Distance Between America And Saudi Arabia

امریکاوسعودی عرب میں دوری

:Share

امریکاکے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں میں سب سے زیادہ مضبوط دوست سعودی عرب اوراوپیک پلس تنظیم نے امریکاکی سخت مخالفت کے باوجودتیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے نے جوبائیڈن کوپریشان اوروائٹ ہاؤس اورسعودی عرب کے شاہی خاندان کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات کومزیدکشیدہ کر دیاہے۔ واشنگٹن اورخلیج میں تقریباًایک درجن سرکاری عہدیداروں اور ماہرین کے انٹرویوزکے بعدیہ نتیجہ اخذکیاگیاہے کہ اس وقت امریکااور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی سردمہری کاشکارہیں اوریہ کوئی پہلاموقع نہیں۔وائٹ ہاؤس نے اوپیک کی پیداوارمیں کٹوتی کوروکنے کیلئےسخت محنت کی۔بائیڈن کوامیدہے کہ انہیں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکامیں پٹرول کی قیمتوں میں ایک بارپھراضافہ نہیں کرناپڑے گا۔

حزب اقتدارڈیموکریٹک پارٹی امریکی کانگریس پرکنٹرول برقراررکھنے کیلئےپوری کوشش کررہی ہے۔واشنگٹن یوکرین کی جنگ کے دوران روس کی توانائی کی آمدنی کوبھی محدودکرناچاہتاہے۔امریکی انتظامیہ نے کئی ہفتوں تک اوپیک پلس میں شامل ملکوں کوقائل کرنے کیلئےسفارتی کوششیں کیں۔حالیہ دنوں میں توانائی،خارجہ پالیسی اوراقتصادی ٹیموں سے تعلق رکھنے والے سنئیر امریکی حکام نے اپنے غیرملکی ہم منصبوں پرزوردیاہے کہ وہ پیداوارمیں کٹوتی کے خلاف ووٹ دیں۔بائیڈن کے توانائی کے اعلیٰ ترین ایلچی آموس ہوچسٹین نے قومی سلامتی کےعہدیداربریٹ میک گرک اوریمن کیلئے انتظامیہ کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ کے ساتھ گذشتہ ماہ سعودی عرب کادورہ کیاتھاتاکہ اوپیک پلس کے فیصلے سمیت توانائی کے امورپرتبادلہ خیال کیاجاسکے۔وہ تیل کی عالمی پیداوارمیں کٹوتی کوروکنے میں ناکام رہے ،بالکل اسی طرح جیسے بائیڈن جولائی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی حکمرانوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

بات چیت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی حکام نےاسے”ہم بمقابلہ روس”کے طورپرپیش کرنے کی کوشش کی اورسعودی حکام کوبتایاکہ انہیں دونوں میں سے ایک کاانتخاب کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سعودیوں نے اس دلیل کوردکرتے ہوئے کہاکہ اگرامریکا مارکیٹوں میں مزیدتیل چاہتا ہے تواسے اپنی زیادہ سے زیادہ پیداوارشروع کردینی چاہیے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعدادوشمارکے مطابق امریکادنیاکانمبرایک تیل پیداکرنے والا ملک ہے اوراس کاسب سے بڑا صارف بھی ہے۔

وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیزنے سعودی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سب سے پہلے سعودی عرب کے مفادات اور پھران ممالک کے مفادات پرتشویش ہے جنہوں نے ہم پربھروسہ کیااوپیک اتحاد کے رکن ہیں۔اوپیک اپنے مفادات کودنیاکے مفادات کے ساتھ تولتاہے کیونکہ ہم عالمی معیشت کی ترقی کی حمایت کرنے اوربہترین طریقے سے توانائی کی فراہمی فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایران کے جوہری معاہدے سے نمٹنے اوریمن میں سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادکی جارحانہ فوجی کاروائیوں کی حمایت سے دستبرداری نے سعودی حکام کو پریشان کیاہےجیساکہ فروری2022میں یوکرین پرحملے کے بعدروس کے خلاف کاروائیاں ہوئی ہیں۔اوپیک کی کٹوتی کے بعدوزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیزبن سلمان نے بلومبرگ ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ روسی تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئےامریکاکی جانب سے زورغیریقینی صورتحال کا باعث بن رہاہے۔سعودی مملکت اسے”غیرمارکیٹ پرائس کنٹرول میکانزم”کے طورپردیکھتی ہے جسے صارفین کاایک گروہ پروڈیوسرزکے خلاف استعمال کرسکتاہے۔

بائیڈن کی ہدایت پرمارچ میں امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزروسے180ملین بیرل تیل کی فروخت تیل کی قیمتوں میں کمی کاسبب بناتھا۔مارچ میں اوپیک پلس نے کہاتھاکہ وہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی(آئی ای اے)کے اعدادوشمارکااستعمال بندکردے گا،جوایک مغربی تیل واچ ڈاگ ہے،سعودی قیادت میں خدشات کی وجہ سے امریکاکابہت زیادہ اثرورسوخ ہے۔بائیڈن نے سعودی عرب کے فیصلے کو”مایوس کن”قراردیتے ہوئے کہاتھاکہ واشنگٹن تیل کی مارکیٹ میں مزیدکاروائی کرسکتاہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرین جین پیری نےکہاکہ”یہ واضح ہے کہ اوپیک پلس روس کے ساتھ اتحادکررہا ہے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پیداوارمیں کٹوتی سے امریکااورسعودی عرب کے تعلقات پرکیااثرپڑے گا۔

امریکی کانگریس میں بائیڈن کے ڈیموکریٹس نے سعودی عرب سے امریکی فوجیوں کے انخلاکامطالبہ کیااورہتھیارواپس لینے کی بات کی۔ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپراپنے پیغام میں کہاکہ”میرے خیال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،یمن جنگ،لیبیا،سوڈان وغیرہ میں امریکی مفادات کے خلاف کام کرنے کے باوجودخلیجی ریاستوں کواسلحہ فروخت کرنے کاسارامقصدیہ تھاکہ جب کوئی بین الاقوامی بحران آئے گاتوخلیجی ممالک روس اورچین پر امریکاکوترجیح دے سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیرمملکت برائے امورخارجہ عادل الجبیرنے جمعے کے روزفاکس نیوزسے بات کرتے ہوئے امریکی تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پرکہاکہ سعودی عرب تیل یاتیل کے فیصلوں پرسیاست نہیں کرتا۔مناسب احترام کے ساتھ،امریکامیں قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ریفائننگ کی کمی ہےجو20سال سے زائدعرصے سے موجود ہے۔

بائیڈن کے صدربننے کے چندہفتوں بعدواشنگٹن نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں2018میں صحافی خاشقجی کے قتل کو ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان سے جوڑدیاگیاتھا۔86سالہ شاہ سلمان کے بیٹے شہزادہ سلمان نے قتل کاحکم دینے سے انکارکیاہے لیکن اعتراف کیاہے کہ یہ”میری نگرانی میں”ہوا تھا۔محمدبن سلمان سعودی عرب کے وزیراعظم بھی ہیں اوران کے وکلاامریکی عدالت میں یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ خاشقجی کے قتل کے مقدمے سے محفوظ ہیں۔بائیڈن کے جولائی میں خلیجی سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئےسعودی عرب کے شہرجدہ کے دورے کامقصد تعلقات کوبہتربنانا تھالیکن انہوں نے خاشقجی کے قتل پرمحمدبن سلمان پرکڑی تنقید بھی کی تھی۔

سینٹرفارسٹریٹجک اینڈانٹرنیشنل سٹڈیزکےسینئرفیلوبین کاہل نے کہاکہ سعودیوں کوامیدہے کہ پیداوارمیں کٹوتی اوپیک پلس کوتیل کی قیمتوں پرکنٹرول دے گی اوراپنے ملک کوکسادسے بچانے کیلئےتیل کی آمدنی میں اضافے کویقینی بنائے گی۔معاشی مسائل ہر وقت بڑھتے جارہے ہیں لہذاانہیں اس کاحل کرناہوگا۔وہ جانتے ہیں کہ کٹوتی سے واشنگٹن کوپریشانی ہوگی لیکن وہ تیل کی منڈیوں کوکنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں