امریکا:استعماری قوت

:Share

اب معاملہ چندافرادیاکسی گروہ تک محدودنہیں رہاتھا۔جمہوریت کوزیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے وعدے کے ساتھ قائم کیے جانے والے ملک کو استعماری اورنوآبادیاتی قوت میں تبدیل کرنے کاسوچاجارہاتھا۔ملک کوحقیقی استعماری قوت میں تبدیل کرنے کی باتیں اب واشنگٹن کے ایوانوں میں بھی گونجنے لگیں۔پھریہ ہواکہ پوری کی پوری قومی سیاست اِسی ایک مقصد کے گِردگُھومنے لگی۔یہ گویا اِس امرکی طرف واضح اشارہ تھاکہ امریکاجس مقصدکے تحت معرض وجودمیں لایاگیاہے اُسے بُھلا کراب اُسی راہ پرگامزن ہوناہے جس کی منزل انتہائی طاقتور حکمرانی ہے۔

1894ءمیں ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹراورویل پلیٹ نے کہا’’میں اِس بات پرپوری طرح یقین رکھتاہوں کہ ہمیں جب بھی اپنی سلامتی یاکاروباری معاملات کی توسیع کیلئے ملک سے باہرزمین کی ضرورت پڑے توبلاتاخیراورضرورت کے مطابق زمین پرقبضہ کرلیناچاہیے ‘‘۔اورویل پلیٹ نے جوکچھ کہاوہ محض اُس کی ذاتی رائے یاخواہش کاعَکّاس نہ تھا۔امریکامیں ایک ایساگروپ پروان چڑھ چکاتھا جوانتہائی طاقتوراورریاستی قوت میں ناقابل یقین حدتک اضافہ کرکے آس پاس کی ریاستوں کوہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ دور اُفتادہ ممالک کے خلاف بھی جنگ چھیڑنے کی خواہش رکھتاتھا۔

امریکاکے قائدین نے جوکچھ سوچ رکھاتھااُسے ٹھوس حقیقت کی حیثیت سے سامنے لانے کیلئے بہت بڑے پیمانے پرایسے اقدامات بھی درکارتھے جن میں کہیں کوئی بڑی خامی یاجھول نہ ہو۔امریکاکوحقیقی استعماری قوت بنانے کیلئے لازم تھاکہ اُس کی بحری قوت غیرمعمولی ہواوراپنے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے دنیابھرمیں کہیں بھی تیزی سے کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔یہ کام کسی ایسے انسان کی نگرانی اورقیادت ہی میں ممکن بنایاجا سکتاتھاجس میں غیر معمولی جوش اور بھرپورجذبہ ہو۔امریکی بحریہ کوعالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ذمہ داری تھیوڈورروزویلٹ کوسونپی گئی اوراُنہوں نے اس ذمہ داری سے بطریق احسن عہدہ برآہونے میں کوئی کسراُٹھانہیں رکھی۔

تھیوڈور روزویلٹ نے1897ءمیں کہاتھا۔’’میں کسی بھی ملک سے اورکسی بھی سطح پرجنگ کاخیرمقدم کروں گا۔میں پورے اعتماداور احساسِ ذمہ داری سے یہ بات کہتاہوں کہ اِس ملک کوجنگ کی ضرورت ہے‘‘۔تھیوڈور روزویلٹ نے جوکچھ کہاوہ محض اُن کاذاتی بیان نہ تھابلکہ بہت حد تک ریاستی پالیسی کاآئینہ دارتھا۔روزویلٹ کوئی عام آدمی نہ تھاکہ کوئی بات کہتااور توجہ نہ دی جاتی۔اُسے اندازہ تھاکہ جنگ کوپسندکرنے کی ذہنیت سے متعلق بیان دے کر اُس نے کس کی ترجمانی کی ہے۔وہ اُسی طبقے سے تعلق رکھتے تھے جوامریکاکوکسی بھی قیمت پر اورکسی بھی حالت میں دُنیاکے طاقتورترین ملک کے روپ میں دیکھنے کاخواہش مندتھا۔جولوگ امریکاکودنیاپرحکمرانی کے قابل ریاست بنانے کی راہ پرگامزن ہوئے تھے اُنہیں اچھی طرح اندازہ تھاکہ زیادہ سے زیادہ طاقت کے حُصول کاراستہ دوسروں کی طاقت میں کمی کی طرف جاتاہے۔کوئی طاقتوراُسی وقت ہوتاہے جب کوئی اورکمزور ہوتاہے۔ہردورمیں چندممالک نے منظّم ہوکراپنی طاقت میں اضافہ اُسی وقت ممکن بنایاہے،جب بہت سے دوسرے ممالک کوشدیدکمزوری سے دوچارکیاگیااورمعاملہ دوسروں کوکمزور کرنے تک محدودنہیں۔اپنے آپ کوطاقتوررکھنے کیلئے دوسروں کامستقل کمزوررکھنابھی ناگزیرہے۔جب کسی ریاست کوزیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرناہوتواُس کی پالیسیوں میں بھی یہ مقصدواضح طورپردرآتاہے۔امریکانے ہردورمیں اپنی طاقت بڑھانے کوترجیح اورایساکرنے پرتوجہ دی ہے۔اِس کانتیجہ یہ برآمدہواہے کہ خارجہ اُموراوردفاع سے متعلق اُس کی تمام پالیسیاں کہیں نہ کہیں عسکری مہم جُوئی جاری رکھنے کوبنیادی مقصدقراردینے پرمبنی رہی ہیں۔

جولوگ امریکاکواستعماری قوت میں تبدیل کرناچاہتے تھے اُن کیلئے ناگزیرہوگیاتھاکہ اپنے عزائم کومکمل عملی شکل دینے کیلئے ایسی باتیں کُھل کرکریں جن سے لوگوں کا ذہن جنگِ آزادی کے دوران سامنے والے آئیڈیلزسے ہٹ جائے۔یہ کوئی ایسا کام نہ تھاکہ ایک آدھ کوشش سے یاراتوں رات ہوجاتا۔لوگوں کے ذہنوں کومُسخّرکرنااوراُن کی سوچ میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی لانامحنت طلب کام تھا۔امریکی قائدین نے اہلِ وطن کے ذہن تبدیل کرنے کیلئے بھی جامع اوربے داغ قسم کی منصوبہ بندی کی۔آزادی سے وابستہ تمام تصورات یاآئیڈیلزکورفتہ رفتہ ذہنوں سے دیس نکالادیاگیا اورایک ایسے امریکاکاخواب آنکھوں میں سجایاگیاجودُنیاکوبہت کچھ دیناچاہتاتھا’’تہذیب‘‘سکھاناچاہتاتھااورجس کی مساعی کے بغیریہ دُنیارہنے کے قابل نہیں ہوسکتی تھی!

جنگ کوناگزیرقراردینے پراِس قدرزوردیاجانے لگاکہ ایک عام امریکی بھی یہی سوچنے لگاکہ اقوامِ عالم میں اپنی دھاک بٹھانے اورکچھ کردکھانے کیلئے عالمی سیاست واقتصادیات کواپنی مرضی اور ضرورت کے سانچے میں ڈھالناناگزیرہےاوریہ کہ ایسا کرنے کیلئے جنگ کی راہ سے ہوکرگزرے بغیرچارہ نہیں۔روزویلٹ کودوسری اقوام پرجنگ مُسلّط کرنے کے معاملے میں زیادہ انتظار کی زحمت بھی نہیں اُٹھانا پڑی۔جس زمانے میں امریکی قائدین نے استعماری قوت بننے کے بارے میں اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناناشروع کیا تب برطانیہ،فرانس،پرتگال اوراسپین کاشمار بڑی نوآبادیاتی قوتوں میں ہوتاتھا ۔اِن یورپی ممالک نے ایشیا،افریقااورجنوبی امریکامیں بہت کچھ اپنی مُٹّھی میں کررکھاتھا۔امریکاچاہتاتھاکہ چندایک ممالک اُس کی مُٹّھی میں بھی آ جائیں۔ظاہر ہے ایساآسان تونہ تھاکہ محض سوچنے سے ہوجاتا۔امریکاکواستعماری سُپرپاورمیں تبدیل کرنے کاخواب دیکھنے والوں کوبھی اندازہ تھاکہ کسی بھی خطے میں عسکری مہم جوئی کوئی بچوں کاکھیل نہیں۔نوآبادیاتی قوت بننے کاعمل لوہے کے چنے چبانے جیساتھا۔لازم تھاکہ ہرمعاملے کے تمام پہلوؤں کاعمیق جائزہ لے کرجامع حکمتِ عملی اپنائی جائے تاکہ ناکامی کے امکان کوزیادہ سے زیادہ کم کیاجاسکے۔

پہلے مرحلے میں امریکیوں نے ایسے خطوں کی طرف دیکھناشروع کیاجہاں کمزوریاں تھیں۔یہ وہ علاقے تھے جہاں یورپی نوآبادیاتی قوتیں زیادہ مستحکم اوربہترحالت میں نہ تھیں۔اسپین کیلئے اپنی قوت برقراررکھناانتہائی دُشوارثابت ہورہاتھا۔وہ اندرونی کمزوریوں کے باعث بیرونی سطح پربھی اپنی کمزوریوں کودُنیاکی نظروں سے پوشیدہ رکھنے میں کامیاب نہیں ہوپا رہاتھا۔ایسے میں امریکیوں نے ہسپانوی نوآبادیات پرنظریں جماناشروع کردیا۔ جن ہسپانوی نوآبادیات پرامریکی قائدین کی رال ٹپکی اُن میں کیوبااورفلپائن سب سے نمایاں تھے۔یُوں امریکی قائدین نے اپنے ملک کواستعماری قوت میں تبدیل کرنے کے پہلے مرحلے میں اسپین کے خلاف جنگ چھیڑدی۔اسپین میں باغی فوجیں الگ ریاست قائم کرنے کیلئے لڑرہی تھیں۔یہ توامریکا کیلئے ’’اندھاکیاچاہے،دوآنکھیں‘‘جیسامعاملہ تھا۔امریکی قائدین نے صورت حال کافائدہ اُٹھاتے ہوئے ہسپانوی باغیوں کادامن تھام لیا۔ اسپین کے باغی امریکاکیلئے بہترین حلیف ثابت ہوئے۔جب امریکانے ہسپانوی باغیوں کوگلے لگایاتوہسپانوی حکومت اورفوج کمزورہوتی چلی گئی۔ اسپین کی نوآبادیات میں بھی آزادی کی لہراُٹھی۔اندرونی شکست وریخت اورکمزورسیاست ومعیشت کا نتیجہ یہ برآمدہواکہ اسپین تیزی سے جنگ ہار گیا۔ اِس پر دنیا کو کم ہی حیرت ہوئی۔

اسپین کوہرانے کے بعدامریکاکواپنے عزائم بے نقاب کرنے میں کچھ بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔امریکی قیادت نے اعلان کیاکہ فتح حاصل کرنے کے بعداب امریکی فوجی فلپائن سے آسانی سے نہیں ہٹیں گے۔یہ اِس بات کااعلان بھی تھاکہ امریکا نے استعماری قوت بننے کاصرف ارادہ نہیں کرلیا بلکہ اُس پرعمل کرنے کی لگن اوربھرپورسَکت بھی رکھتا ہے۔فلپائن کوزیرِنگیں کرنے کے بعدانڈیاناسے تعلق رکھنے والے سینیٹرالبرٹ بیورج نے کہا ۔’’اب فلپائن ہمیشہ کیلئے ہمارارہے گا۔ اورفلپائن سے ذرا ساآگے چین کابہت بڑابازارہے۔ہم بحرِاوقیانوس کے کنارے رہتے ہیں مگراب بحرالکاہل ہی ہمارابحر ہے۔جو طاقت بحرالکاہل پر راج کرے گی پوری دنیاپراُس کاغلبہ قائم ہوگا۔اب بحرالکاہل پراقتدارکی لگام ہمیشہ امریکاکے ہاتھ میں رہے گی‘‘۔

البرٹ بیورج نے جوکہااُس میں نیاکچھ بھی نہیں تھا۔دنیاکواندازہ توہوہی چکاتھاکہ اب امریکاعسکری مہم جوئی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ممالک کواپنے دائرۂ اثرمیں لینے کی تیاری کررہاہے۔تمام کمزورممالک کوانتہائی بُرے حالات کا سامناکرنے کیلئے تیاررہناتھا۔یُوں بھی یہ اُن کیلئے بالکل نئی صورت حال نہ تھی۔وہ استعماری قوتوں کوبھگتتے آئے تھے۔فرق صرف اِتناتھاکہ اب کے استعماری قوت کاتعلق یورپ سے نہیں تھا۔نوآبادیاتی نظام کے احیاء کی باتیں کی جانے لگیں۔واشنگٹن چونکہ دارالحکومت تھااِس لیے وہاں بھی اِن باتوں کاپھیلنا غیر فطری اورحیرت انگیزنہ تھا۔نوآبادیاتی نظام کا جوازپیش کرنے کیلئے نسل پرستی اوردیگرعِلّتوں پرمشتمل نظریات پیش کیے جانے لگے اوراِن نظریات کوواشنگٹن میں کُھلے دِل سےباہیں پسارکرقبول کیا جانے لگا۔سفیدفام امریکیوں کی ذہن سازی کی جارہی تھی۔اُنہیں ایک ایسے دورکیلئے تیارکیاجارہا تھا کہ جس میں امریکاکوطاقت کے فقیدالمثال استعمال کے ذریعے بہت کچھ الٹنااور پلٹناتھا ۔اِس معاملے میں نسل پرستی کوذہن سازی کے حوالے سے ہتھیارکے طورپراستعمال کیاگیا۔سفیدفام امریکیوں کے ذہنوں میں یہ بات پوری شِدّت سے ٹھونس دی گئی کہ حکمرانی صرف اُن کاحق ہے اورہر معاملے میں قائدانہ کردارقُدرت نے صرف اُن کے مقدرمیں لِکھ دیاہے۔

انڈیاناکے سینیٹرالبرٹ بیورج نے کہا۔’’ہم جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں اُسے دنیاپرراج کرناہے۔ہمیں یہ مشن خدانے سونپاہے اورہماری نسل اِس مشن کوکبھی نہیں بھولے گی۔اِس دنیاپرکسی کوتو،بلاشرکتِ غیرے،حکمرانی کرناتھی اِس لیے خدانے ہمیں منتخب کیاہے۔خداہی نے ہم میں پوری دنیاپرحکمرانی کرنے کی صلاحیت پیداکی ہے اورہمیں دنیاکے ہرخطے پرراج کرنے کا ہُنرسکھایاہے۔اب ہم وحشی،غیر مہذّب لوگوں پرقابوپانے کی صلاحیت اورسکت بھی رکھتے ہیں‘‘۔

البرٹ بیورج کے الفاظ میں وہی دعویٰ ہے جویہودی آج تک کرتے آئے ہیں یعنی یہ کہ وہ خداکے پسندیدہ ترین بندے ہیں اور اُنہیں اِس دارِفانی پر حکمرانی کاحق حاصل ہے۔البرٹ بیورج نے سفیدنسل کے بارے میں یُوں رائے دی ہے جیسے وہ حرفِ آخر ہو۔سفیدفام نسل کوباقی دنیاسے بہتراور افضل قراردینے کی سوچ ہی نے امریکاکے ہاتھوں اِس قدربگاڑکی راہ ہموارکی ہے۔ امریکی قائدین نے جب آزادی کے بعدذراحواس بحال کیے تو سفیدفام امریکیوں کویقین دلاناشروع کیاکہ اب اُنہیں صرف امریکا نہیں بلکہ پوری دُنیاپرراج کرناہے۔سفیدفام امریکیوں کویہ یقین دلایاگیاکہ وہ دوسری تمام نسلوں اوراقوام سے واضح طورپربہتر اورمہذّب ہیں۔یعنی یہ کہ اُنہیں باقی دنیاکوسکھاناہے کہ بہترزندگی کس طوربسرکی جاسکتی ہے اورکی جانی چاہیے ۔

البرٹ بیورج نے سفیدفام امریکیوں کو برتر نسل ہونے کا یقین دلانے کیلئے خدا کا حوالہ دینا بھی ناگزیر جانا تاکہ سفید فام امریکیوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوجائے کہ یہودی نہیں بلکہ وہ خدا کے پسندیدہ اور منتخب بندے ہیں۔ آخر میں البرٹ بیورج نے صرف سفیدفام امریکیوں کومہذّب اورباقی سب کووحشی اورغیرمہذّب قراردے کرگویاقلم توڑکررکھ دیاہے!اِن الفاظ سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ امریکی قائدین بیشتراوربالخصوص سفید فام امریکیوں کے ذہنوں میں کیاٹھونسناچاہتے تھے اور یہ کہ ایساکرنے کاکیانتیجہ برآمدہوا۔ذہنوں میں کجی پیداکرنے ہی کایہ نتیجہ برآمدہوا ہےکہ آج امریکی پالیسیوں میں خودکوبرتر سمجھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کوکمتر،جاہل اورغیرمہذّب سمجھنے کااحساس ممکنہ شِدّت کے ساتھ پایاجاتاہے۔

ایساکیونکرہوسکتاہے کہ کسی ملک یاعلاقے پربیرونی افواج حملہ کریں اورکوئی مزاحمت ہی نہ کی جائے یعنی حملہ آوروں سے مرعوب ہوکرخاموشی اختیار کی جائے۔انتہائی کمزوراقوام بھی تھوڑی بہت مزاحمت توکرتی ہی ہیں۔فلپائن کے لوگ سینیٹر البرٹ بیورج اوراُن کے معتقدین کی باتوں کوقبول کرنے کیلئے تیارنہ تھے۔وہ یہ بات کیوں گواراکرتے کہ اُن کے ملک پرحملہ کیا جائے،اُن کی سرزمین پرقبضہ کرلیاجائے؟

جب امریکی فوج نے فلپائن پرلشکرکشی کی تواُسے ویسی ہی مزاحمت کاسامناکرناپڑاجیسی مزاحمت کاسامنااسپین کی فوج کو کرناپڑاتھا۔امریکی افواج نے جب یہ دیکھاکہ مزاحمت کاروں پرقابوپانا اوراُنہیں اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالناممکن نہیں تو اُنہوں نے فلپائن میں مزاحمت کچلنے کیلئے غیرمعمولی حدتک طاقت استعمال کی۔امریکاکی یہ روش کسی بھی اعتبارسے قابل قبول قرارنہیں دی جاسکتی تھی۔اِس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرقتلِ عام ہوا، پورا ملک شدیدعدم استحکام کی نذرہوا،معیشت اورمعاشرت دونوں کاسبھی کچھ الٹ پلٹ کررہ گیااورفلپائن کے لوگوں کوبالآخرامریکاکی غیرمعمولی طاقت کے سامنے سَر جُھکاناپڑا۔امریکی فوجیوں کوحکم دیاگیاکہ سب کوجلادو،سب کومارڈالواوراُنہوں نے اِس حکم کی تعمیل کرنے میں دیرنہیں لگائی۔ جوبھی ہاتھ آیااُسے موت کے گھاٹ اتارنے میں ذرابھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی گئی۔جب فلپائن کی فوج نے ہتھیار ڈالے تب تک6لاکھ سے زائد فلپائنی مارے جاچکے تھے۔ملک تباہ ہوچکاتھا ۔معیشت کاکچھ ٹھکانہ نہ تھا،معاشرے میں ایساعدم استحکام تھاکہ کسی کوکچھ اندازہ نہیں تھاکہ اب کیاکرنا ہے،کس سمت جاناہے۔امریکیوں نے طاقت کے زُعم میں فلپائن کاسبھی کچھ بربادکرکے رکھ دیاتھا۔

ہمیں ایسی تصویریں بھی آسانی سے مل سکتی ہیں جن میں امریکی فوجی جنگ میں مارے جانے والے فلپائنی باشندوں کی ہڈیوں کے ڈھیرپرکھڑے بہت فخرسے اپنی فتح کااعلان اورمسرّت کااظہارکررہے ہیں۔سچ تویہ ہے کہ انسانی ہڈیوں کے ڈھیر پرمسرت کااظہارمحض فلپائن تک محدود نہیں رہا۔ امریکیوں نے ہردورمیں ایسے ہی تماشے دکھائے ہیں۔امریکی افواج نے اپنے خطے میں اوراُس سے باہرجہاں بھی طاقت کابھرپورمظاہرہ کیاہے،اُس کی کوشش رہی ہے کہ اہلِ جہاں کواُس کی بھرپور طاقت کابخوبی اندازہ ہوجائے۔اِس مقصد کے حُصول کیلئے کمزوراورنہتّے لوگوں کوزیادہ سے زیادہ جبرکانشانہ بنانااُس کا مطمحِ نظررہاہے۔

امریکی فوج کی طرف سے طاقت کا بے دریغ اوربے لگام استعمال بالآخرکئی ممالک کی آزادی سلب کرنے کاسبب بنا۔جوملک آزادی،حقوق اور جمہوریت کے عظیم ترین آئیڈیلزکوحقیقی شکل دینے کیلئے دُنیاکے نقشے پرنمودارہواتھااورجس کے بنیادی مقاصدمیں اِنسان کی رفعت سرِفہرست تھی اُسی نے دُنیاکانظام تہس نہس کرنے اورمعاشروں کوتلپٹ کرنے والی استعماری قوت کی شکل اختیارکرلی۔امریکی قائدین طاقت کے اظہارکاجوکھیل جاری رکھناچاہتے تھے اُس کادائرہ کچھ اپنے خطے تک محدود نہ تھا۔کیوباتوپڑوس ہی میں تھا۔اُسے دبوچنے کے بعدفلپائن کومُٹّھی میں کیاگیا۔پھرتویہ معاملہ طول پکڑتاچلاگیا۔1898ءمیں فلپائن،پورٹوریکواورگوام امریکی نوآبادی میں تبدیل ہوئے۔دوسری طرف کیوباکورسمی طورپرآزادی دی توگئی مگراِس سلسلے میں چندشرائط عائدکی گئیں۔سب سے اہم شرط یہ تھی امریکی فوج پلیٹ امینڈمنٹ کے تحت کیوباکی سرزمین پراپنااڈّاہمیشہ رکھے گی۔ساتھ ہی یہ بھی کہ امریکاکیوبامیں اپنی فوج رکھے گااوراُس کی دفاعی اورخارجہ پالیسی امریکاہی تشکیل دے گا۔

ادھرقسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ نسلی برتری کے زعم میں برترامریکاکوبالآخرافغان مجاہدین نے خاک چاٹنے پر مجبور کردیااوراب انہی طالبان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔غزہ میں جاری ظلم وستم میں جوبھیانک کرداراداکیاہے،اس کی بھی بالآخرقیمت چکانی پڑے گی۔حوثیوں کی جانب سےباب المندب میں جاری کاروائیوں کے جواب میں بھرپورجنگ کاخطرہ کھل کرسامنے آگیاہے۔حوثی جنگجوؤں کے پاس سب سے طاقتورافواج میں سے ایک ہے جس کی موجودگی سے دنیااکثرچونک جاتی ہے۔وہ ہراس بین الاقوامی بحری جہازپرمیزائل داغ دیتے ہیں جس کاانہیں امریکا،برطانیہ، اسرائیل سے تعلق نظرآتاہے،یااگرنہیں بھی نظرآتاپھربھی انہوں نے عالمی تجارت پراپنے اثرات چھوڑے ہیں۔کئی بحری جہازوں کوہزاروں میل دورتک اپنارُخ موڑناپڑرہاہے۔امریکاکی جانب سے اُن کے اڈوں پرفضائی کاروائیاں بظاہرانہیں روک نہیں سکیں بلکہ انہوں نے امریکااور برطانیہ سے جڑے اہداف کے خلاف جوابی کارروائیوں کااعلان بھی کررکھاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

2 × three =