Abode of the water of life

آبِ حیات کی تلاش

:Share

مریدنے مرشدکواچھے موڈمیں دیکھاتوباادب ہوکرگویاہوا”میرے مرشدمجھے عرقِ حیات کے متعلق توکچھ بتائیے، کیااسی کوآبِ حیات کہتے ہیں؟اور اس پانی کاچشمہ پھوٹتاکہاں سے ہے؟؟؟مرشدنے گہری نظرسے مریدکی طرف دیکھااورسوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیرگزرگئی تومریدکویوں لگاجیسے اس نے اپنے مرشدکوناراض کردیا ہے۔وہ پھرڈرتے ڈرتے بولا:حضرت جی! اگر میرے سوال سے آپ کوکوفت ہوئی ہے تومیں معافی کاطلبگارہوں۔ ایک لمبی ہو کے بعدمرشدنرمی سے بولا،نہیں میں ناراض تونہیں ہوامگرفکرمندضرورہوں۔میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیاتھاتوہمارے درمیان12سال کی طویل جدائی پڑگئی،میں سوچ یہ رہاتھاکہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کرسکوں گابھی یانہیں،اس دوران اگرمیری اجل آگئی توکہیں تمہاری محنت ضائع نہ ہوجائے بیٹا،یہ عرقِ حیات یاآبِ حیات”یہ الفاط میں نہیں سمجھایاجاسکتا”سمجھاؤتوسمجھ نہیں آتا!اس لئے میرا مرشدتوآب حیات کے چشمے کے کنارے کھڑاکرکے اس میں انگلی ڈبوکردکھایاکرتاتھاکہ یہ ہے عرقِ حیات۔میں نے یہ سوال اپنے مرشدسے ان کی جوانی میں پوچھ لیاتھا”۔

تم نے بہت دیرکردی ہے خیراللہ بہترکرے گا۔میں تمہیں ایک پودادکھاتاہوں،اس پودے کے پھول کاعرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرناہے اورجب یہ شیشی بھرجائے تب میرے پاس واپس آنا،یہ عرق ہی ہماری آنکھوں میں عرقِ حیات کودیکھنے کی صلاحیت پیداکرے گا،یادرکھناایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتاہے اوراگرشیشی فوراً بندنہ کروتوفوراً اڑ بھی جاتاہےاوریہ پوداجنگل میں کہیں کہیں ملتاہے۔اس کے بعدمرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مریدکوپکڑائی اوراسے ڈھیرساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا!مریدبہت پرجوش تھا،آبِ حیات کامعمہ بس حل ہونے کوتھااوراسے آبِ حیات کودیکھنے اورچھونے کاموقع ملے گا۔

مگرایک تواس پودے کوڈھونڈناایک جوکھم تھا،ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اورایک پھول میں ایک قطرہ،الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں،جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کیلئے ایک نئی زندگی کی نویدتھا، ایک طرف وہ پھولے نہیں سمارہاتھاتودوسری طرف اسے بار باریہ خیال ستارہاتھاکہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ہوگئے تواس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات کاچشمہ توصرف مرشدکوہی پتہ تھا!وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتاتوکبھی دوڑتااپنے مرشدکے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا۔مرشدکے ڈیرے پہ نظر پڑتے ہی بیتابی میں دورسے چلایا:مرشد،میرے مرشد،دیکھیں!میں اپنی تپسیامیں کامیاب رہا،میں بوتل بھرلایاہوں۔اس کی آوازپرمرشد اپنے کٹیاسے باہرنکلا،12سالوں نے اس کی کمردھری کردی تھی مگروہ بھی مریدکی کامیابی پر خوش نظرآرہاتھا ۔

اپنے مرشدپرنظرپڑناتھی کہ مریدبے اختیاردوڑپڑااور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی،ٹیڑھے میڑھے رستے پرقدم کاسٹکناتھا کہ مریدلڑکھڑایااور عرق سے بھری شیشی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرٹھاہ سے پتھرپرلگی اورچوراچورا ہوگئی،عرق کے کچھ چھینٹے مرشدکے پاؤں پرپڑے باقی کوجھٹ زمین نگل گئی۔بے اختیارمریدکی چیخ نکل گئی “میرے مرشدمیں لٹ گیا،میں بربادہوگیا، میری محنت ضائع ہوگئی،میرےبارہ سال کی مشقت مٹی بن گئی، میرے مرشد میں تباہ ہوگیا”۔مرشداپنے مریدکوچھوڑکراندرگیا،ایک اورچھوٹی سی شیشی لایاجس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسوبھرناشروع کردیئے اوروہ شیشی بھرلی!!اب مریدرورہاتھاتومرشدہنس رہاتھا”میرے مرشدمیری زندگی برباد ہوگئی اورآپ مسکرارہے ہیں؟مریدنے تعجب سے پوچھا! !مرشداسے اندر لے گیا اوربکری کے دودھ کاپیالہ پینے کودیا ۔پھراس نے اس چھوٹی شیشی کوکھولاجس میں مریدکے آنسوبھرے ہوئے تھے اور اپنی انگلی کوان سے گیلاکرکے کہاکہ”یہ ہے عرقِ حیات یا آبِ حیات،یا مقصدِحیات”اورپھرآنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کوچھوکرکہا:یہ ہیں آبِ حیات کے چشمے!!یادرکھو!اللہ نے انسان کوان آنسوؤں کیلئے پیداکیاہے،ان میں ہی زندگی چھپی ہوئی ہے،کچھ اس کی محبت میں زاروقطارروتے ہیں جیسے انبیاء،اورکچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذراسی غلطی سےگرتے اورٹوٹتے اوراپنی محنتیں ضائع ہوتے دیکھتے ہیں توتیری طرح بلبلاتے ہیں،جس طرح پانی نکلنے اورنکالنے کے مختلف طریقے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کاسامان کیاگیاہے یادرکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ہیں مگرشیشی کسی کی نہیں ٹوٹتی،آسمان والوں کے مٹکے ہردم بھرے رہتے ہیں،وہاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے،ان کے رونے میں تسبیح ہے، پچھتاوہ نہیں ہے۔

ہمیں اسی مقصدسے بنایاگیاہے،پھراس دنیاکے ٹیڑھے میڑھے رستوں پرہاتھ میں تقوے کی بوتل دے کردوڑایا جاتاہے ،اورجب ذراسی بے احتیاطی سے تقوے کی وہ سالوں کی محنت کسی گناہ میں ڈوب جاتی ہے اورہم پچھتاتے ہیں اور زاروقطارروتے ہیں تواللہ فرشتوں کواسی طرح ہمارے آنسو سمیٹنے پرلگادیتاہے جس طرح آج میں نے تیرے آنسو شیشی میں جمع کئے ہیں! !یہ وہ پانی ہے جس سے جہنم کی آگ بھی ڈرتی ہے۔اللہ کے رسولﷺنے حشرکانقشہ کھینچا ہے کہ جہنم کی آگ فرشتوں کے قابومیں نہیں آرہی ہوگی اورمیدانِ حشرمیں باغیوں کی طرف پھنکاریں مارتی ہوئی لپکے گی،فرشتے اپنی بے بسی کااظہارکریں گے تواللہ جبرئیل سے فرمائیں گے کہ وہ پانی لاؤ،اورپھرجبرئیل اس پانی کے چھنٹے مارتے جائیں گے اورآگ پیچھے سمٹتی جائے گی یہاں تک کہ اپنی حدمیں چلی جائے گی،صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺوہ کونساپانی ہوگا؟آپﷺ نے فرمایا:اللہ کے شوق میں اللہ کے خوف سے رونے والوں کے آنسوہوں گے جواللہ نے آگ پرحرام کررکھے ہیں!!یہی وہ روناہے جوامیر خسرو روتے ہیں کہ:
بہت ہی کٹھن ڈگرپنگھٹ کی
کیسے بھرلاؤں میں جھٹ پٹ مٹکی؟

یہی وہ آبِ حیات ہے جس کی بشارت انسان کودی گئی ہے کہ اس کے چشمے اس کی اپنی ذات کے اندر ہیں۔
اے تن تیرارب سچے داحجرہ،پااندرول جھاتی ہو
نہ کرمنت خواج خضردی،تیرے اندرآب حیاتی ہو
اسی کی طرف میاں محمد بخش صاحب رحمتہ اللہ علیہ اشارہ کرتے ہیں:
سب سیاں رل پانی چلیاں تے کوئی کوئی مڑسی بھرکے
جنہاں بھریا،بھرسرتے دھریا،قدم رکھن جرجرکے
یعنی تمام روحیں اصل میں ان سہیلیوں کی طرح ہیں جوکنوئیں سے آبِ حیات بھرنے جاتی ہیں مگران میں سے کوئی کوئی بھرکرواپس آئے گی بہت ساریوں کے گھڑے رستے میں ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جوبھرکرسرپررکھ لیتی ہیں ان کے قدم رکھنے کااندازبتاتاہے کہ ان کا گھڑابھراہواہے!وہ بہت ٹھہرٹھہرکر قدم رکھتی ہیں۔ اللہ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایاہے
رحمان کے بعض بندے زمین پربہت تھم تھم کرقدم رکھتے ہیں (فرقان:63)(یعنی پروقارچال چلتے ہیں ان کی چال بتاتی ہے کہ گھڑابھرا ہواہے) جاہل ان کے مُنہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام! میاں صاحب دوسری جگہ فرماتے ہیں!
لوئے لوئے بھرلے کُڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا!
شام پئی بِن شام محمد گھرجاندی نے ڈرنا
یہ بھرے گھڑے تڑوانے والوں کاذکراللہ نے قرآن حکیم سورہ التغابن میں بھی باربارکہاہےاے لوگوجوایمان لائے ہو،تمہاری بیویوں اورتمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیاررہو۔اوراگرتم عفوودر گزرسے کام لواور معاف کردوتواللہ غفورورحیم ہے۔
میاں صاحب فرماتے ہیں:
اکھیوں انَاتے تِلکَن رستہ کیوں کررہے سنبھالا؟
دھکے دیون والے بہتے توہتھ پکڑن والا
اے اللہ آنکھوں سے بھی میں اندھاہوں،ان مادی آنکھوں سے تونظرنہیں آتا،اوررستہ بھی پھسلن والاہے،دوسری جانب ہربندہ اس پھسلن رستے پر سہارا دینے کی بجائے دھکے دینے والاہے،جبکہ صرف تیری ذات ہاتھ پکڑنے والی ہے۔

کچھ لوگ ان بہتی آنکھوں کوولیوں کاٹھکانہ کہتے ہیں۔۔۔۔اگرکبھی موقع ملے یاپھرایسے موقع کی تلاش میں رہیں،جہاں ان کی زیارت ہوجائے توفوری اس آب حیات سے وضوکرلیں۔قرآن کےتوہرورق سے آبِ حیات کے چشمے پھوٹتے ہیں اورہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے ان چشموں کو بھاری اور ریشمی غلافوں میں چھپاکرگھرکے ایسے اونچے کونوں میں سجارکھاہے جہاں آتے جاتے نظرتوپڑتی ہے لیکن اس قرآن کی فریادہمارے بہرے کانوں کوسنائی نہیں دیتی جس کی بناءپرہم آج رسواوذلیل ہورہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو رمضان المبارک کا مہینہ عطا کیا ہے کہ ہمیں ہر نماز تراویح میں قرآن سننے کا موقع ملتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی امامت میں ہمیں قرآن سننے کا موقع ملتا ہے۔ قرآن سننے کا بہترین حق یہ ہے کہ ہم امام کی تلاوت قرآن کو ترجمہ کے ساتھ جانتے ہوں اور کم از کم اس کا مفہوم ضرور سمجھیں، تب ہی ہم اللہ اور اپنے آقا نبی اکرمﷺکے اس معجزے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

یاد رکھیں! رمضان المبارک کے مہینے میں جب بھی اللہ کے خوف سے آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوں تو یہی “آبِ حیات” ہے جو آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جنت میں ہمیشہ کی زندگی کی ضمانت دے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ مبارک موقع آپ کی زندگی میں بار بار آئے، آمین۔ میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ امت مسلمہ بالخصوص غزہ، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ اگر یہ شہداء ہماری طرف اشارہ کرکے روزِ حشر رب سے شکایت کریں گے تو ہمارا نجات دہندہ کون ہوگا؟ اللھم اجرنی من النار۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں

11 + eight =