عرب بہار:سازش یاکچھ اور

:Share

دس سال قبل عرب دنیامیں نام نہادعوامی بیداری کی ایک ایسی لہر(عرب اسپرنگ)اٹھی جس نے بہت کچھ الٹ،پلٹ کرکے رکھ دیا ۔عوامی بیداری کی اس لہرنے نئی امیدوں کوجنم دیااوریوں بہت کچھ بدل گیا۔دس سال قبل عوامی سطح پرابھرنے والی جذبات کی اس لہرنے بعض ایسی حکومتوں کوختم کردیا، جن کے خاتمے کی کوئی راہ دکھائی نہ دیتی تھی اورپھرعوامی بیداری کی اس لہر کے بطن سے ایک ایسی تحریک نے بھی جنم لیاجس نے خلافت کے احیاکابیڑا اٹھایا۔یوں مشرقِ وسطیٰ نے اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ایسے واقعات کے ساتھ قدم رکھاجن پربظاہرکسی کاکوئی اختیارنہ تھا۔عوامی بیداری کی اس لہرنے بعض ایسے واقعات کوجنم دیاجن کے دوررس اثرات مرتب ہونے تھے اورہوئے،تاہم مشکل یہ ہے کہ عرب دنیامیں عوامی سطح پر بیداری کی لہرکے اٹھنے سے جن تبدیلیوں کاخواب دیکھاگیاتھاوہ اب تک شرمندۂ تعبیرہونے کی منزل سے بہت دورہے کیونکہ اس لہرکوبرپاکرنے کیلئے ”ون ورلڈ آرڈر”کااپناایجنڈہ ہے۔

مصر،تیونس،لیبیااوریمن میں بیداری کی لہرنے غیر معمولی تبدیلیوں کوراہ دی۔عوام میں غیرمعمولی جوش وخروش تھا۔ایسے میں اصلاحات کا سوچاگیا۔توقع یہ تھی کہ جب اصلاحات کاعمل مکمل ہوگاتوان ممالک کی تقدیربدل جائےگی۔افسوس کہ ایسانہ ہوسکا۔آمریت کاایک دور ختم ہواتودوسراشروع ہوایاپھرخرابیوں نے ان ممالک کارخ کرلیا۔یمن،لیبیااورشام میں خانہ جنگی چھڑگئی۔یہ سلسلہ بہت حدتک اب بھی برقرار ہے۔ ایسانہیں ہے کہ عرب دنیامیں عوامی بیداری کی جولہراٹھی تھی وہ راتوں رات ختم ہوگئی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ آٹھ سال بعدلبنان، سوڈان، الجزائر اورعراق میں بھی عوامی بیداری کی لہراٹھی اوربہت سے معاملات کوپلٹ کررکھ دیا۔لبنان کی مصنفہ اورمترجم لینا منذرکاخاندان لبنان اور شام میں منقسم ہے۔اُس کاکہناہے کہ بہت سے معاملات اس قدرتبدیل ہوچکے ہیں کہ آسانی سے شناخت نہیں کیاجاسکتا۔یہ بات تواب ثابت ہو چکی ہے کہ عوام چاہیں توطویل مدت سے اقتدار پرقابض کسی بھی آمرکے خلاف کامیاب تحریک چلاسکتے ہیں۔سوال صرف ہمت سے کام لینے کا ہے۔

عرب بہارکی ابتداء17دسمبر2010ءکوتیونس کے شہرسیدی بوزیدسے ہوئی،جب ایک شخص نے پولیس کی طرف سے ہراساں کیے جانے پرتنگ آکر گورنرکے دفترکے سامنے پٹرول چھڑک کرخودسوزی کی۔تیونس یاخطے میں خودسوزی کرنے والامحمدبو عزیزی پہلاشخص نہیں تھامگراس کی موت نے ایسی آگ لگائی جس کادائرہ دیکھتے ہی دیکھتے وسیع سے وسیع ترہوتاچلا گیا۔ سرکاری میڈیا پرسخت پابندیوں کے باعث اس کی کہانی پھیلی بھی نہیں تھی مگرپھر بھی بات لوگوں تک پہنچ گئی۔خودکوآگ لگانے والا بوعزیزی4جنوری کوچل بسا۔تب تک احتجاج کادائرہ ملک گیرہوچکاتھا۔زین العابدین بن علی کا23 سالہ اقتداربالآخرختم ہوا۔دس دن بعدتیونس کے صدرزین العابدین بن علی کوسعودی عرب فرار ہوناپڑااوراس کے بعدمصر،لیبیااوریمن میں بھی احتجاج شروع ہوگیا،لوگ سڑکوں پرآگئے۔

مصرمیں غیرمعمولی احتجاجی لہردکھائی دی۔مصرکادارالحکومت قاہرہ خطے کاسب سے بڑاشہرہے۔اس شہرمیں لاکھوں افرادنے گھروں سے نکل کرتحریر اسکوائرکارخ کیااورریاستی جبرکاسامناکرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا۔تیس سال سے اقتدارپرقابض حسنی مبارک نے چاہاکہ مظاہرین کو سختی سے کچل دیاجائے۔تحریراسکوائرکے اردگردفوج کے وہ دستے بھیجے گئے جو خطرناک ترین صورتِ حال کوکنٹرول کرنے کیلئےاستعمال کیے جاتے ہیں۔حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کے معاملے میں خصوصی دستوں نے،ہدایات کی روشنی میں،خاصی سفّاکی دکھائی۔ غیرانسانی سلوک روارکھاگیا مگر اس کے باوجودلوگوں نے ہمت نہ ہاری اورحسنی مبارک کواقتدارسے الگ کرنے کے حوالے سے کاوش جاری رکھی۔جوکچھ قاہرہ سمیت پورے مصرمیں دکھائی دیااُس نے خطے ہی کونہیں بلکہ دورافتادہ ممالک میں بھی آمریت کے خلاف احتجاج کوہوادی ۔ مصرکے لوگوں نے جوکچھ کیااُس نے تاریخ رقم کی۔ خطے میں چندآمرعشروں سے اقتدارسے چمٹے ہوئے تھے۔مصرمیں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے پورے خطے میں عوام کوظلم کے خلاف کھڑاہونے کاحوصلہ بخشا۔مصرمیں جوکچھ ہورہاتھاوہ دیکھتے ہی دیکھتے خطے کے متعدد ممالک میں ہونے لگا۔مصرکے سینئرصحافی احدف السیف نے برطانوی اخبار’’دی گارجین‘‘میں لکھاکہ لوگ نظامِ حکومت کی تبدیلی کیلئےمیدان میں آگئے ہیں اوراب وہ اپنی بات منوائے بغیرگھروں کوواپس نہیں جائیں گے۔

آمروں کے طویل اقتدارسے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ ہوچکاتھاکہ اب کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی اوریہ کہ آمریت ہی ان کامقدرہے۔ مطلق العنان حکمرانی نے اُن کے دل ودماغ ماؤف کردیے تھے۔جب عرب دنیامیں بیداری کی لہردوڑی تویہ احساس بھی پوری شدت کے ساتھ ابھراکہ مطلق العنان حکمران دس فٹ کاقدنہیں رکھتے یعنی عام انسانوں ہی کی طرح ہیں اورکوئی بھی بڑی تبدیلی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

مصنفہ لینامنذرکواچھی طرح یادہے،جب بیداری کی لہردوڑی توابتدائی دنوں میں یہ تصورشکست وریخت سے دوچارہواکہ عرب دنیامیں اب کوئی بڑی تبدیلی رونمانہیں ہوسکتی۔یہ تصورپایاجاتاتھاکہ ہم عرب کاہل اورجبرکے خلاف کھڑے ہونے سے بیزارہیں اوریہ کہ ہم نے شخصی حکومتوں کومقدرسمجھ کرقبول کرلیاہے کہ اس میں بنیادی خطاہماری ہی ہے،ہم ہیں ہی اس قابل کہ ہم پر آمرحکومت کریں۔11فروری2011ءکووہ ہواجس کے بارے میں سوچابھی نہیں جاسکتاتھا۔جی ہاں،مصرکے مطلق العنان حکمران حسنی مبارک نے مستعفی ہونے کااعلان کیا۔لینامنذرکویادہے کہ جس رات حسنی مبارک نے اقتدارچھوڑاوہ روتی رہیں۔ انہیں یقین ہی نہیں آیاکہ مصر کے لوگ اتنے بہادربھی ہوسکتے ہیں۔اس کے بعد شام میں بھی تبدیلی کی لہراٹھی۔لوگوں نے بشارالاسدکے اقتدارکے خلاف جدوجہد شروع کی۔

استنبول میں قتل کیے جانے سے6ماہ قبل سعودی عرب کے منحرف مصنف جمال خاشقجی نے لکھاکہ’’عرب دنیامیں بیداری کی جولہراٹھی اس نے ثابت کردیاکہ عرب دنیااورجمہوریت میں بھی تال میل ہوسکتاہے۔ایک زمانے سے یہ کہاجارہاتھاکہ عرب دنیا میں جمہوریت آہی نہیں سکتی۔ عوامی بیداری کی لہرنے ثابت کیاکہ یہ سوچ غلط ہے‘‘۔

مصرمیں حسنی مبارک اورتیونس میں زین العابدین بن علی کے بعدلیبیامیں معمرقذافی،یمن میں علی عبداللہ صالح اورگزشتہ برس سوڈان میں عمرالبشیرکے اقتدارکاخاتمہ ہوا۔یہ سب کچھ عوام کے بیدارہونے پرممکن ہوسکا۔ ان پانچ آمروں نے مل کرمجموعی طورپر146سال حکومت کی۔ ہم یمن کے ایک ہوجانے سے قبل شمالی یمن پرعلی عبداللہ صالح کے بارہ سالہ اقتدارکواس میں شامل نہیں کررہے۔زین العابدین بن علی نے1987ء سے2011ءتک،حسنی مبارک نے1981ءسے2011ءتک،معمرقذافی نے1969ءسے 2011ءتک،علی عبداللہ صالح نے1990ءسے2012ءتک اورعمر البشیرنے1989ءسے2019ء تک حکومت کی۔2019ءمیں”نوح فلڈ مین”نے’’عرب ونٹر‘‘کے عنوان سے کتاب لکھی اورتب سے یہ اصطلاح بھی عام ہوئی ہے۔مشرقِ وسطیٰ امورکےماہرمائیکل اگنی ٹئیف کہتے ہیں کہ فیلڈمین کی کتاب نے عرب دنیا میں بیداری کی لہرکی موت کوبیان کیاہے،یہ ایک بڑاالمیہ ہے۔

عرب دنیاکے لوگ بیدارتوہوئے اورمطلق العنان حکومتیں ختم بھی کیں مگراس سے جوخلاپیداہواوہ بہتراندازسے پُرنہ کیاجاسکا، اوراس کے نتیجے میں ایک بارپھرخرابیاں پیداہوئیں اورجمہوریت کے بجائے پھرمطلق العنان حکومتیں قائم ہوگئیں۔مصرمیں حسنی مبارک کا اقتدارختم ہواتو انتخابات بھی ہوئے اوراخوان المسلمون کواقتدارملامگرصرف ایک سال بعداس اقتدارکی بساط لپیٹ دی گئی اوراس کے بعدپولیس نے ایک بارپھر پورے ملک میں انقلابی سوچ کاگلاگھونٹناشروع کیا۔صدرمرسی کے تحت صرف ایک سال گزارنے کے بعدوزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے بغاوت کی اوراخوان المسلمون کی حکومت کاتختہ الٹ کراقتدارپرقبضہ کیا اورصدرمحمدمرسی کومعزول کرکے جیل میں ڈال دیا۔ریٹائرمنٹ کے بعدبھی السیسی اقتدارمیں ہے اوراس کاطرزِ حکومت حسنی مبارک کے دورکی سفاکی سے بڑھ کرہے۔ایک بڑی مشکل یہ بھی ہوئی کہ مصرمیں حسنی مبارک کے آمرانہ اقتدارکے خلاف تحریک چلانے والوں میں اختلافات نے جنم لیا۔ مصرمیں پولیس اوردیگرریاستی اداروں کاجبرختم ہوانہ افلاس کاگراف نیچے لایا جاسکا۔عوام کی مشکلات کم نہ ہوئیں۔سچ تویہ ہے کہ اس وقت مصرمیں افلاس ریکارڈبلندی پرہے۔نئی نسل اس قدر مایوس اوربیزار ہے کہ وہ بہترمستقبل کیلئےمصرکی حدودسے نکلنے کوترجیح دینے پرمجبورہے لیکن مصراورعالم عرب منتخب صدرمرسی کی حکومت کاتختہ الٹنے کی وجوہات سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ السیسی کواقتدار میں لاکرمصرکوبربادکرنے اورجمہوریت کے نام پردوعملی اورمنافقت کرنے والوں کوبھی نہیں بھولے۔

بحرین خلیج فارس کے خطے کی واحدریاست ہے،جہاں عوامی سطح پرمظاہرے ہوئے۔ان مظاہروں کوکچل دیاگیااوریہ سب کچھ محض اس لیے ہوا کہ سعودی عرب ایساچاہتاتھا۔سعودی عرب میں بھی ریاستی مشینری نے عوامی سطح پرکسی بھی نوعیت کے احتجاج کی راہ مسدودکرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔الجزائرمیں بھی عوام اٹھے مگرانہیں دبوچ لیاگیا۔مراکش میں عوام کے احتجاج کوچنداصلاحات اورعدالت کے ذریعے چند سخت اقدامات کی مدد سے کچل دیاگیا۔

لیبیامیں معاملہ تھوڑامختلف تھا۔معمرقذافی کے42سالہ اقتدارکے خلاف کھڑے ہونے والے جب اپنے مقصدمیں کامیاب ہوئے تو متوازن حکومت قائم نہ کرسکے اورجنگجو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔پچھلی دودہائیوں سے امریکااورمغرب سے جومناقشت کاعمل جاری تھا،اس کوختم کرنے کیلئے بہترین پلاننگ کے ساتھ عرب اسپرنگ کے نام پربھرپورکاروائی کی گئی جس کے نتیجے میں دنیاکے سب سے خوشحال ملک کاتیاپانچہ کرکے ایسی خانہ جنگی کاآغازکیا گیاجس کے ختم ہونے تک وہاں کے عوام کوجوسبزباغ دکھائے تھے،اس کے برعکس ان کوتباہ وبربادکردیاگیاہے گویا ایک خرابی نے ختم ہونے کی بجائے دوسری خرابی کوجنم دیدیاہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے حصے بخرے ہوگئے۔اسی طرح یمن فرقہ وارانہ بنیاد پرپیداہونے والے تنازع کی دلدل میں جا گراہے اورجنگی فریقین سے اسلحے اوربارودکی فروخت کے نام پراربوں ڈالربٹورے جاچکے ہیں اوراسرائیل کی بالادستی قائم ہو چکی ہے۔

شام وہ ملک ہے جہاں عرب دنیامیں اٹھنے والی بیداری کی لہرکی موت واقع ہوئی اورانقلابی سوچ موسمِ بہارسے گزرکرموسمِ سرمامیں داخل ہوئی۔بشار الاسدکے خلاف بھی جذبات بہت شدیدتھے۔شام کی دیواروں پرلکھ دیاگیاتھاکہ بشار!اب تمہاری باری ہے۔ زین العابدین بن علی اور حسنی مبارک کااقتدارختم ہوچکاتھا۔جن نوجوانوں نے حکومت کے خلاف بولنے کی جسارت کی تھی انہیں گرفتارکرکے بہیمانہ تشددکانشانہ بنایا گیا۔اس کے نتیجے میں ملک بھرمیں شدیداحتجاج کی لہراٹھی۔مزاحمت کادائرہ وسعت اختیار کرتاگیا۔بشارالاسد کااقتدارختم نہ کیاجاسکا۔اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ حکومتی مشینری نے بشارکا اقتداربچانے کیلئےعوام کوداؤ پرلگادیا۔کم وبیش38ہزارافرادقتل کردیے گئے۔حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی جسارت کرنے والوں سے انتہائی سختی سے نمٹاگیا۔عوام کواندازہ ہی نہیں تھاکہ اقتداربچانے کیلئےبشارالاسداپنے ہی ہم وطنوں کی زندگی داؤپرلگادے گا۔

جہاں جہاں عوامی بیداری کی لہرکوسختی سے کچلاگیاوہاں جہادیوں کوابھرنے کاموقع ملا۔اپنے پیاروں کی موت کامشاہدہ کرنے والوں کے پاس جہادیوں سے ہاتھ ملانے کے سواچارہ نہ تھا۔ریاستی مشینری انہیں کچھ بھی دینے کوتیارنہ تھی۔ایسے میں شام،لیبیا اوریمن میں جہادیوں نے ریاستی مشینری کے خلاف مورچے سنبھالے تولوگ ان کے ساتھ ہولیے۔ رابرٹ ورتھ نے اپنی کتاب ”اے ریج فارآرڈر”میں لکھاہے کہ لیبیا،یمن اورشام میں پیداہونے والی خرابیوں سے جہادیوں کوپنپنے کابھرپورموقع ملا۔اسی کے نتیجے میں داعش نے 2014میں شام اورعراق کے علاقوں میں خلافت کے احیاکااعلان کیا۔یہ علاقے رقبے میں برطانیہ کے برابرتھے۔ یادرہے کہ سابقہ امریکی خارجہ سیکرٹری ہنری کلنٹن کاانٹرویومیں داعش کی تخلیق ،تربیت اورایجنڈہ کے اعترافات کے بارے میں ہوشرباانکشافات کے بعدکسی اورثبوت کی قطعاًضرورت باقی نہیں رہتی اورجب تک اس خطے میں داعش سے کام لیناتھا،اس سے خوب کام لیاگیا،داعش کی موجودگی میں عراق سے پٹرول کی منتقلی کاکام بھی جاری رہااورشام کے مخصوص علاقوں کی تباہی کاٹارگٹ بھی پوراہوتا رہااوراب اگلے مقاصدکیلئے اسے افغانستان بھیج دیاگیاہے ۔

اس کے ساتھ ایک خاص منصونے کے تحت مزاحمت جس قدرکچلی گئی،عالمی میڈیامیں داعش کی مقبولیت کوخوب بڑھاچڑھاکر پیش کیاگیاجس کے بعد یورپ سے بھی ہزاروں نوجوان داعش سے وابستہ ہوئے،اس طرح مسلم نوجوانوں کامستقبل تاریک کرنے کے ساتھ ساتھ یورپ میں مختلف پابندیوں کے نفاذسے غیرمعمولی سخت پابندیوں کادورشروع کرنے کاموقع بھی مل گیا۔ان حالات میں عرب دنیامیں جمہوریت کے بیج بونے کی امید ختم کردی گئی۔جن ممالک میں آمرانہ اقتدارکوختم کیاگیا،وہاں جمہوری اندازسے منتخب مرسی شہیدجیسے رہنماء اوران کی جماعت کو مسلم انتہاپسندکے طورپرنمایاں کرکے اس کااپنے ایجنٹ السیسی کے ذریعے تختہ الٹ دیااورمطلق العنان حکمرانوں نے دوبارہ اقتدارسنبھال کر مغرب کو یقین دلایاکہ وہ مسلم انتہا پسندی کوختم کرکے دم لیں گے۔یوں مطلق العنان حکمرانوں کودوبارہ مضبوط ہونے کاموقع مل گیا۔

عرب دنیامیں آمروں کے خلاف تحریک اٹھی تو”ون ورلڈآرڈر”منصوبے کے تحت مغرب نے آمروں کی حمایت ترک کردی اوربعد کی صورت حال میں انہوں نے کوئی متبادل تلاش کرنے اوراس کی مدد کرنے میں خاطرخواہ دلچسپی نہ لی۔یادرہے کہ افغانستان میں جونہی سوویت یونین کوشکست ہوئی جس کے نتیجے میں اس کے چھ ٹکڑے ہوگئے اورامریکادنیاکی واحدسپرپاوربن گیا تو امریکانے افغانستان اورپاکستان کوجنگی تباہی سے نمٹنے کیلئے نہ صرف تنہاچھوڑکرواپسی کی راہ لی بلکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کوگودلیتے ہوئے اپنے انعامات کی بارش کرتے ہوئے نہ صرف اس سے سول ایٹمی معاہدہ کیابلکہ اپنے اتحادی یورپ کا بھی”ڈارلنگ”بنانے میں اہم کرداراداکیا۔اسی اثناء میں”نیوورلڈآرڈر”کے پلان کے مطابق اسلام کوسب سے بڑادشمن بھی قرار دے دیاگیا۔یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کے سب سے بڑے معاشی منصوبے”سی پیک”کوناکام بنانے کیلئے نہ صرف پاکستان پر سخت دباؤجاری ہے بلکہ بھارت کوبھی استعمال کررہاہے۔

عرب اسپرنگ کے معاملے پرامریکاکی بے رخی کایہ نتیجہ یہ برآمدہواہے کہ عرب دنیامیں آمرانہ طرزِ حکومت کے خلاف اٹھنے والی لہراب بیٹھ چکی ہے۔ شام تباہ ہوچکا ہے۔یہی حال یمن اورلیبیاکابھی ہے۔مصرمیں السیسی نے بے رحمی کے ساتھ اپنے مخالفین کوجیلوں میں نہ صرف قیدکر رکھاہے بلکہ ان پرانسان سوزتشددبھی جاری ہے اورکسی مردوزن کی کوئی تمیزروانہیں رکھی جارہی۔تیونس بہت حدتک درست حال ہی میں ہے۔ شام میں خرابی اس حدتک پھیلی کہ لاکھوں افراددیگرممالک میں پناہ لینے پرمجبورہوئے۔یمن میں آج بھی لاکھوں بچوں کوغذاکی شدید قلت کا سامناہے۔لیبیاکی سرزمین جنگجوگروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں لیبیاکے وسائل بیدردی کے ساتھ بربادہورہے ہیں۔

کیاسب کچھ ختم ہوچکاہے؟عوام انقلابی سوچ سے بیزاراورتائب ہوچکے ہیں؟ایسانہیں ہے۔عرب تجزیہ کاروں کاایک گروہ کہتاہے کہ لوگ بالکل مایوس نہیں ہوئے۔وہ اب بھی تبدیلی کے حق میں ہیں۔بیداری کی لہرنے دم نہیں توڑا۔ لوگ اب بھی اپنے حقوق کیلئے آوازبلندکرنے پریقین رکھتے ہیں اورایسا کربھی رہے ہیں۔معاملات کی شفافیت اور جمہوریت کے اصول پرمبنی اصلاحات کیلئے سوڈان،الجزائر،عراق اورلبنان میں مظاہروں کی نئی لہرشروع ہوچکی ہے۔لندن کے اسکول اوراوریئینٹل اینڈافریقن اسٹڈیزکے پروفیسر عرشین ادیب مقدم کہتے ہیں کہ اصلاحات اورجمہوریت کے بنیادی مطالبات نے اب تک دم نہیں توڑا۔اگریہ مطالبات پورے نہ ہوئے توایک بارپھربیداری کی لہرپوری عرب دنیامیں پھیلے گی اورانقلاب کے نعرے بلندہوں گے۔ اگر کوئی ریاست اس بنیادی حقیقت کوسمجھنے میں ناکام رہتی ہے تواسے بہت کچھ جھیلنااوربالآخرعوام کے مطالبات کے آگے جھکناپڑے گا۔علاالاسوانی مصرکے معروف ترین ناول نگارہیں۔ان کاکہناہے کہ انقلابی سوچ کوگلے لگاناکسی سے محبت کرنے جیساعمل ہے۔ انقلابی سوچ سے انسان بہترہوتا چلاجاتاہے۔

عرب دنیامیں تیونس واحدمثال ہے،تیونس کے’’جیسمین ریوولیوشن‘‘کی مثال دے کرسمجھایاجاتاہے کہ کس طورانقلاب کوکامیابی سے ہم کنار کیا جا سکتا ہے۔تیونس میں قتل وغارت روکنے پرتوجہ دی گئی۔سیاستدان اورعوام نے مل کرملک وقوم کوتقسیم کرنے والے معاملات کی راہ میں دیوار کھڑی کی ۔النہضہ پارٹی نے اتفاقِ رائے کی حکومت یقینی بنانے کی بھرپورکوشش کی اوراس کوشش میں کامیاب بھی رہی۔بردباری اورتحمل پسندی نے تیونس کو مصراورشام کی طرح بربادی کی طرف جانے سے روکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں