Anyone Thinker

ہے کوئی سوچنے والا؟

:Share

قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کاصرف پانچ فیصداستعمال کرنے کے بعدانسانی شعورسائنسی کمالات کے افلاک کوچھورہاہے جبکہ بقیہ95فیصد صلاحیتیں انسان سے ابھی تک پوشیدہ ہیں۔وہ علم جوسوفیصد صلاحیتوں کااحاطہ کرتا ہو،اُسے پانچ فیصدمحدود ذہن سے سمجھنا ناممکن امرہے۔واقعہ معراج ایک ایسی ہی مسلمہ حقیقت ہے لیکن جدیدعلم اس کوابھی تک مکمل سمجھ نہیں پایا ۔ معجزات وکرامات کی حقیقت مشاہدے اورفطری قوانین سے مکمل بیان نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ مافوق الفطرت ہوتے ہیں لیکن جدید سائنس آج جہاں تک پہنچ چکی ہے ایسے کاموں کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتاکہ یہ ناممکن اورغیرمعقول ومحال ہیں۔واقعہ معراج بعض لوگوں کی سمجھ میں اس لیےنہیں آتاکہ وہ کہتے ہیں کہ:ایسے فضائی سفرمیں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئےغیر معمولی وسائل وذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مداراورمرکزثقل سے نکلنے کیلئےکم ازکم40ہزارکلومیٹرفی گھنٹہ رفتارکی ضرورت ہے ۔

دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہرخلامیں ہوانہیں ہے جبکہ ہواکے بغیرانسان زندہ نہیں رہ سکتا۔تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں جوحصہ سورج کی مستقیماً روشنی کی زدمیں ہے وہاں جلادینے والی تپش ہے اورجوحصہ سورج کی روشنی سے محروم ہے وہاں مارڈالنے والی سردی ہے۔اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ (کاسمیٹک ریز)خطرناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجودکاسمیٹک ریز،الٹراوائلٹ ریزاورایکسرے شعاعیں ہیں جواگر فضائے زمین کے باہر تھوڑی مقدارمیں بھی انسانی بدن پرپڑیں توبدن کے آرگانزم کیلئے تباہ کن ہوتی ہیں(زمین پررہنے والوں کیلئےزمین کے اوپرموجودفضاکی وجہ سے ان کی تپش ختم ہو جاتی ہے)۔

ایک اورمشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچارہوجاتاہے اگرچہ تدریجاًبے وزنی کی عادت پیداکی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیرکسی تیاری اورتمہیدکے خلامیں جاپہنچیں توبے وزنی سے نمٹنابہت ہی مشکل یاناممکن ہے۔آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اوریہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دورِحاضرکے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتارہرچیزسے زیادہ ہے اوراگرکوئی شخص آسمانوں کی سیرکرناچاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتارروشنی کی رفتارسے زیادہ ہو۔ہمارامشاہدہ ہے کہ روشنی کی رفتارسے بہت کم رفتارپرزمین پرآنے والے شہابئے ہواکی رگڑ سے جل جاتے ہیں اورفضاءہی میں بھسم ہوجاتے ہیں توپھریہ کیوںکرممکن ہے کہ حضورﷺ اتناطویل سفرپلک جھپکنے میں طے کرسکیں۔

مندرجہ بالااعتراضات کی وجہ سے کچھ مخلص مسلمانوں نے یہ تاویل کرنی شروع کردی کہ معراج خواب میں ہوئی اوریہ کہ حضورﷺغنودگی کی حالت میں تھے اورپھرآنکھ لگ گئی اوریہ تمام واقعات عالم رؤیامیں آپﷺنے دیکھے یاروحانی سفردرپیش تھا۔جسم کے ساتھ اتنے زیادہ فاصلوں کولمحوں میں طے کرناان کی سمجھ سے باہرہے حالانکہ اسراءکے معنی خواب کے نہیں جسمانی طورپرایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے کیلئے ہیں۔سورہ بنی اسرائیل میں لفظ ”سبحان الذی“سے ابتداءخوداس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیرمعمولی واقعہ جوفطرت کے عام قوانین سے ہٹ کرواقع ہوا۔ربِّ ذوالجلال کواپنی قدرت کاکرشمہ دکھانا مقصود تھالہٰذا رات کے ایک قلیل حصے میں یہ عظیم الشان سفرپیش آیااوریہ وقت زمان ومکان کی فطری قیودسے آزادتھا۔واقعہ معراج اگرخواب ہوتاتواس میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔خواب میں اکثرانسان مافوق الفطرت اورمحیرالعقول باتیں دیکھتا ہی ہے۔

آئن سٹائن کانظریہ اضافت یاتھیوری آف ریلیٹویٹی دو حصوں پرمبنی ہے۔ایک حصہ” نظریہ اضافیت خصوصی کہلاتاہے جبکہ دوسراحصہ نظریہ اضافیت عمومی کے نام سے پہچاناجاتاہے اوراس کوسمجھنے کیلئےہم ایک مثال کاسہارالیں گے۔

فرض کیجئے کہ ایک ایساراکٹ بنالیاگیاہے جوروشنی کی رفتار(یعنی تین لاکھ کلومیٹرفی سکینڈ)سے ذراکم رفتارپرسفرکرسکتا ہے۔اس راکٹ پرخلاءبازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے۔راکٹ کی رفتاراتنی زیادہ ہے کہ زمین پرموجودتمام لوگ اس کے مقابلے میں بے حس وحرکت نظرآتے ہیں۔راکٹ کاعملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتارسے خلاءمیں سفرکرنےکے بعدزمین کی طرف پلٹتاہے اوراسی تیزی سے واپسی کاسفربھی کرتاہے مگرجب وہ زمین پر پہنچتے ہیں توانہیں علم ہوتاہے کہ یہاں توان کی غیرموجودگی میں ایک طویل عرصہ گزرچکاہے۔اپنے جن دوستوں کووہ لانچنگ پیڈپرخداحافظ کہہ کرگئے تھے، انہیں مرے ہوئے بھی 50برس سے زیادہ کاعرصہ ہوچکاہے اورجن بچوں کووہ غاؤں غاؤں کرتاہواچھوڑگئے تھے وہ سن رسیدہ بوڑھوں کی حیثیت سے ان کااستقبال کررہے ہیں۔وہ شدید طورپرحیران ہوتے ہیں کہ انہوں نے توسفرمیں دوسال گزارے لیکن زمین پراتنے برس کس طرح گزرگئے۔ اضافیت میں اسے”جڑواں تقاقضہ کہاجاتاہے اور اس تقاقضے کاجواب خصوصی نظریہ اضافیت “وقت میں تاخیر کے ذریعے فراہم کرتاہے۔جب کسی چیزکی رفتاربے انتہاءبڑھ جائے اورروشنی کی رفتارکے قریب پہنچنےلگے تووقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑناشروع ہوجاتاہے،یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروں کیلئےایک سکینڈ گزرا ہوتوزمینی باشندوں پراسی دوران میں کئی گھنٹے گزرگئے ہوں۔اسی مثال کاایک اوراہم پہلویہ ہے کہ وقت صرف متحرک شے کیلئےآہستہ ہوتاہے۔لہٰذااگرکوئی ساکن فردمذکورہ راکٹ میں سواراپنے کسی دوست کامنتظرہے تواس کیلئےانتظارکے لمحے طویل ہوتے چلے جائیں گے ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آکرہم نظریہ اضافیت کے ذریعے واقعہ معراج کی توجیہ میں غلطی کرجاتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب آنحضرتﷺ معراج کے سفرسے واپس آئے توحجرہ مبارک کے دروازے پرلٹکی ہوئی کنڈی اسی طرح ہل رہی تھی جیسے کہ آپ ﷺچھوڑکرگئے تھے۔گویااتنے طویل عرصے میں زمین پرایک لمحہ بھی نہیں گزرا۔اگرخصوصی نظریہ اضافیت کومدنظررکھتے ہوئے اس واقعے کی حقانیت جاننے کی کوشش کی جائے تومعلوم ہوگاکہ اصلاًزمین پر آنحضرتﷺکی غیرموجودگی میں کئی برس گزرجانے چاہئیں تھے لیکن ایسانہیں ہوا۔

نظریہ اضافیت ہی کادوسراحصہ یعنی”عمومی نظریہ اضافیت”ہمارے سوا ل کاتسلی بخش جواب دیتاہے۔عمومی نظریہ اضافیت میں آئن سٹائن نے وقت”ٹائم اورسپیس”(زمان)اورخلاء(مکان)کوایک دوسرے سے مربوط کرکے زمان ومکان کی مخلوط شکل میں پیش کیاہے اورکائنات کی اسی اندازسے منظرکشی کی ہے۔کائنات میں تین جہتیں مکانی ہیں جنہیں ہم لمبائی،چوڑائی اور اونچائی(یاموٹائی) سے تعبیرکرتےہیں،جبکہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں۔اس طرح عمومی اضافیت نے کائنات کوزمان ومکان کی ایک چادرکے طورپرپیش کیاہے۔تمام کہکشائیں،جھرمٹ،ستارے، سیارے،سیارچے اورشہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادرپرمنحصرہیں اورقدرت کی جانب سے عائدکردہ پابندیوں کے تابع ہیں۔انسان چونکہ اسی کائنات مظاہرکاباشندہ ہے لہٰذااس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں۔آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کےکسی بھی حصے کوزمان ومکان کی اس چادرمیں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیاجاسکتاہے۔اس نظریے نے انسان کواحساس دلایاہےکہ وہ کتنابے وقعت اورکس قدرمحدودہے ۔

کارل ساگان جوایک مشہورامریکی ماہرفلکیات ہے،اپنی کتاب”کائنات”(کاسموس) میں ایک فرضی مخلوق کاتصورپیش کرتاہے جوصرف دو جہتی ہے۔وہ میزکی سطح پرپڑنے والے سائے کی مانندہیں۔انہیں صرف دومکانی جہتیں ہی معلوم ہیں جن میں وہ خودوجودرکھتے ہیں یعنی لمبائی اورچوڑائی،چونکہ وہ ان ہی دوجہتوں میں محدودہیں لہٰذاوہ نہ توموٹائی یااونچائی کاادراک کرسکتے ہیں اورنہ ہی ان کے یہاں موٹائی یااونچائی کاکوئی تصورہے۔وہ صرف ایک سطح پرہی رہتے ہیں ۔ ایسی ہی کسی مخلوق سے انسان جیسی سہ جہتی مخلوق کی ملاقات ہوجاتی ہے۔راہ ورسم بڑھانے کیلئےسہ جہتی مخلوق،اس دوجہتی مخلوق کوآوازدے کرپکارتی ہے۔ اس پر دوجہتی مخلوق ڈرجاتی اورسمجھتی ہے کہ یہ آوازاس کے اپنے اندرسے آئی ہے۔سہ جہتی مخلوق،دوجہتی سطح میں داخل ہوجاتی ہے تاکہ اپنادیدارکراسکے مگر دو جہتی مخلوق کی تمام ترحسیات صرف دوجہتوں تک ہی محدود ہیں۔اس لیے وہ سہ جہتی مخلوق کے جسم کاوہی حصہ دیکھ پاتی ہے جواس سطح پرہے۔وہ مزیدخوف زدہ ہوجاتی ہے۔اس کاخوف دورکرنے کیلئےسہ جہتی مخلوق،دوجہتی مخلوق کواونچائی کی سمت اٹھالیتی ہے اوروہ اپنی دنیاوالوں کی نظرمیں“غائب”ہوجاتاہے حالانکہ وہ اپنے اصل مقام سے ذراسااوپرجاتاہے۔سہ جہتی مخلوق اسے اونچائی اورموٹائی والی چیزیں دکھاتی ہے اوربتاتی ہے کہ یہ ایک اورجہت ہے جس کامشاہدہ وہ اپنی دوجہتی دنیامیں رہتے ہوئے نہیں کرسکتاتھا۔آخرکاردوجہتی مخلوق کواس کی دنیامیں چھوڑکرسہ جہتی مخلوق رخصت ہوجاتی ہے۔اس انوکھے تجربے کے بارے میں جب یہ دوجہتی مخلوق اپنے دوستوں کوبتاتی اورکہتی ہے کہ اس نے ایک نئی جہت کاسفرکیاہے جسے اونچائی کہتے ہیں،مگراپنی دنیاکی محدودیت کے باعث وہ اپنے دوستوں کویہ سمجھانے سے قاصرہے کہ اونچائی والی جہت کس طرف ہے۔اس کے دوست اس سے کہتے ہیں کہ آرام کرواورذہن پردباؤنہ ڈالو کیونکہ ان کے خیال میں اس کادماغ خراب ہوگیاہے۔

ہم انسانوں کی کیفیت بھی دوجہتی سطح پرمحدوداس مخلوق کی مانندہے۔فرق صرف اتناہے کہ ہماری طبعی قفس(فزیکل پرزن) چہارجہتی ہے اوراسے ہم وسیع وعریض کائنات کے طورپرجانتے ہیں۔ہماری طرح کائنات میں روبہ عمل طبعی قوانین بھی ان ہی چہارجہتوں پرچلنے کے پابندہیں اوران سے باہرنہیں جاسکتے ۔یہی وجہ ہے کہ عالم بالاکی کائنات کی تفہیم ہمارے لیے ناممکن ہے اوراس جہاں دیگرکے مظاہرہمارے مشاہدات سےبالاترہیں ۔

اب ہم واپس آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔عالم دنیایعنی قابل مشاہدہ کائنات اورعالم بالایعنی ہمارے مشاہدے وادراک سے ماوراءکائنات دو الگ زمانی ومکانی چادریں ہیں۔یہ ایک دوسرے کے قریب توہوسکتی ہیں لیکن بے انتہاءقربت کے باوجودایک کائنات میں جوکچھ ہورہاہے اس کادوسری کائنات میں ہونے والے عمل پرنہ اثرپڑے گااورنہ اسے وہاں محسوس کیاجائے گا۔حضور اکرم ﷺ زمان ومکان کی کائناتی چادر کے ایک نقطے پر سے دوسری زمانی ومکانی چادر پر پہنچے اور معراج کے مشاہدات کے بعد(خواہ اس کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ رہی ہو)آنحضرتﷺزمان ومکان کی کائناتی چادرکے بالکل اسی نقطے پرواپس پہنچ گئے جہاں آپﷺمعراج سے قبل تھے اوریہ وہی نقطہ تھاجب آنحضرتﷺکودروازے کی کنڈی اسی طرح ہلتی ہوئی ملی جیسی کہ وہ چھوڑکرگئے تھے۔معراج کے واقعے میں وقت کی تاخیر کی بجائے زمان ومکان میں سفر(ٹائم ٹریول)والانظریہ زیادہ صحیح محسوس ہوتاہے۔

آجکل سائنسی دنیامیں ٹائم ٹریولزیاوقت میں سفرکاتذکرہ عام ہے۔یہ ایک دلچسپ موضوع ہے جس پربنی فلمیں عام لوگوں کیلئے سائنس فکشن ہی ہوتی ہیں ۔کی یہ کہانی سے بڑھ کربھی کچھ ہے؟کیاوقت میں سفرممکن ہے؟آئیں پہلے آسان لفظوں میں سمجھیں کہ وقت میں سفرکیاہے۔ہمیں جوکچھ نظرآتاہے وہ روشنی کا کسی چیزسے منعکس ہوکراس کاعکس ہماری آنکھ کے ذریعے اعصاب تک لے جانے کی وجہ سے ہے۔روشنی کی رفتارایک لاکھ چھیاسی ہزارمیل یا تقریباً تین لاکھ کلومیٹرفی سیکنڈہے جس کی وجہ سے ہمیں اطراف کے مناظرفوراًنظرآجاتے ہیں۔اگرکوئی چیززمین سے تین لاکھ کلومیٹردورہے تواس سے منعکس ہونے والی روشنی کی کرن ہماری آنکھوں تک ایک سیکنڈ میں پہنچے گی،اس طرح ہمیں وہ چیزایک سیکنڈپہلے والی نظرآئے گی۔ سورج کافاصلہ زمین سے 150ملین کلومیٹرہے اور اس کی کرن ہم تک تقریباًآٹھ منٹ میں پہنچتی ہے،دوسرے لفظوں میں ہمیں جو سورج نظرآتاہے وہ آٹھ منٹ پہلے کاہوتاہے۔

ٹائم ٹریول کوسمجھنے کیلئےفرض کریں،اگرہم روشنی کی دگنی رفتارسے سورج جتنے فاصلے پرموجودکسی ستارے یاسیّارے پرجاکرپلٹ آئیں توہماراجاناچارمنٹ میں اور واپسی بھی چارمنٹ میں ہوگی اورکُل سفرآٹھ منٹ میں ہوگالیکن دلچسپ بات یہ ہوگی کہ زمین پرپہنچ کرہم خوداپنے آپ کوواپسی کاسفرکرتے دیکھیں گے!وجہ اس کی یہ ہوگی کہ کیونکہ روشنی کی وہ کرنیں جو ہم سے ٹکرا کے منعکس ہوکر ہماری متحرّک تصاویرلے کرزمین کی طرف آرہی تھیں،اُن کوتوقدرتی طورپرہماری آنکھ تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگنے ہیں جبکہ ہم اُن سے پہلے(چارمنٹ میں)روشنی کی دگنی رفتارکی وجہ سے زمین پرآگئے.اس طرح ہمارے متحرّک عکس قدرتی وقت (آٹھ منٹ) میں ہماری آنکھوں میں داخل ہوں گے،جس کی وجہ سے ہم خودکودیکھ رہے ہوں گے۔یہی مستقبل یاوقت میں سفرہے،اسی کو ٹائم ٹریول کہا جاتا ہے،یعنی روشنی کی رفتارسے زیادہ تیزرفتارسفرجس میں حال پیچھے رہ جاتاہے۔جب آپﷺسفرمعراج سے واپستشریف لائے توزمین پروقت وہی تھاحالانکہ
حالانکہ آپ بہت طویل وقت یہاں سے غیر حاضررہے تھے۔ظاہریہی ہوتاہے کہ آپﷺنے روشنی کی رفتار سے بھی بہت زیادہ رفتارسے سفرکیا اسی لئے زمین پروقت نہیں گزرااورآپﷺکی واپسی ہوگئی۔قرآن میں اس کا تذکرہ اس کے کتابِ الٰہی ہونے کا ثبوت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیاایسا ممکن ہے کہ انسان وقت میں سفرکرسکے؟دیکھیے اس دور کے قابل ترین سائنسدان مسٹر ہاکنگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔
Quote: ‘I do believe in time travel. Time travel to the future. Time flows like a river and it seems as if each of us is carried relentlessly along by time’s current. But time is like a river in another way. It flows at different in different places and that is the key to travelling into the future. This idea was first proposed by Albert Einstein over 100 years ago.
میں وقت میں،مستقبل میں سفرپریقین رکھتاہوں۔وقت ہم سب کوساتھ میں لیے دریاکی طرح بہتاہے لیکن یہ ایک اورطرح سے دریا کی طرح بہتا ہے،
یہ مختلف جگہوں پہ مختلف رفتارسے بہتاہے اوریہی وقت میں سفرکی کلیدہے۔یہ تصوّر100سال پہلے آئن اسٹائن نے دیا۔

مختصریہ کہ زمان ومکان میں سفریعنی وقت کوپیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھنافی الحال تھیوری میں قابل عمل جدیدسائنسی نظریہ ہے جس پرکسی کواعتراض نہیں،بس انسان کامسئلہ اس کی علمی اورعملی استعدادہے جوکہ فی الوقت محدودہے۔یعنی اس سفرکے سائنسی لوازمات کیلئےبے حساب علم اوراستعدادکی ضرورت ہے۔اب اس طرف توجّہ دیں کہ اس کائنات کے خالق نے وقت میں سفرکی نہ صرف عملی مثال قائم کی بلکہ اپنے کلام میں اس کاتذکرہ بھی کر دیا۔یہ مثال14سوسال قبل سفرمعراج میں عملاًدکھائی گئی۔یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک سپرسائنس یاسپرعلم ہمیشہ سے کائنات میں کارفرماہے جس کی عملی استعدادلامحدودہے جوہرکام کرگزرنے کی لامحدود قوّت رکھتی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

پاک ہے وہ ذات جواپنے بندے کوراتوں رات لے گئی مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ماحول کواس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔وہی ہے سب کچھ سننے اوردیکھنے والا۔(بنی اسرائیل، آیت1)
جہاں تک معراج کی فضائی سفرکی تمام ترمشکلات کی بات ہے آج انسان علم کی قوت سے ان پرقابوحاصل کرچکاہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی
تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اورزمانے والی مشکل بھی بہت دورکےسفرسے مربوط ہے ۔ مسئلہ معراج جوکہ خوداسلام کے مطابق ایک معجزہ ہے جوکہ اللہ کی لامتناہی قدرت وطاقت کے ذریعے ممکن ہوتاہے اورانبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے۔جب انسان یہ طاقت رکھتاہے کہ سائنسی ترقی کی بنیادپر ایسی چیزیں بنالے کہ جوزمینی مرکزثقل سے باہرنکل سکتی ہیں،ایسی چیزیں تیارکرلے کہ فضائے زمین سے باہرکی ہولناک شعاعیں ان پراثرنہ کرسکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے۔جب انسان اپنی محدودقوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے توپھرکیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کرسکتا؟چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَمَاأَمْرُنَاإِلَّاوَاحِدَةٌ کَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ﴿ القمر: 50﴾

”اورہماراحکم ایساہے جیسے ایک پلک جھپک جانا”۔

سائنسدان جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی 100چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں،ان میں سے ایک نیوٹرینوہے جوتما م کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر
جاتاہے،مادہ اس کیلئےمزاحمت پیدانہیں کرتااورنہ ہی وہ کسی مادی شے سے رگڑکھاتاہے،وہ بہت چھوٹاذرہ ہے اورنہ ہی وہ رگڑسے جلتاہے کیونکہ رگڑتو مادے کی اس صورت میں پیداہوگی جبکہ وہ کم ازکم ایٹم کی کمیت کاہوگا۔۔(سرن لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے بھی23 ستمبر 2011 کو اپنے تجربات کے بعد یہ اعتراف کیاتھاکہ نیوٹرینوکی رفتارروشنی کی رفتارسے بھی زیادہ ہے)

روایت کے مطابق جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺکوبراق پرسوارکیا۔براق،برق سے نکلاہے،جس کے معنی بجلی ہیں،جس کی رفتار186000 میل فی سیکنڈ ہے ۔اگرکوئی آدمی وقت کے گھوڑے پرسوارہوجائے تووقت اس کیلئےٹھہرجاتاہے یعنی اگرآپ186000میل فی سیکنڈکی رفتارسے چلیں تووقت رک جاتاہے کیونکہ وقت کی رفتاربھی یہی ہے۔وقت گرجائےگاکیونکہ وقت اورفاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہےاس لیے جوشخص اس چوتھی جہت پر قابوپالیتاہے کائنات اس کیلئےایک نقطہ بن جاتی ہے۔وقت رک جاتاہے کیونکہ جس رفتارسے وقت چل رہاہے وہ آدمی بھی اسی رفتارسے چل رہاہے حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کوچلتاہوامحسوس کرے گالیکن کائنات اس کیلئےوہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اورفاصلے کواپنے قابومیں کر لیا ہواس کیلئےچاہے سینکڑوں برس اس حالت میں گزرجائیں لیکن وقت رکارہے گااورجوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گاوقت کی گھڑی پھرسے ٹک ٹک شروع کردے گی،وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیرکرکے آجائے،بسترگرم ہوگا،کنڈی ہل رہی ہوگی اورپانی چل رہاہوگا۔

اللہ جلّ جلالہ کی قدرتیں لاانتہاءہیں،وہ ہربات پرقادرہے کہ رات کوجب تک چاہے روکے رکھے،اگروہ روکے توکوئی اس کی ذات پاک کے سوانہیں جو دن نکال سکے:

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًاإِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُاللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍأَفَلَا تَسْمَعُونَ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَسَرْمَدًاإِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُاللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

آپ کہیے کہ بھلایہ تو بتاؤکہ اللہ تعالیٰ اگرقیامت تک تم پررات کومسلط کردے تواس کے سواکون روشنی لاسکتاہے؟آپ کہیے کہ بھلایہ توبتلاؤکہ اگراللہ چاہے توقیامت تک تم پردن ہی دن رہنے دے تواس کے سواکون رات لاسکتاہے،جس میں تم آرام پاؤتوکیاتم دیکھتے نہیں ؟”﴿ القصص:71-72﴾ تو حق تعالیٰ کو پوری قدرت ہے وہ اگر چاہے تو وقت کو روک سکتا ہے۔

ہماراروزمرہ کامشاہدہ ہے کہ ایک گھرمیں بیک وقت بلب جل رہے ہیں،پنکھے(سیلنگ فین)سے ہواصاف ہورہی ہے،ریڈیوسُناجارہا ہے،ٹیلی وژن دیکھاجا رہا ہے،ٹیلی فون پرگفتگوہورہی ہے،فریج میں کھانے کی چیزیں محفوظ کی جارہی ہیں،ائیرکنڈیشنڈسے کمرہ ٹھنڈاہورہاہے،ٹیپ ریکارڈرپرمختلف پروگرامزٹیپ ہورہے ہیں،گرائنڈرمیں مسالے پس رہے ہیں،استری سے کپڑوں کی شکنیں دور ہورہی ہیں،سی ڈی پلیئرزپرفلمیں دیکھی جارہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔کسی نے بڑھ کرمین سوئچ آف کردیا،پھرکیاتھا،لمحوں میں ہرچیز نے کام کرنابندکردیا۔معلوم ہوایہ تمام کرنٹ کی کارفرمائی تھی۔یہی حال کارخانوں کاہے۔کپڑابُنااوردیگراشیاء تیارہورہی ہیں،جیسے ہی بجلی غائب ہوئی،سب کچھ رک گیا،جونہی کرنٹ آیاہرچیزپھرسے کام کرنے لگی۔آج کاانسان ان روزمرہ کے مشاہدات کے پیشِ نظرواقعہ معراج کی روایات کی صداقت کاادراک کرسکتاہے۔روایتیں ملتی ہیں کہ سرورِکائناتﷺجب سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے توبسترکی گرمی اسی طرح باقی تھی،وضوکاپانی ہنوزبہہ رہاتھا،کنڈی ابھی ہل رہی تھی۔چودہ سوسال پہلے اس پریقین لانا ناممکنات میں سے تھا لیکن آج یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔کرنٹ کی مثال سے یہ سمجھاجاسکتاہے،اس پرقابوپالینے سے کیسے ہرکام معطل ہو سکتاہے۔اسی طرح وقت پرقابوپالیاجائے توہرچیزٹھہرجاتی ہے۔ممکن ہےمعراج کی شب نظامِ زمان و مکان معطل کردیاگیاہو،وقت رُک گیاہو۔کیا یہ خالقِ کائنات،نظامِ زمان ومکان کے مالک کیلئےکچھ مشکل تھا؟پھرجب انسانی صنعت سے خلائی جہازچاند،زہرہ اورمریخ تک پہنچ سکتے ہیں توربّانی طاقت اورلاانتہاء قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیااس کے رسولﷺشب معراج میں آسمانوں کوطے کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتے؟ہے کوئی سوچنے والا؟

یہ جدید ذہن کے عقلی اشکالات کے جواب میں معراج کی ممکنہ عقلی توجیہات تھیں کہ آج کے دورمیں ایسے معاملات کوسمجھنا مشکل نہیں اورایسے اعمال کا ہونامحال یاناممکن نہیں کہاجاسکتاورنہ مذہبی عقائدمشاہدات کانہیں ایمان باالغیب کاتقاضہ کرتے ہیں ۔یہ مسئلہ خالص یقین واعتقادکاہے،جب توحیدو رسالت مستند ذرائع سے ثابت ہوجائے توپھران پرایمان لانااوراس کی حقیقت وکیفیت کوعلمِ الہٰی کے سپر دکردیناہی عین عبادت ہے،یہ لازمی نہیں ہوتا کہ ایک مافوق الفطرت کی ہربات فطرت کے مطابق بھی ہو،اس لیے ایمان کاحکم پہلے ہے۔نبوّت،وحی اورمعجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل وقیاس سے باہرکی چیزیں ہیں جوشخص ان چیزوں کوقیاس کے تابع اوراپنی عقل وفہم پرموقوف رکھے اورکہے کہ یہ چیزجب تک عقل میں نہ آئے،میں اس کونہیں مانوں گا ،توسمجھناچاہیے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم رہا۔اللہ رب العزت ہمارے دلوں پردین پرجمائے رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

1 × 2 =