اسلاموفوبیاکاخطرناک جن

:Share

کینیڈامیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت 20سالہ نوجوان یہودی نے انتہائی سفاکی کے ساتھ پاکستانی نژادمسلمان خاندان کے چارافرادکوسڑک پرکچل کررکھ دیااوراس بہیمانہ قتل نے ایک بارپھرسے اسلاموفوبیاپربحث چھیڑدی ہے اوربیشترمیڈیاکادعویٰ ہے کہ11 ستمبرکے حملوں کواگرچہ دودہائیاں بیت چکی ہیں لیکن صحیح معنوں میں مغربی معاشروں میں اسلامو فوبیااب عروج پرہے۔اس سلسلے میں کینیڈاکے وزیراعظم اوردیگر حکومتی اہلکاروں کافوری ردِ عمل بھِی سامنے آچکاہے۔ انہوں نے اس واقعے کو دہشتگردی قراردیتے ہوئے اسے فوری طورپرکینیڈاکی مشہورانتہائی پیشہ ور پولیس”آرسی ایم ”کوتحقیقات کاحکم دیاہے۔اس واقعے کے فوری بعدمغربی میڈیا میں اسلاموفوبیاکاایک مرتبہ پھرذکربڑے زورشور سے شروع ہوگیاہے۔انگریزی لفظ اسلاموفوبیاآخرہے کیا؟اس لفظ کی تخلیق خاص وجہ سے کی گئی ہے۔ دنیابھرمیں نوجوان جس تیزی سے بڑی تعداد میں دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اس سے مغرب خودخوفزدہ ہے کیونکہ اگراسلام اسی طرح تیزی سے پھیلتارہاتو2030تک دنیامیں عیسائیت سے زیادہ مسلمان ہوں گے،اپنے خوف کودورکرنے اور نوجوان نسل کواسلام سے دوررکھنے کیلئے مغرب نے اسلاموفوبیاپیداکیاجس کے لفظی معنی اسلام کاخوف یاڈرہے۔انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیاکی بیشترزبانوں میں اسلام سے خوف ودہشت کے معنی میں استعمال کیاجاتاہے۔مسلمانوں کے خلاف اس لفظ کی ایجاد 1987میں ہوئی۔

1997میں اس اصطلاح کی تعریف برطانوی رنی میڈ ٹرسٹ نے”اسلاموفوبیا:اے چیلنج فارآل اس آل” کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ ”اسلاموفوبیاسے مراد اسلام سے بے پناہ خوف،ایک ایسا ڈرجو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کوجنم دیتاہے۔مغرب کے تخلیق شدہ اس ناجائزلفظ کی آڑلے کردنیا بھرمیں مذہب اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، تشدداورقتل کیاجارہاہے۔مسلمانوں کو جسمانی وروحانی اذیت دی جا رہی ہے،کبھی گستاخانہ خاکے بنائے جاتے ہیں توکبھی قرآن پاک کی بے حرمتی کی جاتی ہے توکبھی مسلم عبادت گاہوں کو شہیدکردیا جاتاہے۔اسی اسلاموفوبیا کے نام پرمودی کے دورمیں انڈیامیں ریاستی سرپرستی میں اسلام مخالف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔عام فہم زبان میں”اسلاموفوبیا”کامطلب مذہبِ اسلام یامسلمانوں کے خلاف ان کے عقائد کی بنیاد پرنفرت،تعصب یا خوفزدہ کرنے کارویہ ہے”۔

اسی سال فروری میں فرانس کے تاریخی شہرسٹراس برگ میں زیرِتعمیرمسجدحضرت ابوایوب انصاری ؓ کے ڈھانچے پرایک اسلام مخالف اورنسل پرستانہ حملے میں’’اپنے گاؤں واپس جاؤ‘‘کے نعرے لکھے گئے۔یہ مسجدمکمل ہونے پریورپ کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہوگی۔ سٹراس برگ دنیا کے چندایسے شہروں میں سے ایک ہے جہاں یورپی یونین،یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس اوراقوام متحدہ کے علاوہ کئی انٹرنیشنل اداروں کے اہم دفاتر قائم ہیں۔اسلام فوبیاکے اسی حملے سے دورِحاضرمیں فرانس میں رائج اسلام مخالف ماحول کا اندازہ لگایاجا سکتاہے۔ مسجدکی انتظامیہ کو کئی باردھمکیاں دی گئیں مگرپولیس نے ابھی تک ان کے تحفظ کیلئے کوئی کاروائی نہیں کی۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کومذہب یارنگ یادونوں کی بنیاد پرمسلسل تفریق وتنقیداورظلم وبربریت کانشانہ بنایاجاتاہے ۔اب فرانسیسی صدرعمانویل میکرون نےاسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس قدرشرانگیزمہم شروع کررکھی ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے بھی آوازاٹھانے لگے ہیں۔ گزشتہ سال جاری ہونے والی ایمنسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانسیسی حکومت مسلمانوں کے بنیادی عقیدے مثلاً روزے اورنمازکو بھی شدت پسندی کی علامات میں شمارکرتی ہے۔میکرون سے شہ پاکرحکومت کے دیگر عہدیدار بھی اسلام کونشانہ بنارہے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تعصب اور سرکاری تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہاہے۔گزشتہ سال جنوری سے اب تک لگ بھگ سوکے قریب مساجداوراسلامی اسکولوں کوبندکردیا گیاہے۔سینکڑوں مسلمان طلباجن میں دس سال کی عمرکے بچے بھی شامل ہیں کوپولیس نے شدت پسندی کے الزام میں پکڑا۔ایمنسٹی کے مطابق سرکاری سطح پرلگائے جانے والے بنیادپرستی کے الزامات عموماً مذہب کی پیروی کرنے والے مسلمانوں پرلگائے جاتے ہیں۔اسلاموفوبیاکی تاریخ سے پورایورپ بھراپڑاہے جس کونائن الیون کے بعد جواز بناکرپھرسے سرکاری سرپرستی میں زندہ کردیاگیا۔پھربظاہرآزادمیڈیاکے ذریعے اس کواس قدر عام کردیا گیا کہ عام افرادکیلئے مسلمانوں کے خلاف ردعمل بظاہرایک قدرتی فعل تصورہونے لگاہے۔اس کے نتیجے میں جمہوری حکومتوں اور پارٹیوں کیلئے اسلام اورمسلمان مخالف جذبات اوراحساسات کی ترویج واشاعت ایک نفع بخش کاروباربن گیاہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔فرانسیسی صدرمیکرون کے کچھ ناقدین کے مطابق اسلام کے خلاف ان کا زہریلا پروپیگنڈا دراصل ان کی جانب سے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کوبحال کرنے کاایک سستاطریقہ ہے۔

تازہ ترین واقعے میں اسلام مخالف شدت پسندوں نے اسپین کے مرسیہ علاقے کے گاؤں سان یاویرمیں مسجد پرحملہ کرکے اسے آگ لگانے کی کوشش کی گئی تاہم مقامی لوگوں اورپولیس کی بروقت کارروائی سے نقصان بہت کم ہوا۔اگرچہ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر اسلام مخالف نعرے لکھے مگرمقامی لوگوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔اس کے برعکس یونان میں حکومت نے تھیلیسونیکی نامی شہر،جوعثمانی دورمیں سلونیکاکے نام سے مشہورتھا،میں مسلمانوں کیلئے مسجد بنانے کادیرینہ مطالبہ رَدکردیاہے۔شہرمیں 1829تک درجنوں مساجدتھیں جنہیں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعدتباہ کردیاگیا۔جومساجد ابھی بچی ہیں انہیں یونانی حکومت کھولنے سے انکاری ہے۔

کچھ عرصے سے مغرب اور دنیاءِ اسلام کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی یورپ بھر میں تارکین وطن کے خلاف متعدد مہم شروع ہونے کا سبب بنی ہے۔فرانس کے ایک طنزیہ جریدے میں کینیڈامیں ہلاک ہونے والے خاندان کی ہلاکت کا سبب بننے والے دہشتگردانہ حملے کے بعدمغرب بھر میں ایک ثقافتی جنگ شروع ہوگئی ہے۔

مذہب اسلام پر طنز و مزاح کرنے اور متنازعہ خاکے شائع کرنے کی وجہ سے جریدے شارلی ایبدو کی صحافتی سرگرمیوں پر ماضی میں بھی فرانس کی مسلم آبادی کی طرف سے کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔تنازعہ مشرق وسطیٰ ہویامغربی افریقی ممالک کےسیاسی بحران، شام کی خانہ جنگی ہویاعراق میں جنگی تباہی،ہرخطے سے ترک وطن کر کے یورپ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلم اورغیرمسلم دونوں باشندوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہورہاہے اوریہ صورتحال اب فرانس اورجرمنی جیسے اقتصادی طورپرمضبوط یورپی ممالک کیلئےایک بڑامسئلہ بن چُکی ہے۔تارکین وطن چاہے روزگارکی تلاش ہی میں یورپ کی طرف کیوں نہ آئیں وہ اپنے ساتھ اپنی تہذیب وتمدن اوراپنی ثقافت لے کرآتے ہیں۔یورپ پرمسلم ثقافت کے اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے مغربی معاشروں کے قدامت پسندطبقے کوغیر معمولی تشویش لاحق ہے۔کچھ عرصے سے مغرب اوردنیائے اسلام کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی یورپ بھرمیں تارکین وطن کے خلاف متعددمہم شروع ہونے کاسبب بنی ہے۔فرانس میں مسلمانوں کے خلاف شدیدکشیدگی کے بعد بُدھ یورپی حکومت کومسلمان تارکین وطن کیلئے دائرہ مزیدتنگ کرنے کی ایک اوروجہ فراہم کردی ہے۔بالخصوص شارلی ایبدوپرحملے کے بعدفرانس،جرمنی اوردیگریورپی معاشروں میں ثقافتی جنگ پربحث چھڑگئی ہے۔

غیر مذہبی نظام حکومت”لائسیزم”کے حامل ملک فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم برادری آبادہے۔فرانس اس وقت اقتصادی بحران اور بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح جیسے مسائل سے دوچارہے۔فرانسیسی معاشرے میں قومی شناخت اوراسلام کے کردارکے موضوع پرنہایت شدید بحث چھڑی ہوئی ہے۔ فلورنس میں قائم یورپین یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرامورمشرق وسطیٰ اورسیاسیات اؤلیورروئے کے بقول”یہ حملہ فرانس میں اسلام سے خوف کے بڑھتے ہوئے جذبات کی تاکیدی علامت کی حیثیت رکھتاہے۔”

ایک فرانسیسی مصنف اورسیاسی صحافی ایرک زیمورنے اپنی کتاب”فرینچ سوسا ئیڈ” میں تحریرکیاہے کہ فرانس کی طرف مسلم تارکین وطن کی ایک بڑی تعدادکی ہجرت فرانسیسی سیکولراقدارکی تباہی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔اُن کی یہ کتاب2014ءکی بیسٹ سیلنگ کتاب رہی۔

ایک متنازعہ مصنف میشل ہؤلیبیک کے سال کے آغازپرشائع ہونے والے تازہ ترین ناول سبمِشن میں ایک پلاٹ تخلیق کیا ہے جس میں مقامی آبادی کے جذبات کوبرانگیختہ کرنے کیلئے ایک فرضی،تخیلاتی خاکہ کشی کی ہے۔مشیل ویلبیک نے اپنے نئے ناول سبمِشن میں ایک پلاٹ تخلیق کیا ہے۔وہ2022ءکے فرانس کا منظرتصورکرتے ہوئے لکھتاہے”فرانس کے صدارتی الیکشن میں انتہاپسندانہ رجحانات کی مسلمان سیاسی جماعت اخوان المسمون پارٹی انتہائی قدامت پسندخیالات کی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کوشکست دے کرمسلمان سیاسی جماعت کے لیڈرمحمدبن عباس کوصدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اوروہ برسراقتدارآ جاتی ہے۔ناول کے مطابق اِس ناول میں ویلبیک نے اِس حکومت سازی کے دوران ہونے والے اقدامات کااحاطہ کرنے کی کوشش میں اس شرانگیز پروپیگنڈہ کا سہارابھی لیتاہے کہ یہ انتہاء پسندمسلمان حکومت سوربوں یونیورسٹی کانام تبدیل کرکے پیرس سوربوں اسلامک یونیورسٹی کردیاہے۔ فرانس کے تمام اسکولوں میں مذہبی تعلیم کولازمی قراردیتاہے۔ساتھ ہی خواتین کے کام کرنے پرپابندی عائدکردیتاہے اورفرانس میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ خواتین نے مغربی جامے چھوڑ کرحجاب کواپنالیاہے اوریونیورسٹی کے غیرمسلم اساتذہ کومذہب کی تبدیلی کا سامناہے۔

ادھردوسری طرف برطانیہ میں 2001ءسے لیکراب تک500گرجاگھربندہوچکے ہیں اوران کی جگہ لوکل اتھارٹیزکی قانونی اجازت کے بعد 493 مساجد معرضِ وجودمیں آچکی ہیں جہاں صرف توحیدورسالت اوردنیاکی سلامتی کاپیغام دینے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کوآبادکیابلکہ تمام مذاہب،رنگ ونسل سے بالاترہوکر لوکل کمیونٹی کےرفاہ عامہ کاکام بھی بخوبی سرانجام دے رہی ہیں جس کویہاں بہت سراہابھی جاتا ہے۔ ان گرجاگھروں کے بندہونے کی وجہ ان کی ویرانی تھی کیونکہ یہاں کوئی عیسائی عبادت کیلئے داخل تک نہیں ہوتاتھاجبکہ 2020میں ہونے والے ایک اہم سرکاری سروے کے مطابق مساجدمیں تبدیل ہونے کے بعدصرف لندن میں6لاکھ83ہزارمسلمان پانچ وقت نمازاداکرتے ہیں جبکہ گرجا گھروں میں عبادت کیلئے آنے والےعیسائیوں کی تعداد20گناکم ہوکرچھ لاکھ 79ہزارماہانہ ہوچکی ہے جن میں نوجوان عیسائیوں کی تعدادنہ ہونے کے برابرہے۔

سروے میں اس کابھی اعتراف کیاگیاہے مساجدمیں معاشرہ کی اصلاح کاکام بھی ہوتاہے جہاں غیر مسلموں کو بھی دعوت عام ہے کہ وہ آکرخوداپنی آنکھوں سے اس کام کوملاحظہ کریں۔جبکہ گرجاگھروں کے غیرآبادہونے کی وجہ عیسائیوں میں مذہب بیزاری،الحادی سوچ کاعروج،گرجاگھروں میں کرپشن کے علاوہ دیگر اخلاقی کمزوریاں جوباوجوددبانے کے منظرعام پربھی آجاتی ہیں۔اس کے علاوہ عیسائیوں کی ایک کثیرتعداداسلام بھی قبول کررہی ہے اورباقاعدہ انہی مساجداور امت مسلمہ کاایک حصہ بن کراپناکرداربھی اداکر رہے ہیں۔ مثال کے طورپر لندن کے ایک تاریخی گرجا گھر سینٹ آف جارجیامیں 1230افرادکی عبادت کی گنجائش موجودہے لیکن اب وہاں صرف ایک درجن افراد عبادت کیلئے آتے ہیں اوریہی حال مشہورگرجاگھرسینٹ ماریاکاہے جہاں20افرادبڑی مشکل سے جمع ہوتے ہیں جبکہ اس گرجاگھر کے پہلومیں دن میں 5مرتبہ مسجدمیں ہرنماز میں 100 کے قریب افرادنمازاداکرتے ہیں جبکہ جمعہ کی نمازمیں تعدادکئی سوپر مشتمل ہوتی ہے اوراکثر مسجدسے باہرفٹ پاتھ اورسڑک پربھی لوگ نمازاداکرتے ہیں جن کوگزرتے ہوئے عیسائی بھی ملاحظہ کرتے ہیں۔

یہی حال برطانیہ کےدیگر چھوٹے بڑےشہروں میں بھی ہے۔برطانیہ کے دوسرے بڑے شہرمانچسٹرمیں مسلمانوں کی تعداد8۔15فیصدہے، برمنگھم میں 8۔21 فیصد ہے،بریڈفورڈمیں7۔24فیصدہے اوران کے مقابلے میں مساجدکی تعدادکودیکھ کرتعجب کی ضرورت نہیں ہے۔یورپ کے دیگربڑے بڑےشہروں میں بھی مساجدکی بڑھتی ہوئی تعداد بھی یہی نقشہ پیش کررہی ہیں۔یہ تمام مساجدکی تعمیراوران کے چلانے کے تمام بھاری اخراجات خالصتاًمسلمان اپنی جیبوں سے پورا کرتے ہیں جبکہ گرجاگھروں کیلئے توباقاعدہ حکومت کی طرف سے بھاری اعانت بھی جاری ہوتی ہے۔آپ کی اطلاع کیلئے ایک اورخوش آئندبات عرض کردوں کہ صرف لندن میں سوسے زائدشریعہ کونسلزبھی مسلمانوں کے باہمی خانگی اورشرعی مسائل میں رہنمائی کیلئے موجودہیں جن کی بناء پربرطانوی عدالتوں میں جانے کی بجائے گھرکی دہلیزپربغیرکسی فیس اور تاخیرکے معاملات حل کئے جاتے ہیں۔

ایک اورعجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ انڈیااسلامو فوبیا کانام لے کراقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلےعام خلاف ورزی کررہاہے۔اقوام متحدہ کے زیراہتمام منائے جانے والے عالمی دن،امن کاعالمی دن،انسانی حقوق کاعالمی دن،جوہری ہتھیاروں کے خاتمہ کاعالمی دن، سماجی انصاف کاعالمی دن،نسلی امتیازکے خاتمہ کاعالمی دن،یوم یکجہتی وسفارتی امن کاعالمی دن،تنازعات میں جنسی تشددکاعالمی دن، انسانیت کاعالمی دن سمیت متعددایسے عالمی دن ہیں جن کی کھلم کھلاخلاف ورزیاں انڈیااورمغرب میں جاری ہیں،اس لئے اقوم متحدہ کو چاہیے کہ وہ جلدازجلد اسلاموفوبیا کے خاتمہ کاعالمی دن منانے کااعلان کرے کیونکہ اسلاموفوبیاکاخاتمہ کیے بغیردیگرمنائے جانے والے عالمی دن بے سود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں