Addiction To Power

اقتدارکانشہ

:Share

کس قدرظلم ہواکہ ہماری سینیٹ کے موجودہ انتہائی غریب ومفلس چیرمین سنجرانی اوران کے چندساتھیوں کی تاحیات مراعات کا منطورشدہ بل مسترد کر دیاگیاجس کیلئے انہوں نے جماعت اسلامی کے سنیٹرمشتاق کی زبان بندی کیلئے حددرجہ ناکام کوشش کی لیکن میرے رب کے فیصلے ہیں کہ جس کو چاہے عزت دے اورجس کو چاہے ذلیل ورسواکردے۔میں پانچ دہائیوں سے مغربی نظام میں زندگی کے شب وروزگزاررہاہوں لیکن ایک لمحہ کیلئے بھی پاکستان اوجھل نہیں ہوسکا۔اس حالیہ واقعہ کے بعدنجانے کیوں مجھے برطانیہ کا تاریخی کردارکرامویل بہت شدت سے یادآیاجوایسے ہی حالات کی پیداوار تھاجس سے آج پاکستان گزررہاہے لیکن صدمہ اس بات کاہے کہ ہم تاریخ سے کبھی بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔

لوگ حیران تھے،حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا،ایسے کیسے ممکن ہے۔یہ سب توخاموش،مرنجامرنج اورآرام کی زندگی گزارنے والے ہیں۔انہیں توآسائش سے پیارہے۔قلم اورکتاب سے ان کی دوستی ہے۔ان لوگوں نےہتھیارکیسے اٹھالئے اوریہ لوگ بلا کے سپاہی بھی ثابت ہورہے ہیں۔مورخ لکھتے ہیں کہ اس فوج نے جوبرطانیہ کے ذہین،پڑھے لکھے اورسوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں پرمشتمل تھی،یوں فتح ونصرت کے جھنڈے گاڑے کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔مقابلے پرتاج برطانیہ کی مستقل فوج تھی لیکن یہ لوگ جس جانب بڑھےفتح ان کامقدرہوتی اورجس جتھے سے ٹکراتےاسے پاش پاش کرکے رکھ دیتے۔انہیں بہت سے محاذوں کاسامناتھامگران کے قدم نہ ڈگمگائے۔یہ لوگ کون تھے جنہیں آلیورکرامویل کے فوجی کہاجاتا ہے ۔ یہ کیسے وجودمیں آئے اورانہیں یوں ہتھیاراٹھانے پرکس نے مجبورکیا۔لیکن یہ بات طے ہے کہ1647ءسے1649ءتک کے دوسالوں میں انہوں نے ایک تاریخ مرتب کردی۔برطانیہ کارخ ایسے موڑدیاکہ پھر اس کے بعدنہ بادشاہ نے کبھی سوچاکہ مطلق العنان بن کرجوچاہے کرسکتاہے ،نہ فوج نے لوگوں کےجذبات کے مقابلےمیں کسی آمریت پسندبادشاہ کاساتھ دیا اورنہ پارلیمنٹ نےتصورکیاکہ چونکہ وہ اب منتخب ہوکرآچکے ہیں توجو چاہےکرلیں ،بادشاہ کی آمریت کوتسلیم کرلیں یا عوام کی مرضی کے خلاف کوئی قانون منظور کر لیں۔

چارلس اول ان بادشاہوں میں سے ایک تھاجوآئین،قانون اورپارلیمنٹ کوکھلوناسمجھتاتھا۔وہ صرف25سال کی عمرمیں برطانیہ کے تخت پربیٹھا۔اس نےتاج پر سرفرازہونے کے صرف3سال کے اندراندرپارلیمنٹ توڑدی۔اس لئے پارلیمنٹ نے اس کے سامنے تین عجیب وغریب مطالبات رکھ دئیے یہ کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیرکوئی ٹیکس نہیں لگائے گا۔جب زمانہ امن ہوتوکسی فوجی کوسول عہدے پرتعینات نہیں کیاجائےگااورنہ ہی اپنا مقصدحاصل کرنے کیلئےفوجی عدالتیں لگائی جائیں گی اورنہ ہی انہیں شہروں میں امن عامہ بحال کرنے کیلئےبھیجاجائے گا۔فوج کسی کوبغیرثبوت اورواضح الزامات کے بغیرگرفتار نہیں کرسکے گی۔بادشاہ نےپارلیمنٹ توڑدی اور پھر11سال تک بغیرپارلیمنٹ کے راج کرتارہا۔اسے اس کانشہ ساہوگیاتھالیکن عوامی دباؤکے تحت اسے دوبارہ انتخابات کراناپڑے اور1640ءمیں آلیورکرامویل اس پارلیمنٹ کارکن منتخب ہوا۔اس پارلیمنٹ کوبھی جب بادشاہ کی آمریت سے لڑنا پڑاتوصرف تین ہفتوں بعد انہیں گھربھجوادیاگیااوراسی سال نئے انتخابات ہوئے۔کرامویل دوبارہ منتخب ہوکرپارلیمنٹ میں جاپہنچا۔

اس دفعہ پارلیمنٹ کےارکان ذراڈرے ڈرے اورسہمےسہمےتھے۔وہ چاہتےتھے کہ کسی طرح مفاہمت سے کچھ لواورکچھ دوکے اصول پرمعاملات کو آگے بڑھایا جائے اورجمہوریت کی گاڑی کوچلنےدیاجائےلیکن لوگ توبادشاہ سے نفرت کرتےتھے۔انہوں نے توان ارکان کواس لئے نہیں بھیجاتھاکہ ان کے جذبات کا سوداکردیاجائے۔بادشاہ کے سامنے مختلف مواقع پرمختلف شرائط رکھی جاتی رہیں۔ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ فوج کوپارلیمنٹ کے ماتحت کر دیاجائے۔یہ شرط اس بادشاہ کوکیسے منظورہوسکتی تھی جواسی فوج کے بل بوتے پرحکمرانی کررہاتھا۔لوگ اب روزروزکےمذاکرات سے تنگ آچکے تھے۔ان کے نزدیک پارلیمنٹ کے ارکان اپنے مفادات کی خاطران کے جذبات سے کھیل رہے تھے۔انہیں یہ منافقت پسندنہ تھی۔ ایسے میں آلیور کرامویل جس کا کوئی فوجی تجربہ نہ تھاجوصرف گاؤں کی سکیورٹی فورس میں چندسال ملازم رہاتھااس نے ایک فوج ترتیب دیناشروع کردی جو بادشاہ کی آمریت اورپارلیمنٹ کی منافقت سے بیک وقت لڑے۔معرکے شروع ہوگئے۔بادشاہ کی فوج ہرمحاذپرشکست کھانے لگی۔ کرامویل کی فوج میں ذہین ،باصلاحیت اورپڑھے لکھے افرادتھے۔ان میں حالات کی وسعت کرنے کاایک مذہبی جذبہ بھی عودکرآیا۔ کرامویل کی تقریروں میں وہ جوش وجذبہ تھاکہ آگ لگادیتا۔وہ اپنے آپ کواللہ کاسپاہی تصورکرتاتھا۔دوسری جانب پارلیمنٹ کے ارکان سسٹم بچانے کیلئےمذاکرات کررہے تھے۔لوگوں کوان مذاکرات سے نفرت ہونے لگی۔وہ انہیں فراڈ،دھوکادہی اوردل کا بہلاوا سمجھتے۔

دسمبر1648ءکوکرامویل کی اس عوامی فوجی کے ایک جتھے نے ان تمام ارکان پارلیمنٹ کامحاصرہ کرلیا۔وہ مزیدمذاکرات کے حامی تھے۔اس محاصرے کی قیادت تھامس پرائڈکررہاتھا۔اس واقعے کوتاریخ میں پرائڈسپرج کے نام سے جاناجاتاہے۔کرامویل اس وقت شمال میں بادشاہ کی وفادارفوجوں سے جنگ میں مصروف تھا۔اگلے دن وہ لندن پہنچااوران ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ہوگیاجو بادشاہ پرمقدمہ چلاکراسے منطقی انجام تک پہنچاناچاہتےتھے۔ اسے یقین تھاکہ بادشاہ کی موت ہی انگلینڈمیں خانہ جنگی کوختم کر سکتی ہے۔ لوگ اب نہ ارکان پارلیمنٹ پربھروسہ کرتے تھے اورنہ کوئی مذاکراتی حل چاہتے تھے۔بادشاہ پرمقدمہ چلایاگیا۔59 ممبران کی عدالت بیٹھی جس نے اسے مجرم گردانتے ہوئے ڈیتھ وارنٹ پردستخط کردئیے۔30جنوری 1649ء کو مطلق العنان بادشاہ کاسرتیزدھارلہراتے ہوئے چھرے کی زدپرتھا۔

یہ دنیاکی تاریخ کاانوکھااورعلیحدہ ورق نہیں ہے۔ایسی مثالیں آپ کوجگہ جگہ مل جائیں گی۔جب لوگ اپنے جذبات اوراحساس سے مذاق صرف ایک حدتک برداشت کرتے ہیں وہ اپنی مرضی کے خلاف قانون سازی کی اجازت اگرایک آمرکونہیں دیتے توپھراسے بھی نہیں دیتے جسے انہوں نے ووٹوں سے منتخب کرکے بھیجاہوتاہے۔اقتدارکانشہ ایسی چیزہے کہ کبھی بادشاہ کویہ گمان ہونے لگتاہے کہ وہ بالادست ہے اورکبھی پارلیمنٹ یہ یقین کرلیتی ہے کہ وہ بالادست ہے۔بالادست توعوام ہوتی ہے۔نقارۂ خلق ہی آوازخدا ہوتاہے۔جواس نقارے پراپنے کان بندکرلیتے ہیں ان کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی کرامویل ضرورنکلتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

1 + two =