چکناچورخواب

:Share

“تم سب لکھنے والے بھی عجیب لوگ ہو،صرف خواب دیکھنے اوردکھانے والے،مصلحت پسندلیڈروں اورطاقتوراشرافیہ سے جان چھڑانے کے خواب، معاشرہ میں ایک انقلاب لانے کاخواب،معاشرہ سے ظلم،بے چینی اوراضطراب کوختم کرنے کاخواب، گھرکی دہلیزپرہرکسی کوانصاف مہیا کرنے کاخواب، زندگی کی بنیادی ضروریات کوپوراکرنے کے خواب،لوگوں کے دلوں میں پلنے والے لاوے اوراوران کے احتجاج کواپنی تحریروں میں سموکران کے بروقت نتائج کے خواب،پاکستان کوایک مثالی ریاست بنانے کاخواب”ایسے کتنے ہی سوالات کی بھرپوربوچھاڑکاسامنا ہرروز کرنا پڑتاہے لیکن مجھے آج بھی اپنے ان خوابوں کی تعبیر کاپورایقین ہے اورمیرایقین ہی میراسرمایہ ہے جومجھے آج بھی مایوس نہیں ہونے دے رہا ۔

برسوں سے کئی موضوعات پرکچھ نہ کچھ تحریرکررہاہوں لیکن مشرف کے دورا قتدارمیں وجہ سخن کالم نگاری اس لئے بن گیا کہ اپنے دل کی بھڑاس،بے چینی اوراضطراب کواہل وطن کی دلجوئی کاذریعہ بناسکوں۔یہ وہ زمانہ تھاکہ میری طرح اوربھی لکھنے والے اپنے اس یقین کاجھنڈا اٹھائے ہوئے تھے کہ وہ دن ضرورآئے گاجب اہل وطن اٹھ کھڑے ہوں گے،ایک تحریک جنم لے گی اوراہل وطن کوان کی کھوئی ہوئی منزل کانہ صرف پتہ مل جائے گابلکہ منزل کی طرف سفر بھی بڑی تیزی کے ساتھ شروع ہو جائے گاحالانکہ یہ وہ زمانہ تھاجب صرف انتخابات میں اس ملک کے سیاسی رہنماؤں کے جھنڈے برسات کے پتنگوں کی طرح گھروں،گلیوں،سڑکوں پرنمودارہوتے تھے،سال بھرمیں یاتواپنے ان لیڈروں کی سالگرہ کے کیک کاٹے جاتے تھے جوان کوسنگین حالات کے بیچ منجدھار میں چھوڑکراپنے بیرونی آقاؤں کے پاس چلے جاتے تھے یاپھربندکمروں میں اپنے رہنماؤں کی برسیاں منا کر اپنے دکھوں کامداوا ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے۔

اس زمانے میں الیکٹرانک میڈیاکے ٹاک شوزبھی نہ تھے کہ ان لیڈروں کی شکل وصورت اوران کے خیا لات عوام تک پہنچتے۔ بس پریس ریلیز،اخباری بیانات یاپھرمنظورنظرصحافیوں کے ساتھ گفتگو۔یہ سب لوگ ہم لکھنے والوں کامذاق اڑاتے،ہماری تحریروں کودیوانے کی بڑگردانتے،اکثر یہی کہتے کہ اس قوم کے سامنے اپنے خوابوں کادکھڑانہ رویاکرو،یہ قوم اٹھنے والی نہیں ،یہ سب دودھ پینے والے مجنوں ہیں،اس قوم میں احساس زیاں بھی باقی نہیں رہا،یہ تمہارے دکھائے ہوئے خوابوں کیلئے مار کھانے کوتیارنہیں۔بہتریہی ہے کہ تم بھی ہماری طرح خاموشی کے ساتھ مفاہمت کر لو،کچھ لوکچھ دوکے اصول کے مطابق!ہم اس ملک میں الیکشن بھی اپنی مرضی کاکروالیں گے ،ان تمام نام نہادلیڈروں کواقتدارمیں حصہ بقدروفاداری بھی مل جائے گا پھرتم کیوں اپنے مفادات کو داؤپرلگانے کی حماقت کرتے ہو؟وہ کوئی اورملک ہوں گے جہاں تمہاری تحریروں سے سجے خواب کی تعبیر کیلئے لوگ سروں پرکفن باندھ کر میدان میں اتریں،آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراپنے ان خوابوں کی تعبیرکامطالبہ کرسکیں۔

لیکن ان تمام دلخراش زمینی حقائق کے باوجودان کالموں میں دنیامیں چلنے والی تحریکوں،آنے والے انقلابات اورلوگوں کی قربانیوں کاذکرجب بھی ان کو پڑھنے کوملتاتویہ لوگ اپنی نجی محفلوں میں دبی دبی زبان میں اس بات کااعتراف کرنے لگے اور ای میل اورٹیلیفون کے ذریعے اس کا اعتراف بھی شروع کر دیا کہ ہم میں منافقت بہت ہے اسی لئے ہمارے لیڈراپنے مفادات کیلئے آمریت کے سا منے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں،ساتھ ہی اس شک کااظہاربھی کرتے کہ یہ اٹھنے اور تحریک چلانے والی قوم ہی نہیں۔یوں بندکمروں میں کیک کاٹنے،برسیاں اورسالگرہ منانے،ہوٹلوں کے کشادہ ہالوں اورآڈیٹوریم میں سیا سی جلسوں کی روش جاری تھی کہ اس ملک میں 9مارچ کاایسا تاریخی دن آگیاکہ جب ملک کے تمام اداروں کادامن مصلحت اورمفاہمت کی کالک سے ایسابگڑاہوا تھاکہ اصلی صورت کے خدوخال ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے کہ اچانک ایسا لگاکہ عدلیہ کی کالک کے ساتھ ساتھ تمام ملکی اداروں کی سیاہی کوایک شخص افتخارمحمدکی جرأت تیزبرسنے والی بارش کی طرح ارضِ وطن کاساراگندبہاکر لیجا سکتی ہے۔یہی وہ لمحہ یاوہ سراب تھاکہ جب لکھنے والوں کی باتیں سچ ثابت محسوس ہونے
لگیں۔دبے سہمے ہوئے،کچلے ہوئے،ظلم سہتے ہوئے عوام سڑکوں پرنکل آئے۔افتخار محمدچوہدری کی شکل میں ان کواپنا مسیحانظرآنے لگا۔

وہ سب جھنڈے جوالیکشن کی برسات میں مینڈکوں کی طرح نظرآتے تھے اب سڑکوں پرافتخارمحمد چوہدری کی جرأت کو سلام کرنے میں پیش پیش تھے ۔ یہاں تک کہ اپنے اس مسیحا کے استقبال کو آنے والے کراچی کے لوگوں پرب12جولائی اس حال میں آیاکہ ان کودرختوں پربیٹھے پرندوں کی طرح گولیوں سے بھون دیا گیااوراسی رات شکارپرخوش ہوکرڈھول کی تھاپ پررقص کرتاہوا شکاری اپنی اس کامیابی پرپوری قوم کومکے دکھاکراپنی طاقت کالوہامنوارہاتھالیکن اس وحشیانہ تشددسے نہ توتحریک میں کمی آئی اورنہ ہی لوگوں کے خواب ٹوٹے۔ان لوگوں کابس ایک ہی خواب تھا کہ ایک ایساادارہ وجود میں آجائے جہاں وہ کسی سیاسی وڈیرے کے ظلم،کسی ظالم بیوروکریٹ کی کرپشن،کسی قبضہ گروپ کی دہشت اورکسی جرنیل کی لوگوں کواٹھاکرغائب کردینے کی عادت کے خلاف انصاف کیلئے جاسکیں۔ان کی سادہ کاغذ پرلکھی درخواستوں پران کی شنوائی ہوسکے اوران سارے ظالموں کوعدالتوں کے کٹہرے میں لاکر ان سے تمام زیادتیوں کاحساب لیاجاسکے۔

ابھی اس جرات رندانہ کوچندروزہی ملے تھے کہ ظالم نظام اپنے تمام حواریوں کولیکراس پرٹوٹ پڑااوران خوابوں کوچکناچور کر دیااورافتخارچوہدری مسیحابھی نمک کی کان میں نمک بن گیااورآج برسوں بعد پھرمکے دکھانے والے شکاری کی کابینہ کے کثیرافراداس ملک کوریاست مدینہ بنانے کادعوی کرنے والے کے اردگردجمع ہیں۔لوگ آج بھی ویسے ہی خواب دیکھ رہے ہیں اورمجھ جیسے بے وقوف کہلانے والے ویسے ہی خواب لکھ رہے ہیں،ویسے ہی خواب سوچ رہے ہیں اورلوگوں کی آنکھوں میں احتجاج کی مشعلیں،مایوسی کے سائے اوراپنے اعتماد کے خون ہونے کاغصہ اورانتقام دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں