حقوق نسواں اوراسلام

:Share

معاشرے کیلئےعورت کی اہمیت کااندازہ نپولین بوناپارٹ کے اس قول سے ہوتاہے”تم مجھے اچھی مائیں دو،میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”۔عورت کی گود مدرسے کی مانندہے،یہاں انبیانے بھی پرورش پائی،صدیقین وشہدانے بھی،مجاہدجرنیلوں اورغازیوں نے بھی….. جوتاریخ میں اپنانام سنہری حرفوں میں ثبت کرا گئے،اسی گودمیں پرورش پانے والوں نے چنگیزخان،ہلاکوخان اورہٹلربن کر،تاریخ انسانی میں ظلم کے سیاہ باب رقم کئے۔

وہ خواتین جنہوں نے بعدمیں آنے والے تازہ ادوارمیں افغانستان،کشمیر،چیچنیا،بوسنیا،فلسطین اوراراکان میں محمودغزنوی،صلاح الدین ایوبی،محمدبن قاسم اور ٹیپو سلطان جیسےلاکھوں”دشمن کوبچھاڑنے والے”پیداکئے،دشمن کواس فکرمیں مبتلاکرگئیں کہ اگرمسلم خواتین ایسے ہی شیردل تیارکرتی رہیں تودنیاسے ان کے مقاصد کابوریابسترگول ہوجائے گاچنانچہ انہوں نے مسلم معاشروں میں جال پھینکنے کاپلان بنایااورخواتین کواحیائے اسلام کے راستے سے دورکرنے کیلئے ،انہیں خانہ داری،بچوں کی تعلیم وتربیت اورمجاہد صفت افراد تیارکرنے کے کاموں سے بیزارکرکے آزادیٔ نسواں کاشوشاچھوڑا۔ایسی تحریکیں وجود میں آئیں جوعورت کیلئے فطرت کے ودیعت کردہ کاموں کوعورت پرظلم اوراس کااستحصال قراردینے لگیں۔آزادیٔ نسواں کے نام پرتفریخ ونشاط کی محفلیں سجانا شروع کیں،انہیں فیشن پرستی،بے پردگی کے بعدعریانی کی راہ پرگامزں کرناشروع کیا،چادراورچاردیواری کودورِقدیم کی علامت قراردے کراس قیدو بندسے باہر آنے کی راہ سجھائی جانے لگی۔وہ علامتیں جوعورت کی صفت وعصمت کی نگہبان تھیں،تہذیب ِجدید میں عورت کی آزادی کے نعروں کے شورمیں ان پرخوب فقرے کسے گئے۔ان کوعورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ اوردقیانوسیت قراردے کرعورت کوان سے نفرت دلائی گئی،پھرمساواتِ مردوزن کازہرگھول کر، معاشی ذمے داریاں بھی ان کے نازک کاندھوں پر ڈالنے کی کوششوں کاآغاز ہوا۔یہ تہذیبِ ابلیس کاجال تھا،جس نے مسلم عورت کواپنے چنگل میں جکڑلیا اور پھرٹی وی،فلم اورڈش ایسے ہتھیارثابت ہوئے جن کی آمدکے بعدتہذیبِ جدیدکے نعرہ مساوات ِمردوزن کوکھل کھیلنے کاموقع ملا۔

