”پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا”

:Share

صدر ضیا الحق مرحوم نے اپریل 1984 ء کو قادیانی آرڈیننس نافذ کر کے قادیانی گروہ کو شعائر اسلامیہ یعنی اپنی عبادت گاہوں کو مساجد، اپنی عورتوں کو ازواج مطہرات، اپنے خلفاء راشدین، آپ کے خاندان اہل بیت کے علاوہ کسی اور شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرنے، خود کو مسلمان ظاہر کرنے،اپنے مذہب کواسلام کے طور پرموسوم کرنے،اپنے مذاہب کی تبلیغ یا تشہیر کرنے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دینے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرنے کو ممنوع قرار دیا تھا اور بعد ازاں اس آرڈیننس کو قادیانی ایکٹ کے نام سے 1973ءکے آئین کا مسلسل حصہ بنا دیا۔ یہ وہ تاریخی کارنامہ ہے جو ضیا الحق مرحوم نے سرانجام دے کر مسلمانوں میں اپنا نام زندہ جاوید کردیا ۔ اس ایکٹ کے نفاذ سے قبل 74 میں آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود قادیانی کھلم کھلا اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے اور اپنے حوالہ سے مسلمانوں کو کھلا دھوکہ دیتے تھے مگر اس ایکٹ کے عملی نفاذ کے بعدان کا یہ دھوکہ سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے کھل گیا۔یہ مرحوم ضیاالحق شہید کامسلمانوں کے دین وایمان کو منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خطرناک دھوکہ سے بچانے کاایسا کارنامہ ہےجو کبھی بھی مسلمانوں کے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والوں کے دلوں سے نہیں نکل سکتا۔قادیانی سابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں پھر متحرک ہوئے اورتاحال متحرک ہیں۔وہ نہ صرف پاکستان میں اس آئینی ایکٹ کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہیں بلکہ اب پرانے مربی وآقا انگریزبہادرکی پناہ میں باقاعدہ طورپراپنے تحفظ کیلئے قانون سازی کیلئے راہ ہموارکرنے کیلئے سرگرم ہیں۔اس سلسلے میں برطانوی ہاؤس آف لارڈ کے ایک قادیانی رکن طارق احمدجنہیں برطانوی حکومت نے قادیانیوں کے تحفظ کیلئے مقررکیاگیاہے، شنیدیہ ہے کہ جس طرح یہودیوں کے خلاف کچھ کہنا،لکھناجرم ہے ،قادیانی بھی اپنے لئے ایساہی قانون منظورکروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ہم سب کویہ معلوم ہے کہ قادیانی جماعت کے سربراہ کوباقاعدہ پاکستان اسمبلی میں ایک ہفتے سے زائداپنے خودساختہ دین کے بارے میں وضاحت کیلئے بولنے کاوقت دیاگیاجہاں یہ خودکواپنے عقائدکی روشنی میں مسلمان ثابت کرنے میں ناکام رہے جس کے بعدقومی اسمبلی نے متفقہ طورپران کوپاکستان میں اقلیت قراردینے کاقانون پاس کیاجس پرباقاعدہ عملدرآمدکیلئے مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دورمیں پاکستانی آئین میں باقاعدہ ترمیم کرکے اسے ملکی قانون کاحصہ بنادیاگیاجس پرعملدرآمدہرشہری کافرض ہے۔قادیانیوں نے فوری طورپراپنے پاکستانی مرکزربوہ سے اپنی تمام تبلیغی کاروائیوں کوبرطانیہ منتقل کردیاجہاں برطانوی امدادکے ساتھ اب یہ ایک بہت بڑانیٹ ورک چلارہے ہیں ۔پاکستان کے خلاف نہ صرف منظم کاروائیوں کاسلسلہ جاری وساری ہے بلکہ خودپرہونے والے مظالم کی خودساختہ داستانوں سے جہاں پاکستان کوبدنام کرنے کی مہم میں شب وروز مصروف ہیں بلکہ دین اسلام میں ختم نبوت کے حساس معاملے پرمسلمانوں پردلخراش حملے بھی جاری ہیں۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخر برطانیہ کو انہوں نے اپنامرکزکیوں بنایاہے؟
ہندوستان میں انگریزسرکارجب مسلمانوں کے جذبہ جہادکوسردنہ کرسکی توانہوں نے باقاعدہ ایک منظم سازش کے تحت دین اسلام پررکیک حملہ کرتے ہوئے مرزاغلام محمدقادیانی کو بطورآخری نبی کے طورپرمتعارف کرواتے ہوئے دین اسلام سے ”جہاد”جیسے اہم رکن کوقیامت تک کیلئےختم کرنے کااعلان کروایالیکن انگریزوں کی یہ سازش کامیاب تونہ ہوسکی لیکن مسلمانوں میں ایک نئے فتنے کی بنیادکی آبیاری یہ اب تک کررہےہیں۔ خودمرزاغلام محمداپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے اپنے کتابوں میں کیاتحریرکرتے ہیں ،ان کی اپنی تحریروں کی روشنی میں انتہائی اختصارکےساتھ آپ کوآگاہ کرتے ہیں کہ آخربرطانیہ کی سرزمین کوانہوں نے اپنے لئے کیوں منتخب کیاہے۔
مرزا غلام احمد صاحب اپنی کتاب ستارہ قیصریہ میں لکھتے ہیں:
اے ملکہ معظمہ !تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے، اس لیے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لیے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا، کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے (روحانی خزائن جلد15 ص117)،پھر اسی کتاب کے صفحہ119پر لکھتے ہیں:
اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے، تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے، تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں……… شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا۔ اور بد ذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں…….. میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ پھر اپنی کتاب ”کتاب البریہ” میں لکھتے ہیں:
صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار و جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس ”خود کاشتہ” پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے (روحانی خزائن جلد31ص 530)۔پھر اسی کتاب کے صفحہ4تا 7پر لکھتے ہیں:
میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔میرا والد میرزا غلام مرتضی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربارِ گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریسن صاحب کی کتاب ”تاریخ رئیسانِ پنجاب” میں ہے اور1857 میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کی مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے:
پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی میرزا غلام قادرخدماتِ سرکاری میں مصروف رہااور جب تِموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشیں آدمی تھا، تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی۔
مرزا غلام احمد صاحب اپنی ایک اور کتاب ”تریاق القلوب” میں لکھتے ہیں:
میری عمرکااکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اورحمایت میں گزرا ہے اورمیں نے ممانعت جہاد اورانگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔اسی طرح انگریزوں نے جب افغانستان کے مسلمانوں پر یلغار کی تو مرزا صاحب نے اپنے خطبہ خاص میں جو عید الفطر پر پڑھا گیا:
تم نے دیکھا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو سرحد پر کئی بار جنگ کرنی پڑی ہے، گو سرحدی لوگ مسلمان ہیں……..ایسا ہی آجکل ہماری گورنمنٹ کو ٹرینسوال کی ایک چھوٹی سے جمہوری سلطنت کے ساتھ مقابلہ ہے۔وہ سلطنت پنجاب سے بڑی نہیں ہے اور یہ سراسر اس کی حماقت ہے کہ اس نے اس قدر بڑی سلطنت کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے۔ لیکن اس وقت جبکہ مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ ہر ایک مسلمان کا حق ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعا کرے۔ ہم کو ٹرینسوال سے کیا غرض؟ جس کے ہزاروں ہم پر احسان ہیں ہمارا فرض ہے اس کی خیر خواہی کریں۔۔۔۔۔۔ اس کے بعدحضرت اقدس نے نہایت جوش اور خلوص کے ساتھ دعا کیلئےہاتھ اٹھائے…….. اور بہت دیر تک فتح اور کامیابی کے لیے دعا کی گئی (رودادِ جلسہ دعا۔ روحانی خزائن جلد پندرہ ص426/126)
مرزا صاحب یوں بھی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ……..اگر خدا تعالی ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کرکے تبلیغ کریں، اور اسی تبلیغ میں زندگی ختم کردیں خواہ مارے ہی جاویں (ملفوظات جلد 3ص 292)
مرزاصاحب نے خود فرمایا ہے کہ ان کے فرشتوں کے نام ”آئیل” اور ”ٹیچی ٹیچی” تھے جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ یقیناً انگریز ہی ہوں گے۔ مرزا صاحب کی ایک ریاہے:ایک فرشتہ کو میں نے20برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا،صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میزکرسی لگائے ہوئےبیٹھا ہے، میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں، اس نے کہا ہاں میں درشنی ہوں (ملفوظات جلد 7ص 98)
اللہ تبارک تعالیٰ انبیاء علیہ السلام ،صحابہ کرام،اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم،قرآن مجید،حرمین شریفین اورمسلمانانِ عالم کے متعلق مرزاقادیانی کے کفریہ عقائد کانمونہ خودقادیانیوں کی کتابوں سے ملاحظہ فرمائیں(معاذاللہ)
٭سچاخداوہی ہے جس نے قادیان میں اپنارسول بھیجا(دافع البلاء ص11/ ازمرزاقادیانی)
٭میں نے خواب میں دیکھاکہ میں خودخداہوںاورمیں نے یقین کرلیاکہ میں وہی ہوں (آئینہ کمالات اسلام ص 564ازمرزاقادیانی)
٭اللہ تعالیٰ کے بے شمارہاتھ اورپیرہیں…..اورلاانتہاء عرض وطول رکھتاہے…..اورتیندوے کی طرح اس وجودِ اعظم کی تاریں ہیں (توضیح مرام ص 42ازمرزاقادیانی)
٭خداتعالیٰ سے انسان کہاں بھاگ سکتاہے،وہ فرماتاہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا (تجلیات الہیٰ ص 4ازمرزاقادیانی)
٭مرزانے ایک موقع پراللہ تعالیٰ می ذات اقدس پرجنسی بہتان باندھاہے (اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر34ص31)
٭اللہ تعالیٰ کاوعدہ تھاکہ وہ ایک مرتبہ اورخاتم النبین کودنیامیں مبعوث کرے گا…..پس مسیح موعود(مرزا)خودمحمدرسول اللہ ہے جواشاعت اسلام کیلئے دوبارہ دنیامیں تشریف لائے(کلمتہ الفضل ص 158ازمرزابشیراحمدابن ازمرزاقادیانی)
٭جوشخص مجھ میں اورمصطفیٰ میں تفریق کرتاہے اس نے مجھے نہیں دیکھااورنہیں پہچاناہے( خطبہ الہامیہ ص 171ازمرزاقادیانی)
٭محمدالرسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفاررحماء بینہم……..اس وحی الٰہی میں میرانام محمدرکھاگیااوررسول بھی(ایک غلطی کاازالہ ص3 خزائن ص 564ص جلد5ازمرزاقادیانی)
٭نبی کریم ۖکے تین ہزارمعجزات ہیں(تحفہ گولڑیہ ص 67ازمرزاقادیانی)
٭مرزاقادیانی کے دس لاکھ سے زیادہ نشانات ہیں(براہین احمدیہ جلدپنجم ص72)
٭نوٹ نشان اورمعجزہ دونوں ایک چیزہیں(براہین احمدیہ جلدپنجم ص63)
٭(آنحضرتۖ اورآپ کے اصحاب)عیسائیوں کے ہاتھ کاپنیرکھاتے تھے حالانکہ مشہورتھاکہ سورکی چربی اس میں پڑتی ہے۔(اخبارالفضل قادیان مورخہ 22 فروری1924ء)
٭یورپ کوجس قدرشراب نے نقصان پہنچایاہے،اس کاسبب تویہ تھاکہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیاکرتے تھے(کشتی نوح خزائن ص73 جلد 19 از مرزاقادیانی)
٭یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکاکہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے ،یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعدبلکہ ابتداء ہی سے ایسامعلوم ہوتاہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کاایک بدنتیجہ ہے(ست بچن حاشیہ ص 172ازمرزاقادیانی)
٭آپ(عیسیٰ علیہ السلام )کاخاندان بھی نہائت پاک ومطہرہے،تین دادیاںاورنانیاں آپ کی زناکاراورکسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہورپذیرہوا (ضمیمہ انجام آتھم ص7 حاشیہ خزائن ص 291جلد11ازمرزا قادیانی)
٭قرآن شریف خداکی ایک کتاب اورمیرے منہ کی باتیں ہیں(تذکرہ مجموعہ الہامات ص 75ازمرزاقادیانی)
٭ابوبکروعمرکیاتھے وہ توحضرت غلام محمد(قادیانی)کے جوتوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ تھے(ماہنامہ المہدی ص57 بابت جنوری/ فروری1951ء)
٭حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پرمیراسررکھااورمجھے دکھایاکہ میں اس میں سے ہوں(ایک غلطی کاازالہ ص 9ازمرزاقادیانی)
٭لوگ بھی معمولی اورنفلی طورپرحج کوجاتے ہیں مگراس جگہ(قادیان)نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔(آئینہ کمالات اسلام ص 352خزائن جلد5 ص352 ازمرزاقادیانی)
٭زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے (درثمین ص 52 ازمرزاقادیانی)
٭کنجریوں کی اولادنے میری (مرزاقادیانی)تصدیق نہیں کی(آئینہ کمالات اسلام ص 547/548 ازمرزاقادیانی)
٭دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیرہوگئے اوران کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں(نجم الہدیٰ ص 53ازمرزاقادیانی)
٭کل وہ مسلمان جوحضرت مسیح موعود(مرزاقادیانی)کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود(مرزا)کانام بھی نہیں سناوہ کافراوردائرہ اسلام سے خارج ہیں (آئینہ صداقت ص35 از مرزاقادیانی)
بقول مرزا صاحب کے ان کی عمر سترہ (17) برس تھی جب ان کے والدکاانتقال ہوگیا۔انہوں نے زندگی بھر انگریزوں کی ہی حمد گائی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرزا صاحب مسلمانوں کے نبی تھے یا انگریزوں کے؟ مسلمان نبی کے اوپر انگریز فرشتوں کا کیا کام؟ کوئی بھی ذی شعور شخص مرزا صاحب کی مندرجہ بالا تحریرں پڑھ کر یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگا سکتا کہ وہ مسلمانوں کے ہرگز ہرگز نبی نہیں تھے، اور اگر وہ نبی ہوتے تویقینا انگریزوں کے ہوتے جن کی تمام عمراٹھتے بیٹھتے،جاگتے سوتے اور چلتے پھرتے وہ مدح سرائی کرتے رہے۔آج قادیانی جماعت کامستقل پڑاؤ لندن میں یہ ثابت کررہا ہے کہ” پہنچی وہی پہ خاک جہاں کاخمیر تھا”!یہی وجہ ہے کہ آج قادیانی اپنے آقاومربی برطانیہ سے اپنے نبی غلامحمد قادیانی کی مدح سرائی اورخدمات کاصلہ مانگ رہے ہیں۔
اطلاع ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن برطانیہ نے برطانوی حکومت کی طرف سے لارڈ طارق احمدکی تقرری کے بارے میں وزارتِ خارجہ پاکستان کو مطلع کردیاہے لیکن ابھی تک کوئی ردّ ِ عمل سامنے نہیں آیا۔یادرہے کہ اب تک پاکستان بے تحاشہ جانی ومالی قربانیوں کے باوجودجہاں دہشتگردی کے الزامات سے باہرنہیں نکل سکا ،اب اس کیلئے انسانی حقوق کی پامالی کے نام پرایک نیاجال تیارکرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
یارب العالمین:ہم مرزااوراس کی کفریات پرلعنت بھجتے ہیں اورتیرے غضب سے تیرے دامن رحمت میں پناہ چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں