Banyan Tree

ٹنڈمنڈدرخت

:Share

میں ہمیشہ دل کی بات کرتاہوں آپ سے۔خودکوکبھی حرف اول وآخرنہیں سمجھامیں نے۔میں انکسارسے نہیں کہہ رہاکہ میں کچھ نہیں جا نتا،واقعی ایساہی ہے۔میں لوگوں سے گفتگوکرتا ہوں، انہیں پڑھتاہوں۔ہاں میں بہت کتابیں پڑھتاہوں اورہرطرح کی۔آج بھی میرے پاس ہزاروں کتب ہیں۔میں وسیع المطالعہ ہونے کادعویٰ دارکبھی بھی نہیں رہا۔میں نے بہت کچھ دل لگاکرپڑھاہے اورکچھ سے میں سرسری گزراہوں۔

میں کوئی دانش ورنہیں ہوں،عام سابندہ ہوں۔میرے رب کاکرم ہے کہ مجھے بہت سے اہل علم وفضل کی صحبت حاصل ہے۔ان سے خوب بحث مباحثہ کی کیفیت بھی رہتی ہے۔بس یہ کرم ہے میرے رب کا،توفیق ہے میرے پا لنہارعلیم وخبیرکی۔میں تواپنے بچوں سے بھی بہت سیکھتاہوں اورکھلے دل سے اس کااعتراف بھی کرتاہوںاس کااظہاراکثرآپ کومیری تحریروں میں بھی ملے گا۔آج کل مسجدمیں نوجوانوں کے ہفتہ وارپروگرام میں نوجوانوں سے بہت کچھ سیکھنے کوملتاہے۔جدیددورکے عجیب وغریب سوال اور نرالی منطق لاجواب کردیتی ہےمیں بہت سے معا ملات میں کوراہوں،ہما رے بچے بہت ذمہ داراورسمجھدارہیں۔منافقت سے مبرا، بالکل صاف سیدھی اور آسان زبان میں عمدگی کے ساتھ حالات پرتبصرہ کر تے ہیں۔مجھے اس کا اعتراف ہےاورکرنابھی چاہئے۔

ہما راایک بڑامسئلہ یہ بھی ہےکہ ہم اعتراف نہیں کرتے،تسلیم نہیں کرتے،ہم غلطی کرتے ہیں اوراس پردلیل لاتے ہیں۔یہ توکہاگیا ہے کہ احسان کرو اوربھول جاؤ،مت جتلاؤلیکن یہ کب کہاگیاہے کہ جس پراحسان کیاجائے وہ بھی اپنے محسن کا تذکرہ نہ کرے! اسے ضروراپنے محسن کاذکرکرناچاہئے اور بہت پیارسے کرناچا ہئے۔جبکہ ہم نہ تواعتراف کرتے ہیں اورنہ ہی ہم میں غلطی تسلیم کرنے کی خوہے۔غلطی ہوجائے توہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم غلطی پرتھے۔ہم انسان ہیں،ہوگئی ہم سے غلطی،ہمیں نادم ہوناچاہئے،پشیمان ہوناچاہئے،معذرت کرنے میں ذرابھی تاخیرنہیں کرنی چاہئے ۔لیکن ہم نہیں کرتے۔ہمارے اندرایک بہت بے حس اورسفاک آدمی رہتاہے،وہ ایک ٹنڈ منڈدرخت ہے،بغیرپھل کے،جھکتاہی نہیں ہے ۔ہاں بہت سی باتیں اورمعاملات ایسے ہیں کہ سرکٹ جائے توغم نہیں،جھکنانہیں چا ہئے۔خاک بسرانسانوں کے سرظالموں کے سا منے کیوں جھکیں؟ جھوٹ، فریب،دغا بازی، مکاری اورعیاری کے سا منے کیوں جھکیں؟باطل کے سامنے سرتوبلندرہناہے،لیکن انسا ن کوجھکاہواہی رہناچاہئے۔جب پھل لگ جا تے ہیں توشجرجھک جاتے ہیں۔

اسلام نے عبادات کاجوتصوردیاہے کیاوہ اپنااثرا ت نہیں رکھتا؟کیایہ رب نے ویسے ہی کہہ دیاہے؟یہ انسان کوانسان بناتاہے،اسے ثمربارکرتاہے، اور اگرہم سب کچھ کرتے ہوئے یہ پھل نہیں پاتے توسوچناچاہئے کہ کہیں کوئی گڑبڑہے۔رب کے فرمان میں تونہیں ہوسکتی،ہم میں ہی ہے۔تووہ ہمیں تلاش کرنی چاہئے۔ہم دوسروں کے عیب تلاش کرتے رہتے ہیں اورہمیں اتنی مہلت ہی نہیں کہ اپنے عیبوں کوکھوج سکیں۔ہمیں پردہ پو شی کا حکم دیا گیاہے،تشہیر کی بجائے اس سے بچناچاہئے،بس!

میرے رب کی توہے یہ ساری کا ئنات،سب کچھ،سارے موسم،سارے ماہ وسال،اوروہ سب کچھ جونظرآتاہےاورجوپو شیدہ ہے……اورپھرہمارے رب سے ہمارایہ معاہدہ بھی توہےکہ: کہو،میری نماز،میرے تمام مراسِم عبودیت میراجینااورمیرامرنا،سب کچھ اللہ رب العالمین کیلئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔اسی کامجھے حکم دیاگیاہے اورسب سے پہلے سرِاطاعت جھکانے والامیں ہوں۔جب ہم نےاپناسب کچھ اپنے خالق کے ہاں قربان کردینے کاعہدکیاتواس پرعملدرآمدکی توفیق بھی انہی کوملتی ہے جوجذبہ صادق کے ساتھ مانگتے ہیں۔

یعنی کائنات کی ساری چیزوں کاربّ تواللہ ہے،میراربّ کوئی اورکیسے ہوسکتاہے؟کس طرح یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ساری کائنات تواللہ کی اطاعت کے نظام پرچل رہی ہو،اور کائنات کاایک جزءہونے کی حیثیت سے میرااپناوجودبھی اُسی نظام پرعامل ہو، مگرمیں اپنی شعُوری واختیاری زندگی کیلئے کوئی اورربّ تلاش کروں؟کیاپوری کائنات کے خلاف میں اکیلاایک دُوسرے رُخ پر چل پڑوں؟حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کاجینا، مرنا،اورعبادت وریاضت سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہونا چاہیے ۔زندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے کاموں میں اورجینے کامقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی سربلندی ہو۔یونہی مرناحالت ِ ایمان میں ہو اورہوسکے توکلمۂ حق بلندکرنے کیلئے ہو۔یونہی عبادت کاشرکِ جلی سے پاک ہوناتوبہرحال ایمانیات میں داخل ہے،عبادت شرک ِخفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہواور خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاوخوشنودی کیلئے ہوجائے توتب رب کریم بڑی چاہ وپیار سے فرماتاہے کہ یہ میراہے،میں خوددوں گا اس کاصلہ۔ہم بھی جب کسی سےکہیں کہ: ہیں توبہت سے لوگ میرے اردگردلیکن یہ جوفلاں ہے،یہ بہت خاص ہے،میراہے تودل کتناشادہوجاتاہےخوشی سے،مسرت سے ۔ تویہ بہت خاص ہے کہ میرے رب نےکہاہے یہ میراہے۔

اگرہم اپنے رب کوراضی کرناہےتوضبطِ نفس پرعمل کرتے ہوئے اپنے اندرکے بت کوتوڑناہوگاکیونکہ یہی عمل بندہ نفس بننے سے بچاتاہے،بندوں سے محبت کرناسکھاتاہے۔جس تربیت کی انسان کوضرورت ہے وہ مکمل جا مع شکل میں ہم تک پہنچاتاہے۔ہم روزانہ اس کامشاہدہ کرتے ہیں۔ہم نے برداشت کرناسیکھا؟ہم نے حق تلفی سے دامن بچایا؟ہم نے دل آزاری چھوڑ دی؟ہم نے معذرت کی اورآئندہ وہ کام نہ کرنے کاعہدکیا؟ہم نے انسانوں کی خدمت کی؟ہم نے صبرکیا؟ہم نے اپنے نفس کوپچھاڑا؟نہیں ناں.. … ہم اب بھی ایسے ہیں،اپنی انا کے بت کے پجاری اگرہم روزہ،نماز،حج زکوة اور عمرے کرکے بھی ویسے کے و یسے ہی ہیں توبے کار ہے ناں یہ سب کچھ …..کیا حاصل اس کا!مجھے بتائیے۔بس اسی سے توفیق کے طلبگاررہو، وہ دیکھتا ہے کہ بندے نے سر تسلیم خم کرلیا۔اورپھرکریم اتناہےکہ تو فیق بھی خوددیتاہے،ورنہ ہم کیااورہما ری اوقات کیا؟

مجھے توخود پرتوجہ دینی چاہئے کہ میرے اندرکوئی گڑبڑہے،میرے اندرہے کوئی خرابی!میں خودکوچھوڑکردوسروں کے پیچھے پڑارہتاہوں،مجھے توخودکو دیکھناچاہئے،مجھے اپنامحاسبہ کرناچاہئے،نہیں کرتے ناں ہم ایسا!بس دوسروں کوڈستے رہتے ہیں۔ہمیں بندہ بنناچاہئے اورہم خدائی لہجے میں بات کرتے ہیں۔نہ عجزہے ہم میں اورنہ انکساری،نہ رحم دلی نہ خلوص،اصل درکار ہے میرے رب کی بارگاہ میں،وہاں جعلی کا گزرنہیں ہے،بالکل بھی نہیں ۔ہم نمازروزہ کی ادائیگی کے بعددوسروں سے ایسابرتاؤ کرتے ہیں جیسے ہم نے کوئی احسان کردیاہے۔میں سرتاپاغصے میں لتھڑاہواہوں،میں آگ اگل رہا ہوں اورپھرمیں خودکومتقی بھی کہتاہوں،عجیب بات ہے جبکہ میں توانتہائی مفلس،ٹنڈ منڈدرخت ہوں،بغیر کسی پھل پھول کے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

twenty + 7 =