پائے رسولﷺ کے نقوش

:Share

ہرسال16دسمبرہی اپنی دلخراش یادوں سے ہم دل جلوں کواشکبارکرنے کیلئے کیاکم تھاکہ ایک اورقیامت صغریٰ نے بھی اس میں اپناایساحصہ ڈال دیاہے کہ زندگی بھر اس دردکی ٹیسیں ہمیں یاددلاتی رہیں گی کہ پھولوں کے شہرپشاورمیں132پھولوں کومسل کررکھ دیاگیا،وہ جواپنے ہاتھوں میں قلم اورکتاب تھامے اپنی نبی ۖکے احکام کی تعمیل میں علم حاصل کررہے تھے ، ان کواتنی بھی مہلت نہ ملی کہ اپنی ماں سے یہ کہہ سکیں کہ دیکھ ماں!میرے لباس پراس سرخ روشنائی ہم سب کی عقبیٰ وآخرت کی نجات کاوسیلہ بن گئی ہے۔میںعہ دن کیسے بھلادوں جب پشاورکی سڑکوں پر اچانک چیختی چنگھاڑتی سائرن بجاتی ایمبولنسوں کااژدہام جہاں قیامت صغریٰ کاسماں پیش کررہاتھاوہاں پوری قوم غم و اندوہ اورشدید صدمے اور سکتے کی حالت میں گم سم اپنے رب کے حضورگڑگڑاکراپنے رب سے رحم وکرم کی فریادکررہے تھے۔یہ دلدوز خبرسنتے ہی ننگے سراور پاؤں ماں باپ اپنے پیاروں معصوموں کودیوانوں کی طرح ڈھونڈنے کیلئے سڑکوں پردوڑرہے تھے کہ وہ آنے والی قیامت صغریٰ کواپنے سینے پرروک کراپنے بچوں کوبچالیں۔

اس میں شک نہیں کہ یہ قوم کے نونہال اس فانی دنیاسے داربقاءکی طرف تشریف لے گئے ہیں،اس عارضی زندگی کی بہاروں اورگلوں کی خوشبوؤں سے منہ موڑکردائمی بہار،سدا خوشبوؤں ومہک کے گلستانوں میں براجمان ہوگئے ہیں اوراپنے ہرتعلق رکھنے والوں کوچھوڑکراپنے مولا کے ساتھ مضبوط تعلق کارشتہ جوڑچکے ہیں۔موت توکوئی نئی چیز نہیں،موت تو ہرایک کوآنی ہے۔موت کے قانون سے نہ توکوئی نبی مستثنیٰ ہے نہ کوئی ولی،جوبھی آیاہے اپنامقررہ وقت پوراکرکے اس دنیاسے رخصت ہوجاتاہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ہم سب اس کی امانت ہیں پھرکس کی مجال جواس میں خیانت کرسکے لیکن اس بھری معصومیت میں اس طرح حالتِ ایمان میں قربان ہوجانااس کے حق میں بڑی نعمت ہے اورپھر کیوں نہ ہو،ایسی موت تووصل حبیب اوربقائے حبیب کاخوبصورت سبب اورحسین ذریعہ ہے اورپھربقائے حبیب سے بڑھ کر اور نعمت کیاہوگی!

اس دنیامیں جوبھی آیاہے اسے یقیناًایک دن جاناہے اوراس دنیامیں آناہی درحقیقت جانے کی تمہیدہے مگربعض جانے والے اپنے ماں باپ، لواحقین اوراہل وطن کیلئے دولت اورفخرو انبساط کی ایسی وراثت چھوڑجاتے ہیں کہ جس کے آگے خزائن و حشم سے مالامال شہنشاہ بھی سوفقیروں کے فقیراورسوکنگالوں کے کنگال لگتے ہیں۔

ان معصوم شہداء نے بھی اپنے خونِ دل اورجان سے پائے رسولﷺکے نقوش کوایسااجاگرکیاہے کہ ہرکسی کواب اپنی منزل آسان دکھائی دے رہی ہے۔ان نونہالوں کی للّٰہیت، اخلاص نیت اوربے لوث ادائے فرض نے ایک ہی جست میں تمام فاصلے عبورکرلئے ہیں جس کی تمنا انبیا، اصحابہ اورصالحین نے ہمیشہ کی۔ان معصوم عظیم شہداءکاخون پاکستان کی ان بنیادوں میں جاکراپنے آباؤاجدادمیں جاکرضم ہوگیاہے جنہوں نے اس ملک کوکلمہ کی بنیادپروجودمیں لانے کیلئے اپنی جانیں قربان کی تھیں اورمیراوجدان،ایقان اورایمان اس بات کی گواہی دے رہاہے کہ ان کی قربانیاں اب تاقیامت تک کفرکے ان تاریک جزیروں پرایمانی قوت کے ساتھ کڑکتی اورکوندتی رہے گی جنہوں نے یہ ناپاک منصوبہ تیارکیا۔

ان شہادتوں نے جہاں اوربے شمارباتوں کاسبق یاددلایاہے وہاں ایک یہ بات بھی ہمارے ذہن نشین کروائی ہے کہ عالمِ اسباب میں سانس کاایک تموج اورذرے کاایک حقیر وجودبھی تخلیق اسباب اورترتیب نتائج میں اپناحصہ رکھتاہے۔جس طرح عمل بد کی ایک خراش بھی آئینہ ہستی کو دھندلا جاتی ہے اسی طرح عمل خیرکاایک لمحہ بھی عالم کے اجتماعی خیرکے ذخیرے میں بے پناہ اضافہ کردیتاہے اورلوحِ زمانہ میں ریکارڈہوکرکبھی نہ کبھی ضرورگونجتاہے اورمیزان نتائج میں اپناوزن دکھاتاہے اوریوں آخرت کوجب گروہ درگروہ اپنے رب کے ہاں حاضرہوں گے تویہ معصوم بھی شہداءکے گروہ میں شامل اپنے رب کے ہاں اس شان سے حاضرہوں گے کہ تمام عالم ان پررشک کرے گا۔

لیکن خداسے ہم نے بھی ملاقات کرنی ہے،خداجانے کب……؟خداجانے کہاں…؟ اورکس حال میں ہوں گے؟کتنی بڑی ملاقات ہوگی جب ایک عبدذلیل اپنے معبود اکبرسے ملے گا!جب مخلوق دیکھے گی کہ خوداس کاخالقِ اکبر اس کے سامنے ہے،خدا کی قسم…..!کیسے خوش نصیب ہیں یہ نوجوان کہ جلوہ گاہ میں اس شان سے جائیں گے کہ اس ملاقات کے موقع پرخداکو نذر کرنے کیلئے خداکاکوکوئی انتہائی محبوب تحفہ ان کے کفن میں موجودہوگا۔جی ہاں!ان کفنوں کی جھولیوں میں جن میں بدن اورسچے ایمان وعمل کی لاش ہوگی مگرشہادت کے طمطراق تمغے سے سجی ہوگی۔ان تمغوں کوخدائے برترکی رحمت لپک لپک کربوسے دے گی۔

کاش ہمیں بھی اس ملاقات اوریقینی ملاقات کاکوئی خیال آتااورتڑپادیتا،کاش ہم بھی ایسی موت سے ہمکنارہوجائیں جہاں فانی جسم کے تمام جسم تمام اعضاء باری باری قربان ہوجائیں، سب خداکیلئے کٹ جائیں،سب اسی کے پائے نازپرنثارہوجائیں جس کے دستِ خاص نے ان کووجودکے سانچے میں ڈھالاہے۔یقینا ان بچوں کے دھڑشیطانی قوتوں کاشکارہوگئے ہیں مگراشک بارآنکھوں سے سوبارچومنے کے لائق ہیں کہ فرشتے ان کو اٹھاکراللہ کے ہاں حاضرہوگئے ہیں اوران کی معصومیت اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ دنیاپرنہیں یہ آخرت پرنثار ہوئی ہیں گویاانہوں نے دنیاکی کسی چیزسے نہیں خودخداسے عشق کیا،انہوں نے دنیاکی ساری اشیاءاوعیش وعشرت پرنہیں خودرسول اکرمﷺ کی ذاتِ مبارک پر ایمان کی بنیادرکھی،اسی لئے انہیں دنیاکی نشیلی چھاؤں میں نہیں بلکہ شہادت کے پرشوق سائے میں پناہ مل گئی،اللہ نے انہیں زندگی کی دلفریب اورایمان کی شاہکارشاہراہ پر اس طرح گامزن کیاہے کہ زندگی سے ہٹ کر شہادت اورشہادت کے اس پار تک کچھ سوچنے کاکوئی موقع ہی نہ مل سکا۔ وہ اپنے معصوم بچپن،شباب وحسن سے وجدکرتے ہوئے اللہ کے ہاں اس طرح حاضرہوگئے ہیں کہ حسن وجوانی باربارایسی حسرت کرے!!!

وہ زندگی اوردنیاپرجھومنے کی بجائے سچائی اورآخرت پرمرجانے کی ایسی رسم اداکرگئے کہ زمین وآسمان ان کی موت پرآنسوبہائیں لیکن خدااپنے فرشتوں کی محفل میں خوش ہوکہ اس کے محبوب نبی ﷺکی امت کے یہ بچے اوربڑے اس کی بارگاہ تک آن پہنچے۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ اس شہادت کے رتبے نے انہیں یہ پیغام دے دیاکہ ان کاگھراس دنیامیں کہیں نہیں بلکہ اس دنیامیں ہے جوجسم وجاں کاتعلق ٹوٹتے ہی شروع ہوتی ہے۔ایسی دنیا جہاں خودخدااپنے بندوں کامنتظرہے کہ کون ہے جو دنیاکے بدلے آخرت اورآخرت کے بدلے اپنی دنیافروخت کرکے مجھ سے آن ملے۔جہاں وہ جنت ہے جس کے گہرے اورہلکے سبزباغات کی سرسراہٹوں اورشیروشہد کی اٹھلاتی لہراتی ہوئی ندیوں کے کنارے خوف وغم کی پرچھائیوں سے دورایک حسین ترین دائمی زندگی،سچے خوابوں کے جال بن رہی ہے۔جہاں فرشتوں کے قلوب بھی اللہ کے ہاں پکاراٹھیں گے کہ خدایا…..!یہ ہیں وہ شہداءبچے!جن کی ساری دنیا تیرے عشق میں لٹ گئی ہے،یہ سب کچھ لٹاکرتیری دیدکوپہنچے ہیں، شائد ان کے قلوب میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ راہِ حق میں ماراجاناہی دراصل تجھ تک پہنچنے کاذریعہ ہے اورشہادت کے معنی ہی ہمیشہ زندہ رہناہے۔یہ توسب کچھ لٹاکراس یقین تک پہنچے ہیں!

اورہاں!کتناقابل رشک ہے ان نوجوانوں کایقیں اورایمان،جن پرملائکہ ایسی گواہی دیں گے اورکس قدررونے کے لائق ہیں ہمارے ایمان جن کیلئے ہمارے دل بھی گواہی دیتے دیتے کسی خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔کل جب میدان حشرمیں اشک ولہو میں نہائے ہوئے یہ بچے خداوندی لطف واعزاز سے سرفرازکئے جارہے ہوں گے،خداجانے ہم کہاں اورکس حال میں ہوں گے…..!آئیے ہم بھی آج اپنی اولادکے قلب وذہن میں عمل خیرکاایسابیج بودیں تاکہ اس بیج پرمشیت کی برسائی ہوئی برسات سے ایسی عمل خیرکی لہلہاتی ہوئی کھیتی اگ جائے کہ جب اس فصل کی تقسیم شروع ہوتوسب کواپنادامن تنگ نظرآئے لیکن اسے کیاکہیں کہ دشمن نے اس دردناک سانحے کیلئے بھی اسی تاریخ کاانتخاب کیاجب52 سال پہلے اس نے ملک کودولخت کیا تھااوریہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔کیااب وقت نہیں آیاکہ ہم اپنے ملک میں ہرشہری کیلئے فوجی تربیت لازمی کردیں تاکہ ہم اپنی افواج کے دست وبازوبن کر ملک کی طرف دیکھنے والی ہرناپاک آنکھ کوپھوڑ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

one × three =