مسلم عورت کوگھرسے باہرنکال کرشمع محفل بنانے اورمردکی برابری کی راہ سجھانے میں مغرب کاہاتھ تھا۔اس کاخیال تھاکہ جب تک مسلم معاشروں کی عورت کونہ بگاڑاجائے اُس وقت تک مسلم دنیاکااولاًخاندانی اورثانیاًمعاشرتی نظام نہ بگڑے گااورجب تک مسلم دنیا معاشرتی زبوں حالی اورٹوٹ پھوٹ کا شکارنہ ہوگی اُس وقت تک”نیوورلڈآرڈر”کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتاچنانچہ ابتدائی اقدام کے طورپر”خواتین کے حقوق وآزادی”کے درپردہ “خاتون بگاڑ”تحریکیں شروع کی گئیں اورمسلم خاتون کوبھی مغرب کی خاتون کی طرح استحصال کی راہ پرڈال دیاگیا۔اس آوازپر”روشن خیال”بیگمات نے لبیک کہا،عورت سے متعلق قوانین اسلامی پر تنقیدیں کی گئیں ،اپنی مرضی کی تاویلیں ایجادکی گئیں،عورت پرعائداسلامی حدودوقیود(جوحقیقت میں صنف ِ نازک ہونے کے ناتے، بعض ذمے داریوں سے اسے عہدہ براکرتے ہیں،اوربعض احتیاطوں کاپابندبناکراسے شرف ومرتبہ عطاکرتے ہیں)کوعورت پرظلم قراردیاگیا،اوراسلامی لبادہ جوخودانہوں نے اتارکردور پھینک دیاتھادیگرخواتین کوبھی اسے اتارپھینکنے کامشورہ دے کرمغرب کے اس پروگرام کوبڑھ چڑھ کرکامیاب بنایا۔مغرب کی جس عورت کی پیروی کی راہ پرمسلم عورت کوگامزن کیاجارہاہے کیاوہ کامیاب ہے؟

یورپ کی خواتین کی آزادانہ سرگرمیوں سے متاثرہوکر،تہذیبِ جدیدمیں آزادیٔ نسواں اورمساوات،مردوزن کے نام پرعوت کوگھرچھوڑ کرباہرکی راہ اختیارکرنے کی جو ترغیب دلائی جارہی ہے وہ راہ مغرب کی عورت نے اُس وقت اختیارکی تھی جب وہاں صنعتی انقلاب برپاہوا۔اشیاکی قیمتیں بڑھیں توکم آمدنی والے افراد کیلئےگزارہ کرنامشکل ہوگیا۔اس عالم میں عورت کسبِ معاش میں مردکاہاتھ بٹانے کیلئےمیدان میں نکل کھڑی ہوئی۔ابتدامیں اُس نے محسوس کیا کہ اسے پہلے کی بہ نسبت معاشرے میں حیثیت ومقام حاصل ہوا ہے۔اس نے معاشی کاموں سے مردکوسہارادیناشروع کیااوردوسری طرف معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگی۔ابتدا کے یہ خوشگوارنتائج جب انتہائی درجے کوپہنچے توان کی صورت انتہائی مسخ ہوچکی تھی،جب عورت نے گھربارچھوڑکرمعاش ومعاشرت کوترجیح دیناشروع کی تووہ انتہائی تلخ حقائق سے دوچارہوئی ۔

اب فطرت کے عائد کردہ کام یعنی بچوں کی پرورش اورتعلیم وتربیت تواسے کرناہی تھے مگرجب مردکی برابری اختیارکرکے فطرت کی مشیت کی نفی کی اور معاش جیساکام بھی ازخوداپنے کا ندھوں پراٹھایاتواسے معلوم ہونے لگاکہ اسے مردکی برابری کے دھوکے میں مردکے مقابلے میں دوہری ذمے داریاں ادا کرناپڑرہی ہیں چنانچہ اس کے بعدوہ مادرانہ ذمے داریوں سے گریزکی راہ اختیارکرنے لگی جس کانتیجہ یہ برآمدہواکہ مغربی معاشرہ تتربترہوگیا۔اب مغربی گھرویران مگرسڑکیں، کلب،ہوٹل اوردفاتربارونق ہو گئے،بچے ماؤں کی ممتاسے محروم ہوکرجب بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں تووہ”بے حس”تیارہوتے ہیں۔بیماربوڑھے والدین ہمدردی کے دوبول کوترستے ہیں،مشرقی معاشروں کی طرح انہیں”تراشیدہ ہیرا”سمجھ کراہم خاندانی معاملات میں ان سے رائے طلب نہیں کی جاتی،نہ ان کو”قیمتی گوہر”کی حیثیت دی جاتی ہے،بلکہ جوانی میں عیش ونشاط سے بھرپورزندگی گزارکرجب وہ بڑھاپے کی جانب گامزن ہوتا ہے تواسے غیرضروری قراردے کر”اولڈایج ہومز”کی طرف دھکیل دیاجاتاہے۔

خاندانی نظام تلپٹ ہوگیاہے،افرادِخانہ کے مابین محبت والفت کے جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔گھرکے سکون کوٹھوکرمارکرجب عورت باہرنکلی توہزاروں ہولناک نگاہوں کاشکارہوئی۔بے حیائی عام ہوئی اورپھرایسی بے حیاتہذیب نے جنم لیاکہ شرافت کالبادہ تار تارہوگیا۔ماد ی ونفسانی خواہشات کی دوڑسے بھرپور مگرالفت ومحبت سے عاری اس جرائم زدہ معاشرے کے بچوں میں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔بچے اپنی تنہائیوں کاغم”منشیات”سے مٹاتے ہیں یا والدین ان پریہ احسان کرتے ہیں کہ انہیں”چائلڈکیئرسینٹرز”میں داخل کرکے اپنی خلاصی کرلیں۔عورت کسی بھی موقع پرہمدردی کی مستحق نہیں ہوتی ۔ مغربی مردآج بھی یہی چاہتے ہیں کہ عورت ہرمعاملے میں ان کاصادرکیاہواحکم تسلیم کرے اورہرحال میں گھریلواورمعاشی ذمے داریاں اداکرے۔

مغرب کی معاشرت کایہ حال ہےکہ عورت نے مساوات کے فریب میں خوداپنے جسم وجان پرظلم کاباب کھولا،جی بھرکےاپنا استحصال کرایااورفطرت نے صنفِ نازک ہونے کی حیثیت میں جن ذمے داریوں سے اس کودوررکھاتھاخودہی ان کاہاراپنے کاندھوں پراٹھایا۔آزادیٔ نسواں اورمردکی برابری کے نعرے نے مغربی معاشرے کوافراتفری وانتشارسے دوچارکیاہے اورعورت کوظلم و استحصال کی منہ بولتی تصویربنادیاہے۔کیامغربی عورت اورمغربی معاشرے کی حالتِ زارایسی ہی قابلِ تقلیدہے کہ مسلم معاشروں کو بھی اسی رخ موڑدیاجائے؟اورمسلم عورت جومعاشرتی نظم وضبط ،حیاکے فروغ،عصمت وعفت کی حفاظت اورخاندانی نظام کے استحکام میں ذمہ دارکرداراداکررہی ہے،اسے آزادیٔ نسواں کے نام پرتفریح ونشاط،فیشن وبے پردگی،کسبِ معاش کاراستہ دکھایا جائے اورہوٹلوں،کلبوں،مخلوط محفلوں،تھیٹروں اورٹی وی کی اسکرین کی رونق بناکراستحصال کی راہ پرڈال دیاجائے؟

یونانیوں اوررومیوں نے تہذیب وتمدن اورعلوم وفنون میں اس قدرترقی کی کہ اس بنیادپربہت سی تہذیبیں اوربہت سے علوم وجودمیں آئے لیکن ان کے ہاں عورت کامقام بہت ہی بے وقعت تھا،عورت کوانسانیت پربارسمجھتے تھے اوراس کامقصدان کے نزدیک سوائے اس کے کچھ نہیں تھاکہ خادمہ کی طرح گھر والوں کی خدمت کرتی رہے۔اہل یونان اپنی معقولیت پسندی کے باوجودعورت کے بارے میں اپنے تصورات رکھتے تھے،ان کاقول تھا: آگ سے جل جانے اورسانپ کے ڈسنے کاعلاج ممکن ہے لیکن عورت کے سترکامداوا محال ہے۔

اسی طرح منفی تعلق دوتہائیوں کے درمیان حرکت کرتارہا۔ایک مرتبہ صرف اسے حیوانی تعلق سمجھاگیا،پھرشیطانی گندگی اور نجاست خیال کیاگیااورپھردوبارہ حیوانی تعلق خیال کیاگیا۔یہ سب کچھ ہوامگرمغرب کے جاہلی نظام ہائے حیات میں کبھی اس مسئلہ میں ایسا کوئی معتدل رویّہ اختیارنہیں کیاگیاجوانسان کی فطرت کے مناسب ہو۔ان کے یہاں عورت کے بارے میں یہ تصورکبھی بھی نہیں ابھراکہ عورت نفس انسانی کاایک حصہ،جنس بشری کی خالق،بچوں کے کاشانہ زندگی کی محافظ اورانسان کے عناصروجودکی امانت دارہے اورکسی نظام اورعمل کی بہتری کی بجائے اسے انسان کی فلاح وبہبودکے فرائض انجام دیناہے۔

افلاطون نے بلا شبہہ مرداورعورت کی مساوات کادعویٰ کیاتھالیکن یہ تعلیم محض زبانی تھی عملی زندگی اس سے بالکل غیرمؤثرتھی ۔ازدواج کامقصدخالص سیاسی رکھاگیایعنی یہ کہ اس سے طاقتوراولادپیداہوجوحفاظت ملک کے کام آئے اوریونان کے قانون میں تویہ تصریح موجودتھی کہ کمسن وضعیف شوہروں کواپنی بیویاں کسی نوجوان کے حبالہءعقدمیں دے دینا چاہیے تاکہ فوج میں قوی سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔

یونانیوں کے بعد جس قوم کودنیامیں عروج نصیب ہواوہ اہل روم تھے،عورت کامرتبہ رومی قانون نے بھی ایک عرصہ درازتک نہایت پست رکھا ۔باپ یاشوہر کو اپنے بیوی بچوں پرپورااختیارحاصل تھااوروہ عورت کوجب،جیساچاہے گھرسے نکال سکتاتھا۔جہیزیادلہن کے والدکونذرانہ دینے کی رسم کچھ بھی نہ ہوتی اورباپ کواس قدراختیارحاصل تھاکہ جہاں چاہے اپنی لڑکی کوبیاہ دے،بلکہ بعض دفعہ تووہ شادی کرکے توڑسکتاتھا۔زمانہ مابعدیعنی دورِتاریک میں یہ حق باپ کی طرف سے شوہرکی طرف منتقل ہوگیااوراب اس کے اختیارات یہاں تک وسیع ہوگئے کہ وہ چاہے توبیوی کو قتل کرسکتاتھا۔ 520ءتک طلاق کاکسی نے نام بھی نہ سنا۔

رومی لوگ جب وحشت کی تاریکی سے نکل کرتاریخ کے روشن منظرپرنمودارہوتے ہیں توان کے نظامِ معاشرت کانقشہ یہ ہوتاہے کہ مرداپنے خاندان کا سردار ہے، اس کواپنے بیوی بچوں پرپورے مالکانہ حقوق حاصل ہیں بلکہ بعض حالات میں وہ بیوی کوقتل کردینے کا بھی مجازہے۔ یہاں بھی عورت کامقصد خدمت اور چاکری سمجھاجاتا،مرداسی غرض سے شادی کرتاکہ وہ بیوی سے فائدہ اٹھاسکے گا حتیٰ کہ کسی معاملے میں اس کی گواہی تک کااعتبارنہیں کرتاتھا۔رومی سلطنت میں اس کوثانوی طورپرکوئی حق حاصل نہیں تھاالبتہ اس کی طبعی کمزوریوں کی بناءپراس کوبعض سہولتیں دی گئیں تھیں۔

مزید یہ کہ اس میں شک نہیں کہ بعدکے ادوارمیں رومیوں نے اس کوحقوق بھی دیئے لیکن اس کے باوجودیہ ایک حقیقت ہے کہ اس کو مرد کے مساوی درجہ کبھی نہیں ملا۔تہذیب وتمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اہل روم کانظریہ عورت کے بارے میں بدلتاچلاگیا،اوررفتہ رفتہ نکاح وطلاق کے قوانین اورخاندانی نظام کی ترکیب میں اتناتغیررونماہواکہ صورتِ حال سابق حالات کے بالکل برعکس ہوگئی۔ نکاح محض ایک قانونی معاہدہ بن کررہ گیا۔جس کا قیام وبقافریقین کی رضامندی پرمنحصرتھا۔ازدواجی تعلق کی ذمہ داریوں کوبہت ہلکا سمجھاجانے لگا۔عورت کووراثت اورملکیت مال کے پورے حقوق دیئے گئےاورقانون نے اسے باپ کے اقتدارسے بالکل آزادکردیا۔ رومی عورتیں معاشی حیثیت سے نہ صرف خودمختارہوگئیں بلکہ قومی دولت کا ایک بڑاحصہ بتدریج ان کے اختیار میں چلاگیاوہ اپنے شوہروں کوبھاری شرح سودپرقرض دیتی اورمالدارعورتوں کے شوہرعملاًان کےغلام بن کررہ جاتے۔طلاق کی آسانیاں اس قدربڑھیں کہ بات بات پرازدواج کارشتہ توڑاجانےلگا۔

مشہوررومی فلسفی ومدبرسینکاسختی کے سا تھ رومیوں کی کثرت طلاق پرماتم کرتاہے۔وہ کہتاہے کہ اب روم میں طلاق کوئی شرم کے قابل چیزنہیں رہی،عورتیں اپنی عمرکاحساب شوہروں کی تعدادسے لگاتی ہیں۔ اس دورمیں عورت یکے بعددیگرے کئی کئی شادیاں کرجاتی تھیں۔مارشل(43 تا 104ء)ایک عورت کا ذکرکرتاہے جودس خاوندکرچکی تھی۔اسی طرح جودینل(60تا130ء)ایک عورت کے متعلق لکھتاہے کہ اس نے پانچ سال میں آٹھ شوہربدلے۔سینت جروم(340ءتا430ء) ان سب سے زیادہ باکمال عورت کاحال لکھتاہے جس نے آخری بارتیسواں شوہرکیاتھااوراپنے شوہرکی بھی وہ اکیسویں بیوی تھی”اسلام اور مغرب کے تہذیبی مسائل “کے مصنف کاٹو لکھتے ہیں کہ184قبل مسیح میں روم کامحتسب اخلاق صریح طورپرجوانی کی آوارگی کو حق بجانب ٹھہراتا تھا“ اب اس دورِمیں عورت مردکےغیرنکاحی تعلق کومعیوب سمجھنے کاخیال بھی دلوں سے نکلتاچلاگیاہے یہاں تک کہ بڑے بڑے معلمین اخلاق بھی زناکوایک معمولی چیز سمجھنے لگے ہیں۔اس کوسمجھنے کیلئے برطانیہ کی مثال دیکھ لیں کہ انگلینڈاورویلزمیں2020تک 3.5ملین ایک ساتھ رہنے والے جوڑے تھے جو 1996میں1.5ملین کےمقابلے میں137فیصدزیادہ تھے۔سکاٹ لینڈمیں2012میں یہ تناسب51.3فیصدتھااورآخری سروے کے مطابق یہ تناسب کافی بڑھ گیاہے،باقی یورپین ممالک کی حالت اس سے بھی بدترہے جبکہ امریکامیں یہ تعداد56.9تک پہنچ چکی ہے۔

حواکی بیٹی کوہرجگہ آزادی وبرابری کے دھوکے میں ظلم واستحصال کاتحفہ ملاہے مگراس کے باوجود اسے اس راہ پرچلانے کا عمل جاری ہے،آزادی وبرابری کے سفرپرحواکی بیٹی کوگامزن کرنے والوں کومغرب کے ٹوٹے پھوٹے معاشرے سے ضرورعبرت پکڑنی چاہئے،وہ معاشرہ جس میں خواتین کی آزادی کی پُرزور حمایتی خواتین،اپنے خیالات پرنظرثانی کرنے پرمجبورہوگئیں۔بی ٹی فریڈن جومغرب میں خواتین کی آزادی کی پرجوش علم بردارتھیں اپنی کتا ب میں لکھتی ہیں:”کیا اولاد سے نجا ت حاصل کرکے یا خاندان کے ادارے سے باہرنکل کرعورت حقیقی معنوں میں امن وسکون حاصل کرسکتی ہے؟”آزادیٔ نسواں ومساواتِ مردوزن کا نعرہ لگا نے والی ایک اورخاتون جرمن گریئرکہتی ہیں:”ہمارے سب اندازے غلط ثابت ہوئے،ہمیں ملازمت سے زیادہ گھرکی ضرورت ہے۔”

کائنات میں اللہ رب العالمین نے زندگی کانظام چلانےکیلئے مردکے ساتھ عورت کوبھی پیداکیا،ان کادائرہ کارمتعین کیااورپھراس نظام زندگی کوچلانے کیلئے مرد اورعورت کے حقوق وفرائض متعین کئے جس میں ہرایک صنف اپناحصہ وصول کرنےکے ساتھ ساتھ دوسری صنف کے فرائض بھی اداکرنے کاپابند ہے تاکہ کسی ایک میں بھی احساس محرومی اورردِّعمل پیدانہ ہو۔انسان اورانسانی تہذیب جہاں اپنی فطری کمزوری کے سبب افراط وتفریط کاشکارہوتی ہے وہاں سے معاشرے میں بگاڑپیداہوناشروع ہوگیا۔قدیم جاہلیت نے سارازورمردکی برتری ثابت کرنے پرلگادیااورجدیدجاہلیت نے ردِّعمل کاشکارہوکرعورت کو برابری کی دوڑ میں شریک کرناچاہا لیکن وہ اپنی حیثیت سے ایسی آگے نکلی کہ اب اسے بالمقابل کھڑامردسست لگ رہاہے ۔

ان ادوار کے درمیان دورِاسلام کو اگر ہم دیکھتے ہیں تووہاں سورةالتکویر کی آیت ہمارے سامنے آجاتی ہے اورجب اس لڑکی سے جوزندہ دفنادی گئی ہوپوچھاجائے گاکہ وہ کس گناہ کے جرم میں ہلاک کی گئی”۔ سورةالتکویرکی اس آیت کی صداسے جومقدمہ اللہ کی عدالت میں درج ہوتاہے اس کے جواب میں اسلام میں کائنات پرعورت کی عظمت اوراس کامقام ہرمردکاجزولاینفک بناکردونوں کے درمیان حقوق وفرائض کاجومتوازن نظام تشکیل دیاوہ قابل عمل بنایاگیاجوآج بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کیلئےرہنمااصول ہیں کیونکہ اسلام ایک مضبوط پائیدار معاشرہ کی بقاءچاہتاہے۔اس کے لیے خاندان کا استحکام،معاشرہ کااستحکام اورخاندان کی بربادی معاشرہ کی بربادی ہے۔

عورت کے ساتھ اسلام اوراسلامی جمہوری نظام کاسلوک مودبانہ اورمحترمانہ ہے،خیراندیشانہ،دانشمندانہ اورتوقیرآمیزہے۔یہ مردو زن دونوں کے حق میں ہے۔اسلام مردوزن دونوں کے سلسلے میں اسی طرح تمام مخلوقات کے تعلق سے حقیقت پسندانہ اورحقیقی و بنیادی ضرورتوں اورمزاج وفطرت سے ہم آہنگ اندازاختیار کرتا ہے یعنی کسی سے بھی قوت وتوانائی سے زیادہ اوراس کوعطاکردہ وسائل سے بڑھ کرکوئی توقع نہیں رکھتا۔عورت کے سلسلے میں اسلامی نقطہ نگاہ کوسمجھنے کیلئے اس کاتین زاویوں سے جائزہ لیا جاسکتاہے۔

اوّل:ایک انسان ہونے کی حیثیت سے روحانی ومعنوی کمالات کی راہ میں اس کاکردار،اس زاویے سے مرداورعورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔تاریخ میں جس طرح بہت سے باعظمت مردگزرے ہیں،بہت سی عظیم اورنمایاں کردارکی حامل خواتین بھی گزری ہیں۔
دوم:سماجی،سیاسی،علمی اورمعاشی سرگرمیاں،اسلامی نقطہ نگاہ سے عورتوں کیلئےعلمی،اقتصادی اورسیاسی فعالیت اورسرگرمیوں کادروازہ پوری طرح کھلاہوا ہے۔ اگرکوئی اسلامی نقطہ نگاہ کاحوالہ دے کرعورت کوعلمی سرگرمیوں سے محروم کرنے کی کوشش کررہاہے،اقتصادی فعالیت سے دوررکھنے کے درپے ہے یاسیاسی وسماجی امورسے لا تعلق رکھنے پرمصرہے تووہ در حقیقت اللہ کےحکم کے خلاف عمل کررہاہے۔عورتیں،جہاں تک ان کی ضروریات واحتیاج کاتقاضاہو اورجسمانی توانائی جس حدتک اجازت دے، سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔جتناممکن ہووہ سیاسی ومعاشی وسماجی امورانجام دیں،شریعت اسلامی میں اس کی ہرگزمناہی نہیں ہے البتہ چونکہ جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورت مردسے نازک ہوتی ہے لہذااس کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔عورت پرطاقت فرسا کام مسلط کردینااس کے ساتھ زیادتی ہے،اسلام اس کا مشورہ ہرگزنہیں دیتا۔البتہ اس نے(عورت کو)روکابھی نہیں ہے۔

سیدناحضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے: عورت پھول کی مانند ہے قہرمان نہیں۔آپ مردوں کومخاطب کرکے فرماتے ہیں: عورتیں تمہارے گھروں میں گل لطیف کی مانند ہیں ان کے ساتھ بڑی ظرافت اورتوجہ سے پیش آؤ۔عورت آپ کی خادمہ اورپیش کار نہیں ہے کہ آپ سخت اورطاقت فرساکام اس کے سرمڑھ دیں۔یہ بہت اہم بات ہے۔

بییٹاں قوم کی عزت ہوتی ہیں اورجو قوم اپنی بیٹی کوعزت نہیں دے سکتی،وہ ترقی نہیں کرسکتی ۔مغربی معاشرے میں عورت کاکوئی مقا م نہیں،18ملین بچے امریکامیں اپنی شناخت سے محروم ہیں،12.5ملین خواتین ڈپریشن کاشکارہیں،خواتین کواغواکرنا،انہیں قیدکرنا، اس کواپنے بچوں سے ملنے سے محروم کرنا امریکا کادہرامعیارہے۔مغربی تہذیب کی دلداد ہ آنٹیاں ڈالرزاورمراعات کے عوض مغرب کی آلہ کاربن رہی ہیں،اورمسلم معاشرے کے خلاف علم بغاوت بلندکررہی ہیں،ان کی ساز ش کبھی کامیاب نہیں ہوگی اوراسلامی خاندانی نظام کاتحفظ ہی مسلمان خاتون کی آبروکی ضمانت ہے۔

پس اے روشن خیال حضرات وبیبیو!مغرب کی نظروں کوخیرہ کرنے والی چمک دمک کی طرف مت لپکوکہ یہ توجھو ٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔
رہے نام میرے رب کاجس نےعورت کوایک ممتازمقام عطاکیالیکن ہم نے دنیاداری میں اس کوبھلادیا!
زمانے والے جسے سوچنے سے خائف تھے
وہ بات اہل جنوں محفلوں میں کرتے رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں