Sample Kash

گونگے شیطان

:Share

ایک مرتبہ پھرکروناکی آڑمیں حج پرپابندی لگادی گئی اورصرف مقامی افرادکوحددرجہ پابندیوں میں اجازت ملی ہے لیکن تعجب کی بات تویہ ہے کہ کروناکو سعودی سینماہال،کیسینو،ہوٹلزاورشاپنگ مال کی رونقیں ماندکرنے کی اجازت نہیں۔حدتویہ ہے کہ کرونا یوروفٹ بال ٹورنامنٹ کے لاکھوں شائقین کے قریب بھی پھٹک نہیں سکا لیکن جہاں سال کے بعدمختلف بودوباش کے حامل افراد کوصرف اورصرف کلمہ طیبہ ایک جگہ،ایک چھت کے نیچے اس طرح جمع کرتاہے کہ کوئی اجنبیت باقی نہیں رہتی اوریہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ہم سب کی سوچ اورفکر ایک ہے اوروہ فکرنبوی ہے کہ کس طرح یہ امت اپنے تمام اختلافات بھول کرایک دوسرے کے غم اورخوشیوں میں شریک ہوجائیں،دنیاکے اس عظیم الشان اجتماع پرپابندی لگانے کیلئے کروناکابہانہ ڈھونڈلیا گیا

اس وقت دنیابھرمیں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا امت مسلمہ ہے جس پرچاروں طرف سے ابتلاء کی بارش کردی گئی ہے لیکن ہمارے تمام دشمن نہ صرف اکٹھے مل کرمسلمانوں کونیست ونابودکرنے کی عملی سازشوں میں شریک ہیں بلکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کادشمن بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اورہم ایک دوسرے کاگلہ کاٹنے میں مصروف ہیں۔یوں تواس وقت امت مسلمہ کئی مسائل سے دوچارہے لیکن کشمیراورفلسطین دوایسی بڑی مقتل گاہیں بن چکی ہیں جہاں پچھلی سات دہائیوں سے انسانیت مسلسل چیخ وپکارکررہی ہے لیکن خودکو مہذب کہلانے والی قومیں نہ صرف بہرے اورگونگے شیطان کاکردارادا کررہی ہیں بلکہ اس ظلم وستم میں برابرکے شریک ہیں۔

کشمیریوں اورفلسطینیوں پر قیامت بیت رہی ہے لیکن صدافسوس کہ یہاں ہماری مسلم حکومتوں کی محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ بستی میں ایسی بے حسی تو کبھی نہ تھی۔ درست کہ ہم آج کمزور ہیں اور ان کی عملی مدد سے قاصر ہیں۔ لیکن ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح سنبھال کر رکھیں اور نسلوں کو وراثت میں دے جائیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔ وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔ ہم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کو تازہ رکھیں۔ ان سے رستے لہو کو جمنے نہ دیں۔ بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسند مسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ ہمارا ادیب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہو کر یہ امانت نسلوں تک پہنچا رہا تھا۔

اقبال، قدرت اللہ شہاب، فیض،شورش کاشمیری، انتظار حسین، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، ابن انشاء، احمد فراز، رئیس امروہوی، ن م راشد، مستنصر حسین تارڑ، قرۃ العین حیدر، مظہر الاسلام، ادا جعفری، یوسف ظفر، منظور عارف، ضمیر جعفری، خاطر غزنوی، محمود شام، نذیر قیصر، شورش ملک، سلطان رشک، طاہر حنفی، بلقیس محمود…………میرے ملک کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اور نظموں میں اس دکھ کو آئندہ نسلوں کیلئےامانت کے طور پر محفوظ کر دیا،یہ مگر گزرے دنوں کی بات ہے۔

اب فلسطین سے دھواں اٹھتا ہے تو ایک مستنصر حسین تارڑ کا قلم نوحے لکھتا ہے۔ باقی ادیب کیا ہوئے؟ قلم ٹوٹ گئے، سیاہی خشک ہوگئی یا احساس نے دم توڑ دیا؟ برسوں پہلے انتظار حسین کا افسانہ ’’شرم الحرم‘‘ پڑھا تھا۔ کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازو ہیں۔ ’’بیت المقدس میں کون ہے؟ بیت المقدس میں تو میں ہوں۔ سب ہیں۔ کوئی نہیں ہے۔ بچے کمہار کے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے، کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانند لرزتی ہیں۔ ان کی پوشاکیں لیر لیر ہیں۔ بال کھلے ہیں۔ انہیں تو آفتاب نے بھی کھلے سر نہیں دیکھا تھا۔ عرب کے بہادر بیٹے بلندو بالا کھجوروں کی مانند میدانوں میں پڑے ہیں۔ صحرا کی ہواؤں نے ان پر بین کیے‘‘۔

انتظار حسین ہی کے افسانے ’’کانے دجال‘‘ کو میں نے کتنی ہی بار پڑھا۔ یہ پیراگراف ہر دفعہ خون رلاتا ہے۔ ’’پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔ انہوں نے سروتا تھالی میں رکھا اور آنچل سے آنسو پونچھنے لگیں۔ ابا جان کی آواز بھر آئی تھی مگر ضبط کر گئے۔ اپنے پروقار لہجے میں شروع ہو گئے: آنحضورؐ ﷺ دریاؤں، پہاڑوں، صحراؤں، سے گزرتے چلے گئے۔ مسجد اقصیٰ میں جاکر قیام کیا۔ حضرت جبریلؑ نے عرض کیا یا حضرتؐ ﷺ تشریف لے چلیے، آپؐ ﷺ نے پوچھا کہاں؟ بولے کہ یا حضرتؐ ﷺ زمین کا سفر تمام ہوا۔ یہ منزل آخر تھی۔ اب عالم بالا کا سفر درپیش ہے۔ تب حضورؐ ﷺ بلند ہوئے اور بلند ہوتے چلے گئے……….. وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ …….ابا جان کا سر جھک گیا۔ پھر انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ بولے ’’جہاں ہمارے حضورؐ ﷺ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔

لڑکپن جوانی میں بدلا اور جوانی ڈھل چلی، کنپٹیوں کے بال اب سفید ہو رہے ہیں اور عائشہ اب چہچہاتی ہے کہ بابا آپ تو بڈھے ہو گئے۔ لیکن یہ فقرہ آج بھی نیزے کی انی کی طرح وجود میں پیوست ہے ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔ عشروں پہلے بھی یہ فقرہ پڑھا تو آگے پڑھا نہ گیا۔ آج بھی یہاں پہنچتا ہوں تو آنکھوں میں دھند اتر آتی ہے.سیدعلی گیلانی کانورانی اورپرعزم چہرہ سامنے آن کھڑاہوجاتا ہے اور افسانہ ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔منیر نیازی والا معاملہ درپیش ہوتا ہے: ’’اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور‘‘۔ لمحہ موجود کی روشن خیالی کا تو سارا بانکپن ہی مسلمانوں پرغرانے اورغراتے رہنے میں ہے۔ میں مگر بھلے وقتوں کی بات کر رہا ہوں۔ جب روشن خیالی کی مسندابھی مسخروں کے ہاتھ نہیں آئی تھی۔ تب فیض احمد فیض نے فلسطینی مجاہدوں کیلئےایک ترانہ لکھا تو قرآن کی آیت کو عنوان بنا دیا:
لاخوف علیھم ولاھم یجزنون
ابن انشا کی دیوارِگریہ پڑھیے،فیض کی سرِ وادیِ سینا کودیکھئے،ادا جعفری کی مسجداقصیٰ پرنگاہ ڈالیے،منظور عارف کے آئینے کے داغ دیکھئے، احمد فرازکے بیروت کو دیکھئے، رئیس امروہوی کا فدیہ اور محمود شام کی بنت اقصیٰ دیکھئے، آپ کو سطر سطر یہ دکھ تازہ ملے گا۔ انہوں نے اس دکھ کو اگلی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچایالیکن آج کیوں قحط الرجال ہے،یہ میں نہیں بلکہ بھارت کی بدنام زمانہ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنے والی میری مجاہدہ بہن سیدہ آسیہ انداربی اوراس کے ساتھ قیدفہمیدہ اورنسرین پوچھ رہی ہیں اورمیرے پاس اس کاکوئی جواب نہیں۔آخرکہاں سے ڈھونڈکرلاؤں اس کاجواب؟ہم نے تواپنے رب کی اس دھرتی پرسینے پرہاتھ رکھ کرہزاروں کے مجمع میں کشمیرکے وکیل ہونے کادعویٰ کیاتھا، کشمیرکی آزادی کیلئے ہرجمعہ کی دوپہرکوایک گھنٹے کی علامتی مظاہرہ کا اعلان کیاتھا،لیکن ہواکیا؟چندمنٹ کافوٹوسیشن کرکے وکیل کہاں چھپ گیا؟آپ نے توکشمیرکے بارے میں جہاد کانعرہ بلندکرنے سے بھی منع کردیا تھا ۔ کیاپاکستان کومدینہ ریاست بنانے کادعویٰ کرنے سے پہلے یہ سوچانہیں تھاکہ مدینہ کواسلامی اورفلاحی ریاست بنانے کیلئے بدراوراحدکے علاوہ بھی کئی دیگر معرکوںمیں میرے آقانبی اکرم ﷺ کو خودعملی جہادکرناپڑا۔مجھے سمجھ نہیں آرہاکہ میں اپناغم اوردردکس سے بیان کروں؟

اس امانت میں صرف درد کااحساس ہی نہیں وقت کے موسموں کے بدلنے کی آس بھی ہے۔مستنصر حسین تارڑ کے ’’خانہ بدوش‘‘ کاآخری پیراگراف پڑھیے: ’’میں سینکڑوں فلسطینیوں سے مل چکا تھا۔ مگر احمد ایک مختلف انسان تھا۔ وہ حقارت سے اسرائیل کا ذکر کرتا تھا بلکہ ایک سپاٹ اور کاروباری انداز میں۔ وطن اس کیلئےایک اغوا شدہ بچہ تھا جو جذباتی ہونے سے نہیں مل سکتا تھا۔ اس کی تلاش میں اس کے نقش نہیں بھولنے تھے اور ایک سرد منصوبہ بندی سے خرکار کیمپ تک پہنچنا تھا‘‘۔ یہی نقش ہم بھولتے جارہے ہیں۔ یہ نقش کیسے یاد رہتے ہیں؟ ماؤں کی لوریاں انہیں تازہ رکھتی ہیں، نصاب تعلیم تذکیر کا کام کرتا ہے، ادیب اور شاعر کا قلم اسے سنوارتا رہتا ہے۔ ماؤں کے پاس اب وقت نہیں، باپ کی جانے بلا، فلسطین اورکشمیر کیا ہے؟ نصاب تعلیم اجنبی ہو چکا، اور ادیب و شاعر گونگے ہو چکے۔

ایک یلغار ہے جس نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فلسطین کی بات کرنا اب دقیانوسی رویہ ہے کہ عرب جوخودکوفلسطین کاوکیل سمجھتے تھے،نہ صرف اس کامقدمہ ہارچکے بلکہ خودکواس وکالت نامے سے آزادکرکے اس کانام بھی سنناانہیں گوارہ نہیں۔ان کی ترجیحات تواپنے اقتدار کو طول دینا،قومی دولت کواغیارکے خزانوں میں محفوظ کرناکہ مشکل وقت میں کام آئے گی۔انہیں صدام اورمعمرقذافی کے عبرتناک انجام سے ڈرایا جاتا ہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جب بھیڑکوذبح کردیاجائے تواس کی بلاسے کہ اس کی بوٹیوں کاسائزکیاہوگایاپھراس کے گوشت کاقیمہ بنایاجائے گا۔

کون نہیں جانتاکہ معمر قذافی کو امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط نہ رکھنے کی سزا دی گئی ، لیبیا کے عوام کو بچانے کا پراپیگنڈا کرکے ان کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔بظاہر تو لیبیا پر یہ کہہ کر حملہ کیا گیا کہ وہاں کے عوام کو قذافی سے بچایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ معمر قذافی نہ یورپی ممالک اور نہ امریکا کو اپنے اقتصادی معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتے تھےبلکہ وہ عالمی منڈی میں تیل کے بدلے ڈالرکے مقابلے میں سونے کاسکہ چلانے کیلئے کوشاں تھے اورتمام تیل پیداکرنے والے ممالک کواس فارمولے پرقائل کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہورہے تھے۔ قذافی کی کوشش تھی کہ وہ چین ، ترکی اور ایشیائی ممالک سمیت ان ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلق رکھیں جو امریکا کے اثر سے پاک تھے۔معمر قذافی کے خلاف یہ بات اڑائی گئی کہ ان کی ایئر فورس بن غازی میں عوامی مظاہروں کے خلاف استعمال ہورہی ہے، الجزیزہ ٹی وی پر ایک خبر بھی چلی کہ بن غازی میں بمباری کے نتیجے میں 50 ہزار لوگ مارے گئے، اگرچہ یہ خبر واپس لے لی گئی تھی لیکن اس خبر کے نتیجے میں لیبیا کے اوپر نو فلائی زون قائم کردیا گیا۔بعد میں اسی نو فلائی زون کو توڑتے ہوئے بمباری شروع کردی گئی اور قذافی کے گھر پر بمباری کرکے ان کے ایک بیٹے کوبچوں سمیت شہید کردیاگیا۔اس موقع پر پوری عرب اور اسلامی دنیادیکھتی رہ گئی اور کچھ نہ کر سکی۔ یہ امریکا کی جانب سے لیبیا کے عوام کو بچانے کیلئے کھلی اورجارحانہ مداخلت تھی اورمغرب کی خاموشی آج ان کے ضمیروں پر بوجھ بن کر تازیانے برسارہی ہے۔اپنے اس جرم کااعتراف خودمجھ سے مغرب کے کئی دانشوروں نے کیاہے۔

مقبوضہ کشمیرکی ’’وولرجھیل کے کنارے‘‘ میں سیدعلی گیلانی نےاپنی سوانح حیات میں دل کے زخم دکھانے سے توگریزکیالیکن بین السطورمیں چشم کشا منظرناموں کی نشاندہی کردی ہے۔ بھارتی بنئے کے سینے پربیٹھ کراپنے لاکھوں چاہنے والوں اور سرفروشوں کے درمیان علی الاعلان یہ دعویٰ رقم کردیا کہ ’’ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہماراہے‘‘ لیکن کیاکشمیریوں کاقصوربھی یہ ہے کہ وہ تاریخ ِ عالم میں اُن چند پُرعزم، بلندحوصلہ، حق پرست ، حریت پسند اورجذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سرِ فہرست ہیں جوسات لاکھ سے زائد بھارتی درندوں کے ظلم سے نہ تو خوفزدہ ہیں اورنہ ہی ان کے سامنے سر تسلیم ِ خم کیا ہے ۔1947ء سے لیکر آج تک ان پرزندگی تنگ کردی گئی ہے جوبلاشبہ ہندوبنئے ڈوگرہ راج کا تسلسل ہے۔گمنام اجتماعی قبریں، بے گناہ شہداء، معصوم یتیم، بیوہ و نصف بیوہ عورتیں، نابینا بچے،جوان، معذور و بے سہارا بوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن وہ آج بھی اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ جوان دنوں بڑی طاقتوں کی ایک لونڈی کاکرداراداکررہاہے،سے اپنا وہ جائزحق مانگ رہے ہیں جواس ادارے میں اقوام عالم کے اتفاق رائے سے دنیاکی چندبڑی طاقتوں کے بطورضامن ،ان کودینے کاوعدہ کیاگیاتھا۔آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری خاموش زبانوں ، نابینا آنکھوں،بہتے زخموں، لُٹی عزتوں اور بے بس ہاتھوں میں جوان لاشے اٹھائے ضمیر ِعالم کو جھنجھوڑنے کی ناکام مگر پُر امید کوشش میں مصروف و شکوہ کناں ہیں۔

1948ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے 48 ممالک کی رضامندی سے 30 دفعات پر مشتمل عالمی منشور جاری کیاتھا – اس منشور کے تحفظ ،بہتری اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیاتھا – انسانی حقوق کے اس عالمی منشور میں بنیادی انسانی حقوق مثلاً انسانی آزادی، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار،باوقار زندگی، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے -گو کہ اِس دن دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ،مگر سوا ئے پاکستان و دیگر چند ممالک کے ، اقوامِ عالم نے کشمیرو فلسطین میں ہونے والی اندوہ ناک انسان دشمنی کو ہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈالے رکھاہے۔

مسلمانوں کے دکھ پر رونا اب انتہا پسندی بن چکا۔اب تو مطالعہ پاکستان بھی مسخروں کے مزاح کا عنوان بن چکا، بیانیہ اب وہی ہے جو مغرب سے آتا ہے اورمسلمانوں کے حقوق انسانی نہیں ہوتے۔ ہم نے اپنے نصاب کو جانے کن کن فضولیات سے بھر رکھا ہے۔ کیا اس میں فلسطین کے محمود درویش کی دو نظمیں ہم شامل نہیں کر سکتے۔کبھی آپ محمود درویش کو پڑھ کر تو دیکھیے۔ میں انگریزی ادب کا بھی طالب علم رہا ہوں اور ورڈزورتھ، کیٹس، بائرن، شیلے، ییٹس، براؤننگ، ہارڈی، جان ڈن، شیکسپیئر، ملٹن سمیت کتنوں کو پڑھ رکھا ہے لیکن جو بات محمود درویش میں ہے وہ ان میں کہاں۔ محمود درویش، نزاد قبانی، سمیع قاسم، فوزی اسمر، حنا ابوحنا، توفیق زیاد، توفیق فیاض، امین حبیبی، ایک کہکشاں آباد ہے ہمیں جس کا علم ہی نہیں۔ سمیع قاسم کی نظم ’’ارم‘‘ تو کمال ہے۔ ابدا علی ھذاالطریق،رایاتنابصرالضریر۔ ہمیشہ سے اس راستے پر ہمارے پرچم اندھوں کیلئےبصارت بنے ہیں۔محمود درویش نے کیاخوب لکھا: ’’ویشتمنااعادینا،ھلا!ھمج ہم،عرب۔ نعم عرب‘‘۔ ہمارے دشمن آوازے کستے ہیں، یہ عرب ہیں، یہ اجڈ ہیں اور وحشی۔ ہاں سن رکھو ہم عرب ہیں۔ درویش کے ’’انا شید کوبا‘‘ کا تو جواب نہیں۔

ذدا نزاد قبانی کی یہ نظم دیکھیے: ’’آل اسرائیل! ایسااترانابھی کیا؟گھڑی کی سوئیاں آج رک گئیں توکیاہوا کل یہ پھرسے چل پڑیں گی۔زمین کے چھن جانے کاغم نہیں باز کے پر بھی جھڑ جایا کرتے ہیں۔ طویل تشنگی کا بھی ڈر نہیں کہ پانی ہمیشہ چٹانوں کی تہہ میں ہوتا ہے۔ تم نے فوجوں کو ہرا دیا لیکن تم شعور کوشکست نہیں دے سکے۔ تم نے درختوں کی چوٹیاں کاٹ ڈالیں جڑیں مگر باقی ہیں‘‘۔ ہم آج بے بس سہی، مگر جڑیں تو باقی ہیں۔ ان جڑوں کی آبیاری تو ہم کر ہی سکتے ہیں۔ ہم اپنے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے لیکن ہم ان دکھوں کو سنبھال کر تو رکھ سکتے ہیں۔ ہم اس امانت کو اگلی نسل کو تو سونپ سکتے ہیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔ وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔

محمود درویش نے کہا تھا: ’’اے میرے وطن میری زنجیروں نے مجھے عقاب کی سختی اور رجائی کی نرمی سکھائی معلوم نہ تھاہماری کھال کے نیچے طوفان جنم لیں گے اور دریاؤں کا وصل ہوگا انہوں نے مجھے کوٹھڑی میں قید کیا میرے دل نے وہاں مشعلیں فروزاں کر دیں انہوں نے دیوار پر میرا نمبر لکھا لیکن دیواریں مرغزار ہو گئیں انہوں نے میرے جلاد کی تصویر بنائی ، روشن زلفوں سے اسے چھپا لیا میں نے شکست کو اٹھا کر پٹخ دیا اور فاتحین نے تو صرف زلزلوں کو جگایا ہے‘‘۔ ہم کیسے بھول جائیں ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔

یہ دکھ ہماری اگلی نسل کی امانت ہے۔آپ کے آنگن میں بچے کھیل رہے ہوں گے۔انہیں بلائیے، پاس بٹھایئے اور یہ دکھ ان کی رگِ جاں میں انڈیل دیجیے کہ ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔اورہاں ان تمام نوحوں میں بھارتی درندوں کی بے رحم سنگینوں کاشکار، خونِ حق سےتربتر کشمیر ہم نے کہاں کھودیا؟اس کی یادیں اب کیوں دھندلارہی ہیں؟ہرروزوہاں کے نوجوان اپنے سروں پر سبز ہلالی پرچم کواپنا کفن سجا کرراہِ عدم کوروانہ ہونے میں تفاخرمحسوس کررہے ہیں۔وقت رخصت ان کے چہروں کی مسکراہٹ پتہ دے رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کے حضوراس کے انعامات سے خوش وخرم اورراضی ہوکرابدی اوردائمی زندگی کی کامیابی کے پروانوں کے تمغوں سے سرفرازکر دیئے گئے ہیں۔ ایساکیوں نہ ہو کہ وہاں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی نشانی،مردِ بطل حریت اسیرسیدعلی گیلانی کی للکاراورانکاررگوں میں منجمدخون کوایسی حرارت بخش رہاہے جس سےجہاں ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں شوقِ شہادت کے جذبوں سے معمورجوانیاں میدانِ عمل میں اترآئی ہیں وہاں ارضِ جنت سے آسیہ اندرابی نمودار ہوکرمتعصب شیطانوں اورظالم کافروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرآتش حریت سےپکاررہی ہے کہ ہمارے کشمیرسے نکل جاؤکہ میراکشمیرتوکبھی بھی بھارت کاحصہ نہیں رہا اورجونہی ہندوستانی ہائیکورٹ کشمیری مسلمانوں کے مذہبی رسوم ورواج کے خلاف گائے کے ذبیحہ پرپابندی کاظالمانہ حکم صادرکرتی ہے تویہ مومنہ اسی لمحے چوک کے اندراپنے نگرانی میں اللہ کے راستے میں صدقہ کے طورپرگائے کوذبح کروانے کے عمل کے بعدخون آلودچھری کولہرتے ہوئے عدالت کے اس بہیمانہ قانون کے پرزے اڑاکراپنے رب کوراضی کرنے کیلئے اس کی کبریائی بیان کرکے ایک مثال قائم کردیتی ہے۔

آج اسی آسیہ کواس کی دو نوجوان ساتھیوں سمیت بھارت کی سب سے بدترین جیل کی کال کوٹھڑیوں میں قیدتنہائی میں ڈال کراس کے عزم کو شکست دینے کی بدترین کوشش کی گئی جواب بھی جاری ہیں جبکہ بزدل بنیاء جانتاہے کہ آسیہ نے ساری عمرثابت قدمی کی وہ زریں مثال قائم کی ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے اس کے شوہرڈاکٹر قاسم کوبے گناہی کے جرم میں آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے کے باوجوداس کے پائے استقامت میں کوئی لرزش نہیں آئی۔اس علیل مجاہدہ کوجیل کی کوٹھڑی میں جہاں انتہائی ضروری ادوّیات سے محروم کردیاگیا، وہاں کال کوٹھڑی میں قیدتنہائی میں ناقص اورمضرصحت غذا بھی سلاخوں سے پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال کرپھینکاگیا،یقیناً میری مجاہدہ بہن اپنے رب کے اس وعدے پرایمان کی حدتک یقین لاچکی ہے ، وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ، وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰاور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے،اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے(سورة الضحى: 4-5)اسی لئے وہ آج ہندودرندوں کے تعذیب وابتلاء کوانتہائی بہادری سے برداشت کررہی ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سوبارلے چکاہے توامتحاں ہمارا

مجھ تک جب ایسی مستندخبریں پہنچتی ہیں تومیرے شب وروزمجھے انتہائی بے چین ،پریشان اورکرب میں مبتلاکردیتے ہیں کہ ہمارامیڈیاکس قدر آسانی سے ان کوبھولنے کے جرم عظیم کامرتکب ہورہاہے۔ میرے آقا نبیۖ اکرم جنہیں میرے رب نے سب جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا،ان کے سینہ مبارک پرنازل الہامی اورآخری کتاب قرآن حکیم کایہ پیغام کیوں بھول گئے کہ:اور تم کو کیاہواہے کہ خدا کی راہ میں اور ان بیکس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما(نساء:75)۔ کیاکبھی تنہائی میں خوداحتسابی کاسامناکرناپڑا کہ اس مختصرعارضی زندگی کے چندروزہ اقتدار کابالآخرحساب تودیناہوگا۔اللہ کے اس برحق پیغام نے کبھی دل پرلرزہ طاری کیاکہ:
اوراعمال کاوزن کیاجانا اس دن برحق ہے،پس جس شخص کے اعمال نامے بھاری ہوں گے،پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔اور جس کے اعمال نامے ہلکے ہوں گے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کوخسارے میں ڈالا اس واسطے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے۔(الاعراف:8-9) ربِّ ذوالجلال کایہ حکم بھی پڑھ لیں:پھرجس کے نیک اعمال کاپلہ بھاری ہوگاتووہ پسندیدہ زندگی میں ہوگااورجس کاپلہ ہلکا ہو گاتواس کاٹھکانہ گڑھاہوگا۔اورتجھے کیا معلوم وہ کیاہے،وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔(القارعہ:6-11)

پاکستان کوریاست مدینہ بنانے والے میرے رب کایہ اٹل فیصلہ بھی ذہن نشیں کرلیں کہ:….کیالوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ وہ بس اتناکہہ دینے سے چھوڑدیئے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے”اوران کوآزمایانہ جائے گا؟اللہ کوتویہ ضروردیکھناہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون!( العنکبوت:2۔3) اورہاں یہ بھی سن لو:اور اس سے بہتر کس کی بات ہے جس نے لوگوں کواللہ کی طرف بلایا اور خود بھی اچھے کام کیے اور کہا بے شک میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں!(الفصلات: 33۔41)
یقیناًان حالات میں دل بے اختیار پکاراٹھتاہے کہ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

eighteen + five =