ہر شخص منافق نکلا

:Share

جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تو وہ عجیب سے فریب میں مبتلا ہوجاتا ہے، اونگیاں بونگیاں مارنے لگتا ہے، عجیب سے خبط میں پڑ جاتا ہے۔ وہ منظر کے قریب نہیں جاتا، اسے تخیل کے کیمرے سے زوم لگا کر قریب لاتا ہے اور پھر پندونصائح شروع کردیتا ہے۔ اس کے بالکل سامنے جو کچھ ہورہا ہو اسے نہیں دیکھتا اور جو دور کہیں ہورہا ہو اس سے پنجۂ آزمائی شروع کردیتا ہے۔ اپنے اندر کی دھڑکتی کوٹھی کو نہیں ٹٹولتا ،دوسروں کے عیب گنوانے لگتا ہے۔ پتا ہو نہ ہو، معلوم ہو نہ ہو………..بس ہر جگہ، ہر مجلس میں اپنی پٹاری کھول کر نیا سنپولیا نچانے لگتا ہے اور اسے کہتا ہے تبلیغ………..اور پھر اس سے آگے بڑھ کر خدمت ِانسانیت۔بھائی نے ایک دن یہ کہہ دیاکہ باتیں اتنی کرتاہے لیکن: وہ نماز کیوں نہیں پڑھتا؟ تو نجانے کیوں مجھ سے رہانہ گیاتو میں نے اس کابازوتھام کرکہا: تجھے کب سے اور کیوں اس کی نماز کی فکر ہوگئی؟کیا تیری نماز ٹھیک ہوگئی ہے تیری عاقبت سنور گئی ہے جو دوسروں کی سوچنے لگا ہے ،دوسرے کا تو شاید تجھ سے پوچھا جائے نہ پوچھا جائے، تجھ سے تیرا تو پوچھا جائے گا ،تو کیا تو اپنا بیڑا پار لگا چکا؟ تیری نیا کنارے لگ گئی؟ اس سےمحبت کے رواں دریامیں نجانے اورکیاکہاکہ وہ فوری منہ بسور کربیٹھ گیا ۔

ایک جید عالم دین……صرف عالمِ دین ربانی ہی نہیں، باعمل پابند ِشریعت، ہنس مکھ…..االلہ جی نے مال و دولت سے بھی نوازا تھا۔ خود مسجد بنائی اور جمعہ کا خطبہ دینے بڑی سی لشکارے مارتی گاڑی میں آتے اور ہماری چوکڑی کو منتظر پاتے۔ کبھی خالی ہاتھ نہیں آئے۔ ایک تھیلے میں کھانے پینے کا نجانے کیا کچھ سامان لے کر آتے ،السلام علیکم !کیسے ہو تم لوگ واہ واہ آج تو سب چمک رہے ہو کہتے ہوئے تھیلا میرے ہاتھ میں تھماتے اور خود منبرِ رسول ﷺ پر رونق افروز ہوجاتے۔ بوڑھے تھے لیکن عجیب طاقت تھی ان میں۔ کچھ دیر منبرِ رسول پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیتے اور پھر اپنا عصا لے کر کھڑے ہو جاتے اور پھر تو ایسی قرآت کہ اللہ ہی اللہ ،آنکھوں کا غسل شروع ہوتا اور پھر آواز آتی! برادرانِ اسلام میری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں۔ اور پھر چل میرے خامے بسم اللہ، سبحان اللہ، الحمدللہ۔ کیسے کیسے نادر و نایاب ہیرے تقسیم کرتے تھے۔

