ہےجرم ضعیفی کی سزامرگِ مفاجات

:Share

خون مسلم کی یہ ارزانی کہ ہرطرف خون ہی خون ہے اوروہ بھی بے گناہ مسلمانوں کاجن کویہ علم نہیں کہ ان کوکس جرم میں تہہ تیغ کردیاگیا،ان کی آنکھوں کے سامنے کبھی ان کے معصوم بچوں کو،کبھی نوجوان شوہرکواور کبھی تو بوڑھے ماں باپ گولیوں اوربموں کی نذرہوگئے اورکئی لاشے تو ناقابل شناخت بنادیئے گئے کہ ان کے پاکیزہ خون کی خوشبونے گواہی دی کہ وہ اب اپنے رب سے جاکران مظالم کاقصہ بیان کریں گے۔آج جنت ارضی وادیٔ کشمیرسے لیکرقبلہ اوّل ارضِ فلسطین تک ہرجگہ اسی پاکیزہ خون کی پھوار ہے۔غزہ کی پٹی اورمقبوضہ کشمیر کے گلی کوچے شہیدوں کی لاشوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ان میں معصوم بچوں اوربچیوں کے پھول چہروں سے بہتالہو بھی ہے۔عفت مآب فلسطینی اورکشمیری خواتین کا بھی جن میں سے کئی پہلے شہیدوں کی مائیں تھیں ،اب ان میں ایسی بھی ہیں جن کے بچوں کواعزازملاہے کہ وہ شہیدماؤں کی اولادکہلائیں گے۔بوڑھے بھی ہیں اورجوان بھی،سب شہیدوں کے لاشے تڑپ تڑپ کرزبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جنت ارضی کشمیراورقبلہ اوّل کی حرمت پرنثارہو گئے ۔وہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے درمیان تن تنہاجاں سے چلے گئے۔ان شہداء کی بارات کاایک فلسطینی دلہابھی ہے ،وہ معذور مگرایمان وعمل سے معمور۔ حماس کے بانی رہنماء احمدیاسین شہیدکاپکا اورسچاپیروکارجس نے ثابت کیاکہ وہ معذوریامجبورنہیں بلکہ عالم عرب وعجم کے وہ حکمران اور قائدین ہیں جن کی اقتدارسے بڑھی ہوئی محبت،عالمی طاقتوں سے مرعوب ذہنیت ،بے حسی اور سراپابے حمیت حکمرانی انہیں عملاًبے دست وپا، مجبورولاچاراور معذوربنائے ہوئے ہے۔وہ قبلہ اوّل کیلئے تڑپتے ہیں نہ جنت ارضی وادیٔ کشمیر کیلئے ان کی حمیت کام آتی ہے۔وہ بستیوں سے نکال باہرکئے گئے ،بے گھربے در مسلمانوں کیلئے سوال کناں نہیں کہ انہیں ان کے گھروں سے کیوں نکالا بلکہ ان کے سب نعرے اپنے نکالے جانے پرسراپا سوال ہیں۔انہی فلسطینی شہداء کی بارات میں صحافی حضرات بھی شامل ہیںکہ ایک قوم کی قبلہ اوّل کیلئے جانثاری اوران پراسرائیلی فائرنگ وبمباری کورپورٹ کرنے آئے تھے کہ اپنے قلم اورکیمرے سے دنیاکے ضمیرکوجھنجھوڑ سکیں مگروہ خودبھی امریکی شہہ پرعالمی بدمعاش اور دہشتگردکے طورپرابھرنے والے اسرائیل کی کھلی دہشتگردی کاشکارہوگئے۔واقعی یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھناہے۔ لیکن اس خون خاک نشیناں پردنیامیں کوئی بامعنی ردِّعمل سامنے آیا۔نہ عالمی میڈیاکی حس ِ انسانیت جاگی اورنہ انسانیت کے مذہب کے داعیوں کوشرم آئی۔
ہاں اس وقت اوآئی سی نے اپناسربراہی اجلاس ہنگامی طورپرضرورطلب کیا جس کے رکن ملکوں نے دسمبر2017ء سے اب تک بالعموم اپنی ذمہ داریوں کوانجام دینے کاسوچانہ اس جانب مائل ہوئے۔ہمت کی نہ غیرت کالہجہ اپنایاکہ امریکاسے بات کریں کہ اس نے اسے اجازت دی ہے کہ اس کی شروع کی ہوئی جنگوں میں میں جلنے والے عالم اسلام کے نمائندوں کے طورپراس سے بات کریں کہ تمہیں اس نے حق دیاہے کہ ماضی کی بے شرمی سے بھی کئی ہاتھ آگے بڑھ کرناجائز اسرائیلی ریاست کی ناجائزکاری کوکندھافراہم کرو۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صورت میں عالمی ضمیرکا اظہارموجودہے۔اس ضمیرکوبلڈوزکرنے کااقدام دنیامیں امریکاکی روسیاہی میں نہ صرف یہ کہ مزیداضافہ کرے گابلکہ دنیامیں مسلسل جلنے والی بدامنی کی آگ پرمزیدجلتی کاکام دے خصوصاًاقوام متحدہ کی قرارداد476 اورقرارداد478کے ہوتے ہوئے جاکہ خالصتاًاس امرکی ممانعت کرتی ہے کہ القدس کی پوزیشن کومتاثرکرنے والاکوئی اقدام نہیں کیاجاسکے گا۔امریکاکے عالمی سطح پراصلی چہرے کوبے نقاب کرنے کاذریعہ بننے والےصدرٹرمپ نے ان قراردادوں کی رتی بھرپرواہ نہ کی اورمشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ کابھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ ایک طرف ایران اورسعودی عرب میں تعلقات کی خرابی اسے مفیدہے وہیں عراق بے سدھ ہوکرگرچکا،شام لہو لہو ہے،یمن میں بھی تصادم تھمنے کانام نہیں لے رہا۔
پاکستان اپنے اندرکی سیاست کاری اورکرپشن کے کینسرکے باعث اندرونی طورپرسخت مشکلا ت میں ہے۔افغانستان کے عوام امریکاکی فورسزکے ساتھ نبردآزماہیں۔مصرمیں مرسی کی حکومت ختم ہوئے عرصہ بیت چلا،اس کی جگہ السیسی کی حکمرانی ہے۔ایسے میں امریکاکیلئے اوراچھا موقع کیاہو سکتاتھا۔امریکی صدرنے اس صورتحال اوربگاڑ کے شکار منظرنامے کا بھرپورفائدہ اٹھاکر پہلے دسمبر2017ء میں اعلان کیا۔پہلے مرحلے پرعالم عرب وعجم کے مرگی زدہ اورنیم جاں مسلمان حکمرانوں کی حالت اورحمیت کواپنے اعلان کی تائیدجانااور پھر14مئی کوپورے یقین کے ساتھ بیت المقدس کواسرائیل کے قبضے میں دے دیا۔یہ قبضہ اب عملاً پورے فلسطین پراورعرب مقبوضہ علاقوں تک پکاکرنے کیلئے حتمی اقدام ہے لیکن دولت مندعرب دنیاکی دولت آڑے آئی، نہ نام نہادعرب حمیت نے پلٹ کردیکھا۔کسی قدریہ خوش قسمتی رہی کہ اوآئی سی کی سربراہی ترکی کے پاس ہونے کے باعث اس بے جان سی تنظیم نے فوری اورہنگامی بنیادوں پرساتواں سربراہی اجلاس اٹھارہ مئی کوطلب کرلیاتھامگرنتیجہ وہی رسمی مذمت، رسمی مطالبے،بے معنی ردّ ِ عمل اوربے سمت اوآئی سی۔ اسرائیلی فائرنگ کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس کے نہتے فلسطینیوں پر حملے اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کامطالبہ کیاگیا۔امریکی سفارت خانے کوبیت المقدس منتقل کرنے کی مذمت کی گئی اورنام نہادسے اندازمیں آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے کی حمائت میں کھڑے رہنے کی بات کی گئی۔کچھ گرماگرم تقاریرہوئیں ،اپنے اپنے ملک کے عوام اورمظلوم فلسطینیوں کوایک مرتبہ پھر جھوٹی آس دلانے کی کوشش کی گئی اوربس۔گویابیت المقدس پر فلسطینی ایک بارپھر قربان ہوگئے اوراوآئی سی نے ایک مرتبہ پھرمحض نوحہ گری کیلئے مجلس سجا لی افسوسناک پہلوتویہ ہے کہ کئی نامی گرامی ممالک کی اس اجلاس میں نمائندگی بھی محض رسمی رہی۔ نشستند،گفتنداوربرخاستندکے مصداق اوآئی سی نے رسم نبھادی لیکن دسمبر2017ء میں مسلم ممالک نے یامسلم ممالک کے فورم نے امریکاکو اپنافیصلہ واپس لینے کیلئے کوئی قابل ذکر حکمت عملی اپنائی تھی نہ اب جب پانی سروں سے بھی گزرگیا۔
یہ اس کے باوجودہے کہ آبادی کے اعتبارسے مسلمانوں کی تعدادکم نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ ارب کوچھو رہی ہے،باوجودیہ کہ مسلم ممالک کی تعداد56 سے زائدہے۔اس کے باوصف کہ دنیاکے بہترین وسائل سے بعض مسلم ممالک خوب بہرہ ورہیں۔ان ملکوں کے ہرشعبوں کے بڑوں کی دولت سے دنیاکی کئی بڑی طاقتوں کی زندگی میں حرکت ہے اورترقی کاپہیہ رواں دواں ہے۔ان مسلم ممالک میں سے چندبڑی افواج کے حامل ملکوں کی افواج عالمی امن کیلئے خدمات انجام دینے کی ایک خاص شہرت رکھتی ہیں۔ مسلم دنیاکے حکمران دنیاکے بڑے ملکوں کے ساتھ دل وجان سے وفاداری اور جاں سپاری کی شناخت کے حامل ہیں۔اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مسلم ممالک اوران کے سربراہان اقوام متحدہ کے بے دام غلاموں کی طرح اس کی ایک ایک قراردادپراس طرح صدقے واری ہیںکہ خوداقوام متحدہ اور اس ادارے کے بینفیشری اورمالکان کیلئے بھی حیران ہوتے ہوں گے،اس درجے کی فرمانبرداری کے پرانے وقتوں کے زر خریدغلاموں اورنوآبادیوں کی یادکاباعث بنتے رہیں۔
دنیاکاکوئی دوسراملک اقوام متحدہ کی ان عالمی قراردادوں کومانے یانہ مانے مسلم دنیاکے حکمران اپنے ہی ملکوں ،عوام اورپوری امت کے خلاف بھی ہمہ وقت ماننے اورعمل کیلئے تیار ہوتے ہیں لیکن صلہ یہ ہے کہ آئے روزکشمیرو فلسطین انہیں مسلمانوں کے خون سے لہورنگ رہتے ہیں۔اس ناطے ماہ مئی کشمیراورفلسطین دونوں جگہ مزیدخون آشام رہا۔اقوام متحدہ کے کسی بڑے رکن اور اس نام نہادعالمی ادارے کے کسی بڑے عہدیدار کواس پر شرم محسوس ہوتی ہے نہ رنج ہوتاہے، گویامسلم دنیاکے حکمرانوں کے ریوڑ کے یہ گلہ بان پوری طرح حالت اطمینان میں ہیں کہ ان کے ریوڑ میں کوئی اِدھراُدھرنہ ہوگا۔آجاکے ایک طیب اردگان ہیں مگرایک طیب اردگان کیاکرسکیں گے کہ پوری امت کوقومی ریاستوں کے تصورنے ایک دوسرے سے عملاً نہ صرف کاٹ کررکھ دیاہے بلکہ ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑاکیاہے۔قومی ریاستوں کانام نہادمفادسب اصولوں اور روایات پرحاوی ہو چکاہے۔
شائدہی کسی مسلم ملک میں ایساحکمران ہوجواپنے اوراپنے خاندان کے اقتدارپرامت اورملت کے مفادکواہمیت دینے کارحجان رکھتاہو۔مسلم دنیا کے واحدجوہری ملک پاکستان سے لیکرسعودی عرب تک ہرجگہ حکمرانوں کی سطح پرایک ہی دھن سوارہے کہ اپنے ذاتی اورشخصی ہی نہیں خاندانی اقتدار کوکیونکرمضبوط کیاجائے،اس مقصدکیلئے خواہ کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے،دے دی جائے۔نتیجہ یہ ہے مسلم دنیا کی تجربہ کار،زیرک اور جہاندیدہ قیادتیں بھی اس عارضے کاشکار ہیں۔قائدین کے اس عارضے اورمسئلے کوعالمی طاقتوں نے خوب سمجھ لیاہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں اپنی نبیڑ توکے فلسفے کے ساتھ جڑے رہنے پرمائل رکھنے میں کامیاب ہیں۔
ارضِ فلسطین پرایک ہی دن ساٹھ سے زائدنہتے فلسطینی شہیداور2400سے زائدزخمی ہونے کا واقعہ چودہ مئی کورونماہوا۔یہ سترسال پرانے اسرائیلی قبضے کومستحکم کرنے کیلئے اگلے مرحلے کادن بھی تھا کہ امریکی صدرٹرمپ نے اس میں ہراول دستے کاکام کیا۔اب امریکاکی دیکھا دیکھی دوسرے بھی اسرائیلی قبضے کوآگے بڑھانے کیلئے اپنے کندھے پیش کرنے کی ہمت کر سکیں گے کہ مسلم دنیاسے انہیں کوئی کوئی خوف ہے یاڈر،نہ مسلم دنیامیں اس حوالے سے کوئی ہمت ہے نہ جان کہ امریکااوراس کے چہیتے اسرائیل کوچیلنج کرسکے یاکم ازکم سفارتی سطح پرکچھ علامتی اقدامات ہی کرسکے جیساکہ اوآئی سی سے اٹھارہ مئی کوہنگامی سربراہی اجلاس کا نتیجہ سامنے آچکاہے کہ 2014ء کے بعد ایک ہی دن میں اسرائیلی فوج کی بہیمت کاشکارہونے والے فلسطینیوں کی یہ تعدادسب سے زیادہ ہونے کے باوجوداس موقع پربیت المقدس کے بارے میں مسلم اورفلسطینیوں دیرینہ اور اصولی مؤقف کومستردکر دیے جانے کے امریکی اوراسرائیلی اقدام کے بعد بھی نہ امریکاکیلئے کوئی مسئلہ پیداہوسکانہ اسرائیل کوکوئی ڈرخوف ہوسکا۔
اگرچہ یہ سانحہ اب پیش آیاہے لیکن اس کی داغ بیل امریکی صدرٹرمپ کے اس اعلان کے ساتھ ہی پڑگئی تھی جس کے تحت تمامترعالمی قوانین، انسانی اخلاقیات اوراقوام متحدہ می قراردادوں کوپس پشت دالتے ہوئے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کوکہاگیاتھا۔چودہ مئی کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہیدہونے والے ،زخمی ہونے والے اورلہومیں تڑپتے اپنے پیاروں کواٹھانے والے لاکھوں فلسطینیوں کیلئے دسمبر 2017ء سے اب تک کاایک ایک لمحہ اورایک ایک دن کسی قیامت سے کم نہ تھاکہ امریکانے مسلمانوں کے قبلہ اوّل کوعملی طورپر اسرائیل کے حوالے کرنے اوراس کے قبضے مٰں دینے کافیصلہ کرلیاتھا۔اہل فلسطین کیلئے یہ بات اس لئے بھی سوہان روح تھی کہ وہ قبلہ اوّل کے وارث ہیں مگر ان کے ضامن اوراپنے آباؤاجدادکی طرف سے بیت المقدس کیلئے دیئے گئے خون کے بھی وارث تھے لیکن جب اقوام متحدہ ،عرب دنیا،عرب لیگ اوراوآئی سی نے اس سارے عرصے کے دوران ایساکچھ نہ کیاجوامریکایاامریکی کانگرس کو متوجہ کرسکتاتواب اوآئی سی ایسی بے جان تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعداقوام متحدہ یاعالمی برادری ایساکیا کرسکے گی ؟معاملہ جرم ضعیفی والاہے۔
اب خطرہ یہ ہے کہ اس سانحے کے جلومیں مسلم دنیاہراس سے بھی کسی بڑی واردات کی سازش بنائی جائے گی کہ باہمی لڑائیوں کے اس ماحول میں دشمن کیلئے اس سے اچھاموقع اورکوئی نہیں ہوسکتاہے کہ امریکی آلۂ کارکے طورپربروئے کاراقوام متحدہ امریکی اوراسرائیلی آشاؤں کے خلاف جانے کی پوزیشن میں پہلے تھانہ اب نظرآتاہے۔اس لئے جب تک مسلم دنیامیں اس طرح کے واقعات پرردّ ِ عمل نہیں آئے گا،دشمن کواپناکام آسان نظر آتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں