نعمت ربانی………مشترکہ خاندانی نظام

:Share

میرے رب نے اس کائنات کوآبادکرنے کیلئےانسانوں کوآپس میں باہمی رشتوں سے جوڑکر خاندانوں اورمعاشروں کاسلسلہ جاری کرکے جہاں ایک نظام وضع کیاوہاں ایک دوسرے کے ساتھ ضرورتیں وابستہ کرکے حقوق وفرائض کاایک مربوط کامل نظام عطافرمایا۔انسان بہت سے سماجی اقدار وروایات کا پابندبھی ہے اوراپنی پرائیوٹ زندگی میں بہت حدتک آزادبھی،یہ دونوں چیزیں توازن کے ساتھ ہوں توگھراورمعاشرہ جنت نظیربن جاتا ہے اورتوازن بگڑجائے تووہی گھراورسماج جہنم کانمونہ بن جاتاہے۔

انسان فطری طورپرحریت پسندواقع ہواہے،وہ سخت اجتماعیت میں بھی انفرادیت کاخواہاں ہوتاہے اوربے پناہ مشغولیت میں بھی تنہائی کامتمنی ہوتاہے۔اللہ نے انسان کاعجیب مزاج بنایاہے،وہ سب کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اکیلارہناچاہتاہے اورتنہائی میں بھی وہ اکیلانہیں ہوتا،ہرشخص کی اپنی شناخت ہے، اپنا ذوق اورمزاج ہے،اپنے مسائل اورضروریات ہیں اورکوئی شخص زندگی کے کسی بھی مرحلے پراس کیلئےہرگزرضامندنہیں ہے کہ اس کی شناخت گم ہوجائے اوراس کے ذوق ومزاج اورشخصی مسائل کودوسروں کی خاطرنظر انداز کیاجائے،ہراعتدال پسند انسان چاہتاہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے،مگر دوسروں کیلئےخوداس کی شخصیت فنانہ ہوجائے،عام انسانی اقدارکالحاظ واحترام ضروری ہے،مگراس کی اپنی پرائیویسی بھی ختم نہ ہو،وہ دنیاکے ہررنگ و نوع کو قبول کرنے کوآمادہ ہے،مگراس کااپناامتیازبھی برقراررہناچاہیے،انسان کے اسی مزاج اورطبقاتی اورخاندانی رنگارنگی کے اسی رازکو قرآن کریم نے مختصر اوربلیغ اندازمیں اس طرح بیان کیاہے:
ہم نے تمہارے اندر مختلف جماعتیں اور خاندان بنائے تاکہ تم باہم پہچانے جاؤ۔(الحجرات:13)

یہ طبقاتی فرق انسان کیلئےایک امتحان ہے کہ اس فرق کا استعمال بندہ کس طور پر کرتا ہے؟ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے:
اوروہی توہے جس نے زمین میں تم کواپنانائب بنایااورایک کے دوسرے پردرجے بلندکئے تاکہ جوکچھ اس نے تمہیں بخشاہے اس میں تمہاری آزمائش ہے،بےشک تمہاراپروردگارجلدعذاب دینے والاہے اوربےشک وہ بخشنے والامہربان بھی ہے۔(انعام:165)

اسی لیے شریعت مطہرہ نے اپنے تمام قانونی احکام اوراخلاقی ہدایات میں اس فطری تنوع کالحاظ رکھاہے،زندگی کاکوئی مرحلہ ہو اسلام نے اپنے کسی بھی حکم میں یہ احساس نہیں ہونے دیاکہ اس نے کسی فریق یا زندگی کے کسی پہلوکونظر اندازکیاہو،یا کسی کی شناخت کوختم کرنے کی کوشش کی ہو،اسلامی قانون سراپا عدل وانصاف پرمبنی ہے، اسی بنیاد پریہ دین قیم اوردین فطرت ہے، اسلام کے نزدیک عدل ہی تقویٰ کامعیار ہے۔ قرآن کی ہدایت ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے:
انصاف کرو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔(مائدہ:8)

ہم مثال کے طورپراسلام کی چند ان ہدایات کا تذکرہ کرتے ہیں،جن کاتعلق دومختلف المراتب فریقین سے ہے اورجن سے انسان کو روزوشب دوچار ہوناپڑتاہے:

والدین اوراولاددومختلف طبقے ہیں،مگراسلام نے دونوں کے مراتب کامکمل لحاظ رکھتے ہوئے قانونی ہدایات دی ہیں،ایک طرف والدین کااتنا عظیم حق بتایاگیاکہ ان کے سامنے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں ہے،قرآن کریم میں ہے:
اوروالدین کے ساتھ حسن سلوک کرواگران میں سے کوئی ایک یادونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں توان کواُف نہ کہواورنہ جھڑکو،ان سے اچھے لہجے میں بات کرواوررحمت وانکسارکے ساتھ ان کے آگے جھک جاؤاوران کیلئےدعاکروکہ پروردگاران پررحم فرما، جس طرح انھوں نے بچپن میں میری پرورش کی تھی۔

اسی طرح انسانی سماج کے سب سے زیادہ حسین اوردل کش نظارے خاندان کے دائرے میں نظرآتے ہیں۔شوہراوربیوی کی محبت، ماں باپ کی شفقت،چھوٹوں سے پیار،بڑوں کااحترام،بیماروں کی تیمارداری،معذوروں کی مدد،بوڑھوں کوسہارا،ایک دوسرے کے کام آنا،سب کواپناسمجھنا، خوشی اورغم کے مواقع پرجمع ہوجانا،غرض خاندان ایک چھوٹاسماج ہوتاہے،اوریہ چھوٹاسماج جتنازیادہ مضبوط اور خوبصورت ہوتاہے،بڑے سماج کیلئےاتناہی زیادہ مفیداور مددگارہوتاہے۔

اللہ کے دین کی برکتوں کاسب سے کم محنت سے سب زیادہ ظہورخاندان کے دائرے میں ہوتاہے۔اس دائرے میں رہتے ہوئے اقامت دین کی راہ کے بہت سے تجربات اورمشاہدات ممکن ہوجاتے ہیں۔گھربھی ایک درجے کی ریاست ہوتی ہے اوراسے مثالی اسلامی ریاست بنانااقامت دین کے سفرکی ایک اہم منزل ہے۔یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے جہاں ریاست کے امام کواس کی ذمہ داری یاددلائی وہیں گھرکے افرادکوبھی ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔آپ نے فرمایا:”تم سب ذمہ دارہواورتم سب اپنی رعایاکے سلسلے میں جوابدہ ہو۔امام ذمہ دارہے اوراپنی رعایا کے سلسلے میں جوابدہ ہے۔اورمرد اپنے اہل خانہ میں ذمہ دارہے اوروہ اپنی رعایاکے سلسلے میں جوابدہ ہے۔اورعورت اپنے شوہرکے گھرمیں ذمہ دارہے اوروہ اپنی رعایاکے سلسلے میں جوابدہ ہے”۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ خاندان میں مرداورعورت دونوں کی حیثیت بھی ذمہ دارکی ہے،اوران کاگھران کیلئےرعایا کی حیثیت رکھتاہے۔ بہتر خاندان کی تشکیل کی ذمہ داری اورجوابدہی دونوں پرعائدہوتی ہے۔

دورجدیدمیں جبکہ ہرچیزکی مادی توجیہ کی جاتی ہے،یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ خاندان محض ایک سماجی رواج ہے جووقتی ضرورتوں کے تحت وجود میں آیااورجب وہ ضرورت باقی نہیں رہے تواس سے چھٹکاراحاصل کرناہی انسان کے ارتقاکاتقاضاہے۔اسلام میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں،وہ خاندان کونوع انسانی کاایک ناگزیرعنصرمانتاہے،جس سے علیحدگی اوردوری نوع انسانی کیلئےخطرناک حد تک نقصان دہ ہے۔

اسلام میں خاندان کوبڑی اہمیت دی گئی ہے اوراس کی مضبوطی کیلئےٹھوس اورگہری بنیادیں فراہم کی گئی ہیں۔اسلام کاتصوریہ ہے کہ انسان کی زندگی ایک امتحان ہے اوررشتے اس امتحان کاایک اہم حصہ ہیں۔امتحان کی نفسیاتی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں آسان سوالوں کو انسان خوشدلی سے حل کرتاہے اورمشکل سوالوں کودرست طریقے سے حل کرنے کیلئےاپنی ساری توانائی صرف کر دیتا ہے۔رشتوں کو امتحان مان لینے کانفسیاتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آدمی ہررشتے کوخوبی کے ساتھ نباہ لینے کی کوشش کرتاہے خواہ اس کیلئےاسے کتنی ہی مشقت اٹھانی پڑے۔ دشوارصفت رشتے نباہ لینے میں اسے کامیابی ملتی ہے تووہ اسی طرح خوش ہوتاہے جس طرح ایک مشکل سوال حل کرلینے پرخوشی حاصل ہوتی ہے۔امتحان کاتصوررشتوں کے ساتھ تعامل کی کیفیت کوبالکل بدل دیتاہے۔پھرانسان مسائل سامنے آنے پررشتوں سے فرارنہیں اختیار کرتابلکہ رشتوں کونباہنے کی ذمہ داری کو قبول کرتاہے۔

خاندان اوررشتوں کاجونظام انسان کوحاصل ہے وہ صرف انسانوں کاامتیازہے،اورانسانی شرف کی ایک علامت ہے۔رشتوں کایہ نظام حالات و ضروریات کے تحت انسانوں کی اپنی اختراع نہیں ہے بلکہ زندگی کے دیگرامتیازی انتظامات کی طرح یہ خاص انسانی زندگی کی ضرورتوں کوپورا کرنے والا امتیازی انتظام ہے جوانسانوں کوخصوصی طورپرعطاکیاگیاہے۔انسانی ضرورتوں کی تکمیل غول اورجھنڈ سے پوری نہیں ہوسکتی ہے، اسے قدم قدم پررشتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

رشتے اللہ نے بنائے ہیں،اس لیے انھیں خاص تقدس اوراحترام حاصل ہے۔ان کوتوڑنایاان کی بے حرمتی کرنااللہ کی حدودسے تجاوز اورنافرمانی کرنا ہے۔اسی لیے اللہ کی ناراضی کاخوف رشتوں کاسب سے بڑامحافظ ہے۔اللہ نے انسان کوزمین میں خلافت کاجوبڑامقام عطاکیاہے،اس کیلئےخاندان اوررشتوں کے اس نظام کاہونالازمی تھا۔ان رشتوں کے ساتھ صحیح تعامل کرتے ہوئے انسان خلافت کی ذمہ داری کوبہترطریقے سے انجام دے سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رشتوں کونباہنے کافطری جذبہ ہونے کے باوجود اللہ اس کی باربارتاکید بھی کرتاہے۔

جب تمام رشتوں کاایک سرااللہ سے ملتاہے،اس معنی میں کہ اللہ رشتوں کاخالق ہے،اوراس نے رشتوں کی پاسداری کاحکم دیاہے،تو پھربلاتفریق تمام رشتوں کی پاسداری ضروری قرارپاتی ہے۔رشتوں میں مراتب کافرق توہوسکتاہے لیکن رشتوں میں ایسی تفریق جائزنہیں ہے کہ کچھ رشتوں کوباقی رکھا جائے اورکچھ کوختم کردیاجائے۔غرض خرابی انسانوں کے اندرتوہوسکتی ہے لیکن خود رشتوں میں کوئی ایسی خرابی نہیں پائی جاتی کہ کسی رشتے کونفرت کا رشتہ قراردیاجائے۔

یہ اللہ کی حکمتِ تخلیق ہے،اورانسان پراس کابہت بڑا کرم ہے کہ جب وہ پیداہوتاہے تودو بڑے خاندانوں کے درمیان پیداہوتاہے۔پیدا ہوتے ہی اسے دوبڑے خاندانوں سے تعلق عطاہوجاتاہے۔یہ پیدا ہونے والے انسان پراللہ کی خصوصی عنایت ہوتی ہے۔جولوگ خاندان کے ادارے سے باہر، شادی کے بغیر،ناجائزطریقے سے بچے کی پیدائش کاسبب بنتے ہیں وہ اس پیداہونے والے بچے پراس پہلوسے بھی ظلم کرتے ہیں۔اسی طرح جولوگ اپنے خاندان سے کٹے رہتے ہیں اورپیداہونے والے بچوں کودوخاندانوں کی خوش گوارفضانہیں مہیاکرتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کوان کے پیدائشی اور بنیادی حق سے محروم کردیتے ہیں۔ہربچے کاحق ہے کہ اسے نانیہال اوردادیہال دونوں حاصل ہوں،اوروالدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کواس حق سے محروم نہ ہونے دیں۔

انسان کے اندرون کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ بیرونی دنیاسے جڑے ہوئے اپنے اندرموجودمتنوع جذبوں کی تکمیل کرتا ہے۔خاندان کی دنیا میں ایک انسان کواپنے بہت سے جذبوں کی تکمیل کاموقع حاصل ہوتاہے،اوریہ تمام مواقع اس کے اردگردبہت قریب ہوتے ہیں۔بڑے بوڑھوں کے ساتھ تعلق،چھوٹے بچوں کے ساتھ تعلق، ہم عمرساتھیوں اوردوسروں کے دکھ کو دور کرنے کا نا قابل بیان لطف۔غرض نیکی اور بھلائی کے بہت سے کاموں کے ساتھ تعلق،شفقت کا جذبہ ،خدمت کا جذبہ،محبت کاجذبہ،غم بانٹنے اور خوشی میں شریک کرنے کا جذبہ ،دوسروں کوخوش دیکھ کر خوش ہونے کا خوبصورت احساس ، جذبے جو انسانوں کی خصوصیت ہیں اپنی تکمیل کا سامان خاندان کی دنیا میں آسانی سے پالیتے ہیں۔

تکافل انسان کی بہت بڑی ضرورت ہے،تکافل کامطلب یہ ہوتاہے کہ انسانوں کاایک گروہ آپس میں معاہدہ کرلے کہ اس گروہ میں کسی کوکوئی نقصان پہنچتاہے توسب مل کراس کے نقصان کی تلافی کردیں گے۔جتنے لوگ کسی ایک تکافل کے معاہدے میں شریک ہوتے ہیں وہ سب ایک دوسرے کی حسب معاہدہ کفالت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔اس نظام کی افادیت سے انکارنہیں ہے، تاہم مادہ پرست دنیامیں تکافل کایہ نظام تجارت کاری کے تحت آجاتاہے،اورعام طورسے استحصال کاذریعہ بن جاتاہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کوخاندان کی صورت میں تکافل کافطری اورجذبات سے بھرپورنظام عطاکیاہے۔مضبوط خاندان میں حادثات اورحالات کا شکارہونے والاہرفرداپنی طرف بہت سے ہاتھوں کوبڑھتاہواپاتاہے۔مضبوط خاندان میں رہنے والا فردسکون اوراطمینان کی زندگی گزارتاہے،اوراس کے دل کوبے شماراندیشے خوف زدہ اورپریشان نہیں رکھتے ہیں۔

رشتے سماج میں انسان کی حصے داری کویقینی بناتے ہیں۔خاندان کے افرادکی طرف کفالت کاہاتھ بڑھانے والے ایک طرح سے سماجی کفالت میں حصہ لیتے ہیں۔اسے اس طرح سمجھاجائے کہ اگرکسی خاندان میں ایک یتیم کی کفالت کاانتظام نہیں ہوپاتاہے تو وہ یتیم پورے معاشرے پربوجھ ہوتاہے۔جبکہ اگر یتیم کی کفالت کاخاندان کے اندرہی انتظام ہوجائے تومعاشرے پریہ بوجھ نہیں پڑتا ہے۔غرض یہ کہ اگرہرخاندان کے افرادمل جل کراپنے مسائل کو خود حل کرنے لگیں توسماج میں مسائل کی شرح بہت کم رہ جائے گی۔اسی طرح اگراعلیٰ اقدارکی تخم ریزی اوران کے پودوں کی سیرابی خاندان کے اندرہی ہوتی رہے توہرخاندان معاشرے کیلئےباعث خیرورحمت بن جائے۔

انسان تنہاخوشی نہیں مناسکتاہے،اسے خوشی منانے کیلئےانسانوں کاساتھ چاہیے ہوتاہے۔انسان تنہاغم بھی نہیں سہارسکتاہے،غم سہارنے کیلئے غم کوبانٹنے والے درکارہوتے ہیں۔خاندان مل جل کرخوشی منانے اورمل جل کرغم بانٹنے کیلئےایک فطری پلیٹ فارم دیتاہے۔اللہ تعالیٰ نے زندگی کی صورت گری ایسی کی ہے کہ اس میں بوجھ بھی بہت ہیں اورخوشیاں بھی بہت ہیں۔زندگی کا بوجھ تنہااٹھاناممکن نہیں ہوتاہے،زندگی کا سکھ بھی تنہاحاصل کرلیناممکن نہیں ہوتاہے۔مضبوط خاندان اسے یقینی بناتاہے کہ انسان زندگی کابوجھ بھی آسانی سے اٹھالے اورزندگی کے سکھ بھی حاصل کرسکے۔

خاندان کومضبوط بنانے کیلئےعقلی تقاضے بھی بھرپوررہنمائی کرتے ہیں،تاہم دینی رہنمائی ان تقاضوں کی تکمیل کیلئےطاقتور محرک ہوتی ہے۔یہ دینی محرک انسان کومشکل سے مشکل حالات میں مضبوط موقف اختیارکرنے پرآمادہ رکھتاہے۔عقل کے سامنے دنیاکی سعادت ہوتی ہے،جبکہ دین دنیااورآخرت دونوں کی کامیابی کاراستہ دکھاتاہے۔صرف عقل کی بنیادپرتعمیرہونے والی عمارت خواہشات اورحادثات کاصدمہ برداشت نہیں کر پاتی ہے۔دین کی بنیادپرتعمیرہونے والی عمارت بہت ٹھوس اورمستحکم ہوتی ہے،ہرجھٹکے کوبرداشت کرلیتی ہے۔غرض مضبوط خاندان کی تشکیل عقل کاتقاضابھی ہے اور دین کاتقاضابھی ہے۔عقل بھی رہنمائی کرتی ہے اوردین بھی رہنمائی کرتاہے۔مومن کی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ دونوں سے فیض اٹھاتاہے۔

اجتماعی معاملات میں عدل اسلام کاسب سے اہم اصول ہے،اس اصول کوبرتنے میں سب لوگ شامل ہوجائیں توخاندان مضبوط ہو جاتاہے۔ خاندان کے تمام افرادکے درمیان عدل کیاجائے،مردوں اورعورتوں میں یابیٹیوں اوربہوؤں یادیگرافرادکے درمیان ایسافرق جوظلم کی حدتک پہنچ جائے اللہ کی ناراضی کاسبب بنتاہے اورخاندان کی بنیادوں کوکھوکھلاکردیتاہے۔عدل ہی کاتقاضایہ بھی ہے کہ خاندان کے مشترک فیصلے مشاورت اورباہمی رضامندی سے ہوں۔اجتماعی زندگی میں من مانی کرنے کارویہ ایک طرح کاظلم ہوتاہے اوربہت دنوں تک رشتوں کوبرقرارنہیں رہنے دیتا ہے۔غرض خاندان کااعلی اقداراوراصولوں سے رشتہ جتنامضبوط رہے گا خاندان کی کڑیاں اسی قدرمستحکم رہیں گی۔

جذبات کونازیبا الفاظ بھی ٹھیس پہنچاتے ہیں اورنارواخاموشی بھی۔بڑی باتوں کاجتنااثرجذبات پرپڑتاہے کچھ اتنا ہی اثرچھوٹی باتوں کا بھی پڑتاہے۔ جذبات ہرانسان کے ساتھ ہوتے ہیں اورانسان کی کمزوری یہ ہے کہ اسے صرف اپنے جذبات عزیزہوتے ہیں۔رشتوں کی کمزوری کا بڑا سبب جذبات کی یہ انانیت ہے۔جب لوگ اپنے جذبات کے ساتھ دوسروں کے جذبات کابھی خیال رکھتے ہیں تورشتے بے انتہا مضبوط ہوجاتے ہیں۔دوافراد میں تلخی ہو جائے اورباقی لوگ اس تلخی کوختم کرنے کی کوشش کریں توتلخیوں کوپنپنے کاموقع نہیں ملتاہے۔رشتوں میں خرابی اس وقت بڑھتی ہے جب دوسرے لوگ اسے بڑھانے میں حصہ لیتے ہیں۔ تلخیوں کوبڑھانے اوررشتوں کے خرمن میں چنگاریوں سے شعلے بھڑکانے کاشوق بہت خراب ہوتاہے۔

خاندان ایک ایسی اجتماعیت ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ تعلق وتعامل اوردوسرے کے رویے پربہت زیادہ انحصارہوتاہے۔ حسن اخلاق اورسمجھداری ہراجتماعیت کیلئےضروری ہوتی ہے،لیکن خاندان کی اجتماعیت توان دونوں کے بغیر چل ہی نہیں سکتی ہے۔خاندان کے تقریبا تمام ہی مسائل کی پشت پریاتوکسی کی ناسمجھی کارفرماہوتی ہے یاکسی کی اخلاقی پستی ہوتی ہے۔ناسمجھی کا علاج سمجھداری سے ہوتاہے اوراخلاقی پستی کامداوااخلاقی بلندی سے ہوتاہے۔خاندان کومضبوط بنانے کیلئےسمجھداری اور اخلاق کی عام سطح کوبلندکرنے کی کوششیں کرتے رہناچاہیے۔

رخنے توہرخاندان میں پیداہوتے ہیں،لیکن مضبوط خاندان میں انھیں بڑھنے نہیں دیاجاتاہے بلکہ انھیں بھرنے کیلئےبھی لوگ آمادہ و تیاررہتے ہیں ۔کوئی فردبیماری کی وجہ سے اپنی ذمہ داری ادانہیں کرپاتاصحت مند لوگ اس کی اس کمی کوپوراکردیتے ہیں،نادار کی طرف سے ہونے والی کوتاہی کی تلافی مالدار کردیتے ہیں،ناسمجھ کی طرف سے ہونے والی غلطیوں کامداواسمجھدارکردیتے ہیں۔بداخلاق کی طرف سے ہونے والی بدتمیزی کواعلی اخلاق والے ڈھانپ لیتے ہیں۔اس کیلئےاحسان کی صفت مطلوب ہوتی ہے۔ اسلام اس صفت کی بہت زیادہ ہمت افزائی کرتاہے۔

منفی سوچ خاندان کی بنیادوں کوکھوکھلاکرتی ہے۔مثبت سوچ اورایجابی اپروچ سے خاندان کی فضاخوشگواراوراس کی دیواریں پائیداررہتی ہیں۔ شوہراور بیوی سے لے کربڑے خاندان تک بے شمارمسائل ایجابی سوچ کے نتیجے میں یاتوپیداہی نہیں ہوتے ہیں یا شروع ہی میں ختم ہوجاتے ہیں۔علیحدہ خاندان اورمشترک خاندان کی بحث ہو،پرانے رواجوں اورنئے فیشنوں کے بیچ ٹکراؤہو، کاموں کی تقسیم اورمراتب کے فرق کامسئلہ ہو،مزاجوں اورطبیعتوں میں میل نہ ہوپانے کی دشواری ہو،غرض ایسی بہت سی الجھنیں مثبت سوچ اورایجابی اپروچ کے ذریعے خوبی سے حل کی جاسکتی ہیں۔

یوں توخاندان بہت سے رشتوں سے مل کرتشکیل پاتاہے،لیکن خاندان کامرکزی رشتہ شوہراوربیوی کارشتہ ہوتاہے،اسی رشتے سے پھرباقی تمام رشتے وجودمیں آتے ہیں۔یہ رشتہ انسان خودقائم کرتاہے اوراسے ختم کرنے کااختیاربھی اسی کے پاس ہوتاہے۔یہ رشتہ قائم ہوتاہے تودوبڑے خاندانوں کے بیچ قربت پیداہوجاتی ہے۔اورجب یہ رشتہ ٹوٹتاہے توبہت سے رشتے موتی کے دانوں کی طرح دوردوربکھرجاتے ہیں۔انسانی زندگی کااورانسانی خاندانوں کا سفراسی رشتے کی بدولت جاری وساری ہے۔اگرخاندان کے تمام لوگ اپنی توجہ اس رشتے کومحفوظ اورمضبوط بنانے پر مرکوزرکھیں توپورے خاندان میں مضبوطی آتی ہے۔

دورِجدیدمیں یوں توپورے خاندان کاادارہ شدیدخطروں سے دوچارہے،لیکن سب سے زیادہ خطرہ شوہراوربیوی کے رشتے کو درپیش ہے۔پہلے ساس اور بہو کے جھگڑے اورمشترکہ خاندان کے مسائل کاچرچازیادہ ہوتاتھا،لیکن اب توسب سے بڑامسئلہ خود شوہراوربیوی کے باہمی تعلقات کابنا ہواہے۔پہلے جہیزوغیرہ کی تباہ کاریاں زیادہ سننے کوملتی تھیں مگراب شوہراور بیوی کے بیچ تناؤخاندانوں کیلئےبہت بڑاچیلنج بناہواہے۔

دکھوں کے مارے انسان کوخاندان کے آغوش کی جتنی ضرورت پہلے تھی اس سے کہیں زیادہ آج ہے۔خاندان میں درآئی خرابیوں کی اصلاح ہوتی رہے، چاہے وہ کتنی ہی پرانی ہوں۔اس کے اندرسے ظلم اورگھٹن کے اسباب کودورکیا جائے،چاہے ان اسباب کوکتناہی تقدس ملاہواہو۔خاندان کے اندراعلی قدروں کوفروغ دیاجائے۔یہ سب کچھ کرناضروری ہے۔تاہم کسی بھی حوالے سے خاندان سے بیزاری درست نہیں ہے۔یہ جائے پناہ سے وہ راہ فرارہے جس کے آگے کوئی جائے پناہ نہیں۔

آج انسانیت کوبہت بڑاخطرہ نئی نسل میں بڑھتی ہوئی خاندان سے بیگانگی اورشادی کے رشتے سے بیزاری سے درپیش ہے۔اللہ کے بھیجے ہوئے دین اسلام کی تعلیمات اوراللہ کی دی ہوئی عقل کی تجلیات کوساتھ لے کرانسانیت کواس خطرے سے بچایاجاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

8 − 3 =