چشمِ تصور

:Share

ایک مجذوب درویش بارش کے پانی میں عشق ومستی سے لبریزچلاجارہاتھاکہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کودِیکھاجو ایک کڑھائی میں گرماگرم دودھ اُبال رہاتھاتُوموسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرماگرم جلیبیاں تیارکررہاتھا۔مجذوب کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا،شائدبھوک کا احساس تھایاموسم کااثرتھا۔مجذوب حلوائی کی بھٹی کوبڑے غورسے دیکھنے لَگا مجذوب کُچھ کھاناچاہتاتھالیکن مجذوب کی جیب ہی نہیں تھی توپیسے بھلا کیاہوتے۔مَجذوب چندلمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعدچَلاہی چاہتاتھاکہ نیک دِل حَلوائی سے رَہانہ گیااورایک پیالہ گرماگرم دودھ اورچند جلیبیاں مَجذوب کوپیش کردِیں۔ مَجذوب نے گرماگَرم جلیبیاں گَرماگرم دودھ کے ساتھ نُوش کی اورپھرہاتھوں کوکندھوں سے اُوپرتک اُٹھاکرحَلوائی کودُعا دیتا ہُواآگے چَل دِیا۔مَجذوب کاپیٹ بھرچُکاتھادُنیاکے غموں سے بے پرواوہ پھراِک نئے جُوش سے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اُڑاتاچلا جارہاتھا، وہ اِس بات سے بے خبرتھاکہ ایک نوجوان نوبیاہتاجُوڑابھی بارِش کے پانی سے بَچتابچاتا اُس کے پیچھے چَلاآ رہاہے۔یکبارگی اُس مَجذوب نے بارش کے گَدلے پانی میں اِس زورسے لات رَسیدکی کہ پانی اُڑتاہُواسیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کَپڑوں کوبِھگوگیا۔ اُس نازنین کاقیمتی لِباس کیچڑسے لَت پَت ہُوگیاتھا اُس کے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہُوئی۔

لِہذاوہ آستین چَڑھاکرآگے بَڑھااوراُس مَجذوب کوگریبان سے پَکڑکرکہنے لگا،کیااندھاہے تُجھے نظرنہیں آتا،تیری حَرکت کی وجہ سے میری مِحبوبہ کے کَپڑے گیلے ہوچُکے ہیں اورکیچڑسے بھرچُکے ہیں۔مَجذوب ہکابَکاساکھڑاتھاجبکہ اُس نوجوان کو مَجذوب کاخاموش رِہناگِراں گُزررہاتھا۔عورت نے آگے بڑھ کرنوجوان کے ہاتھوں سے مَجذوب کوچھڑوانابھی چاہالیکن نوجوان کی آنکھوں سے نِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کروہ بھی دوبارہ پیچھے کھسکنے پرمجبورہوگئی ۔

راہ چلتے راہ گیربھی بے حِسی سے یہ تمام منظردیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غُصے کودیکھ کرکِسی میں ہِمت نہ ہُوئی کہ اُسے رُوک پاتے اوربلآخرطاقت کے نشے سے چُوراُس نوجوان نے ایک زوردارتھپڑمَجذوب کے چہرے پرجَڑدِیابوڑھااور ناتواں مَجزوب تھپڑکی تاب نہ لاسکااورلڑکھڑاتاہُواکیچڑمیں جاپڑا۔نوجوان نے جب مَجذوب کونیچے گِرتادِیکھاتُومُسکراتے ہُوئے وہاں سے چَل دیا۔بوڑھے مَجذوب نے آسمان کی جانب نِگاہ اُٹھائی اوراُس کے لَب سے نِکلا:واہ میرے مالک کبھی گَرما گَرم دودھ جلیبیوں کے ساتھ اورکبھی گَرماگَرم زناٹے دارتھپڑ،مگرجِس میں تُوراضی مجھے بھی وہی پسندہے، یہ کہتاہُوا مَجذوب ایک بارپھراپنے راستے پرچَل دِیا۔ دوسری جانب وہ نوجوان جُوڑاجوانی کی مَستی سے سرشاراپنی منزل کی طرف گامزن تھا تھوڑی ہی دورچَلنے کے بعدوہ ایک مکان کے سامنے پُہنچ کررُک گئے وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کر اپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہُوئے بالا خَانے کی سیڑھیاں طے کررہاتھا۔

بارش کے سبب سیڑھیوں پرپھلسن ہوگئی تھی،اچانک اُس نوجوان کاپاؤں رَپٹ گیااوروہ سیڑھیوں سے نیچے گِرنے لَگا۔عورت زورزورسے شورمچا کرلوگوں کواپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جس کی وجہ سے کافی لوگ فوراًمددکے واسطے نوجوان کی جانب لَپکے لیکن دیرہوچُکی تھی۔نوجوان کا سَر پھٹ چُکاتھااوربُہت ذیادہ خُون بہہ جانے کی وجہ سے اُس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہوچُکی تھی۔کُچھ لوگوں نے دورسے آتے مَجذوب کودِیکھا تو آپس میں چہ میگویئاں ہُونے لگیں کہ ضرور اِس مجذوب نے تھپڑ کھاکرنوجوان کیلئے بَددُعاکی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کاصرف چندسیڑھیوں سے گِرکرمرجانابڑے اَچھنبے کی بات لگتی ہے۔چندمنچلے نوجوانوں نے یہ بات سُن کرمَجذوب کوگھیرلیا، ایک نوجوان کہنے لگاکہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑکی وجہ سے نوجوان کیلئے بَددُعاکر بیٹھے،یہ اللہ والوں کی روِش توہرگزنہیں کہ ذراسی تکلیف پر بھی صبرنہ کرسکیں۔

وہ مَجذوب کہنے لگا : خُداکی قسم میں نے اِس نوجوان کیلئے ہرگِز بَددُعا نہیں کی!تبھی مجمعے میں سے کوئی پُکارا،اگر آپ نے بَددُعانہیں کی تُوایساکڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِرکر کیسے ہلاک ہوگیا؟ تب اُس مَجذوب نے حاضرین سے ایک انوکھاسوال کیاکہ کوئی اِس تمام واقعہ کاعینی گَواہ موجودہے؟ایک نوجوان نے آگے بَڑھ کر کہا ،ہاں میں اِس تمام واقعہ کاعینی گَواہ ہُوں۔مَجذوب نے اَگلاسوال کیا،میرے قدموں سے جوکیچڑاُچھلی تھی کیااُس نے اِس نوجوان کے کپڑوں کوداغدار کیاتھا؟ وہی نوجوان بُولانہیں لیکن عورت کے کَپڑے ضرورخَراب ہُوئے تھے۔مَجذوب نے نوجوان کی بانہوں کو تھامتے ہُوئے پوچھا،پھراِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا؟نوجوان کہنے لگا،کیونکہ وہ نوجوان عورت اس کی محبوب تھی اوراُس سے یہ برداشت نہیں ہُواکہ کوئی اُس کے مِحبوب کے کپڑوں کوگَندہ کرے اس لئے اپنی معشوقہ کی جانب سے اُس نوجوان نے آپ کو مارا۔نوجوان کی بات سُن کرمجذوب نے ایک نعرۂ مستانہ بُلندکیااوریہ کہتاہُواوہاں سے رُخصت ہُوگیا پس اللہ کی قسم میں نے بَددُعا ہرگز نہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جومجھ سے مُحبت رکھتاہے اوروہ اِتناطاقتورہے کہ دُنیاکابڑے سے بڑابادشاہ بھی اُس کے جبروت سے گھبراتا ہے۔

قارئین!اس کہانی کے تناظرمیں آج پاکستان کے تمام مناظرکودہرائیں کہ ہمیں یہ معجزاتی ریاست ماہِ رمضان کی سب سے زیادہ قیمتی،مبارک اور مقدس شب کواس اوفوبالعہدپرعطاکی گئی کہ ہم اس ملک میں مکمل قرآن پرمبنی قانون نافذکریں گے۔ خطے کی سب سے بڑی ہجرت اوردس لاکھ عزیز ترجانوں کی قربانیوں کے بعدیہ معجزاتی ریاست عطاکی گئی جہاں ہم نے اللہ سے کئے گئے اس وعدے کی تکمیل کیلئے اللہ کے بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کردوبارہ اللہ کی غلامی میں لانا تھا۔اس ارضِ وطن کی طرف ہجرت کرتے ہوئے مشرقی پنجاب کے سینکڑوں کنوئیں آج بھی پکاررہے ہیں جوہماری عفت مآب بیٹیوں کی لاشوں سے اٹ گئے جن کوبعدازاں انہیں کنووں کی خاک میں دفن کردینا پڑا ۔ ہزاروں بچیاں بیدردی کے ساتھ اغواء کرلی گئیں جن کاآج تک سراغ نہ مل سکااوربعدازاں ایک ہندوستانی ہندوآئی ایس افسر”کے ایل گابا ” کواس معاملے کی تحقیق کاکام سپردکیاگیا تواس نے برملااپنی کتاب”پیسووائس”جس کااردوترجمہ”مجبورآوازیں”شائع ہو چکا ہے،اس تمام لرزہ خیزواقعات کے چشم دیدگواہوں کوسن کر اس قدرمتاثرہواکہ اس نے اس دوقومی نظریہ کی اساس”اسلام” کاجب مطالعہ شروع کیاتوکنہیالال گابا سے خالدلطیف گابابن گیا۔

آخرہم نے اب تک اللہ کی عطاکردہ اس معجزاتی ریاست کے ساتھ کیاسلوک کیا۔میں جب کبھی چشم تصورمیں ان شہداکے خون آلودکٹے پھٹے، ٹکڑوں میں تقسیم ان کے وجودکودیکھتاہوں تولرزجاتاہوں اورپاکستان کی موجودہ مشکلات کودیکھ کربے اختیار مجھے اس مجذوب کا نعرۂ مستانہ میرے کانوں میں ابلتے ہوئے سیسے کی طرح محسوس ہوتاہے کہ اللہ کی قسم میں نے بَددُعا ہرگزنہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جومجھ سے مُحبت رکھتاہے اوروہ اِتناطاقتورہے کہ دُنیاکابڑے سے بڑابادشاہ بھی اُس کے جبروت سے گھبراتاہے۔اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے رب سے کئے گئے اوفوبالعہدکی تعمیل میں گڑگڑاکراپنے کریم رب کی بارگاہ میں سجدہ ریزہوکرمعافی تلافی کرتے ہوئے اس وقت تک سرنہ اٹھائیں جب تک ہمارانادم ضمیرہمیں سچے عمل کی طرف نہ لوٹادے۔
رحمت یہ چاہتی ہے کہ اپنی زباں سے
کہہ دے گناہ گار کہ تقصیر ہو گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں