اللہ کےغضب کوآوازنہ دو

:Share

انسان جب زمین پربڑا بن کربیٹھ جاتاہے توپھرتاریخ اس کےتکبرپرگواہی دینے لگتی ہے۔ اپنے اس زعم اور جاہ وجلال پرخود شہادت دیتاہے۔ اس کائنات میں جس کسی نے اپنے بڑے ہونے،مالک ہونے،فرمانرواہونے اورسیاہ وسفیدپرحکمران ہونے کادعویٰ کیا اس نے کبھی بھی اپنے آپ کومعبود، پیداکرنے والا،زندگی اور موت دینے والانہیں کہا۔بیماریوں اورآفتوں کونازل کرنے والانہیں گردانابلکہ ہمیشہ اس کادعویٰ ایک ہی رہتاہے اور وہ یہ کہ لوگ مجھ سے روٹی کپڑااورمکان مانگتے ہیں اورمیں روٹی کپڑااور مکان دینے والا ہوں۔حیرت کی بات ہے کہ ان سب چیزوں کاذمہ اس مالک کائنات نے اپنے ذمے لے لیااورانسانوں کواس زمین پرعدل کرنے،حقدارکو حق لوٹانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ قرآن فرعون کے دعوے کوبیان کرتے ہوئے اس کاایک تصور بتاتاہے کہ وہ تخت وتاج کا وارث بن کر،وسائل کامالک ہوکر،بس ایک دعویٰ کربیٹھا”اناربکم الاعلی”میں بہترین پالنے والاہوں۔یعنی میں بہترین روٹی کپڑااورمکان دینے والاہوں۔یہی نہیں بلکہ اللہ ایسے سب انسانوں،جواپنی ضروریات کی طلب ایسے انسانوں سے کرتے ہیں،ان کے سامنے اپنے مطالب لے کرجاتے ہیں،انہیں کے بارے میں یہ تصور بنالیتے ہیں کہ وہ انہیں یہ سب ضروریات فراہم کریں گے،ا ن سے بے پرواہ ہوجاتا ہے،منہ پھیرلیتاہے۔اس کی ذمہ داریوں کی تقسیم بڑی واضح ہے۔وہ جسے دولت سے نوازتاہے، اسے بتادیتاہے کہ میں نے تمہیں اپنےحصے کے ساتھ بہت سے دوسرے مسکینوں،یتیموں اورکمزوروں کابھی حصہ رکھ دیاہے۔اس لئے دیکھوانصاف کرنا،ان کاحق نہ مارنا،ان کاحصہ نہ کھانا،تمہاراساراامتحان اس بات پرہے کہ تم اس نعمت کے ساتھ کتناعدل کرتے ہو۔

جن کوحکمرانی عطاکرتاہے انہیں کہیں یہ نہیں کہتاکہ تم کومیں نے اس ملک میں روٹی ،کپڑااورمکان کاٹھیکیداربناکربھیج دیاہے۔ بلکہ قرآن با بارانہیں صرف ایک چیز کی تلقین کرتاہے،دیکھو زمین پرعدل قائم کرو۔انصاف کے ساتھ فیصلے کرو۔حق دارکوحق دلاؤ۔ سیدالانبیاﷺنے اپنے ایک فرمان میں ان سات لوگوں کے بارے میں بتایا کہ روزقیامت جب زمین سورج کی تپش سے کھول رہی ہوگی کسی جانب کوئی سایہ نہ ہوگاتواللہ جن سات لوگوں کواپنے تخت کے سائے کے نیچے پناہ دے گا ان میں سب سے پہلے عادل حکمران کانام آتاہے۔کسی مولوی،کسی پیر،کسی عالم کاتذکرہ نہیں بلکہ صفات کی بنیادپراس تخت الہٰی کاسایہ نصیب ہوگا۔ان میں وہ شخص بھی شامل ہے جواللہ کیلئےدوستی اور اللہ کیلئےدشمنی کرے۔وہ نوجوان جسے کوئی عورت گناہ کی طرف راغب کرے اوروہ کہے میں اللہ سے ڈرتاہوں۔وہ شخص جس کادل مسجد میں اٹکارہے۔یہاں کسی ایسے حکمران کا،لیڈرکا،رہنماکاذکرتک نہیں جویہ دعویٰ کرے کہ میں لوگوں کورزق فراہم کرتاہوں اورایسے لوگوں کیلئےتوٹھکانہ ہی اورہے جواپنی ضروریات،حاجتیں اللہ کے دروازے سے طلب کرنے کی بجائے مطالبات انسانوں کی چوکھٹ پرلے جاتے ہیں۔مذاہب کی تاریخ ایک طرف دنیامیں جہاں کسی مقبول اوربہترین حکمران کاتذکرہ ملتاہے،وہاں بات یوں شروع ہوتی ہے۔ایک تھا بادشاہ،بہت انصاف پسند،لوگوں کے درمیان عدل کرتاتھا۔اس کے دور میں شیراوربکری ایک گھاٹ پرپانی پیتے تھے۔لیکن جہاں کسی ظالم ،جابر ،آمر،فرعون کاذکر ہوتاہے،وہاں پہلی صفت بے انصافی،ظلم،بربریت ہوتی ہے۔

بڑے بڑے لوگ حق غصب کرکے ،لوگوں کامال لوٹ کر،انہیں قتل کرکے عدالتوں سے بچ نکلتے ہیں۔ اس لئے کہ عدالتیں ان کی محکوم ہوتی ہیں۔سرکار دوعالمﷺنے فرمایاتم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ”جب کوئی عام آدمی جرم کرتاتوسزاپاتااورجب کوئی بڑاجرم کرتا تواسے معاف کردیا جاتا۔”یہ معافی خاندانی وجاہت کی وجہ سے بھی ہوتی اوراس کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے بھی یاپھر اس سے مفاہمت اورمصالحت کے طورپربھی۔ اللہ کا غضب اورقہرانہی قوموں اورانہی حکمرانوں پرنازل ہوا۔ جنہوں نے رب یعنی پالنے والا ہونے کادعویٰ کیایاپھرعدل کی بجائے ناانصافی اورظلم کی بنیادپر حکمرانی کی اورعذاب کی وعیدسنائی۔ان لوگوں کیلئےجو اس کائنات میں اپنے مطالبات رزق انسانوں کی چوکھٹ پرلے گئے۔یہ دعویداراورایسے مطالبے اللہ کے غضب کیلئےکافی ہواکرتے ہیں۔ وہ عدل نہ کرنے پرتوحکمران کا گریبان پکڑنےکیلئےکہتاہے لیکن روٹی ،کپڑااورمکان نہ دینے پرنہیں۔کیونکہ اللہ خوب جانتاہے اور فرماتاہے اے انسانوں تم سب اللہ کے آگے فقیرہواورخدا بےپروا سزاوار(حمد وثنا) ہے “۔اسے معلوم ہے کہ یہ ایک فقیرسے سب کچھ طلب کررہے ہیں۔

ہمیں اللہ نے حکمرانی عطاکی کہ ہم اس زمین پرعدل وانصاف نافذکریں اورپھر رزق کی،خوشحالی کی اور بہترزندگی کی امید اس سے لگادیں۔لیکن ہم امیدیں بھی انہی سے لگاتے ہیں جودعویٰ کرتے ہیں کہ اس زمین کوعدل نہیں چاہئے،روٹی،کپڑااورمکان چاہئے۔ انہیں علم ہی نہیں اوریقیناًنہیں،ورنہ آثار قدیمہ کے جابجابکھرے ہوئے کھنڈرات دیکھ لیں۔جن زمینوں پر،جن علاقوں اورحکومتوں میں عدل وانصاف نہیں وہاں بڑے بڑے محل نما مکان بس ایک آن کی آن میں زمین بوس کردئیے گئے۔آندھیاں چلیں اورسب خس وخاشاک ہوگیا۔انہیں سمندروں کے طوفان نگل گئے یازلزلوں کے لاوے ۔ اس دھرتی پرہرجگہ عبرت گاہیں موجودہیں لیکن ہم پھربھی دعوے کرتے ہیں اورامیدیں بھی لگاتے ہیں۔ آلِ فرعون نے مان لیاتھا کہ فرعون بہترین پالنے والاہے اورفرعون نے دعویٰ کرلیاتھاکہ میں ہی ہوں جولوگوں کے اس مطالبے کوپوراکرسکتاہوں۔ ہماراکام توکھول کھول کربتاناہے کہ اللہ کاغضب کیوں نازل ہوتاہے اوراس کے غضب سے بچاکیسے جاسکتاہے۔مدتوں سے اہل نظرجس غیض وغضب سے ڈرارہے تھے ہم دعویٰ کرکے اسے قریب لارہے ہیں اورہم بھی کس بلاکے لوگ ہیں۔غیض وغضب ہماری جانب لپک رہاہے اور ہم پکارپکار کرنہیں کہتے کہ اس زمین کوعدل سے بھر دو، میرا اللہ رزق کے دروازے کھول دے گاورنہ اللہ کے غضب کوآوازتوہم دے ہی رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

17 − one =