بہت طویل عرصے تک ہمیں دیالو بابا دیتے رہے اور ہم اپنی جھولی بھرتے رہے، ظرف کب بھرے گا، نہ جانے کب؟ جب دیکھو ایک ہی بات پر زور، اپنی فکر کر نادان، اپنی فکر کر۔ اسلام خود کو بدلنے کا نام ہے۔ خود کو تبلیغ کر، خود کو سنو، اپنے قول کو دیکھ، اپنے فعل و عمل پر نگاہ رکھ، یہ جو اندر بیٹھا ہوا اژدھا ہے ، نفس نام کا، اسے کچل نہیں سکتا تو یہ تو کرلے کہ اس کے جبڑے پر پاں رکھ کر کھڑا رہ، کبھی مت چوکنا، برباد ہوجائے گا، تباہ ہوجائے گا، کچھ نہیں بچے گا تیرا۔ اپنی فکر کرے گا تو سنورے گا۔ لوگوں کو کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ تیری روشنی اور خوشبو خودبخود پھیلے گی………..اور ایسی پھیلے گی کہ تو دنگ رہ جائے گا۔ کاٹنا نہیں جوڑنا سیکھ، دوسروں کے عمل پر نہیں اپنی بے عملی پر آنسو بہا، دوسرے کی چنتا چھوڑ خود پر دھیان رکھ، بس خود کو بدل، دوسرے تجھے دیکھ کر بدل جائیں گے۔ بہت یاد آتی ہیں ان کی باتیں۔ وہ تو چلے گئے لیکن خوشبو بسی ہوئی ہے میرے چاروں طرف ان کی۔

آج بابا فرید جی بھی یاد آگئے۔ ایک مرید قینچی لے کر حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا سرکار تحفہ لایا ہوں قبول کیجیے اورنہال کیجیے۔ دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور کہا اتنی وزنی قینچی اٹھا لایا،کیا میں تجھے کاٹنے والا لگتا ہوں………..مجھے سوئی دھاگہ لاکر دیتاکہ میں جوڑنے کاکام کرتاہوں۔ ہمارے سارے بابوں نے ایک ہی بات کرکے دکھائی، کبھی کسی کی توہین نہیں کی۔ سدا مسکراتے رہے۔ کاٹنے سے منع کیا، جوڑنا سکھایا۔ اپنی کٹیا میں در ہی نہیں بنایا کہ کبھی بند ملے۔ سب کے لیے کشادہ دل رہے، تنگ دلی سے منع فرمایا۔ سب کے ساتھ کھایا ،گایا اور ناچے۔ محبت تھے، محبت دی، نفرت کو بھی محبت کا چولا پہنایا اور محبت بنادیا۔ یارِ جانی کہتے تھے ،یارِ جانی سمجھا بھی۔ جو کہہ دیا نبھاکر دکھایا، کرکے بتایا۔

کس منہ سے نام لوں۔ میرے آقا و مولا، روشن جبیں ﷺ نے اس بچے کو پیار سے فرمایا گڑ مت کھایا کرو ۔ تو بچے کی ماں کہنے لگیں: یہ بات تو آپ ﷺ کل بھی فرما سکتے تھے ؟تب سرکارِ دوعالم ﷺ نے تبسم فرمایا اور پھر موتی بکھیرے کل توخود کھایا ہوا تھا، کیسے منع کرتا۔ سرکار ﷺ کے بعد کس کی بات کروں۔ چاروں طرف ہم سب کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ ایسا ہے فلاں ویسا ہے۔ میں خود کو دیکھ ہی نہیں رہا کہ میں کیسا ہوں………..میرا کیا بنے گا!میں کس دھوکے میں پھنس گیا ہوں مجھےاپنا دھیان ہی نہیں، بس دوسروں کی عیب جوئی کرتا رہتا ہوں اور پھر اسے تبلیغ بھی کہتا ہوں۔ بندۂ مکر و فریب، اپنے اندر کی دھڑکتی کوٹھی کو کب دیکھوں گا میں……….!وقت توکسی کالحاظ نہیں رکھتا،وہ توکبھی نہ کبھی اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے تمام واقعات کی ایسی شہادت فراہم کردیتاہے جس سے فرارممکن نہیں!

گزشتہ ہفتے سکھ ہیومن رائٹس والوں نے آن لائن ایک بھرپورکانفرنس میں مجھے مہمان خصوصی کے طورپرمدعوکررکھاتھاجہاں انہوں نےاپنے ان شہداء کویادکرنے کاسلسلہ شروع کیاجوہندوریاستی دہشتگردی کانشانہ بنادیئے گئے اورآج تک یہ انسانیت سوزبھیانک جرائم ثابت ہونے کے باوجود وہ تمام مجرم کھلے عام پھررہے ہیں بلکہ ان میں سے توبعض ان جعلی مقابلوں کے عوض ترقی کے تمام مدارج طے کرکے اپنے سینوں پران بے گناہوں کے خون سے آلودہ میڈل سجائے اسی بے رحم معاشرے میں زندہ ہیں۔تقریب میں ڈاکٹرجسونت سنگھ نے جب درجن سے زائدان مجرموں کےانتہائی لرزہ خیز انجام کے بارے میں جب آگاہ کیاتوقدرت کے انتقام کوسن کرتمام سامعین گنگ ہوکررہ گئے اوروہ تمام واقعات میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئے جو آج بھی ان قبیح جرائم کے پردوں کے پیچھے ابھی تک مستورہیں:

مجھے نجانے آج کیوں امریکی صدرکلنٹن کے دورۂ بھارت کے دوران چھتی سنگھ پورہ مقبوضہ کشمیر کے وہ بے گناہ34سکھ یادآرہے ہیں جنہیں 20مارچ 2000ء کونامعلوم 15 سے 17دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں بے رحمی کے ساتھ قتل کردیاتھااور25 مارچ 2000ء کو پانچ بے گناہ کشمیریوں کودہشتگرداوراس واقعے کاذمہ دارقرار دیتے ہوئے پتھری بل میں سیکورٹی فورسز مقابلے میں مار دیا گیا ۔ بعدازاں ان مقتولین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے حیدرآباداورجولائی 2000ء کومرکزی فرانزک لیبارٹری کولکتہ روانہ کئے گئے جہاں نہ صرف ان کی بے گناہی ثابت ہوگئی بلکہ یہ بھی پتہ چل گیاکہ یہ سب مقامی باشندے تھے جن کوسرحدپارغیرملکی دہشتگردقراردیکرعالمی میڈیاکی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی تھی۔ بعدازاں ایک بہت ہی قابل اعتباراین جی او”موومنٹ اگینسٹ سٹیٹ ریپریشن” کے تین رکنی کمیٹی جس کی سربراہی بھارت کے ایک سابق ایم ایل اے اندرجیت سنگھ جیجی اوران کے دومعاونین ریٹائرڈجسٹس اندرجیت بھینس اورجنرل کرتارسنگھ نے اس واقعے کی تفتیش کی ،انہوں
نے بھی اپنی رپورٹ میں ان پانچ بے گناہ کشمیریوں کوبری الذمہ قراردیتے ہوئے اس بہیمانہ خونی واقعے کا ذمہ دار سیکورٹی فورسزکوٹھہرایا اور بعدازاں بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے بھی بالآخران پانچ معصوم کشمیریوں کوبے گناہ قراردے دیا ہے لیکن ان کوقتل کرنے والوں کیلئے کوئی سزاتجویزنہیں کی کہ” افسپا”جیسے غیرانسانی اورجابر قانون نے ان کے ہاتھ پاؤں اسی طرح باندھ دیئے ہیں جیسے سیکورٹی فورسزوالے قتل کرنے سے پہلے بے گناہ کشمیریوں کی مشکیں کس دیتے ہیں۔

نادی ہل بارہ مولہ کے شہزاد،شفیع اورریاض گھرسے مزدوری کیلئے نکلے لیکن شمالی کپواڑہ کے مژھل سیکٹرمیں سیکورٹی فورسزنے ان کومحض اپنی کارکردگی کی بناء پرترقی حاصل کرنے کیلئے غیرملکی جنگجوقراردیکرماردیااورجب انسانی حقوق کی حفاظت کرنے والے 42سالہ قانون دان جلیل اندرابی کے بہیمانہ قتل کی طرف نگاہ جاتی ہے کہ جن کی آنکھیں تک نوچ لی گئیں لیکن قاتل یہ بھول گئے کہ جلیل اندرابی توامرہوگئے لیکن ان کی آنکھیں تاقیامت اپنے قاتلوں کوچین سے بیٹھنے نہ دیں گی۔کیاہوااگرمرکزی تفتیشی بیوریونے میجراوتارکانام مطلوب ترین افرادکی فہرست سے خارج کردیا لیکن اجل کے فرشتے کو یقینا ًامریکاکے شہرکیلی فورنیامیں میجراوتارکے گھرکاراستہ ڈھونڈ نے میں ذرہ بھرمشکل پیش نہیں آئے گی،فی الحال تو اسے ایک مہلک بیماری میں مبتلاکرکےدنیاکیلئے باعثِ عبرت بنادیاگیاہے۔ انسانی حقوق کی حفاطت کرنے والے بہادر پنڈت ایچ این وانچوکوکیسے بھلادیں جس کامحض قصوریہ تھاکہ اس نے سیکورٹی فورسزکے ہاتھوںسینکڑوں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے افرادکے بارے میں عدالت میں ایک پٹیشن دائرکررکھی تھی جس سے جلاد صفت قاتل بہت پریشان تھے۔بالآخر1992ء میں ایک نامعلوم فردنے اسے گولیوں سے بھون دیا جبکہ حکومت نے اس کے قتل کی ذمہّ داری حسبِ روایت جمعیت المجاہدین کے سرپرڈال دی جبکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والوں نے تحقیق کے بعدیہ ہولناک انکشاف کیااور اب یہ بات کسی سےڈھکی چھپی نہیں رہی کہ قاتل کوجیل سے محض اس شرط پررہا کیاگیاتھاکہ وہ وانچو کوقتل کرے گا۔اس قاتل سے جب یہ کام لے لیاگیاتواسے بھی ہمیشہ کیلئے ختم کردیاگیاتاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے لیکن آستیں کالہوتوبرملاپکاراٹھتاہے۔منصوبہ سازاپنی ہی کارچلاتے ہوئے ایسے حادثے کاشکارہوگیاجہاں اس کی لاش کے ٹکڑوں کوجانوروں نے بھی کھانے سے انکارکردیا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے علمبردار،آرتھوپیڈک ڈاکٹرفاروق احمدعشائی کاقصوربھی یہی تھاکہ انہوں نے اس ظلم کے خلاف آوازاٹھائی جس کی پاداش میں ان کی لاش بھی سی آرپی ایف کے بنکر سے ملی ۔ کشمیری صحافی ظفرمعراج(پیراملٹری گروپ) حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والی تنظیم ”اخوان المسلمون”کے لیڈر”کوکوپارے”کاانٹرویوکرکے واپس لوٹ رہے تھے کہ کچھ نامعلوم افرادجوقتل کرنے کی نیت سے آئے تھے ،جن کی گولی سے وہ ایک عرصہ تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلارہے۔وہ یقیناًآج بھی جب اپنے زخموں کوسہلاتے ہونگے توان افرادکے خوفناک اورخون آشام چہرے ہرقسم کے قانون سے ماوراء ہونے کایقین دلاتے ہوئے ان کی آنکھوں کے سامنے دوڑتے ہونگے۔یقینا وادیٔ کے جنگل اورکوہساروں نے جہاں ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کواپنے سامنے بیدردی کے ساتھ قتل ہوتے دیکھاہے وہاں کشمیرکے ان دوسپوتوںمیرواعظ مولوی فاروق کو 21مئی 1990ء اورعبدالغنی لون کو2000ء میں اس ظلم کے خلاف بہادری کے ساتھ اپنی جان دیتے ہوئے بھی دیکھاہوگااورقیامت کے روزان قاتلوںکوکہیں جائے پناہ نہ مل سکے گی جہاں خودان کے اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ کچھ بھی تو نہیں رہے گا،بس نام رہے گا میرے رب کا۔
میں تو سمجھا تھا کہ دور چار ہی ہوتے ہوں گے
پر تِرے شہر کا ہر شخص منافق نکلا

اپنا تبصرہ بھیجیں