corporate Farming ..Journey Of Slavery

کارپوریٹ فارمنگ………غلامی کاسفر

:Share

پچھلے چندہفتوں سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ کارپوریٹ فارمنگ میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کابڑاچرچاہے لیکن کیاہم نے لمحہ بھرکیلئے سوچاہے کہ کیایہ سرمایہ کاری ہمارے ملک کیلئے مفیدہوگی یاپھرہماری بربادی کانیامنصوبہ ہے؟ اوراس طرح ہم غیرملکی سرمایہ کاروں کواپنے ملک میں راغب کرسکیں گے یااس سرمایہ کاری میں کچھ ایسے نقصانات مضمرہیں جن کی طرف غورنہیں کیاگیا؟

دراصل یہ غلامی کے سفریاآزدی کی نعمت کوختم کرنےکاتیزاورجدیدترین طریقہ ہے۔اب میں اس کی تشریح کردیتاہوں تاکہ سمجھے میں آسانی ہو۔اب تک توہم اپنے قومی اثاثے بیچتے رہے ہیں،ہمارے ملک کے ائیرپورٹس،موٹرویز،100فیصدٹیلی کام،80فیصدبینکنگ اورچنددیگرادارے غیرملکیوں کوفروخت کئے ہیں، ہم بھول گئے ہیں کہ جس غیرملکی کمپنی نے پی ٹی سی ایل خریدا،کل جب وہ پرائیوٹائزہوگی اوراپنے یہی اثاثے جب مارکیٹ میں فروخت کرے گی توانڈین یااسرائیلی سرمایہ کاراس کوخریدلیں گے توپھرہماراملکی سیکورٹی پیراڈائم کہاں کھڑاہوگا۔ذاتی مشاہدےکی بناء پرایسی ہی ایک مثال پنجاب کےایک واقعےکی طرف مبذول کرواناچاہتاہوں۔2750ایکڑزمین پر3500 خاندان کاشت کررہے تھے،ان سب کوفارغ کردیاگیا،اس کوایک کارپوریٹ فارم بنادیا گیا۔اب اس میں 300مزدورمستقل بنیادوں پرکام کرتے ہیں اورمزیدپانچ سوافرادفصل کی کٹائی کے وقت عارضی طورپربلائے جاتے ہیں،کام ختم ہونے پر ان کوفارغ کردیاجاتاہے۔ گویاروزگارپر پہلاخوفناک اثرتویہ پڑاہے کہ فرض کرلیں کہ اگرایک خاندان کے چھ افرادگن لئے جائیں توگویا21ہزارافرادکارزق ختم کرکے18سوافراد پرتقسیم کردیاگیاہے۔

میں آپ کی اطلاع کیلئے یہ عرض کردوں کہ اس طرح کے پراجیکٹس کاآغازسب سے پہلے افریقاکے کئی ممالک میں میں شروع کیاگیا۔یہ کارپوریٹ فارمنگ والوں کاطریقہ کاریہ ہے کہ سرمایہ کاری کےمعاہدے میں یہ گارنٹی دی جاتی ہے کہ ساری پیداوارپران کایہ حق فائق تسلیم کیاجاتاہے کہ وہ اس کومکمل طورپر ایکسپورٹ کرسکتے ہیں یااس کاکچھ حصہ جتناوہ چاہیں،وہ مقامی منڈی میں فروخت کر سکتے ہیں لیکن اس کیلئے وہ پابندنہیں۔ظلم کی بات تویہ ہے کہ وہ کاشتکارجو ان کے ملازم ہیں،وہ بھی گندم یادیگرفصل کاایک بھی دانہ اپنے گھرنہیں لے جاسکتاکیونکہ وہ وہاں پرتنخواہ دارہے اورکام کرنے سے پہلے وہ اپنے معاہدے میں یہ تمام شرائط تسلیم کرچکاہے۔ دوسری بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ بازاریاغلہ منڈی سے بھی وہ گندم یافصل نہیں خرید سکتاکیونکہ وہ ساری فصل توسوفیصد مالک اپنے معاہدے کے تحت اپنی مرضی سے اپنے ملک یاکسی دوسرے ملک کواچھےداموں فروخت کرنے کاحق رکھتاہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں، افریقامیں یہ ہوا ہے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ یہاں وہ چیزیں کاشت کی جاتی ہیں جواکثرمقامی ملک کی ضرورت بھی نہیں ہوتی،اس فصل کامعیاروہ ہوتاہے جوان کے اپنے ملک یا جہاں یہ فصل ایکسپورٹ ہوگی،ان کے غذائی معیارکے مطابق ہوگا،اگران سے مقامی منڈی کیلئے کچھ درخواست کی بھی جائے تواس کے دام ایکسپورٹ کوالٹی کے مطابق غیرملکی کرنسی میں وصول کئے جائیں گے گویاعوام کی دسترس سے باہر ان کی قیمت ہوگی۔یہاں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری زمین پرجدید فارمولوں کے تحت کاشتکاری کاجومہنگاپیٹرن استعمال ہوگا،وہ دن بدن ہماری زمین کی پیداواری صلاحیت کوبتدریج اس قدرکمزورکردے گاکہ کل کلاں جب تک یہ لیزکامعاہدہ ختم ہوگا،یہ زمین ہمارے لئے دردسربن کررہ جائے گی اورہم ویسے مہنگے جدیدفارمولے کی کاسٹ کے متحمل نہیں ہوں گے۔

ہم نے اس پرتوغورہی نہیں کیاکہ جہاں کازتکاربیدخل ہوجائیں گے وہاں مقامی زمینداربھی بیدخل ہوجائیں گے۔اس طریقہ کارسےہماری زمینداروں کی پوری نسل غائب کردی جائے گی اور ان کی جگہ یہ کمبنیزآجائیں گی جس میں”پارٹ اونرفوج ہے اوریہ غیرملکی کمپنیاں ہوں گی۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اتنا سرسبزخوشنما منظرنامہ نہیں ہے جتناٹی وی پربتاکرعوام کادل خوش کیا جارہاہے۔جب سے میں نے اس سارے معاملے کی تحقیق شروع کی توحقائق سامنے آنے کے بعدمیں لرز کر رہ گیاہوں کہ مجھے مستقبل میں اس کارپوریٹ فارمنگ کی کامیابی کے بعدکے مناظر بہت خوفناک دکھائی دے رہے ہیں۔بڑی تیزی سےاس ملک کےکریکٹربدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں،ہماری برائے نام جوسیاسی،معاشی خود مختاری باقی ہے،وہ بھی بتدریج ختم ہو جائے گی اورہم جلدسدرن افریقی ملکوں کی طرح ہوجائیں گے کہ جہاں کمپنی کاجنرل مینجریہ طے کرے گاکہ آئندہ ملک کاصدرکون بنے گا،باقی ملکی عہدوں کی تقرریاں توشائداسسٹنٹ مینجرکی منظوری سے ہوں گی۔میں یہ حقیقت بیان کررہاہوں جواس وقت سدرن افریقامیں ہورہاہے۔گویاایسٹ انڈیا کمپنی سے بھی زیادہ”ہولڈ”ہوگا۔میں افریقاکے ان ممالک کاذکرکررہاہوں جہاں سونے،ڈائمنڈزاوردیگرقیمتی دھاتوں کی کانوں پران غیرملکی یورپی کمپنیوں کاقبضہ ہے بلکہ ایسے ہی معاہدوں کے ذریعے وہ ان کے مالک بن چکے ہیں۔

ان معاہدوں کے بعدشدت سے یہ محسوس ہی نہیں بلکہ یقین ہورہاہے کہ ہم اب اس لیول پرجارہے ہیں جہاں مقامی لوکل مینجرمعاہدے کے تحت اس ملک کے صدرکی تقرری کرتاہے۔ویسے بھی اب توموجودی سنیاریوتویہ سامنے آگیاہے کہ اب دوگھرانے یہ طے کرتے ہیں کہ اب اگلاوزیراعظم کون ہوگا،صدارت کس کے پاس ہوگی اوراسمبلیوں اورسینٹ میں کن افرادکو بھیجاجائے گا۔ذراسوچئے کہ ہمیں تویہ کرپٹ افرادقبول نہیں لیکن جب کوئی غیرملکی ٹیلی کام کمپنی، بیئررکمپنی یاکارپوریٹ کمپنی کاغیرملکی مینجرقوم کی قسمت کے فیصلے صادرکریں گے توہم کہاں کھڑے ہوں گے؟یہ ہے وہ خوفناک سنیاریوجوہمارے اوپرمسلط ہونے کی تیاریاں کررہاہے جہاں نہ صرف تشویشناک غذائی اجناس کی قلت ہوگی بلکہ ہمارے موجودہ خودمختاری اورکلچرکے پرخچے اڑادیئے جائیں گے بلکہ ایسی بیروزگاری بھی پیداہوجائے گی جہاں افریقاکے ملکوں کی طرح امن وامان کانہ تھمنے والاماحول بھی پیداہوجائے گا۔یقیناًجب گھرمیں بھوک سے بچے تڑپ رہے ہوں گے،علاج معالجہ کیلئے ادویات خریدنے کی استطاعت نہ ہوگی تواگلامنظرآپ خودسوچ لیں کہ پھرکیاہوگا۔اس ماحول میں ہمیں کسی غیرملکی دشمن کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم خودہی اپنے ہاتھوں سے یہ کہہ کرجلاکرخاکسترکریں گے کہ مرنے سے پہلے ان ظالموں کوبھی ختم کردو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

4 + 18 =