Denial is the spirit of Islam

انکارروحِ اسلام ہے

:Share

زندگی کی متاعِ عزیزکیاہے؟روپیہ پیسہ،زروجواہر،زمینیں اورجائداد،منصب،جاہ وجلال،ناموری،واہ واہ،دادوتحسین،صلہ وستائش، بیوی بچےعزیزواقرباء، یاردوست….کیایہی ہے زندگی کی متاعِ عزیز!توپھرنظریہ کیاہے،اصول کیاہے،حق وصداقت کیاہے،دارورسن کیاہے،شہادت کیاہے،عشق کیاہے، محبت کیاہے،بے غرضی کیاہے،جاں نثاری کیاہے،مرمٹناکیاہے؟؟؟بتایئے پھریہ سب کیاہیں؟کسے کہتے ہیں متاع عزیز؟کیاانکارمتاعِ عزیزنہیں ہے؟جبر کے سامنے انکار،فرعونیت کاانکار،صلہ کاانکار،سودے بازی سے انکار،دولتِ بے بہاکاانکار،باطل کا انکار،سرجھکانے سے انکار،ظلم وجبرکاانکار،رب کی حاکمیت کے سواسب کاانکار……..انکارمتاعِ عزیزنہیں ہے توپھرکیاہے انکار؟انکاراوریکسرانکار،پورے شعورکے ساتھ انکار۔کوئی مصالحت نہیں،بالکل بھی نہیں………مجسم انکار…….. باطل کے سامنے،طاغوت کے سامنے،رب کے باغیوں کے سامنے،نفس پرستوں کے سامنے،دنیائے حرص وتحریص کے سامنے، دھوکے کے سامنے،بے وفائی کے سامنے،خدائی لہجے میں بات کرنے والوں کے سامنے…..انکاراوریکسرانکار……… پورے شعوراور پورے وجودکے ساتھ انکار۔بس انکار۔

دلیل چاہے کتنی بھی مضبوط ہو،رب کے سامنے کیاحیثیت رکھتی ہے!بس انکار،لیکن انکاراپنے نفس کوخوش کرنے کیلئے نہیں، نفس کوخوش کرنے کیلئےانکار انکارِابلیس ہے۔اپنے رب کیلئےانکار……..یہی ہے اصل اورکچھ نہیں۔ نہیں مانیں گے کسی کی بھی۔ کسی طاقت کی،کسی بھی نظام باطل کی……..نہیں مانیں گے چاہے لاکھ دلیلیں دو۔بس مانیں گے توصرف رب اعلی کی،بس اسی کی اورکسی کی بھی نہیں۔ یہی توحیدہے اورہے کیا توحید!میرادین توشروع ہی انکارسے ہوتاہے یعنی لاسے۔پہلے انکارکی منزل ہے پھر تسلیم کی۔میں انکار کیے بغیرتسلیم کیسے کرسکتا ہوں!اگرمیں انکارنہ کروں اورتسلیم بھی کروں تویہ منافقت ہے،کھلاتضادہے جوقابلِ قبول نہیں۔ملاوٹ نہیں خالص درکارہے بالکل خالص….. .. . چاہے ذرہ ہی ہو۔ ملاوٹ شدہ پہاڑدرکارنہیں ہے۔یہی ہے اخلاص اورکیاہے!
توحیدتویہ ہے کہ خداخودحشرمیں کہہ دے
یہ بندۂ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے

انکارروحِ اسلام ہے۔انکارروحِ حسینیت ہے۔انکار………جا،نہیں مانیں گے۔تمہارے دھوکے تمہیں مبارک،ہماراسچ ہمیں۔انکارلکھنے میں بہت آسان ہے۔پنج حرفی لفظ بہت آسان ہے لکھنا،کرنابہت مشکل ہے۔جان لیواہے،بہت نقصان دہ،بہت قربانی چاہتاہے۔خودسے بھی لڑناپڑتا ہے۔اپناانکاربھی، نہیں اپنی بھی نہیں مانوں گا۔بہت مشکل ہے یہ بہت کٹھن منزل۔معرکۂ خیروشرکیاہے؟معرکہ حق وباطل کیاہے ؟یہی توہے،حق کاساتھ دیناخیر،باطل کاساتھ دیناشر۔رب کے سامنے تسلیم خیراورابلیس کاپیروکاربننا شر۔معرکۂ خیروشریہی ہے۔بس یہی ہے۔پورے عالم میں یہی کچھ ہوتاہے۔ہوتارہے گا۔نہیں رکے گایہ معرکہ۔کربلاکادرس کیاہے؟جنگِ بدرکیاہے؟معرکہ احدمیں دندانِ مبارک شہیدہوگئے،چچا حمزہ کے ٹکڑے کردیئے گئے،بلک بلک کررودیئے لیکن سرتشکرسے جھک گئے کہ یہی اللہ کی مرضی، جہادکیاہے؟یہی ہے بس۔سب کادرس ایک ہے:بس انکار۔انکارکروتوجان سے گزرنا پڑتا ہے۔خاندان نثارکرناپڑتاہے۔سب کچھ قربان کرنا پڑتاہے۔آگ وخون میں نہاناپڑتاہے۔خا ک آلود ہوناپڑتاہے۔اپنی خواہشات کوذبح کرناپڑتاہے۔ تیزدھارپرسے گزرناپڑتاہے۔لاشے اٹھانے پڑتے ہیں۔جب شعورکے ساتھ انکارہوتوہرلاشہ اٹھاتے ہوئے یقین بڑھتاہے۔پختگی آتی ہے۔ربِّ اعلی کیلئےسب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ پیداہوتاہے۔

انکارجتنی شدت اختیارکرتاچلاجائےانقلاب اسی شدت سےنمودارہوتاہےاورپھرہمارامسئلہ نتائج نہیں کارزارِخیروشرمیں اپنا کام سرانجام دیناہے۔ ایسے ویسے چونکہ چنانچہ لیکن ویکن نہیں،یکسر انکار۔رب پرکامل یقین کےساتھ باطل کاانکار۔طاغوت کاانکار۔خون رنگ لاتا ہے،پھرانقلاب آتاہے۔کب رکا تھامعرکہ حق وباطل!نہیں رکے گایہ معرکۂ خیروشر۔بس غالب وہی رہیں گے جواپنے رب کے ساتھ جڑے رہیں گے۔پورے یقین کےساتھ،پوری سرشاری کے ساتھ۔ انکارروحِ دین ہے،باطل کاانکار۔طاغوت کی ہرشکل کاانکار،یکسرانکارکوئی مصالحت نہیں ،بالکل بھی نہیں۔قربانی ہی قربانی،سرشاری ہی سرشاری!

سرشاری اسے ہی کہتے ہیں۔ہنستے کھیلتے لاشے اٹھانااورپھرآوازِبلندسے رب کی کبریائی بیان کرنا۔یہی ہے دین،اورہے ہی کیا! اسے کہتے ہیں اپنی نذرپوری کرنا ۔اپنے دعوے کی صداقت کومجسم کردینالیکن یہ ہے بہت مشکل،توفیق پرہے یہ۔جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اوررب سے التجاکرناکہ قبول کرلیجیے ہماری قربانی اورپھریقین کی منزل پرپہنچ کرپکارنا:قُل اِنَّ صَلَاتیِ وَنُسُکیِ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتیِ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن،کہہ دوبے شک میری نمازاورمیری قربانی اورمیراجینااورمیرا مرنا اللہ ہی کیلئےہے جوسارے جہانوں کاپالنے والاہے”۔رب کیلئےخالص۔باطل ہمیشہ سے گھمنڈی ہوتاہے،دھوکے کاشکار۔

ایک مختصرحدیث سن لیں:اہل ہندکے مسلمان پہلے اہل کفرہندسے جنگ کریں گے اوران کے امراءاورروساءکوگرفتارکریں گےپھرشام میں مریم کے بیٹے کاساتھ دیں گے۔گویایہ پاکستان کی منزل یاتقدیرپہلے سے طے ہوچکی ہے۔جومرضی کرلیں۔اب یہ آپ پرمنحصرہے کہ تندی بادمخالف کاساتھ دیناہےیا منافقین غم گسارکا۔اب مخالفین جوکچھ مرضی کرلیں،جتنامرضی زور لگالیں،قدرت کے اٹل فیصلوں کوٹالانہیں جاسکتا۔خطے میں ایسے حالات پیداکئے جا رہے ہیں کہ پاک وہند کامحاذایساگرم ہوجس کے جواب میں مکمل جنگ ہواور میرے آقاکافرمان مکمل ہوکررہے گا۔ حدیث کے دوسرے حصے کے مطابق شام میں جانے سے مراداسرائیل کے ساتھ مکمل جنگ کی پیشگوئی ہے۔یہ وقت اورموقع کب آئے گا،اس کیلئے فی الحال وقت کا تعین مشکل ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایساہوگاضرور،چاہے ہمارے اپنے دورمیں ہو،یاآنے والی نسل کویہ معرکہ درپیش ہوکیونکہ کتاب لکھنے والے نے اس حقیقت سے آگاہ کردیا ہے اورلکھنے والے نے توزمانے کی قسم کھاکر،وقت کو گواہ بناکرخبردارکیاہے اورزمانے میں پیش آنے والے سارے واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ میرارب اپنے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتااوراس کے احکام کی تکمیل میں کہاجانے والا “کن”فوری طورپر”فیکون”میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہاں کے مورخین کی کثرت اب منطقی طورپراس نتیجے پرپہنچ چکی ہے کہ مستقبل میں پاک وہنداوربعدازاں اسرائیل کے ساتھ جنگ کامعرکہ ضرورپیش آئے گااوروہ ان حقائق کاانکشاف بھی کررہے ہیں کہ اب مغرب کاتسلط اورعروج روبہ زوال ہے،مغرب اورامریکا کی اکانومی تیزی سے بکھررہی ہے،دن بدن تجارتی حالات اورخسارہ بے قابوہوتاجارہاہے،مغرب بشمول امریکاکی طاقت کامحوربھی مشرق کی طرف تبدیل ہورہاہے۔یادرہے جب اسلام اٹھاتھاتو اس وقت بھی چین اورروس دوبڑی طاقتیں موجودتھیں،اب ایک مرتبہ پھر اسلام کی نشاط ثانیہ کاسورج طلوع ہورہاہے اوریہی دوعالمی طاقتیں میدان میں موجودہیں اوردونوں ایک دوسرے کی حلیف بھی ہیں۔ مغرب اورامریکاکے بیشترمعاشی ماہرین نے جاری معاشی بحران سے نکلنے کیلئے ایک چھوٹے سے اندازہ کے مطابق700ٹریلین ڈالرکاتخمینہ لگایاہے اوریہ ناممکن خزانہ اگرمغرب وامریکاکے ہاتھ لگ بھی جائے توپھربھی ان کی تجارتی ترقی کاگراف بلند نہیں بلکہ دیوالیہ سے بچانے میں میں مددگارہوگالیکن اس کے مقابلے میں مشرق میں عروج کاسورج اوراس کی روشنی میں اس قدراضافہ ہونے کاامکان ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ خطہ زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دریافت کرنے کے بعدایک ایسی منزل کی طرف رواں دواں ہوگا جس میں پاکستان کے بیشتر لامحدو توانائی کے ذخائراس کی نئی منزل کاتعین کریں گے۔

انہی غیرملکی ماہرین کے مطابق پاکستان میں15ہزاربلین ڈالرکالوہاموجودہے،ہم اس وقت گیس کی کمیابی اوربحران میں مبتلاہیں لیکن ہمارے سمندرسے جہاں ہمیں فی الحال بیرونی دباؤکی بناء پرگیس نکالنے سے روک دیاگیاہے کہ وہاں گیس کے وسیع ذخائرپاکستان کی خوشحالی میں ممدومعاون ہونے کیلئے بے چین ہیں۔اس لئے مغرب وامریکاکے ہاتھوں سے عالمی اقتدارکاتاج مشرق کی طرف شفٹ ہوچکاہے اوریہی دوطاقتیں روس اورچین کیلئے پاکستان کاجغرافیائی محل وقوع لازم وملزوم کی حیثیت اختیارکرچکاہے۔یہی وجہ ہے کہ چندسال قبل چینی وزارت خارجہ کے ایک اہم رکن نے مثال دیتے ہوئے کہاتھاکہ جس طرح امریکاکیلئےاسرائیل بہت اہم ہے،اسی طرح اس خطے میں چین اوردیگرہمارے حلیفوں کیلئے پاکستان اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے باغیوں کوایک حدتک تومہلت دیتاہے اوراسی مہلت کے دوران اپنے وفاداروں کومختلف امتحانات سے گزارکران کی تربیت کے بعدان پراپنے انعامات کابنددروازہ کھول دیتاہے۔ہمارے لئے شرط یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کراس کی وہ بندگی اختیارکریں جس کاہم نے اپنے رب سے وعدہ کیاہے،اس کے بعدہماراکریم رب اپناوعدہ ضرورپوراکرے گا،اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں ایماندارقیادت کا انتخاب کریں۔اپنے عمل سے یہ ثابت کرناہوگاکہ ہم ایسے افرادکاانتخاب کریں جوملک وملت کے اثاثوں کے مکمل امین ہوں،یقین رکھیں کہ جس طرح اللہ نے بنی اسرائیل سے یہ مطالبہ کیاتھاکہ تم اگرمیری طرف پلٹ آؤگے تومیں بھی تمہاری طرف پلٹ آؤں گا۔میرے رب کاتوہم سے یہ وعدہ ہے کہ تم اگرچل کرمیرے پاس آؤگے تو میں دوڑکرتمہارے پاس آؤں گا ۔

امام نسائی نے اسی حدیث کواپنی دوکتابوں میں نقل کیاہے:محمدﷺبن عبداللہ کے آزادکردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیں۔میری امت میں دوگروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ نے آگ سے محفوظ کردیاہے،ایک گروہ ہندوستان پرچڑھائی کرے گااوردوسراگروہ جوعیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ہندوستان کاتذکرہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا:ضرورتمہاراایک لشکرہندوستان سے جنگ کرے گا،اللہ ان مجاہدین کوفتح عطافرمائے گاحتیٰ کہ وہ(مجاہدین)ان کے بادشاہوں کوبیڑیوں میں جکڑکرلائیں گے اوراللہ ان کی مغفرت فرمادے گا۔پھرجب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے توعیسیٰ ابن مریم کوشام میں پائیں گے۔حضرت ابوہریرہ نے فرمایا”اگرمیں نے وہ غزوہ پایاتواپنانیااورپراناسب مال بیچ دوں گااوراس میں شرکت کروں گا۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاکردی اورہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزادابوہریرہ ہوں گاجوملک شام میں اس شان سے آئے گاکہ وہاں عیسیٰ ابن مریم کوپائے گا۔یارسول اللہﷺ!اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کرانہیں بتاؤں کہ میں آپ کاصحابی ہوں (راوی کابیان ہے) کہ حضورمسکراپڑے اورہنس کر فرمایا:”بہت زیادہ مشکل،بہت زیادہ مشکل۔۔۔۔(آگے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں)نبی کریم ﷺ نے ہم سے غزوہ ہندکاوعدہ فرمایا۔”اگر مجھے اس میں شرکت کاموقع مل گیاتومیں اپنی جان ومال اس میں خرچ کردوں گا۔اگرقتل ہوگیاتومیں افضل ترین شہداءمیں شمارکیاجاؤں گا۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیش گوئیوں کے مطابق بھارت پاکستان سے جنگ توضرورکرے مگرانہوں نے یہ بھی صاف بتادیاتھا کہ وہ جنگ کشمیرکےعلاقے سے شروع ہوگی اوردیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کولپیٹ میں لے لیگی اوریہیں سے بھارت کی بربادی کے دن شروع ہوں گے۔جنگ میں دونوں طرف لازمی نقصان ہوتاہے لیکن مبارک ہومسلمانوں کوکہ یہ وہ جنگ ہوگی جس میں شرکت کرنے کیلئےصحابہ کرام بھی دعائیں کیاکرتے تھے کیونکہ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کوواضع بتادیاتھاکہ مسلمانوں کا ایک لشکرہندفتح کرے گااورہندکے بادشاہوں کوبیڑیوں میں جکڑکرلائے گااوراللہ ان مجاہدین کی مغفرت فرمادے گااور جب وہ لشکرواپس لوٹے گاتوشام میں عیسیٰ ابن مریم کوپائے گا۔

الحمداللہ ہندکی بربادی پاکستان کے ہاتھوں اللہ نے لکھ دی ہے اورہندکی بربادی کے ساتھ ہی دنیامیں بڑے بڑے معرکے شروع ہوجائیں گے۔اولیاءاللہ کے نزدیک غزوہ ہندکی فاتح فوج بعدمیں حضرت عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ مل جائیں گے اورتب اس دنیاکی آخری سب سے بڑی جنگ ہوگی جہاں ایک طرف اہل حق ہوں گے اوردوسری طرف کفارومشرکین۔حدیث کے مطابق وہ سب سے بڑی اور خون خوارجنگ ہوگی جس میں مسلمان کے مقابل80جھنڈوں تلے فوج ہوگی اورہرجھنڈے تلے12000ہزارفوجی ہوں گے،اس حدیث کے مطابق80 جھنڈے یعنی80ممالک ہیں اورہمارے خیال سے یہ80ممالک کااتحادہوگاجواقوام متحدہ کے زیرسایہ اہل حق یعنی مسلمانوں سے ایک آخری جنگ کرے گا۔اس جنگ میں اللہ مجاہدین کو فتح نصیب فرمائے گااورمجاہدین کی نصرت کیلئےآسمان سے فرشتے اتریں گے یہاں تک کہ ایک ایک کافرکوجہنم واصل کردیا جائے گا،اس جنگ میں پہاڑاوردرخت بھی مجاہدین کاساتھ دیں گے سوائے گرقدکے درخت کے جوآج یہودی پورے اسرائیل میں لگارہے ہیں۔

یقیناًجوانکارکی عظمت سے واقف ہیں،رب ذوالجلال انہی کوفرعونی طاقتوں کے سامنے سراٹھاکرحق بات کہنے کی توفیق اور فرعونی تکبرکونیست ونابوداور نمرودی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کاحوصلہ عنائت کرتاہے۔یارکھیں!انکارجتنی شدت اختیار کرتاچلاجائے،انقلاب اسی شدت سے نمودارہوتا ہے،ایساانقلاب توحیداورحب رسول کی محبت اورخودداری کے نشے میں مبتلاکرتا ہے،اورپھرہمارامسئلہ نتائج نہیں کارزارِخیروشرمیں اپناکام سرانجام دینا ہے۔ایسے ویسے چونکہ چنانچہ لیکن ویکن نہیں ……..یکسر انکار۔رب پرکامل یقین کے ساتھ باطل کا انکار……..طاغوت کا انکار۔خون رنگ لاتاہے ، انقلاب آتاہے۔کب رکاتھامعرکہ حق وباطل؟ نہیں رکے گایہ معرکۂ خیروشر۔بس غالب وہی رہیں گے جواپنے رب کے ساتھ جڑے رہیں گے۔پورے یقین کے ساتھ پوری سرشاری کے ساتھ،انکارروحِ دین ہے،انکارروحِ حسینیت ہے،عاشورکادرس یہی ہے اورکچھ نہیں۔باطل کاانکار۔طاغوت کی ہرشکل کاانکار ….. یکسرانکارکوئی مصالحت نہیں،بالکل بھی نہیں۔قربانی ہی قربانی،سرشاری ہی سرشاری۔کوئی بھی تونہیں رہے گا۔رب کی قسم کوئی بھی نہیں۔
بس نام رہے گااللہ کا۔

الحمداللہ،یہ زندگی اللہ نے اپنی خوشنودی کیلئےعطاکی ہے،اورجب زندگی کی اصل منزل موت ہے تواللہ کی راہ میں شہیدہوناسب سے افضل ترین موت شمارہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

13 − eleven =