہ قانون ملک میں بہت سارے مالی اورمعاشی مسائل کاموجب توبنے گاہی بلکہ اس کے نتیجے میں ملکی اہم ادارے اورحساس تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورملک معاشی بدحالی کی وجہ سے سماجی انتشارمیں بھی مبتلاہوجائے گا۔

حکومتی حلقوں کادعویٰ ہے کہ اس مسودہ قانون کابنیادی مقصد اسٹیٹ بینک کے اندرسیاسی اثرورسوخ کوختم کرناہے لیکن ان قوانین کابغور مطالعہ کریں تو پاکستان کی خودمختاری کوگروی رکھ دیاگیاہے۔مالیاتی امورحکومت کے کنٹرول سے نکل جائیں گے ۔اس قانون کے بعداسٹیٹ بینک حکومت کے اختیار سے باہرنکل جائے گااورحکومت کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا مکمل اختیار بینک کے پاس آجائے گاجس سےمعیشت پرخطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کواپنی پہلی ترجیح بنائیں اوردوسرے اخراجات کے بارے میں بعد میں سوچیں۔اس کامطلب یہ ہے کہ حکومت کی آمدنی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے چلی جائے گی۔

اگرحکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے سکے گی توپھرایسی صورت میں حکومت کوکمرشل بینکوں سے مہنگے قرضے لینے پڑیں گے اور 80فیصد سے زائد بینکنگ سیکٹرکی جوملکیت ہے وہ غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف حکومت قرض اتارنے پرلگی ہوگی اوردوسری طرف حکومت مزید قرض لینے پرمجبورہوگی،جس کی وجہ سے ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کر پائے گی۔ میرے خیال میں حکومت نے آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی ہے کہ یہ بل نافذ کیاجائے گا،اسی لیے 50کروڑ ڈالرزکی قسط ملی ہے لیکن جب حکومت اس بل کونافذ کرے گی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے یہاں تک کہ آپ کا جوہری پروگرام بھی متاثرہوگا،پولیس اورسرکاری ملازمین کوتنخواہ دینے کے لیے بھی لالے پڑجائیں گے۔

عمران 22سال محنت کے بعدحکومت کے 22ویں وزیراعظم بنے اورآئی ایم ایف کابھی یہ پاکستان میں 22واں پروگرام ہے۔ یہ22 کاعدداب ملک میں کیاقیامت ڈھائے گا۔ڈھائی سال میں حکومت افراط زرپرقابوپانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ سٹے کی ناجائزکمائی کو چھپانے کیلئے سینکڑوں جعلی اکائونٹس کھلے ہوئے ہیں۔حکومت کی ناک کے نیچے یہ سارادھنداہورہاہے۔ ہفتہ کے روزایف آئی اے نے ان اکائونٹس کومنجمدکرنے کاحکم جاری کیاہے جبکہ اس حکم کے آنے سے قبل ہی ان اکائونٹس سے رقوم نکلوا لی گئی ہیں۔حکومت کوان اکائونٹس ہولڈرکی تفصیلات کاپہلے علم کیوں نہیں ہوسکاجبکہ بینک اکائونٹس کھولنے سے پہلے وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ تمام ہدایات پرعمل کرنابہت ضروری ہے اوراس کے بعد اکائونٹس کھلتاہے۔اب جن اکائونٹس سے رقوم نکال لی گئی ہیں،ان کے خلاف اب تک کیوں کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی؟

عمران خان کوحکومت سنبھالتے ہی اس مشکل وقت سے نکلنے کے کئی قابل عمل راستے بتائے گئے لیکن مجھے یہ کہنے دیں کہ حکومت کامنشاء تھاکہ آئی ایم ایف کے پاس ضرورجاناہے۔ اگرپی ٹی آئی کے پہلے وزیرخزانہ اسد عمرکے بیانات کودیکھ لیں تو انہوں نے خودٹی وی پرایک انٹرویو میں کہاتھا کہ میں نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کودیکھ کرعمران خان کوآئی ایم ایف سے دوررہنے کامشورہ دیاتھااورضروری اقدامات کی نشاندہی کرکے اس بحران پرقابوپانے کامشورہ دیاتھالیکن آئی ایم ایف کے پاس جاناکم ازکم میری ذمہ داری نہیں بنتی گویادوسرے الفاظ میں انہوں نے اپنے منصب سے مستعفی ہوناقبول کرلیا لیکن اقتدارکا چسکا کچھ ایساہے کہ چندماہ دوررہنے کے بعداسی تنخواہ پردوسری وزارت قبول کرلی اوراب وہ بھی اپنی آنکھوں سے پاکستان کے اس مالیاتی بحران کودیکھ رہے ہیں۔ دراصل اب سٹیٹ بینک اس آڑڈیننس کے بعدپاکستانی آئین اورعدالتی بندشوں سےمادرپدر آزادہو جائے گا اورآئی ایم ایف کی مرضی سے یہ بننےوالاقانون ایک نئے وائسرائے کی صورت میں پاکستانیوں کی قسمت کافیصلہ کرنے میں آزادہوگا۔

صرف چندبرس پیچھے جاکردیکھیں توہاٹ منی کے قانون کے مطابق 2018-19میں غیرملکی ترسیلات پرکمیشن کاسلسلہ شروع ہواتواربوں روپے کالین دین ہوا،اس وقت غیرملکی باشندوں نے اس قانون کی آڑ میں اربوں روپے بنائے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس مجرمانہ جرائم کی تحقیقات کرسکیں اوراب اگریہ قنون نافذہوجاتاہے توکوئی ادارہ یافرداس بات کامجازنہیں کہ سٹیٹ بینک کے گورنریاڈپٹی گورنرسے کوئی بھی سوال کر سکے،تحقیقات توبہت دورکی بات ہے۔میں یہ بھی بتادوں کہ ملک میں پہلی مرتبہ اس قانون میں واضح طورپرنام لیکربتایاگیاکہ آئی ایم ایف،گورنر، ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک کسی بھی قسم کی تحقیقات سے مبراہیں، کوئی ان سے کسی بھی قسم کاسوال نہیں پوچھ سکتا گویا ان کوہرکام کرنے کی مکمل آزادی ہے۔آپ ملک کے وزیراعظم اور دوسرے اداروں کے سربراہوں کو بلاکرسوالات وتحقیقات کرسکتے ہیں لیکن سٹیٹ بینک کے کسی بھی سنیئرایگزیکٹوکی طرف انگلی تک نہیں اٹھاسکتے۔ اسی ضمن میں ایک اورکیس بھی چل رہاہے کہ”کے ایس بی بینک”کوایک ہزارروپے میں فروخت کر دیاگیاتھا،اب اس کی تحقیقات بھی بندہوجائیں گی۔

میں آپ کے توسط سے آپ کے قارئین کویہ بھی بتاناچاہتاہوں کہ کل کلاں اگرآئی ایم ایف اور اس کابننے والاذیلی ادارہ سٹیٹ بینک اس قانون کے تحت وزیراعظم اورہماری فوج کے سربراہ سے کویہ حکم دیں کہ پاکستان کاانڈیاکے ساتھ الحاق کیاجائے،کنفڈریشن بنادی جائے یااس کوبھارت کا طفیلی ملک بنا دیاجائے توکیاآئی ایم ایف کایہ مطالبہ مان لیں گے؟کیاپاکستانی عوام ایساکرنے دے گی؟ کیانیو کلیئریامیزائل پروگرام کوکیپ کرنے کامطالبہ آیاتوان کاردِّعمل کیاہوگا؟

اس قانون کے تحت سٹیٹ بینک سے معیشت کے بارے میں عالمی مالیاتی اداروں کوتمام معلومات دینے کاپابندہوگاچاہے اس کاتعلق پاکستانی کے حساس معاملات کے ساتھ بھی کیوں نہ ہو۔سٹیٹ بینک یہ کہہ کرانکارنہیں کرسکتاکہ یہ سٹیٹ سیکرٹ ہے،یہ سیکرٹ توہم پاکستان میں بھی کئی اداروں کے ساتھ شئیرنہیں کرسکتے کیونکہ اس کاتعلق پاکستان کی داخلی وخارجی سلامتی کے ساتھ متعلق ہے،کچھ معلومات توایسی ہیں جوکابینہ کے سامنے بھی آشکار نہیں کی جاسکتی،صرف دوچارحکومتی اہلکاروں کے سواکسی سے اس کاذکر تک نہیں کرسکتے،اس لئےیہ ہم نہیں دے سکتے، قانون کے تحت یہ مالیاتی ادارے کسی بھی وقت کوئی بھی معلومات کامطالبہ کریں گے توسٹیٹ بینک انکار کرنے کامجازنہیں ہوگا۔ اس نئے قانون کےغالباًآرٹیکل 46بی کے تحت سٹیٹ بینک اس کامجازہے کہ وہ تمام بین الاقوامی اداروں کومطلوبہ معلومات فراہم کرنے بعدملک میں کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوگا۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخریہ کیوں کیاگیا۔میرے نزدیک ٹائمنگ بہت اہم ہے۔

حفیظ شیخ سینیٹ میں شکست کے بعدانتہائی دل برداشتہ اورزخم خوردہ ہوگئے ہیں اورباوجودوزیر اعظم کی ان کے منصب پر برقراررہنے کی یقین دہانی کے بعدان کواپنامستقبل تاریک نظرآرہاہے اوراس وقت وہ اقتدارکی ننگی تلوارپرننگے پاؤں چل رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس صاحب نے بھی اپنے ایک مکالمے میں ان کوشکست کے بعدہٹ جانے کامشورہ دیاہے۔اب آئی ایم ایف کو اس بات کاخدشہ ہے کہ ہمارے دونوں ملازم گورنرسٹیٹ بینک اورحفیظ شیخ کوان کے مناصب سے ہٹانہ دیاجائے،اس لئے آئی ایم ایف نے عجلت میں اس قانون کوعمران خان سے منظورکروانے کوکہاہے جس کی تعمیل میں 9مارچ کواپنی کابینہ سے منظوری حاصل کرچکے ہیں اورساری قوم کوان دنوں سینیٹ کے انتخاب میں بری طرح الجھاکررکھاگیااوریہ خطرناک قانون کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔اس قانون کی مخالفت میں عوامی دبائویابڑے پیمانے پرسیاسی انتشارکے بعد یقیناًآئی ایم ایف ان کوواپس بلانے میں بھی لمحہ بھرکی تاخیرنہیں کرے گی اوران کے متبادل میں اپنے دوسرے گھوڑے میدان میں اتاردے گی۔جس طرح ان دونوں افراد نےملک میں ہیلی کاپٹرکے ذریعے ایوان اقتدارمیں لینڈنگ کی تھی،اسی ہیلی کاپٹرسے واپس اپنے بچوں کے پاس دبئی یاامریکا پہنچادیئے جائیں گے اورانہیں پھرکسی اورملک کوغلام بنانے کامشن سونپ دیاجائے گاگویااس طرح قوم کوایک مزیددھوکہ دیکران کی آنکھوں میں دھول جھونک دی جائے گی ۔

یہ ادارے اس مرتبہ پوری قوت کے ساتھ اپنے مقاصدکے حصول کیلئےاندرون ملک ہی اکنامک وارکاآغازکرنے جارہے ہیں جہاں قوم کواپنے اس خفیہ دشمن کابھی چہرہ بھی نہیں دیکھنے کوملے گااورقوم کو خاکم بدہن ایک خوفناک خونی انقلاب کی طرف دھکیلاجارہاہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سوویت یونین جیسے مضبوط ترین ملک کو بھی معاشی تباہی کی طرف دھکیل کراسے سے عالمی طاقت کااعزازچھین کربری طرح شکست دیکر ایسالاغرکردیاگیاہے کہ وہ ابھی تک اپنی سابقہ حیثیت کی بحالی کیلئے ہاتھ پا ؤ ں ماررہاہے۔

اب دوسری طرف ان نئے قوانین پرعملدرآمدکروانے کیلئے ایف بی آرکومتحرک کردیاگیاہے جس نے تمام پاکستانیوں کویہ حکم صادرکردیاہے کہ تمام افراد اپنے ہرقسم کے کاروبارکی مکمل تفصیلات،ان کی متعلقہ جائداد،فون نمبرز،اپناٹیکس نمبر31مارچ تک جمع کروادیں اوراس میں اب کسی قسم کی کوئی رعائت نہیں دی جائے گی اورناکامی کی سورت میں بھاری جرمانے اورقیدکی سزائیں سنائی جائیں گی اورکوئی فرداس سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔تمام پاکستانیوں کوہرقسم کے یوٹیلیٹی بلزپردی گئی تمام مراعات ختم کردی گئی ہیں۔ودہولڈنگ ٹیکس کوئی پوری قوت سے نافذکیاجائے گااوراس پردی گئی رعائت کوبھی ختم کردیاگیاہے۔پاکستان میں کام کرنے والے ملکی مالیاتی اداروں کوبھی دی گئی مراعات کویکسرختم کردیا گیا ہے جس سے اس بات کاخدشہ یقین کی حدوں کو چھونے لگاہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ ملکی سرمایہ باہرکے ملکوں کومنتقل ہوناشروع ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت بجلی کے بلوں میں ساڑھے سات فیصدتک اضافہ کرنے کی مجازہوگی جس کااعلان ہوچکاہے۔اس سے پاکستانی عوام کی جیب سے مزید156/ارب روپے وصول کئے جائیں گے اور صنعتوں کو بھی بجلی کے بھاری بلوں کے عذاب سے گزرناہوگاجس سے یقیناً ہماری ایکسپورٹ کاچڑھتاہواسورج دوبارہ غروب ہوناشروع ہوجائے گاجس کے نتیجے میں صنعتوں کے بندہونے سے تباہ کن بیروزگاری سے اس ملک کو انتشارمیں مبتلاکرکے اس کی آڑمیں اپنے دوسرے مقاصدکے حصول کامکروہ مشن شروع کیاجائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ملک میں پہلے ہی چندلاکھ افرادٹیکس فائلرہیں۔ان ٹیکس گزارکو31مارچ کی تلوارکا نشانہ بنانے کی دہمکی کیوں دی گئی ہے اور کروڑوں افرادجوحکومتی نالائقی کی بناء پرٹیکس کے نظام میں داخل نہیں کئے جاسکے،ان کوٹیکس نیٹ ورک میں لانے میں کیوں کوتاہی برتی جا رہی ہے اوران کے بارے میں کیوں کوئی پروگرام وضع نہیں کیاگیا،نادرہ کے ریکارڈسے تمام فون استعمال کرنے والوں کی معلومات کیوں حاصل نہیں کی گئیں۔فون کے بلز،ان کے محلات،بیش بہاقیمتی گاڑیاں،ملک اوربیرون ملک سفرکی تفصیلات،کریڈٹ کارڈپرہونے والی خریدوفروخت اور اخراجات کے بلزپران کے شناختی کارڈکاثبوت آخرکس دن کام آئے گا۔ہوناتویہ چاہئے کہ ٹیکس فائلربالخصوص تنخواہ دارطبقہ جوہرماہ سرکارکے خزانے میں ٹیکس جمع کروارہے ہیں۔ان کوقوانین کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے انہی کو31مارچ کاالٹی میٹم دے دیاگیاہے۔

اس وقت پاکستانی قوم سراسیمگی میں جاری مسائل سے اس قدرتنگ آچکی ہے کہ مہنگائی کابم کبھی بھی پھٹ کرسب کچھ بہا کر لیجاسکتا ہے ۔حکومتی اتحادی جوآٹاچینی مافیاکی شکل میں اربوں روپے ڈکار چکے ہیں،ان کے خلاف خودکابینہ کے کئی وزرابھی اپنی رپورٹس میں ان کومجرم قراردے چکے ہیں۔کیاوجہ ہے کہ وزیراعظم ان کے خلاف راست اقدام اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ وزیر اعظم کاایمانداری کا دعویٰ بھی داؤپرلگ گیا ہے کہ ان کے اردگرداربوں روپے کی یومیہ دیہاڑی لگانے والے اب تک کیوں موجود ہیں؟ قوم کواب تک نہیں بتایاگیاکہ خسروبختیارایک ہزار ارب،جہانگیرترین 325/ارب، کیانی 600/ارب اوراب ندیم بابر346/ارب سبسڈی کے نام پرلے اڑے،ان کواب تک گرفتارکیوں نہیں کیاگیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں