اندلس کے بعد اب بھارت

:Share

کلنگہ کے مقام پرآخری لڑائی ہوئی،شام کے وقت وہ شمالی ہندوستان کابلاشرکت غیرے مالک تھا،وہ گھوڑے سے اترا، سامنے میدان میں ہزاروں نعشیں بکھری پڑی تھیں،اس نے زندگی میں کبھی اتنی نعشیں نہیں دیکھیں تھیں۔اس نے اپنے مشیر سے پوچھا”بھلاکتنے لوگ مارے گئے؟”مشیر نے سینہ پھلاکرجواب دیا”کم وبیش ایک لاکھ”وہ فوری نیچے بیٹھ گیا،اس کے سینے سے ہوک اٹھی اورہندوستان کاسب سے بڑابادشاہ دل پرہاتھ رکھ کرپھوٹ پھوٹ کرروپڑا۔اس کی مال ومتاع سمیٹتی فوج ٹھٹک کررہ گئی،وہ چلاچلاکرکہہ رہاتھا”اشوک تم نے ایک لاکھ لوگ ماردیئے،ان کاکیاقصور تھا؟”وہ بلک بلک کرروتارہا، آنسو تھمے تووہ نیاانسان تھا،اس نے نیام سے تلوارنکالی،دریامیں پھینکی اورہندودھرم ترک کرنے کااعلان کردیا۔
ایک
اشوک کے باپ نے16شادیاں کیں،اس کے100سےکہیں زیادہ بیٹے تھے۔اشوک پیدائشی بادشاہ تھالیکن دنیاکاسب سے بڑافاتح اوربادشاہ بننے کیلئےاس نے فتوحات کاآغازاپنے بھائیوں سے کیا۔ایک ایک کرکے سارے بھائی مروادیئے،آخرمیں بادشاہ بن گیا۔ہوسِ اقتدارزیادہ تھی اور سلطنت چھوٹی لہندا فاتح عالم بننے کیلئے گھرسے نکل کھڑاہوا۔راستے میں جوآیاکچل دیا،جس نے سراٹھایاروندڈالا۔ہزاروں لاکھوں لوگ اس کی خواہش کاایندھن بن گئے لیکن کلنگہ کی فتح،ہاں!اس خرابے نے گویااس کی کایا پلٹ دی۔اس نے سراٹھایا،سامنے اس کی فوج کھڑی تھی۔اشوک کے پاس اس وقت دنیاکی سب سے بڑی اورانتہائی جدید اوربہادرفوج اس کے ایک اشارے پرجان دینے کیلئے تیارتھی۔اس کے پاس سات لاکھ پیادے، تیرانداز اورگھڑسوارتھے۔اس نے یہ سورماچن چن کرسارے ہندوستان سے اکٹھے کئے تھے۔اس نے کلنگہ کے میدان میں ہی فوج کے خاتمے کااعلان کردیا، اس طرح سات لاکھ فوجی فی الفور بے روزگارہوگئے۔

وہ واپس پلٹا،ہندودھرم سے لاتعلقی کااعلان کیااوربدھ مذہب اختیارکرنے کااعلان کردیا۔حکومت کاری کے چنداصول وضع کئے۔یہ اصول ایک ایک شہر،ایک ایک گاؤں اورقریہ قریہ کندہ کردیئے گئے۔اس نے پورے ملک سے چن چن کرایماندار، محنتی لوگ اکٹھے کئے،انہیں”مہامیر”کا خطاب دیکرمختلف علاقوں کاوالی بنادیا۔ان لوگوں نے سب سے پہلے برہمن اور شودرکاتصورتوڑا،امیراورغریب کی تعریف ختم کی اورپھرخدمت میں جت گئے۔اشوک کی حکومت کاری کے دوبڑے اصول تھے ،خدمت اورانصاف!اس نے پوری سلطنت میں سڑکیں بنوائیں،سڑکوں کے کنارے درخت لگوائے،کنوئیں کھدوائے،درس گاہیں اورمنڈیاں بنوائیں۔مسافروں کیلئے مسافر خانے بنوائے جہاں مفت قیام کی اجازت تھی۔

وہ دنیاکاپہلابادشاہ تھاجس نے جانوروں کے ہسپتال کاتصوردیا،جس نے عورتوں کومردوں کے برابرحقوق دیئے،جویہ کہتا تھاکہ بچوں کی پرورش والدین نہیں بلکہ حکومت کافرض ہے۔جویہ سمجھتاتھاجوحکمراں اپنی عوام کوروٹی کپڑا،تعلیم اور دوانہ دے سکے اسے حکومت کاکوئی حق نہیں۔رہا انصاف تواس کی سلطنت کے آخری گاؤں میں بھی کسی کے ساتھ کوئی ظلم ہوتاتو ظالم کومعلوم ہوتاکہ دنیاکی کوئی طاقت اسے اشوک سے نہیں بچا سکتی۔کلنگہ کی فتح تک وہ صرف شمالی ہندوستان کابادشاہ تھالیکن جوں جوں اس کی خدمت اورانصاف کی شہرت پھیلی اردگردکی ریاستوں نے خودہی شامل ہونے کی درخواست کردی،یہاں تک کہ وہ اشوک سے اشوک اعظم بن گیا۔اس کی سلطنت اڑیسہ سے گلگت اوربنگال سے دکن تک پھیل گئی۔پورے ہندوستان پرحکومت کااعزازصرف تین بادشاہوں کوحاصل ہے،اشوکِ اعظم،اورنگ زیب عالمگیراورآخرمیں تاجِ برطانیہ۔ان تینوں میں اشوکِ اعظم پہلاشخص تھا۔

فوج کے بغیرحکومت کاتصوراس کاخدمت اورانصاف سے بڑاکارنامہ تھا۔اس کے پاس سات لاکھ فوج،دس ہزارجنگی رتھ اور نوہزارتربیت یافتہ ہاتھی تھے۔اشوک کے ایک حکم سے ساری فوج بے روزگارہوگئی،اس کے مشیروں نے سمجھایا،جہاں پناہ !چین کے ہن اوریونان کے طالع آزما سرحدوں پرکھڑے ہیں،ہمارے پاس فوج نہ ہوئی تووہ حملہ کردیں گے۔اشوک مسکرایااور سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا”میں سات لاکھ کی بجائے سات کروڑکی فوج تیارکروں گا۔”مشیروں نے حیرت سے دیکھا، اشوک نے کلام جاری رکھا”فوجوں کی ضرورت ان بادشاہوں کوہوتی ہے جن کے عوام ان سے خوش نہیں ہوتے،میں اپنے شہریوں کواتناسکھ،اتناچین،اتناآرام اوراتناانصاف دوں گاکہ اس ملک کابچہ بچہ اپنی سرحدوں کی جان دیکربھی حفاظت کرے گا۔ ” اشوک نے یہ سچ کردکھایا،اس کے دورمیں کوئی بیرونی حملہ آورہندوستان میں داخل ہوااورنہ ہی کسی اندرونی شورش نے سراٹھایا۔ وہ پہلابادشاہ تھاجس نے فوج کے بغیرہندوستان جیسے ملک پرحکومت کی۔اشوک کی موت کے بعد47برس تک اس کانظام قائم رہاپھرمحلاتی سازشیں شروع ہوئیں،اس کاپوتابربندرناتھ قتل ہوا،گپتاخاندان برسرِاقتدارآیا،فوج بنی اوراس کے بعد ہندوستان ایک بارپھر قتل وغارت گری کاایساشکارہواکہ آج اس ترقی یافتہ دورمیں بھی سب سے بڑی جمہوریت کاجھوٹادعویٰ کرنے کے باوجود اپنے ہی شہریوں کوجان سے مارنے کی دنیامیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

اشوک کہتاتھاخدمت اورانصاف ہوتوفوج کی ضرورت ہوتی ہے اورنہ ہی روپے پیسے کی۔میراخیال ہے اشوک کافلسفہ ادھورا تھاکیونکہ وہ اپنی اس قدربڑی اورفلاحی ریاست میں آرایس ایس اوربی جے پی جیسی فرقہ پرست تنظیموں کااحیاء نہ کرسکا جواس کے جاانے کے بعداس سرزمین پر صرف برہمن ہندوؤں کواونچی ذات قراردیکرسفیدوسیاہ کامالک قرارنہ دیکرایساخلاء چھوڑگیا جس کی تکمیل کیلئے آج کے ہندوپرست مودی اوراس کے ہمنواؤں کواشوکاکاجانشین بننے کی بجائےچانکیہ کی اولاد بننازیادہ پسندہے۔

اکیسویں صدی میں دنیاجیسے جیسے گلوبلائزہوتی گئی اورمادی ترقی بڑھتی گئی توساتھ ہی انسانی حقوق کےخدشات نےبھی عالمی جگہ لے لی جس میں با لخصوص ناپاک سیاسی عزائم کی تکمیل اورقومی مفادکی خاطرانسان نسل پرستانہ وشدت پسندانہ نظریات کی بھینٹ چڑھ گیااورنسلی بنیادوں پر انسانی استحصال ونسل کشی اورانسانی حقوق کی پامالی میں مودی سرکارنے ایسابھیانک ریکارڈقائم کیاہے کہ وراثت میں آئندہ نسلوں کیلئےتاریخی شرمندگی کاخاصاسامان چھوڑکرجائی گی۔ انتہاء پسندانہ نظریات کی حامل شخصیات واربابِ اقتدارنے انسان دشمنی کوفروغ دیتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی یہاں تک کہ عصرِحاضر کےنام نہادداعی امن ممالک اورجمہوریت پسندریاستیں انسانیت سے ایسا برتاؤدیکھ کر بھی بالکل خفت محسوس نہیں کرتیں اوریہ تلخ حقیقت ہے کہ اب عالمی ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جمہوریت کاخودساختہ علمبرداراورانسانی حقوق پرمصنوعی راگ الاپنے والابھارت اب عدمِ تحفظ کے لحاظ سے صفِ اول میں قراردیاگیاہے۔

اقلیتوں کےحقوق ہوں یابھارت میں دیگربسنے والوں کےحقوق،ہندوبنیااپنے نسل پرستانہ اورانتہاء پسندانہ نظریات کی تقلیدمیں انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہاہے-اسی ضمن میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھارت میں بالخصوص مسلمانوں پر جومظالم ڈھائے جارہے ہیں اوران کی شناخت ختم کرنے کیلئے جوناپاک اقدامات کئے جارہے ہیں اس سے یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے بھارت ایک اوراندلس بننے جارہاہے۔ اشوکاکی روح تویقیناًتڑپتی ہوگی جب بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کےحقوق کی پامالی،عدمِ تحفظ اورنام نہادداعی امن ریاست (بھارت)کی انسان دشمنی وانتہاءپسندی دنیاکے سامنے عیاں ہوتی چلی جارہی ہے جس سےبخوبی اندازہ ہوتاہے کہ سیکولربھارت ہندونیشنلزم اورہندوبالادستی کوفروغ دینے کی خاطر کس قدرمکارہتھکنڈے اپنارہاہے۔

جب سے انڈیااوراسرائیل میں محبت کی پینگیں بڑھی ہیں اورامریکاسرکارکی پشت پناہی سے بے لگام ہواہے،اس نے بھی موساد کی طرح اپنی خفیہ ایجنسی”را”کوبیرونی ممالک میں اپنے مخالفین کوقتل کرنے کاسسلہ شروع کردیاہے۔ اس سلسلے میں کینیڈامیں سکھ رہنماہردیپ سنگھ نجرکے قتل اورکینیڈاکے وزیراعظم جسٹن ٹروڈوکی جانب سے ممکنہ طورپر انڈین اداروں کے ملوث ہونے کے الزام کے بعد،دونوں ملکوں میں سفارتی کشیدگی اپنی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے۔ نجر سنگھ کے قتل کے بعدسکھوں نے دنیابھرمیں احتجاج کیاہے۔مظاہرے صرف کینیڈا میں ہی نہیں ہوئے بلکہ دنیاکے مختلف ممالک میں جہاں سکھ برادری کی تھوڑی بہت تعدادموجودہے،وہاں خالصتان تحریک کے رہنماہردیپ سنگھ نجرکے قتل پرغم وغصہ کا اظہارکیاگیا۔اب ایسی ہی صدائیں امریکاسے آناشرع ہوگئیں ہیں اورامریکانے بھی کھلے لفظوں نہ صرف کینیڈاکی حمائت کی ہے بلکہ اپنے ہاں بھی”را”کی کاروائیوں کونکیل ڈالنے کوکہاہے۔خودامریکی سیاستدانوں نے برملایہ کہناشروع کردیاہے کہ خطے میں تمام امریکی انڈوں کوانڈین ٹوکری میں رکھناکس قدرخطرناک ہوسکتاہے۔

فرانسسکوکیپوٹرٹی جواقوامِ متحدہ میں امتیازی(جیسے نسلی،لسانی،مذہبی)کی روک تھام اوراقلیتوں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے سب کمیشن کے خصوصی رپورٹررہ چکے ہیں-1977ءمیں انہوں نے اقلیت کی یہ تعریف پیش کی کہ:ایساگروہ جوکسی ریاست میں اس کی کل آبادی کی نسبت عددی طورپر کم ترہو،غیرغلبہ کی پوزیشن میں ہو،جس کے افرادریاست کے شہری ہوتے ہوئے ریاست کی باقی آبادی کی نسبت مختلف نسلی،مذہبی یالسانی خصوصیات رکھتے ہوں اوراگرصرف اپنی ثقافت، روایات،مذہب یازبان کے تحفط کیلئے واضح طورپریکجہتی کااحساس ظاہرکریں۔

معروف امریکی مصنف جوئل آرپروس اقلیت کی جداگانہ حیثیت پربحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اقلیتی گروہ کی جداگانہ حیثیت سے مرادیہ ہے کہ معاشرے میں اس گروہ کے غلبے کی کمی ہو-ضروری نہیں کہ اس گروہ کی حیثیت کل آبادی کے نصف سے بھی کم ہو۔اگراقلیتوں کی بات کی جائے تواس وقت بھارت میں مسلمان،عیسائی،سکھ اوربدھ مت جیسی مذہبی اقلیتیں بستی ہیں جواپنے جان ومال کے تحفظ اورمذہبی آزادی کیلئے ہندوبنیے کے رحم وکرم پرہیں۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق بھارت میں اقلیتوں کی تعداد(مسلم18.2فیصد)،(عیسائی2.3فیصد) ،(سکھ 1.7فیصد)اور(بدھ مت0.7فیصد)ہیں۔

تاریخی تناظرمیں دیکھاجائے توتقسیم ہند(1947ء)کے بعدبھارتی قیادت نے اقلیتوں کااعتمادجیتنے کیلئے وقتی طورنعرہ بلندکیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ریاست ہوگی جس میں ہندو، مسلمانوں ، سکھوں،عیسائیوں اوردیگرمذاہب کے لوگوں کویکساں حقوق حاصل ہوں گےلیکن ایساعملی طور پر ہندستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوااوراقلیتوں کوہمیشہ انتہاءپسندہندوؤں کی طرف سے ظلم وجبراورامتیازی سلوک کاسامناکرناپڑااورانہیں مجبور کیا گیاکہ وہ ہندوبالادستی قبول کرلیں-ایسے ہی جیسے تاریخ میں اندلس کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیاگیااورانہیں مجبورکیاگیاکہ وہ تین میں سے ایک آپشن قبول کرلیں(1)عیسائیت قبول کر لیں(2) ہجرت کرجائیں(3)قتلِ عام کیلئے تیارہوجائیں-موجودہ ہندوستان میں بھی اقلیتیں بالخصوص مسلمان کچھ اسی طرح کی صورتحال سے دوچاراپنے حقوق سے محروم بے دست وپازندگی گزارنے پرمجبورہیں۔بھارت میں اقلیتوں کومذہبی آزادی کا نہ ملنا،حقِ رائے دہی کانہ ملنا،انصاف کانہ ملنا،بنیادی حقوق(صحت،تعلیم، رہن سہن)سے محرومی،غربت،بیروزگاری، تشدد، دہشتگردی وانتہاءپسندی جیسے مسائل کاسامناہے جس کے خاتمے کیلئے بھارتی حکومت انتہائی غیر سنجیدہ،نسلی تعصب کی بناپراقلیتوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کررہی ہے اورخودکواشوکاکی وارث بھی کہہ رہی ہے۔

معروف بھارتی مصنفہ ارون دتی رائے نے23دسمبر2015ءکوبمبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ بھارت میں اقلیتیں خوف کے ماحول میں رہ رہی ہیں اورتشدد پرستی کے بڑھتے ہوئے جارحانہ روّیوں کو’’عدم روداری‘‘کے چھوٹے سے نام میں موسوم نہیں کیاجا سکتا ۔یونائیٹڈسٹیٹ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن(یوایس سی آرآئی ایف) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق آخری عشرے سے ہندوقومیت پسند گروہوں کی کثیرالجہتی مہم کی وجہ سے اقلیتوں کے حالات بگڑگئے ہیں-(مذہبی اقلیتیں)تشدداورغنڈہ گری سے لیکر، سیاسی طاقت کے خاتمے،حقِ رائے دہی سے محرومی اوراختلافی پن جیسے مسائل کاسامناکررہی ہیں مثلاًمزید اقلیتوں کوہندوبالادستی قبول کرنے کیلئے مجبورکیاجانابھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے-اطلاعات کے مطابق دسمبر2014ءمیں آگرہ آگرہ(اُترپردیش)میں عوامی اجتماع میں سینکڑوں مسلمان جبری طورپرہندوازم میں تبدیل کیے گئے اورآج بھی مذہبی تبدیلی کیلئےتشدد کایہ ناروا سلوک جاری ہے۔

بھارت میں اقلیتوں کیلئے باقاعدہ قوانین موجودہونے کے باجودوہ اپنے حقوق سے محروم ہیں جس کی بڑی وجہ اس قانون کابرائے نام(لاگونہ ہونا) ہے۔مثلاًاقلیتوں کے تعلیمی حق سے متعلق انڈین آئین آرٹیکل30کے مطابق”ریاست تمام اقلیتوں کوخواہ وہ مذہبی ہوں یالسانی،انہیں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کاحق حاصل ہوگااورریاست تعلیمی اداروں کوامداد فراہم کرنے میں کسی بھی اقلیت کے زیرِانتظام تعلیمی ادارے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کرے گی”۔لیکن بدقسمتی سے اس کے باوجوداقلیتوں کے بیشترافراداپنے تعلیمی حق سے محروم ناخواندگی کی زندگی گزاررہے ہیں-اگربالفرض کہیں تعلیم دی بھی جاتی ہے توصرف ہندومت کی اورپورانصابِ تعلیم ہندومذہب کے گردگھومتاہے جوفی الحقیقت اقلیتوں(بالخصوص مسلمانوں کی)تہذیب وثقافت ختم کرنے کیلئےایک چال ہے-یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان تیارہوجائیں ان کے آثار مٹائے جارہے ہیں جس طرح تاریخ میں مسلمانانِ اندلس کے ساتھ کیاگیابعین وہی بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیاجارہاہے۔

اسی طرح اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی اوران کیلئے غیرمؤثرقانونی نظام کاغیرمبہم اظہارہمیں درج ذیل سطورمیں بھی ملتاہے۔
بھارتی حکومت اکثرقومی اورریاستی دونوں سطح پرمذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے کیے گئے آئینی وعدوں کونظراندازکرتی ہے-قومی اور ریاستی قوانین اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کیلئے کھلم کھلا استعمال ہوتے ہیں۔ بی جے پی،کانگریس پارٹی اور(بھارتی عوامی پارٹی) کی زیرِ قیادت حکومتوں کے تحت مذہبی اقلیتی برادریوں اوردلتوں کو امتیازاورظلم وستم کاسامناہے جس کی وجہ حدسے زیادہ توسیع یاغیرواضح قوانین، غیر مؤثرفوجداری نظامِ انصاف اورقانونی تسلسل کافقدان ہے-بالخصوص2014ءسے،نفرت انگیز جرائم،سماجی بائیکاٹ،حملوں اورجبری تبدیلی میں خطرناک حدتک اضافہ ہواہے۔

مودی سرکاکی تعصبانہ پالیسیوں کے باعث اس ریاست کے آزاداورخودمختارادارے بھی اقلیتوں کے خلاف متعصب ہوگئے ہیں اوریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ مودی سرکارفاشسٹ ہٹلراور مسولینی سے بھی بدترنظام کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔مودی سرکار اوران کے وزراء بالکل ہٹلرکی مانند ہیں-اپنی پارٹی کے منشوراورملک کے دستوراورجمہوریت سے ان کا دوردورتک کوئی واسطہ نہیں-ملک میں بسنے والی اقلیتوں سے وہ ہٹلرجیساسلوک کرتے ہیں،جس طرح ہٹلرصرف جرمن قوم کواعلیٰ سمجھتا تھااسی طریقے سے مودی سرکارہندؤں کواعلیٰ سمجھتے ہوئے اقلیتوں پراوچھے،غیراخلاقی اورغیر انسانی حربے استعمال کررہی ہے۔

آپ شاہراہِ ریشم پرسفرکریں آپ کوراستے میں آج بھی اشوک کے کتبے نظرآئیں گے۔ہزاروں سال بعدآج بھی ہندوستان میں اشوک کے کھدوائے کنوئیں اورسڑکیں موجودہیں۔یہ سڑکیں، یہ کنوئیں اوریہ کتبے آج بھی چیخ چیخ کرمودی سرکارکے متعصب چہرے پرزناٹے دارتھپڑ رسید کررہے ہیں۔یہ درست ہے لیکن جن پراحسان کئےگئے ہوں ان کی نسلیں تک اپنے محسنوں کویادرکھتی ہیں۔اہل سندھ آج بھی محمدبن قاسم کی یاد مناتے ہیں اوریہ آج بھی محمدبن قاسم کی تصویرکی طرف پشت نہیں کرتی۔لیکن خودکوانسانیت کی چیمپئن کہلانے والوں کے ملک امریکاکایہ حال ہے کہ وہاں ورمونٹ کے شہربرلنگٹن میں 24نومبر2023ءکو”امریکن تھینکس گیونگ ویک اینڈ”پرتین فلسطینی نژادامریکی طالب علموں (شام آوارتانی،کنان عبدالحمید اور تحسین علی احمد)کو گولی مارکرشہیدکردیاگیاہے۔تعصب کایہ عالم ہے کہ اوبامادورکے سابق مشیرسٹیورٹ سیلڈووٹز نے سوشل میڈیاپروائرل ویڈیوزمیں اپنی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے واشگاف الفاظ مسلم مخالف نفرت انگیزگفتگو کرتے ہوئے کہا:اگرہم نے چارہزارفلسطینی بچوں کاقتل کیاتویہ کافی نہیں۔

اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کودکھائیں جائیں اورپھرجس نے ذرہ برابرنیکی کی ہوگی وہ اس کودیکھ لے گااورجس نے ذرہ برابربدی کی ہوگی،وہ اس کودیکھ لے گا۔” محسنوں کوکوئی نہیں بھولتا،صرف ہٹلرمسولینی،وائٹ ہاؤس کے مکین،نیتن یاہواوراب مودی کے نام ایسے ہیں جن کوتاریخ نفرت کیلئے محفوظ رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں