A disturbing dream

ایک پریشان کن خواب

:Share

3نومبر2020ءمیں”ابراہیمی مذاہب کی اصطلاح……عالمی سازش”کے عنوان سے میں نے آرٹیکل لکھاتھاجوآج بھی میری ویب سائٹ پردیکھاجاسکتا ہے، انہی دنوں کئی ٹی وی پروگرامزمیں بھی اس منصوبے کے مستورخطرناک نکات پربحث ومباحثہ بھی ہواجس میں باقاعدہ شواہدکی روشنی میں نہ صرف پرکھاگیابلکہ خطے میں عالم اسلام کومزیدکمزورکرنے کیلئے ان سازشوں کاذکربھی ہواکہ آخر ون ورلڈآرڈرکی تکمیل کیلئےاب مزیدکن اقدامات کوبروئے کار لایاجائے گاجس کیلئے یہودی لابی نے سابقہ امریکی صدرٹرمپ کے یہودی دامادجیرالڈکشنزنے ایک نئے”لارنس آف عریبیا”کاکرداراداکرتے ہوئے “ابراہیمی مذاہب”کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے یو اے ای اور چند دیگرعرب ممالک سے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کروا کے سفارتی تعلقات کا آغاز کیا گیا اور اس کے فوری بعد”برج الخلیفہ” میں باقاعدہ مکمل چار فلورزکو تجارتی مقاصدکو بڑھانے کے نام پر کرایہ پر حاصل کرکے اپنی مذموم کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال فروری میں انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز، مسلم سکالرزلیگ اورعرب مغرب لیگ نے ایک کانفرنس منعقد کی جہاں ابراہیمی مذہب پرچند علما نے اس خیال کا دفاع کیااوراسے امن کاراستہ بتایالیکن ابراہیمی مذہب کے وجودکاکوئی سرکاری اعلان نہیں ہوسکا۔اس مذہب کے قیام کی بنیادنہ توکسی نے رکھی اورنہ ہی اس کے کوئی پیروکارموجودہیں۔یہی نہیں بلکہ اس کیلئے کوئی مذہبی متن بھی دستیاب نہیں۔بس اسے”مذہبی”منصوبہ بتاکربات ختم کردی گئی ۔اس منصوبے کے تحت ماضی قریب میں اسلام،عیسائیت اور یہودیت مذاہب میں شامل مشترکہ پیغامات پرمبنی حضرت ابراہیم کے نام پرایک مذہب بنانے کی کوششیں شروع کی گئی جس کامقصد ان تینوں مذاہب میں شامل ایمان اورعقیدے سے متعلق تقریباًایک جیسی باتوں پرانحصارکرناہے۔اس کے علاوہ باہمی اختلافات کو بڑھانے والی چیزوں کوکوئی وزن نہ دیاجانابھی اس میں شامل ہے۔باہمی اختلافات سے بالاترہوکر عوام اورریاستوں کے درمیان امن قائم کرنے کے مقصد سے بھی اس خیال کوفروغ دیا جارہاہے۔گویااب فلسطین کے علاوہ تمام دیگرتنازعات کوبھی بھولناہوگا۔

دراصل اس مذہب پربحث کااوراس سے منسلک تنازعات تقریباًدوسال پہلے شروع ہوئے۔اگرچہ لوگ اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اب اچانک اس موضوع پردوبارہ بحث شروع کرنے کی کیاوجہ ہے اوراس کے پیچھے کیامقاصدپنہاں ہیں۔بظاہرتواسے تین بڑے عالمی مذاہب کے ماننے والوں یعنی اہل کتاب کو مشترکہ پیغامات پر اتفاق کرنے کی دعوت دی جارہی ہےاور اختلافات سے گریز کرنے کا کہا جا رہاہ ے لیکن ان موجودہ مذاہب میں اللہ سے شرک کو جو کبیرہ گناہ قراردیا جا رہاہ ے،اس کو نکالے یاختم کئے بغیر اتفاق کی راہ کیسے نکالی جاسکتی ہے۔تمام مذاہب کی بنیاد توحید پر رکھی گئی ہے اوراس وقت دوسرانبی یا رسول مبعوث نہیں ہوتا جب تک پہلے نبی کی لائی ہوئی شریعت یا تومکمل طور پرختم نہیں ہوجاتی یا وہ تعلیم مسخ ہو کراصل تعلیمات کے منافی نہیں ہوجاتی۔

اس سلسلے میں الاظہرکے شیخ کی طرف سے دی گئی تقریرمیں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بقائے باہمی کی بات کاذکر کیاجاتاہے۔مصرکے شہر اسکندریہ جہاں عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے،2011کےبعد پوپ شیناؤدا تھرڈ اور الاظہر کے ایک وفدکے درمیان بات چیت کے بعد مصر فیملی ہاؤس کے قیام پرغور کیا گیا تھا۔دو مذاہب کے درمیان بقائے باہمی اور رواداری کے بارے میں بات کرنا قابل فہم اور توقع خیر بھی ہے۔شیخ الاظہرنے فیملی ہاؤس سے ابراہیمی مذہب کے حامیوں پرتبصرہ کرتے ہوئے یہ کہاتھاکہ”’وہ یقینی طورپردومذاہب،اسلام اورعیسائیت،کے درمیان بھائی چارے کی الجھنوں اوردونوں مذاہب کے انضمام کے بارے میں پیداہونے والے شکوک کے بارے میں بات کرناچاہتے ہیں”،لیکن اب ایک قدم اوربڑھ کرعیسائیت،یہودیت اوراسلام کوایک مذہب میں ضم کرنے کی خواہش کامطالبہ کرنے والے میدان میں اترآئے ہیں(کہ وہ) تمام برائیوں سے نجات دلائیں گے لیکن کیسے؟”

جس نئے مذہب کی بات کی جارہی ہے اس کانہ توکوئی رنگ ہے اورنہ ہی اس کاکوئی ذائقہ اورنہ ہی یہ قابل عمل۔ابراہیمی مذہب کے حق میں مبلغین یہ کہیں گے کہ وہ لوگوں کے باہمی جھگڑوں اورتنازعات کوختم کردیں گے لیکن درحقیقت یہ اپنی آزادمرضی کے عقیدے اور ایمان کے انتخاب کی آزادی کی دعوت ہے یایوں کہہ لیں کہ اس کی آڑمیں یہ نیامذہب متعارف کروانے کی سازش ہے۔اگرباہمی جھگڑوں اورتنازعات کوختم کرنے کی بات ہےتوکیوں نہیں سب سے پہلے فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں جہاں یروشلم میں بیت المقدس کا شہر ان تینوں مذاہب کے ماننے والوں کو ہر روز اس خون خرابے کوختم کرنے کی دعوت دے رہاہے۔اس نئے مذہب کے بانیوں کواپنے اس نئے نوبل مقصدکوشروع کرنے کیلئے اس سے بہتراورکون ساموقع مل سکتاہے کہ وہ اپنے نیک ارادوں،خواہشات اوردنیامیں بقائے امن کیلئے اپنے کام کاآغازاس سے شروع کریں۔کیااسرائیل اپنےان تمام ناپاک عزائم یعنی گریٹراسرائیل اورہیکل سلیمانی کے ارادے سے بازآنے کااعلان کرے گا؟بیت المقدس توتینوں مذاہب کیلئے ایک انتہائی محترم اورپاکیزہ مقام ہے،کیاویٹیکن والے ان تینوں مذاہب کی نئی شکل”ابراہیمی مذہب”کوتسلیم کرنے کیلئے تیارہیں؟دوسروں کے عقیدے کااحترام کرناایک بات ہے اوراس عقیدے کوماننادوسری بات ہے۔مختلف مذاہب کوایک ساتھ لانے کی دعوت حقیقت اورفطرت کی صحیح سمجھ پیدا کرنے کے بجائے ایک پریشان کن خواب ہے۔تمام مذاہب کے لوگوں کواکٹھاکرناناممکن ہے۔

تاہم لوگوں کے دلوں میں یہ احتمال پیداہونالازمی ہے کہ ابراہیمی مذہب دھوکے اوراستحصال کی آڑمیں ایک سیاسی دعوت ہے جس کامقصداسرائیل کے ساتھ تعلقات کو خاص طور پر عرب ملکوں میں معمول پر لانا اور بڑھانا ہے۔نئے مذہب کو مسترد کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسے نظریاتی طور پر درست سمجھتے ہیں لیکن اسے خالصتاً ایک سیاسی کیمپ کے طور پر دیکھتے ہیں، لفظ “ابراہیمیہ”کا استعمال اوراس سے متعلق تنازعہ گزشتہ 2سال قبل ستمبرمیں متحدہ عرب امارات اوربحرین کے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کومعمول پرلانے کے معاہدے پردستخط کے ساتھ شروع ہواتھا۔امریکااوراس وقت کےصدرڈونلڈٹرمپ اوران کے داماد اورمشیر جیرالڈکشنرکے زیراہتمام اس معاہدے کو”ابراہیمی معاہدہ”کہاگیا۔معاہدے پرامریکی محکمہ خارجہ کے اعلامیے میں کہاگیاتھاکہ”ہم تین ابراہیمی مذاہب اورتمام انسانیت کے درمیان امن کوآگے بڑھانے کیلئے بین الثقافتی اوربین المذہبی مکالمے کی حمایت کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

یہ پیراگراف”نارملائزیشن آف کنڈیشنزایگریمنٹ”کے ابتدائی حصے میں شامل ہے۔اس معاہدے کے بانیوں نے بڑی محنت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کومعمول پرلاناخالصتاًسیاسی یااقتصادی معاہدہ نہیں بلکہ اس کاثقافتی مقصدبھی تھا۔اس کے بعدہی مختلف ممالک کے مختلف فرقوں کے لوگوں کے درمیان مذہبی رواداری اورباہمی مکالمے کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی جوبعدمیں”ابراہیمی مذہب”کے نام سے مشہورہوئی۔

ٹرمپ نے معاہدۂ ابراہیمی کے ذریعے اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات قائم کراکے کوئی نیایاانوکھاکام نہیں کیا، 1978ءاور1979ءمیں اس وقتکے امریکی صدرجمی کارٹرنے مصراوراسرائیل کاوجودتسلیم کرنے پرراضی کیاتھااوراس سلسلے میں کیمپ ڈیوڈمعاہدے پراس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم مناہم بیگن اورمصرکے صدرانورسادات نے دستخط کیے تھے۔اُس موقع پرجمی کارٹرنے کہاتھا’’اچھاہے کہ اب ہم جنگ کوایک طرف رکھ دیں۔آئیے،ہم ابراہیم علیہ السلام کے بچوں کونوازیں جومشرقِ وسطیٰ میں جامع امن کیلئےترس رہے ہیں ۔اب ہم مکمل انسان،مکمل پڑوسی اورمکمل بہن بھائی بننے کی حقیقت سے لطف اندوزوسرفرازہوں‘‘۔

1993ءمیں امریکی ایوانِ صدرمیں اوسلومعاہدے پرفلسطینی لیڈریاسرعرفات اوراس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم یزاک رابن کی طرف سے دستخط کیے جانے کے موقع پرامریکی صدربل کلنٹن نےکہاتھا’’اس موقع پرہمیں یادکرناچاہیے کہ اب تمہاری سرزمین پرتشددکی چیخ سنائی نہیں دے گی اورنہ ہی تمہاری سرحدوں کے اندرتباہی وبربادی ہوگی۔ابراہیم علیہ السلام کے بچے،اوراسحاق واسماعیل علیہم السلام کی اولادیں،مل کرایک نئے جرأت مندانہ سفرپرنکلے ہیں۔ آج ہم دل اورروح کی گہرائیوں سے دونوں کومبارک باددیتے ہوئے مکمل سلامتی کی نویدسناتے ہیں‘‘۔

مگرٹھیک ایک سال بعد1994ءمیں امریکاہی کی وساطت سے اسرائیل اوراردن کے درمیان تعلقات معمول پرلائے جانے کےمعاہدے پردستخط کے وقت بل کلنٹن نے ابراہیم علیہ السلام کاحوالہ نہیں دیاتاہم یہ ضرورکہاکہ’’ایک نسل کے اس امن کے طلوع ہونے کے وقت اس قدیم مقام پرہم تاریخ کی عظمت کے ساتھ ساتھ اسرائیلیوں اوراردنیوں کے مذہب کابھی جشن منارہے ہیں۔‘‘ساتھ ہی ساتھ انہوں نے قرآن کی آیات اوریہودیت کی مقدس کتب کے حوالے بھی دیے تھے۔بل کلنٹن نے ضمنی طورپرابراہیم علیہ السلام کاذکرکیاتھاجس پراردن کے شاہ حسین نے کہاتھا’’جب تک ہم زندہ ہیں تب تک اس دن کو یاد رکھیں گے اوراردنیوں،اسرائیلیوں،عربوں،فلسطینیوں اور ابراہیم علیہ السلام کی تمام اولاداوراُن کی آنے والی نسلیں اس دن کویادرکھیں گی‘‘۔1997ء میں جب شاہ حسین اورنیتن یاہوکے درمیان اختلافات نے شدت اختیارکی توشاہ حسین نے ابراہیم علیہ السلام کاحوالہ دیتے ہوئے اُنہیں لکھا’’سب سے تکلیف دہ حقیقت مجھ پراس نکتے کامنکشف ہوناہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی تمام اولادکے درمیان حتمی نوعیت کی مفاہمت کے قیام کے فریضے سے سبکدوش ہونے کیلئےمیں آپ کواپنے ساتھ نہیں پارہاہوں‘‘۔

ابراہیم علیہ السلام کاحوالہ دیے جانے کاتعلق چندبرسوں کے دوران مغرب میں پروٹسٹنٹ اوراستشراقیت پسندحلقوں کی وضع کردہ اصطلاح ’’ابراہیمی مذاہب ‘‘سے ہے،جوتین توحیدی مذاہب کوبیان کرنے کیلئےہے جبکہ اس میں مسلمانوں کوغلط طورپرشامل کیاگیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی روایات میں بھی ابراہیم علیہ السلام کاغیرمعمولی مقام ہے تاہم’’ابراہیمی مذاہب‘‘کی اصطلاح نئی ہے۔یہ اصطلاح عربی کے علاوہ عبرانی میں بھی غیرمعروف اورنامانوس ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ انگریزی اصطلاح کا ترجمہ کردیاجاتاہے۔

اس نئے مذہب ابراہیمی کی آڑمیں اسرائیل کے ساتھ حالات کومعمول پرلانے کی کوششوں کوتیزکرنے اورفلسطین کے مسئلے کومکمل طورپربھول جانے کی واضح علامات موجودہیں بلکہ اب توخدشہ اس بات کابھی بڑھ گیاہے کہ”گریٹراسرائیل”کے منصوبے کودرپردہ دوستی کے لبادے میں ہی آگے بڑھایاجائے گا۔میں اپنے کئی ایک ٹی وی پروگرامز اور مضامین میں گریٹراسرائیل کی تمام وہ تفصیلات جو اسرائیل میں بچوں کو پڑھائے جانے والے نصاب میں شامل ہیں،آپ سے شئیر کر چکا ہوں۔کیا ہمارے یہ عرب حکمران اپنے اقتدار اور دولت کو بچانے کیلئے گریٹر اسرائیل سے ناواقف ہیں کہ یہودی اپنی سرحدیں کہاں تک بڑھاناچاہتے ہیں جس میں خاکم بدہن مدینہ منورہ بھی شامل ہے اوردوسری جانب شام،لبنان،عراق،مصراورسوڈان سے آگے ان کی سرحدیں بنانے کا پروگرام ہے اوردوسری طرف مکار ہندواس بات کادعویٰ کرتاہے کہ بحرہندکے کنارے جن ملکوں کوچھوتے ہیں،وہ دراصل مہابھارت کاحصہ ہیں اوریہ دونوں ریاستیں،یعنی یہودوہنودکی سرحدیں آپس میں مل جائیں گی اوریہی ورلڈآرڈرتشکیل دینے والے یہودی ہنری کسینجرکاوہ مکروہ پلان ہے جس پر عملدر آمدجاری ہے۔عراق ایران جنگ اوراس کے بعدمسلسل عرب بہارکے نام پرلیبیااوردیگرممالک کوتاراج کردینااسی پالیسی کاحصہ ہے جس میں بدقسمتی کے ساتھ چندعرب حکمرانوں کوبھی شامل کرلیاگیاہے

اب متحدہ عرب امارات پرسوشل میڈیاسائٹس پرابراہیمی مذہب کی تشہیرشروع ہوچکی ہے۔2019کے اوائل میں دبئی کے حکمران محمد بن زایدنے”پوپ فرانسس اورشیخ الاظہر احمد الطیب کے مشترکہ تاریخی دورے کی یادگار”بنانے کیلئے ابراہیمک فیملی ہاؤس ابوظہبی کے جزیرہ سعدیات پرایک بین المذاہب کمپلیکس کی تعمیر جاری ہے۔یہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کومعمول پرلانے کے معاہدے سے ڈیڑھ سال قبل ہواتھا۔ ابراہیمی فیملی ہاؤس میں ایک مسجد،ایک چرچ اور یہودیوں کی عبادت گاہ بنائی گئی ہے،جسے2023میں عام لوگوں کیلئے کھولاجائے گا۔اس کی تشہیر کرنے والوں میں متحدہ عرب امارات کی شیخ سلطان بن زیدمسجد کے مولوی وسیم یوسف بھی شامل ہیں حالانکہ اس کوکویت کے مشہورمذہبی رہنماعثمان الخمیس نے شدیدتنقیدکانشانہ بنایاتھا۔

“ابراہیمی معاہدے”پردستخط اورنئے مذہب کی بحث کے بعدمذہب اسلام کے علمااوررہنماؤں نے اسے مستردکرناشروع کردیاہے۔طارق السویدان جیسے کچھ مذہبی رہنمانے اس کاموازنہ توہین رسالت سے کیاہے۔اس لئے یہ معاہدہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا،اسے نہ توعیسائی پیشواویٹیکن والے تسلیم کریں گے اورنہ ہی سخت گیریہودیوں کا وہ ٹولہ جواس وقت اسرائیل کوکنٹرول کررہاہے،اس کوتسلیم کرے گاکیونکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ دین ابراہیمی کے ماننے والے دونوں مذاہب عیسائی اور یہودی اپنی دینی تعلیمات میں ایک دوسرے سے نہ صرف شدید نفرت اور دشمنی رکھتے ہیں بلکہ برسوں برسرپیکار جنگوں میں کشت وخون بہاتے آئے ہیں،رہ گئی بات اسلام کی تو اس سلسلے میں قرآن کے واضح احکام سے کوئی بھی روگردانی کرکے ایمان سے خارج ہونے کی جرات نہیں کرسکتا۔ بہت جلد یہی سازشی عناصر اپنے ہی ہاتھوں سے اس دین ابراہیمی کےغبارے کو پھوڑ دیں گے ان شاءاللہ۔

اللہ کے اس فرمان کوایک مرتبہ غورسے پڑھ کردل میں اتار لیں کہ میرے رب نے اس آِت کوقرآن کی تین سورتوں میں من وعن نازل فرمایاہے کہ :
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاہے تاکہ اسے پورے کے پورے دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو . (توبہ،فتح اورصف)
توحیدتویہ ہے کہ خداحشرمیں کہہ دے
ہ بندہ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

four + 16 =