امریکاکاکھویاہواوقار؟

:Share

امریکی کانگریس بہت جلدبائیڈن کی طرف سے پیش کیے جانے والے1900ارب ڈالرکے” کووڈ بل” کی منظوری دینے والی ہے۔اس منظوری سے جوبائیڈن کایہ نعرہ کامیاب بنانے میں خاصی مددملے گی کہ’’امریکاواپس آگیاہے‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ یہ نعرہ اب تک محض ایک بڑھک ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ’’امریکاکمزورپڑچکاہے‘‘۔ وہ عالمی سطح پراپنی برتری سے بہت حد تک محروم ہوچکا ہے۔جوبائیڈن کے انتخابی مہم کے دوران امریکا کی واپسی یعنی عالمی سطح پراُسے پہلی سی برتری اور سبقت واپس دلانے کے نعرے نے بیشترامریکیوں کی توجہ پائی۔امریکاکچھ مدت سے متنازع ہے اور اس کی برتری بھی گم ہو چکی ہے۔وہ عالمی برادری میں الگ تھلگ بہت حدتک اس کی ساکھ خراب ہوگئی ہے۔جوبائیڈن امریکاکی غیرمتنازع عالمی سربراہ کی حیثیت بحال کرانے کی تگ ودَومیں مصروف ہیں۔اب امریکامیں بھی یہ بحث زورپکڑ رہی ہے کہ امریکاکوعالمی سطح پرقائدانہ کرداراداکرناچاہیے یا نہیں ۔بہت سے امریکیوں کاخیال ہے کہ کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ضرورکرنی چاہیے اورایساہو بھی سکتاہے کہ امریکااپناکھویاہوامقام دوبارہ حاصل کرلے۔

حق تویہ ہے کہ امریکاکی کامل اورغیرمتنازع برتری کادورجاچکاہے۔امریکامعاشی اورعسکری قوت کے ملاپ سے بہت کچھ کر چکاہے۔ایک زمانے تک اس کی حیثیت مست وبے لگام ہاتھی کی سی رہی ہے۔اب مشکل یہ ہے کہ طاقت کے کئی مراکزابھرکر سامنے آچکے ہیں۔چین ہی نہیں، برازیل اور انڈونیشیا جیسے ممالک بھی بہت کچھ کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ اسلامی دنیامیں ترکی ہے جواپنی کھوئی ہوئی قائدانہ حیثیت بحال کرنے کی طرف تیزی سے قدم بڑھارہاہے۔ایسے میں امریکا کیلئےباقی دنیاکواپنی مٹھی میں لینے یاجیب میں رکھنے کا دوررہانہیں۔امریکاباقی دنیا کی قیادت کرسکتاہے یانہیں،یہ سوال اہم ہے،مگراس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ امریکاکہاں کھڑاہے۔امریکی پالیسی سازجوکچھ بھی سوچتے ہیں زمینی حقیقتوں کی روشنی میں سوچتے ہیں۔کوشش کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینالازم ہے کہ امریکاباقی دنیاپراپنی برتری ثابت کرنے اوران کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے بھی یانہیں۔

ٹرمپ کے عہدِصدارت میں امریکانے اپنے اتحادیوں سے کنارہ کرلیا۔وہ تنہاآگے بڑھنے کی ذہنیت کے ساتھ سامنے آیاتورابطے کم رہ گئے اوربہت سے اتحادی شدید ناراض ہو گئے۔ایک سال کے دوران ایک بڑی تبدیلی یہ رونماہوئی کہ کوروناوبانے امریکاکو باقی دنیاکے سامنے بے نقاب کردیا۔وہ اتحادیوں اورپسمانددہ ممالک کی مددکی پوزیشن میں نہیں رہا۔کوروناوباجب تیزی سے پھیلی توامریکااوریورپ شدیددباؤمیں آگئے۔یہ افتادان کیلئے خاصی پریشانی کاباعث بنی۔امریکااوریورپ میں کوروناوائرس سے بہت بڑے پیمانے پراموات واقع ہوئیں۔کوروناکی وباپھیلی تودنیانے امریکاکی طرف دیکھاکہ وہ اس وباسے نمٹنے میں باقی دنیاکی مدد کیسے کرے گا۔کوروناوبانے خودامریکاکوبحران کی نذرکر دیا۔ایسے میں دوسروں کی مددکرنے کی گنجائش ہی کہاں رہی تھی؟

اس وقت امریکاکیلئےسب سے بڑاچیلنج پوری دنیاکے لوگوں کوکوروناوائرس سے بچاؤکی ویکسین لگانے میں مدددینے کاہے۔پس ماندہ اورترقی پذیر ممالک امریکاکی طرف دیکھ رہے ہیں۔چین نے کوروناوائرس سے نمٹنے کے حوالے سے غیرمعمولی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔اس نے کوروناوائرس کی وبا کے دوران پسماندہ ممالک کوحفاظتی تدابیراختیارکرنے میں خاصی مدددی۔ امریکاتوماسک کی پیداوارکے معاملے میں پیچھے رہ گیا۔چین نے میدان مارلیا ۔کوروناوبانے چین کوعالمی سطح پرتیزی سے اور غیرمعمولی حدتک ابھرنے کاموقع فراہم کیاہے۔امریکاکوبرابری کی بنیادپر اتحادیوں کوبھی کوروناوائرس سے بچاؤکی ویکسین لگانے کااہتمام کرناہے۔اس مدمیں وہ چارارب ڈالرخرچ کرے گا۔رواں سال کے آخرتک دوارب خوراکوں کااطلاق کرنے کاہدف ہے۔ اب تک کم آمدنی والے صرف7فیصد ممالک کوروناوائرس سے بچاؤکی ویکسین تک رسائی پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایسے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ امریکاپسماندہ دنیاکوکوروناوائرس اوردوسری بہت سے وباؤں سے بچانے میں کیا کردارادا کر سکتا ہے ۔اب امریکاکواپنی عالمی قائدکی حیثیت ثابت کرناہے۔اس موسمِ گرمامیں کوروناویکسین کے حوالے سے امریکاکی ضرورت توپوری ہوجائے گی مگربائیڈن کوڈیفنس پروڈکشن ایکٹ کے تحت کورونا ویکسین کی پیداوارمیں اضافے کی راہ ہموارکرناہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کیلئے بڑی تعداد میں کوروناویکسین موجودہو۔

دواسازادارے جانسن اینڈ جانسن نے ایک ارب خوراکیں تیارکرنے کاوعدہ کیاہے۔پسماندہ ممالک کوکوروناویکسین فراہم کرنے کے وعدے پرعمل کے بعدبھی بہت بڑے پیمانے پرویکسین محفوظ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتِحال میں الجھن اورخِفّت کاسامنانہ ہو۔فائزرویکسین دنیا کے بیشترممالک میں استعمال ہورہی ہے۔ایسی صورت میں کوروناویکسین کی پیداواربڑھے گی مگر سب سے بڑامسئلہ اب بھی لاگت کاہے۔افریقی ممالک کیلئےزیادہ لاگت کسی بھی طورموزوں نہیں۔ یہ برِاعظم کچھ زیادہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔افریقی اتحادکی تنظیم نے3ڈالرفی ویکسین کے نرخ سے خریداری پرآمادگی ظاہرکی ہے۔امریکی دواساز ادارے دیگر(بالخصوص ترقی یافتہ)ممالک سے جوکچھ وصول کررہے ہیں یہ اُس کا صرف20فیصدہے۔دنیابھرمیں ایک ارب افراد کوفوری طورپرکوروناویکسین دیناہے۔اب ٹرمپ دورکی کمپنی نوواویکس بھی میدان میں ہے۔ امریکاکواس مشن میں کامیاب ہوناہی ہے۔

اگرامریکانے کوروناویکسین کے حوالے سے اہداف حاصل کرلیے اوردنیاکواُس کی ضرورت کے مطابق ویکسین فراہم کردی تو عالمی سیاست و معیشت میں اس کی واپسی کے حوالے سے کوششیں کامیاب ہوں گی مگرخیر،امریکاکاکرداریہاں تک محدود نہیں۔ اُسے ثابت کرناہے کہ وہ دنیا بھرمیں عام آدمی کیلئے بہت کچھ کرنے کی صلاحیت وسکت کاحامل ہے۔آج بھی کئی بیماریاں ہیں جو عالمی سطح پرخرابیاں پیداکرتی رہتی ہیں۔ ہرسال کم وبیش20کروڑافراد ملیریا کاشکارہوتے ہیں۔ہلاکتوں کی تعدادبھی بڑھتی جارہی ہے۔کینسرکے موثرعلاج کے حوالے سے امریکاکچھ خاص کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکا ہے مگرخیر،یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں کیونکہ کینسرکے علاج کیلئےکئی بیماریوں سے نبردآزما ہونا پڑتاہے۔ہاں،افریقامیں ایبولاوباجیسے معاملات سے نمٹنے میں امریکاکوواضح طورپر قائدانہ کرداراداکرناہے۔اس حوالے سے امریکاکوجہاں دیگرترقی یافتہ ممالک سے مل کرکام کرناپڑے گاوہاں اس کواپنے پرانے حلیفوں سے بے وفائی ختم کرکے اخلاص کے ساتھ ان کاہاتھ تھامناہوگا۔جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپناکردار اداکرکے امریکاکے سرپردنیاکی قیادت کاتاج سجاناہوگاوگرنہ بڑے پیمانے پر مسائل پیدا کرنے والی بیماریوں پرقابو پانے کے معاملے میں وقتی طورپرسہارا تومل سکتاہے لیکن کھویاہواوقارنہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

twelve − six =